October 15th, 2019 (1441صفر15)

فیصلے ابھی زیر غور ہیں

 

چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم کو ایوارڈ دیے جانے پر احتجاجاًمتحدہ عرب امارات کا دورہ منسوخ کر دیا ۔ چیئر مین سینیٹ کو چار روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات جانا تھا ۔ انہوں نے اماراتی سفیر کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے ۔ صادق سنجرانی نے اس موقع پر کشمیریوں کے جذبات کی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور مودی کو ایوارڈ دیا جا رہا ہے ۔ اس امر پر مجھے دکھ ہوا ۔ ایسے حالات میں امارات کا دورہ نہیں کر سکتا ۔ کہنے کو یہ بہت معمولی سی بات ہے لیکن پاکستانی قوم اسی قسم کے فیصلوں کی منتظر ہے ۔ نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دینا کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا اس امر پربحث اب لکیر پیٹنے کے مترادف ہو گی کہ امارات نے پاکستان اور کشمیریوں کے لیے اس نازک موقع پر بھارتی وزیر اعظم کی غیر ضروری پذیرائی کیوں کی کیا پاکستان کی سفارتکاری ناکام ہے یا بھارت سے امارات کے مالی مفادات زیادہ ہیں ۔ بہر حال اس قسم کے فیصلوں میںبھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی مسئلہ کشمیر کے حل تک بندش ، کرتار پور سرحد کی بندش ، بھارت سے آنے والے کروڑوں روپے کے مال کی بندش کے فیصلے کرلینے چاہییں تھے ۔ جب کشمیر شہ رگ ہے اور وہ بھارت کے قبضے میں ہے تو چند کروڑ روپے کے مال کی کیا اوقات پاکستان سارا مال واپس کر دے ۔ حکومت تاجروں کو معاوضہ ادا کر کے ان کو دوسرے ملک سے کاروبار کا موقع دے ۔لیکن معاملہ اُلٹا چل رہا ہے ۔ وزارت خارجہ کو اب بھی یہی امید ہے کہ امارات کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دے گا ۔ دفتر خارجہ کو یہ امید کیوں ہے جبکہ بھارتی حکومت اور امارات کے قریبی تعلقات کا اعتراف بھی کیا جا رہا ہے ۔ روزانہ پاکستانی حکمرانوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت سے آزادی اور پاکستان سے الحاق ہے ۔ اس جانب کام کیا جائے ۔ بھارت 370 اور 35 اے ختم کرنے کے بعد اپنے قدم روکنے والانہیں ۔ مسلسل کرفیو ، گرفتاریاں اور فائرنگ کے علاوہ کشمیر سیکریٹریٹ سے کشمیر کا پرچم بھی اُتار لیا ہے۔ اگر پاکستان کشمیر کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو زبانی دھمکیوں اور لفظی جنگ سے نکل کر بھارت کو معاشی دھچکے پہنچانے والے کام بھی کرے ۔ بھارت سے اربوں روپے کے گٹکے ، پان پراگ اور مین پوری اور ماوا وغیرہ آتا ہے ۔ کروڑوں روپے کے کپڑے آتے ہیں ۔ پاکستانی مارکیٹوں میں بھارتی مال تیزی سے کھپ رہا ہے بھارتی فلمیں اور طائفے سرکاری سر پرستی حاصل کرتے ہیں ان کو بھی روکناہوگا ۔ ویسے بھی گٹکے وغیرہ سے تو صحت بھی خراب ہوتی ہے لیکن بھارت کو محض بیانات سے نہیں روکا جا سکتا ۔ مشکل یہ ہے کہ حکمراں طبقے میں کشمیر کے مسئلے کا ادراک نہیں ہے تو حل کے حوالے سے وہ کیا سوچیں گے ۔ اس امر کا اندازہ سید فخر امام کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے جو کہہ رہے ہیں کہ مودی کے اقدام کا سوچ سمجھ کر جواب دیںگے ۔ فخر امام کشمیر کمیٹی کے چیئر مین ہیں اور ان کے بارے میں کہا اور سمجھا جاتا تھا کہ وہ سوچنے سمجھنے والے آدمی ہیںلیکن کشمیر میں بھارتی اقدام کے 22 روز بعد وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ سوچ سمجھ کر جواب دیں گے ۔ اس سے سوچا جا سکتا ہے کہ سرکار کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی مفلوج ہو چکی ہیں مولانا فضل الرحمن اسلام آباد مفلوج کرنے کا پروگرام خواہ مخواہ بنا رہے ہیں جہاں سب ہی مفلوج ہیں ۔ پارلیمنٹ حکومت اور تمام طاقتور ادارے موجود ہیں لیکن کوئی ہِل جُل نہیں رہے صرف زبانیں ہِل رہی ہیں ۔ زبانی مطالبے یا دعوے اور احتجاج حکومتوں کا کام نہیں ہوتا ، حکومتیں اقدام کرتی ہیں قوم پیچھے چلتی ہے ۔نریندر مودی کی مثال سامنے ہے۔ لیکن یہاں حکومت کوئی اقدام کرنے پر آمادہ نہیں ۔

                                             بشکریہ جسارت