October 15th, 2019 (1441صفر15)

مستحکم معیشت، خدا کا خوف کرو

 

وزیر اعظم عمران نیازی کے بزرجمہر مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ مستحکم معاشی دور میں داخل ہوگئے ہیں ۔ جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں اپنی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشکل فیصلوں کے اچھے اثرات نظر آنے شروع ہوگئے ہیں ۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ بہتر ہوگئی ہے اور ٹیکس نیٹ میں 6 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ حفیظ شیخ کس کو خواب دکھا رہے ہیں ، وزیر اعظم عمران نیازی کو یا اپنے آپ کو ۔ جب تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی اس وقت کا اسٹاک مارکیٹ کا اشاریہ دیکھ لیا جائے اور اس کا آج کے اشاریے سے تقابل کرلیا جائے تو ڈاکٹر حفیظ شیخ کو پتا چل جائے گا کہ اسٹاک مارکیٹ میں کتنی بہتری آئی ہے ۔ ٹیکس نیٹ میں اضافے سے متعلق بھی اکٹر حفیظ شیخ ریکارڈ درست کرلیں تو بہتر ہوگا کہ ٹیکس نیٹ میں 6 لاکھ افراد کا اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ یہ ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہے ۔ ان میں سے بیشتر وہ ملازمین بھی ہیں جو انکم ٹیکس تو پہلے سے ادا کررہے تھے مگر ریٹرن نہیں فائل کررہے تھے ۔ ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی بتائیں کہ انہوں نے کتنے ارب روپے زاید انکم ٹیکس اکٹھا کیا ۔ تمام تر کوششوں کے باوجود انکم ٹیکس میں اضافہ نہیں ہوپارہا ہے ۔ اس کی ایک وجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری بھی ہے ۔ پورے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے بعد ایف بی آر کے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف ابھی تک حاصل نہیں ہوسکا جبکہ اس کے مقابلے میں وزیر اعظم عمران نیازی تین سو ارب روپے محض چند کمپنیوں کو معاف کردیتے ہیں ۔ یہ وہ رقم ہے جو یہ کمپنیاں عوام سے وصول کرچکی ہیں اور انہیں سرکار کے کھاتے میں جمع کرانے سے انکاری ہیں ۔پنچاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہ اور مراعات میںخاموشی سے کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اس پر بھی وہ ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ ٹیکس پر سودے بازی نہیں کریں گے ۔ جس پریس کانفرنس میں عمران نیازی کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ یہ بلند بانگ دعوے کررہے تھے ، اسی کانفرنس میں ٹیکس جمع کرنے والے ادارے ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی بھی موجود تھے ۔ شبر زیدی بتائیں کہ کیا عوام ٹیکس چوری کرتے ہیں ۔ ٹیکس چوری تو بڑے پیمانے پر ٹیکس جمع کرنے والے کرتے ہیں جس میں فضائی کمپنیاں ، بڑے ہوٹل ، بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیاں ، موبائل فون کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں ، کھاد بنانے اور فروخت کرنے والی کمپنیاں اورشوگرفیکٹریاں شامل ہیں ۔ یہ اور ان جیسے ادارے مل کر ہر برس ملک کو کئی کھرب روپے کا چونا لگاتے ہیں مگر عبدالحفیظ شیخ اور شبر زیدی ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں ۔ عبدا لحفیظ شیخ اینڈ کمپنی نے جو بھی اقدامات کیے ہیں ، ان کا صرف اور صرف ایک ہی نتیجہ نکلا ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہوکر رہ گئی ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے سمیت تمام فضائی کمپنیوں نے اپنے کرایے ڈالر میں مقرر کردیے ہیں ۔ اب اندرون ملک پرواز کرنے والے بھی کرایہ ڈالر میں ادا کرنے پر مجبور ہیں ۔ جس وقت مسافر ٹکٹ بک کرواتے ہیں ، فضائی کمپنیاں ڈالر کی روپے کے تبادلہ کی اس وقت کی شرح کے لحاظ سے یہ کرایہ وصول کرتی ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی معیشت کس حال کو پہنچ چکی ہے ۔ اگر پاکستانی روپے کی بے قدری اسی طرح جاری رہی تو زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے کہ اسپتال اور تعلیمی ادارے بھی اپنی فیس ڈالروں میں مقرر کردیں ۔ یہ صرف اور صرف وزیر اعظم عمران نیازی اور ان کی معاشی ٹیم جس کے کلیدی ارکان میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ، بینک دولت پاکستان کے سربراہ اور آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم رضا باقر اور ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی شامل ہیں، کا کارنامہ ہے کہ پاکستان کا شمار اب لاطینی امریکا اور افریقا کے بدحال ممالک کے ساتھ ہونے لگا ہے ۔ بجائے اس کے کہ وزیر اعظم عمران نیازی اپنی معاشی ٹیم میں بنیادی تبدیلی لائیں اور اس میں سے آئی ایم ایف کے چہیتوں اور ملازمین کی چھٹی کریں ، وہ ابھی تک اسی ٹیم پر اعتبارکیے ہوئے ہیں ۔ پاکستان کی معیشت کا جو حال ہے وہ تو چالیس برسوں سے جنگ میں مسلسل مبتلا افغانستان کا بھی نہیں ہے ۔ سود کی شرح میں مسلسل اضافے ، صنعت کش پالیسیوں اور خوف وہراس کی فضا نے ملک سے سرمائے کے انخلاء کو تیز ہی کیا ہے ۔ ایسے میں عبدالحفیظ شیخ اور شبر زیدی یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں کہ ملک کی معیشت مستحکم ہورہی ہے ۔ اگر ملک کی معیشت مستحکم ہورہی ہے تو افراط زر میں کیوں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے ، برآمدات کا گراف کیوں نیچے کی طرف جارہا ہے اور محصولات میں کیوں کمی آرہی ہے ۔ اس امر سے معاشیات کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی واقف ہے کہ کرنسی کی بے قدری کا تعلق کہیں سے بھی معیشت کی مضبوطی یا کمزدری سے نہیں ہے ۔ اس کا فیصلہ صرف اور صرف ملک کا مرکزی بینک کرتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان کے مرکزی بینک کا سربراہ اس وقت آئی ایم ایف کا وہ ملازم ہے جو پاکستان آنے سے قبل مصر کی کرنسی کی قدر میں سو فیصد کمی کرچکا تھا اور وہاں پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس سمیت دیگر بھاری ٹیکس لگا چکا تھا جس کا نتیجہ مصر کی معیشت کی تباہی کی صورت میں نکلا۔ اب وزیر اعظم عمران نیازی کی رضامندی کے ساتھ یہی کھیل پاکستان میں کھیلا جارہا ہے ۔ اس پر یہ کہہ کر زخموں پر نمک بھی چھڑکا جارہا ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہورہی ہے ۔ معیشت کے استحکام کا اصل بیانہ توعوام ہیں جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔

                                                                                                                   بشکریہ جسارت