November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

پردے کا حکم اور پی ٹی آئی

 

وزیراعظم عمران خان نیازی حکومت نے یوٹرن کی انتہائوں کو عبور کرنے کے بعد ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں عبایا لازمی کرنے کا حکم چند گھنٹوں میں واپس لے لیا۔ وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ طالبات کے برقع لازماً پہننے کے نوٹیفکیشن کو واپس لے لیا جائے۔ یہ فیصلہ کس نے کیا اور واپس کس کے دبائو پر لیا گیا یہ الگ معاملہ ہے لیکن حکومت کے مختلف نمائندے جس طرح اِدھر اُدھر کی ہانک رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی حکومت کا اصل ایجنڈا ہے۔ ایک جانب وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کہتے ہیں کہ ہری پور میں طالبات کے عبایا، برقع یا چادر پہننے کے حکم کی وضاحت ڈی او ایجوکیشن سے مانگ لی گئی ہے۔ انہوں نے والدین کے مشورے سے یہ فیصلہ کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محکمۂ تعلیم کے پی کے نے سرکاری اسکولوں کی طالبات کے لیے گائون یا عبایا پہننا لازمی قرار دیا اور اس کا نوٹیفکیشن کیا۔ اس نوٹیفکیشن کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پردہ لازمی کرنے کا جو مقصد بتایا گیا ہے وہ اسلامی احکامات سے قریب تر ہے یعنی طالبات کا تحفظ اور کسی ناخوشگوار غیر اخلاقی سلوک سے انہیں بچانا ہے۔ ہری پور میں جاری کیا جانے والا حکم یہی بتاتا ہے کہ لڑکیاں کسی غیر اخلاقی حرکت سے بچنے کے لیے عبایا اور گائون پہنیں۔ لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی کی بڑھتی ہوئی شکایات پر یہ اقدام ضروری تھا۔ قرآن کہتا ہے کہ (اے نبیؐ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔ سورۃ احزاب۔59)۔ چونکہ فیصلہ کرنے والے اس کی وکالت کرنے والے اس فیصلے کو منسوخ کرانے والوں کے حکم سے ناواقف تھے اس لیے ٹی وی پر وزیراعلیٰ کے مشیر ضیا اللہ بنکش کہہ رہے تھے کہ ہری پور میں پردے کے بارے میں جاری ہونے والے حکم کو اب پورے صوبے میں نافذ کرائیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ اسکول سے گھر اور گھر سے اسکول تک پردے کی بات کی گئی ہے۔ لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں خدا ہی سمجھے یا خدا ان سے سمجھے۔ یہ لوگ مدینے جیسی ریاست کا نام بھی لے رہیں اور اس ریاست کے ہر حکم کے منافی کام بھی کررہے ہیں۔ اللہ کے رسول کو براہ راست یہ حکم دیا جارہا ہے۔ پہلے ان کی بیویوں (امہات المومنین) پھر ان کی بیٹیوں اور پھر عام مسلمانوں کی عورتوں کے لیے تو اب یہ حکم صرف مسلمان عورتوں ہی کے لیے رہ گیا ہے اور پاکستانی حکمرانوں نے جو معاشرہ تیار کیا ہے اس میں عورتیں اور لڑکیاں ستائی ہی جائیں گی۔ ان کا احترام تو اب لوگ پردے میں بھی نہیں کرتے۔عمران خان نیازی وزیراعظم بننے سے قبل جو کچھ کہتے رہے اس کے برخلاف فیصلے کررہے ہیں۔ سود کی خوب آبیاری ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے سودی قرضے لیے ہیں۔ سودی نظام کے رکھوالوں کو معاشی ٹیم کا سربراہ بنا رکھا ہے۔ قادیانیوں کی سرپرستی کی جارہی ہے، غیر مسلموں کے لیے بے چینی حد سے بڑھ گئی ہے۔ حکومت کے اہم مناصب پر اسلام بیزار لوگ بیٹھے ہیں۔ ٹی وی دین کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور وزیراعظم عمران نیازی مدینے جیسی ریاست کے دعوے کی تکرار کر رہے ہیں۔ یہ ملک کو کہاں لے جا رہے ہیںکیا۔ اب اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والا کوئی کام رہ گیا ہے جو یہ نیازی حکومت کرے گی۔ پردے کا حکم قرآن نے دیا ہے کسی ای ڈی او یا مشیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم کی کیا اوقات ہے کہ وہ ایسے حکم جاری کرے یا منسوخ کرے جو حکم قرآن وسنت سے ملا ہے اس کو من و عن نافذ کرنا حکمرانوں کی ذمے داری ہوتی ہے۔ جو اس سے روگردانی کرے اسے اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔ دینی قوتیں، علمائے کرام اور سنجیدہ طبقات کو حکومت کے اس رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔ دین کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔قرآن کریم عورتوں کے بارے میں کہتا ہے کہ اپنے گھروں میں ٹک کے بیٹھو اور عمران خان اس حکم کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ اپنی عالمہ ، فاضلہ اہلیہ ہی سے پوچھ لیتے کہ مسلم عورتوں کے بارے میں خدا اور رسولؐ کے کیا احکامات ہیں۔ لیکن انہیں تو مغرب کو خوش کرنا ہے کہ وہ انہیں کنزرویٹو نہ سمجھ بیٹھے۔

                    بشکریہ جسارت