October 15th, 2019 (1441صفر15)

خطہ کی بدلتی صورتحال اور پاکستان کا کردار

 

لیاقت بلوچ
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

خطہ علاقائی اعتبار سے پاکستان، افغانستان، ہندوستان، ایران، روس اور چین پر مشتمل ہے۔ خطہ کے تمام ممالک میں مختلف قوموں، نسلوں اور مذاہب پر مشتمل انسان بستے ہیں۔ خطے کے تمام ممالک کا یہ مشترکہ مسئلہ ہے کہ وہ سیکورٹی، امن و امان، غربت، بے روزگاری اور اندرونی سطح پر بیرونی مداخلتوں کی وجہ سے شدت پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ خطہ میں نسبتاً کم آبادی، کم وسائل اور کمزور معیشت کی حامل ریاستیں علاقائی اور عالمی نام نہاد طاقتوں کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان بڑا ہونے کا جنون اور روس امریکا کا اس خطہ پر بالادستی قائم کرنے کی پرانی خواہش مسائل کی بنیاد ہے اسی لیے خطہ طویل مدت سے بحرانوں، استعماری قوتوں کے ایجنڈا کی تکمیل کی چراگاہ بنا ہوا ہے جس سے دو ارب انسان دہشت گردی، شدت پسندی، غربت، بے روزگاری، انسانی حقوق کی پامالی اور بیرونی مداخلت اور جارحیتوں کا شکار ہیں۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ یہ خطہ ہر دس پندرہ سال کے بعد نئے امکانات کے دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے لیکن تمام مثبت امکانات کو ضائع کر دیا جاتا ہے اور خطے کی صورتحال پہلے سے زیادہ ابتر ہو جاتی ہے۔
خطے میں مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں تنازعات کا کور ایشو ہے۔ انقلاب ایران کے بعد عالم اسلام تقسیم در تقسیم کا شکار کردیا گیا۔ اہل ایمان کلمہ گو باہم دست و گریبان ہیں جس کا تمام تر فائدہ عالمی استعماری قوتوں کو ہی ہورہا ہے جس نے عملاً مسلم معاشروں کو فرقہ واریت، تکفیریت، شدت پسندی اور عدم برداشت کا شکار کردیا ہے۔ یہ سازشیں کشمیر، فلسطین اور افغانستان کو میدان جنگ بنائے رکھ کر اپنے شیطانی عزائم کی پیش رفت کے لیے آلہ کار بنائے رکھنے کی ہیں۔ اس وقت دہشت گردی، شدت پسندی، انسانی حقوق کی پامالی کی وجہ سے خطہ کے انسان بری طرح خط غربت سے نیچے ہی گرتے جارہے ہیں۔ عملاً خطہ عالمی ہٹ دھرمی اور جارحیت کا شکار ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام خطہ کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے لیکن افغان امن مذاکرات کو تکمیل کی طرف نہیں بڑھایا جارہا۔ نریندر مودی اور حسینہ واجد شیخ جیسی قیادت خطہ کی تباہی کا مزید باعث بنی ہوئی ہیں۔ دونوں کا مشترکہ ہدف پاکستان جو ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے، اسے ناکام ریاست بنانا، نیز ایران اور پاکستان کو تنہا کرنا ہے۔ امریکا، بھارت اور اسرائیلی گٹھ جوڑ افغانستان کے راستے خطہ کو زیر رکھنے کے عزائم اور پاکستان ایران کو تعصبات کی آگ میں جھونکے رکھنا خاص مقاصد اور دونوں ممالک کو اندرونی طور پر کمزور کرنا نیز خطہ میں اسلامی ممالک کو ترقی، استحکام اور اسلامی نظام کے قیام کو روکنا ہدف ہے۔
خطہ میں پاک چین اقتصادی راہداری اہم ترین منصوبہ ہے۔ چین بحری اور زمینی راستوں سے ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے اقتصادی ترقی کا وسیع پروگرام رکھتا ہے یہ انسان دوستی، انسانوں کے معاشی مسائل کے حل کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے لیکن اس منصوبہ کو روکنا امریکا کا بڑا ہدف ہے ان مقاصد کے لیے بھارت امریکا کا آلہ کار بنا ہے۔ بھارت کا پرائم ہدف اپنی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ہے۔ امریکا خطہ کی سیاست میں دوہرے معیارات کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انڈیا کو سول نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کی سہولت اور پاکستان کو محروم رکھنا، شمالی کوریا سے نیوکلیئر معاہدہ کرنا جبکہ ایران سے معاہدہ کر کے توڑنا، ایران کے خلاف امریکی بیانیہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو کشیدہ تر بنائے رکھنا دوہرے معیارات کا شاخسانہ ہے۔ یہ عالم اسلام کے امن کے لیے مستقل خطرہ ہے یہ مرحلہ بہت اہم ہے کہ امریکا، طالبان اور کابل میں افغان قیادت کے مذاکرات کا میاب ہوں، افغان عوام کو امن مل جائے اور خطہ میں استحکام آئے۔ افغانستان میں امریکا کی ناکامی اور مذاکرات کی کامیابی سے مسئلہ کشمیر، فلسطین کا حل نکلے گا لیکن بھارت اور اسرائیل اس میں رکاوٹ ہیں۔ مذاکرات کی ناکامی یا بھارت و اسرائیل کی شرائط کو تسلیم کرانا ان کا ہدف ہے۔
خطے کے ان حالات میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ اندرونی سیاسی اور اقتصادی استحکام میں پاکستان کو کلیدی کردار ادا کرانے کا باعث ہوسکتا ہے۔ پارلیمنٹ اور قومی قیادت اپنے اندر اہلیت اور ادراک پیدا کرے کہ عالمی حالات میں فیصلہ کن مرحلہ پر قومی حکمت عملی ترتیب دیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ دوبارہ مسائل، پریشانیوں اور ذلت سے دوچار ہوں گے، ان حالات میں پاکستان کے کردار کے لیے اہم نکات اور ذرائع یہ ممکن ہیں:
٭۔ ملک کے اندر قومی ایکشن پلان کا بلاامتیاز نفاذ ناگزیر ہے۔ مساجد، مدارس اور منبر و محراب کو ٹارگٹ بنانا ترک کیا جائے۔ اصلاح اور نظم و ضبط ہر شعبہ ہائے زندگی میں ضروری ہے۔ غربت، بے روزگاری کے خاتمہ، صنعتی ترقی کے لیے سی پیک منصوبہ کا تحفظ اور منصفانہ نفاذ کیا جائے۔
٭۔ اتحاد امت کے لیے کردار اد کرنا از حد ضروری ہے۔ اسلامی اخوت اور باہمی احترام کے اصولوں کی بنیاد عالم اسلام کا اکٹھا ہونا ناگزیر ہے۔ امت میں اتحاد کے ذریعے ہی اہم اور طویل مدت سے حل طلب مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
٭۔ سعودی عرب، ایران کے درمیان تعلقات کی کشیدگی براہ راست پاکستان کو متاثر کر رہی ہے۔ ترکی کے ساتھ مل کر کشیدہ تعلقات کو دوستی میں بدلا جائے۔ افغانستان میں امن و استحکام کے ساتھ ایران و سعودی عرب کے تعلقات کی بہتری صرف پاکستان نہیں خطہ کے لیے بھی ضروری ہے۔ پاکستان خارجہ حکمت عملی میں اتحاد امت کو ترجیح اول بنائے۔
٭۔ عالم اسلام کے تمام ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں، ڈائیلاگ کا ماحول پیدا کیا جائے۔ تعلقات کار کے رہنما اصول، روڈ میپ بنایا جائے تاکہ تمام مسلم ممالک خصوصاً مڈل ایسٹ میں امن خطہ کے لیے بہت اہم ہے۔ امریکا اور ناٹو ممالک کی فورسز اس خطہ کا حصہ نہیں، ان کی فوجی موجودگی ختم ہونی چاہیے۔
٭۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی بانی پاکستان قائد اعظم اور آئین پاکستان کی روشنی میں بنائی جائے۔ پاکستان عدم مداخلت کے ساتھ مسلم ممالک میں تعلقات کار کی بہتری کے لیے مثبت سفارتی کردار ادا کرے۔ سفارت خانوں کو اتحاد امت کا مشن سپرد کیا جائے۔ پاکستان از سر نو مسلم ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس منظم کرنے کی کوششیں کرے جس میں مسلم ممالک کے اختلافات دور کرنے کا روڈ میپ طے ہو۔
٭۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان صدی کی ڈیل سازش ہے جو سرزمین فلسطین پر اسرائیلی ناجائز قبضہ کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے، یہ کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں۔ پوری شدت سے اسے مسترد کیا جائے، یہ ناجائز قبضہ ہے۔
٭۔ پاکستا ن تو کبھی بھی افغانستان یا بھارت سے جنگ نہیں چاہتا۔ اقوام متحدہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے موثر کردار ادا نہیں کرے گا، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم و انسان کشی جاری رہے گی۔ افغانستان میں اگر مسلسل جارحانہ مداخلت کی روش برقرار رہے گی اور افغان عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوگا تو خطہ مستقل بنیادوں پر عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ پاکستانی حکومت اس تناظر میں اپنا سفارتی کردار ادا کرے۔
٭۔ ایران آزاد، اسلامی، خود مختار ملک ہے اس کے خلاف امریکی اقدامات صریحاً ناجائز ہیں۔ مڈل ایسٹ میں تنازعات کی تازہ لہر عالمی امن کے لیے انتہائی مہلک اور خطرناک ہے۔ عالمی ادارے اپنی پالیسی اور منظور کردہ قرار دادوں سے انحراف کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جانبداری، مسلم دشمنی کا تعصب حالات و تعلقات میں شدت پیدا کرتا ہے۔ خطہ کو مرید تباہی سے بچانے کے لیے مڈل ایسٹ کو امن کی طرف لانے کے اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے۔
٭۔ خطہ میں امن و استحکام کے لیے اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلائے۔ پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے موثر سفارتی کردار بہت اہم ہے۔ امریکا کی افغانستان کے حوالے سے غلط اور تباہ کن پالیسی سے نجات کا تقاضا ہے کہ امریکا ناکامی تسلیم کرے اور اپنی فوجی طاقت کا خطہ سے خاتمہ کرے۔ اب وقت آگیا ہے کہ چین، روس، ترکی، ایران اور خطہ کے دیگر ممالک خصوصاً مڈل ایسٹ اور سنیٹرل ایشیا کے ممالک مشترکہ بنیادوں پر خطہ کو امریکی اثرات سے نجات دلانے کی حکمت عملی اختیار کریں۔
٭۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی کشیدگی، غلط فہمیاں سب کے لیے پریشانی اور مشکلات کا باعث ہیں۔ ایران کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کی آمادگی مثبت اشارہ ہے۔ اس مرحلہ پر پاکستان موثر رابطوں کے ذریعے مغربی ایجنڈے کو نیست و نابود کرنے کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی دوری کا حل ضروری ہے۔
٭۔ بھارت اور اسرائیل سے مسلم ممالک کی بڑھتی دوستی اور تعلقات سے مسئلہ کشمیر،فلسطین، عالم اسلام ا ور امت کو پہنچنے والے عمومی نقصانات سے بچانے کے لیے پاکستان موثر حکمت عملی سے کردار ادا کرے۔
یہ امر باعث تشویش اور چشم کشا ہے کہ بھارت کو خلیجی ممالک سے بے شمار اقتصادی فوائد ہورہے ہیں جبکہ عالم اسلام سے بہتر تعلقات کی بنیاد پر خطہ میں امن، معاشی ترقی، تنازعات کے حل کے لیے بڑا راستہ بنایا جاسکتا ہے لیکن پاکستان خلیجی ممالک کے بھارت سے بڑھتے تعلقات کے لیے کوئی سدباب نہیں کر پا رہا یہ خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کا بڑا کمزور پہلو ہے۔ پاکستان کا پوری دنیا سے زر مبادلہ 21 ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ بھارت خلیجی ممالک سے ہی 54 ارب ڈالر کا زر مبادلہ حاصل کرتاہے جو عملاً سی پیک کے برابر ہے۔ بھارت کے متحدہ عرب امارات سے تعلقات اور شراکت داری بڑھتی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ او آئی سی کے حالیہ اجلاس میں بھارت کو مدعو کیا جانا پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی ہے۔ خطہ میں صورتحال بدل رہی ہے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ حکمت عملی کے لیے قومی اتفاق رائے اور موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ خطہ میں مستقبل میں پیدا ہونے والے امکانات میں پاکستان کو ہوش، جوش، ہنر مندی، تدبر اور فعالیت کے ساتھ کردار ادا کرنا ہے یہی قیادت اور پالیسی سازی کے لیے چیلنج ہے۔