October 24th, 2017 (1439صفر3)

امریکا کی دوغلی پالیسی

 

اداریہ
امریکی حکومت حسب معمول کھل کرپاکستان کے خلاف دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس نے پاکستان کو غیر ناٹو اتحادیوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد کے لیے امریکی سینیٹ میں قرار داد لانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ، دنیا بھر میں دوغلی پالیسیوں وغیرہ پر کام خفیہ ہوتا ہے لیکن امریکا دنیا کا واحد ملک ہے جہاں دوغلا پن بھی کھل کر کیا جاتا ہے با قاعدہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھانے کی غرض سے دوہری حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ یعنی ایک جانب ایسا نہ کرنے پر پابندیوں کی دھمکی دی جائے گی اور دوسری جانب مراعات اور امداد کی پیشکش کی جائے گی ۔ یہ تجویز امریکی سینیٹر جان مکین نے دی ہے ۔ پاکستان گزشتہ تقریباً30 برس سے افغانستان میں امریکا کا اتحادی ہے ان 30 برسوں میں سے 15برس افغانستان پر امریکی تسلط رہا ہے ۔ پھر بھی امریکا حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اب پاکستان کو غیر ناٹو اتحادیوں کی فہرست سے نکالنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ امریکی پاکستان کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ان کو افغانستان میں اپنی اوقات بھی معلوم ہے اگر پاکستان کو غیرناٹو اتحادیوں کی فہرست سے نکالنا ہے تو نکال لے۔۔۔ بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ امریکا پاکستان کو افغانستان میں اپنے اتحادیوں کی فہرست سے نکال کر بھارت کی مدد سے وہاں حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف کارروائی کرے اسے اچھی طرح اپنی اوقات پتا چل جائے گی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز بیان پر پاکستان کے حکمران اور عسکری ذمے دار امریکا کے لیے اور دہشت گردی کے خلاف اپنی خدمات کا شمار کروانے لگتے ہیں ۔ پاکستان نے اس جنگ میں اتنا نقصان اُٹھایا ،یہ قربانی دی وہ کارنامہ کیا پھر بھی امریکا اس کا اعتراف نہیں کرتا۔۔۔ یہ سلسلہ اسی وقت بند ہو گا جب امریکا سے کہا جائے کہ افغانستان میں القاعدہ ، اسامہ اور9/11 کے حوالے سے امریکا نے تعاون مانگا یا زبر دستی لیا تھا ۔ یہ سارے کام امریکی دعوؤں کے مطابق مکمل ہو گئے ہیں تو پھر اب پاکستان سے کیا توقعات۔ پاکستان اب افغانستان کے معاملے میں امریکا سے تعاون نہیں کرے گا بلکہ امریکا سے مطالبہ کیا جائے کہ چونکہ افغانستان اس کے زیر اثر ہے اور وہاں اس کی افواج اور اس کے اتحادی بھارتی بڑی تعداد میں موجود ہیں لہٰذا پاکستانی سرحدں کو افغانستان کی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے ۔ افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت بند کرائی جائے ۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی سرکوبی امریکا کے ذمے ہے ۔ پاکستان کیا کرے گا ۔ امریکا کے ہزاروں فوجی افغانستان میں موجود ہیں وہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف خود کارروائی کیوں نہیں کرتا ۔ویسے بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت بھی وہی ہے امریکی دوغلی پالیسیوں کا رونا تو اکثر ہمارے حکمران روتے رہتے ہیں لیکن اس کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ جوابی کارروائی کا مطلب کوئی فوجی اقدام نہیں بلکہ اس قسم کے سیاسی حربے ہیں جو امریکا اختیار کر رہا ہے ۔ نئے حالات میں امریکی پنجوں اور شکنجے سے بچنے کا راستہ بھی یہی ہے کہ اس کو اس کے انداز میں جواب دیا جائے۔ پاکستان بھی دھمکی اور پیشکش کی راہ اپنائے ۔ تعاون ختم کرنے کی دھمکی اور امن کے لیے ہر دم تعاون جاری رکھنے کی پیشکش ۔ امریکی پالیسی بھی تو یہی ہے ۔