November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

ذرائع ابلاغ کو قابو میں کرنے کی تیاری

 

وزیرا عظم عمران نیازی کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں میڈیا کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے گئی دی ہے ۔ وزیر اعظم کی خواہش پر کیے جانے والے اس فیصلے کے مطابق الیکٹرونک میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے سرکاری ادارے پیمرا اور پرنٹ میڈیا کو کنٹرول کرنے والے ادارے پریس کونسل کی بھی تشکیل نو کی جائے گی۔ اس نکتے پر تو سب ہی متفق ہیں کہ کسی کو بھی کسی کی ذاتی سطح پر کردار کشی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اسی طرح بلا کسی ٹھوس مواد کے کسی کے خلاف میڈیا ٹرائل کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے پاکستان کا عدالتی نظام موجود ہے ۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا تک سرکار کی خواہشات اور گائیڈ لائن پہنچانے کے لیے سرکار پریس کونسل اور پیمرا نامی ادارے پہلے ہی تشکیل دے چکی ہے ۔ تو اب ایسی کیا قیامت آگئی کہ میڈیا کو قابو کرنے کے لیے وزیر اعظم عمران نیازی کو خصوصی کنگرو کورٹس بنانے کی حاجت پیش آگئی ۔ جس وقت عمران نیازی حزب اختلاف میں تھے ، انہوں نے ہی اُس وقت کے وزیر اعظم کو اوئے نواز شریف کہہ کر مخاطب کرنے کی روایت ڈالی تھی ۔ تو اب اگر کوئی انہیں اوئے نیازی کہہ کر مخاطب کرتا ہے تو اس میں ناراض ہونے کی کوئی بات ہونی تو نہیں چاہیے ۔ اسی طرح انہوں نے ہی بلا کسی ثبوت کے الزامات لگانے شروع کیے تھے ، تو اب اسی طرح کوئی اور سیاسی رہنما ان کے خلاف اسی طرح کی چارج شیٹ پیش کرتا ہے تو اس میں بھی برافروختہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ میڈیا کے لیے خصوصی ٹریبونل بنانے کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران نیازی کو نہ تو پاکستان کی عدلیہ پر اعتماد ہے اور نہ ہی وہ سرکار کے تحت چلنے والے پیمرا اور پریس کونسل جیسے اداروں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔ تو پھر یہ وزیر اعظم عمران نیازی کی اپنی خراب کارکردگی ہے کہ وہ ملک کے سربراہ ہیں اور سرکاری ادارے اپنے چارٹر کے مطابق کام نہیں کررہے ۔ اگر وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے عدالتی نظام میں کوئی خرابی ہے تو انہیں پوری عدلیہ ہی کی تشکیل نو کرنی چاہیے تاکہ پورے ملک میں انصاف کا دور دورہ ہوسکے اور سائل برسہا برس عدالتی چوکھٹ پر سر ٹکرانے کے بعد خودکشی کرنے پر نہ مجبور ہوں ۔ اگر وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا بغیر ثبوت کے سرکاری عمال اور وزراء کے خلاف رپورٹیں شائع کرتا اور نشر کرتا ہے تو کیا ہی بہتر ہو کہ وہ ان کے خلاف بھی کارروائی کریں جو سرکار کی مدعیت میں عدالت میں کسی کے خلاف مقدمات میں پیش ہوتے ہیں اور پھر عدالتیں سرکار کے خلاف فیصلہ دیتی ہیں ۔ سرکار کے خلاف فیصلہ آنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ سرکار نے بلا کسی ثبوت کے یا پھر فریق مخالف کو پریشان کرنے اور قابو کرنے کے لیے اس کے خلاف کیس درج کیا ۔ اصل بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران نیازی اور ان کی کچن کیبنٹ میڈیا کو اپنی خواہشات کے مطابق نچانے کے لیے اور اسے سرکاری ترجمان میں تبدیل کرنے کے لیے مزید پابندیاں چاہتے ہیں ۔ اس خطرے کو میڈیا سے ہر سطح پر تعلق رکھنے والوں نے نہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ اس کی مخالفت بھی کی ہے ۔ صحافیوں کی ملک گیر نمائندہ تنظیم پاکستان یونین آف جرنلسٹ (دستور ) نے متنبہ کیا ہے کہ اگر میڈیا ٹریبونل کے قیام پر مزید پیش قدمی کی گئی تو اس کے خلاف موثر لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا ۔ پرنٹ میڈیا کے مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور مدیران کی تنظیم کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ارکان کے اجلاس فوری طور پر طلب کرلیے ہیں ۔ میڈیا کے تمام ہی اسٹیک ہولڈرز کے اس ردعمل کے جواب میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا یہ بیان مضحکہ خیز ہی ہے کہ حکومت اور وزیر اعظم میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ وزیر اعظم عمران نیازی عدالتی نظام کو درست کریں تاکہ سرکار سمیت کسی بھی سائل کو بروقت اور بلا کسی دباؤ کے انصاف مل سکے ۔ عمران نیازی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ حکومت ، عدلیہ اور فوج ایک صفحے پر ہیں ۔ عدلیہ کو حکومت کے ساتھ ایک صفحے پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے میرٹ پر فیصلہ کرنا چاہیے ۔ اگر ملک میں ہر شخص کو میرٹ کے مطابق انصاف ملنے لگے گا تو حکومت کو کسی خصوصی ٹریبونل کو بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔سوشل میڈیا پر بے بنیاد مہم چلانے والے بھی کہیں دبک کر بیٹھ جائیں گے اور مین اسٹریم میڈیا بھی خود ذمہ داری کا ثبوت دے گا ۔ گیند حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ خصوصی ٹریبونل بنا کر عالمی سطح پر سبکی اور ملکی سطح پر مزاحمت کا سامنا کرنا چاہتی ہے یا ملک کے عدالتی نظام کودرست کرکے پاکستان کی تاریخ میں اپنا نام سنہرے حرفوںمیں لکھوانا چاہتی ہے ۔ وزیراعظم میڈیا پر قدغن لگانے سے پہلے اپنے وزراء اور حواریوں کی زبان درازی پر بھی توجہ دیں۔
بشکریہ جسارت