October 17th, 2017 (1439محرم27)

لندن سانحہ،کیا یہ دہشت گردی تھی؟

 

اداریہ

گزشتہ بدھ کو برطانوی دارلحکومت لندن میں ایک پُراسرار واقعہ ہوا جسے دہشت گردی قرار دیا جارہا ہے۔ یہ عجیب دہشت گرد تھا جو صرف چاقو لے کر مسلح پولیس اہلکاروں پر چڑھ دوڑا اور پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا۔ برطانیہ و امریکا میں اسلحہ کا حصول مشکل نہیں ہے لیکن مذکورہ شخص کے پاس صرف ایک چاقو تھا جس سے لگتا ہے کہ وہ کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ مخبوط الحواس شخص تھا۔ اس نے برطانوی پارلیمان کے باہر حملے کی کوشش سے پہلےویسٹ منسٹر پل پرموجود لوگوں پر اپنی گاڑی چڑھادی اور پھر پیلس آف ویسٹ منسٹر کی طرف دوڑ لگائی۔ وہاں ایک مسلح پولیس اہلکار کو چاقو مار کر ہلاک کیا اور خود بھی مارا گیا۔ اس پورے واقعہ میں حملہ آور سمیت 4افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حملہ آور کی پہچان ہونے سے پہلے ہی یہ طے کر لیا گیا کہ وہ ایک مسلمان دہشت گرد تھا۔ بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بھی شہ سرخی میں اس پہلو کو نمایاں کیا ہے کہ حملہ آور مسلمان تھا۔ اس کے نام کا اعلان بھی کردیا گیا کہ وہ ابوعزالدین تھا جبکہ امریکی ٹی وی کے پروڈیوسر نےدعویٰ کیا ہے کہ ابوعزالدین نام کا شخص جیل میں ہے دہشت گرد تنظیم داعش نے بھی حسب روایت اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ۔برطانوی ذرائع ابلاغ نے حملہ آورکاتعلق المہاجرون نامی تنظیم سے جوڑ دیا۔تاہم اگلےدن برطانوی وزیراعظم تھر یسامے نے تصدیق کی حملہ آوربرطانوی شہری تھا۔ لیکن کیا یہ اس کا ذاتی فعل تھا یا اسکے پیچھے کوئی دہشت گرد تنظیم ہے، اس کے بارے میں تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوگا۔ تاہم یہ معلوم ہوگیا ہےکہ حملہ آور نومسلم انگریز تھا۔ برطانیہ، خاص طور پر لندن میں رہائش پذیر مسلمانوں کو خشمگیں نگاہوں کا سامنا ہے اور ایک بار پھر انہیں شک کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ لندن میں 2005ء کے بعد دہشت گردی کی یہ پہلی واردات ہے جسے دہشت گردی قرار دینا مشکل ہے۔ ایسی وارداتیں تو برطانیہ ،امریکا میں مقامی لوگوں کی طرف عموماََ پیش آتی رہتی ہیں۔ جن میں کوئی سر پھرا اسلحہ لے کر اسکول میں گھس جاتا اور قتل عام کرتا ہے یا کسی شاپنگ مال میں جاکر اپنا ذہنی تناؤ دوسروں کے خون سے دور کرتا ہے۔ برطانوی پولیس اس واردات کو اسلامی دہشت گردی سے جوڑنے پر مصر ہے۔اس واقعے کے فوراََ بعد ہی یورپ و امریکا کے حکمرانوں کی طرف سے حکومتی بیانات اور برطانیہ سےاظہار ہمدردی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ امریکا کےنومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم تھریسامےکو بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لیکن خود صدر ٹرمپ اپنے ملک میں نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں اور خاص طور پر مسلم ممالک کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کے برخوردار ٹرمپ جونیئر اپنے پیغام میں لندن کے مسلمان میئر محمد صادق کو دہشت گردی کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے ان کے ایک پرانے خطاب کا حوالہ دیا ہے۔ بہر حال، لندن میں جو واردات ہوئی وہ قابل مذمت ہےاور پاکستان کی طرف سے بھی اس مذمت کی گئی ہے۔ لیکن اسی دن تباہ کردہ ملک شام کے علاقے رقہ کےاسکول پر امریکہ نے بمباری کر کے۳۳ افراد  کو شہید کر دیا جو بے گھر ہونے کے بعد اس اسکول میں پناہ گزین تھے۔ اس سے ایک دن پہلے امریکا نے ایک مسجد پر بمباری کی تھی اور درجنوں افراد کو شہید کردیا تھا۔ جمعرات کو امریکا نے عراق کے شہر موصل میں عام شہریوں پر بمباری کر کے ڈھائی سو عام شہریوں کو شہید کردیا۔ اس کھلی دہشت گردی اور قتل عام کی کوئی مذمت نہیں کرتا نہ ہی اسے عیسائیت پسندی یا عیسائی گردی قرار دیا جاتا ہے۔ اسرائیل مقبوضہ فلسطین میں روزانہ فلسطینوں کو شہید کررہا ہے۔ لیکن کوئی اسے یہودی دہشت گردی کہہ کر مذمت نہیں کرتا۔ مسلم ملک افغانستان میں امریکا نے دہشت گردی کی انتہا کر رکھی ہے اور یہ عیسائی دہشت گردی ہے۔ کسی کو بھارت اور مقبوضہ کشمیرمیں ہندو دہشت گردی نظر آتی ہے نہ میانمر میں’’امن پسند ‘‘بدھوں کی خونریزی پر کسی کی نظر ہے۔ امریکا اپنی پر وردہ تنظیم داعش کا قلع قمع کرنے کے بہانے عام شہریوں کا قتل عام کررہا ہے۔ اس کا اعتراف بھی کئی بار کر چکا ہے۔ خود برطانیہ نے بھی افغانوں کے خون سے ہاتھ رنگین کیے ہیں۔ جوابی کاروائی کتنی ہی قابل مذمت ہو لیکن مذمت کرنے والے اس پرغور کریں کہ اس ردعمل کی بنیاد کیا ہے؟