October 15th, 2019 (1441صفر15)

پارلیمنٹ کا مایوس کن رویہ

 

 

مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیے بھارتی حکومت نے وہ سب کچھ کرلیا جس کی اسے ضرورت تھی ۔ پہلے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا گیا ، پھر ایوان بالا راجیہ سبھا سے اس کے لیے بل منظور کروایا گیا اور منگل کو ایوان زیریں لوک سبھا نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بل پر اپنی مہر ثبت کردی ۔ بھارت نے یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں کردیا ۔ اس کی تیاریاں مہینوں سے جاری تھیں اور گزشتہ دو ہفتوں سے سب کچھ پیش منظر پر تھا ۔ اس کے جواب میں پاکستان نے کیا تیاری کی تھی؟ اگر شاہ محمود قریشی والے بیان کو درست مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پاکستان کی حساس ایجنسیوں کے پاس اتنی خبریں بھی نہیں تھیں جتنی سوشل میڈیا پر دستیاب تھیں ۔ حکومت پاکستان نے منگل کو ہنگامی طور پر دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا ۔ قوم کو توقع تھی کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد بھارت کو پیغام جائے گا کہ مسئلہ کشمیر پر اور بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستانی قوم متحد ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی جارحیت کے توڑ کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل بھی سامنے آئے گا ۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جس نے بھی دیکھا ، اسے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔پورے اجلاس کے دوران ایک مرتبہ بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ یہ اجلاس بھارتی جارحیت کی مذمت اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بلایا گیا ہے ۔ سارے ہی ارکان پارلیمنٹ اپنے رہنماؤں کی خوشامد میں مصروف رہے اور تمام ہی پارٹیوں کے رہنما اپنے خول میں بند نظر آئے ۔ بھارت کو سب سے پہلا منفی پیغام ہی یہ گیا کہ اس میں عمران نیازی نے اپنی شرکت ضروری نہیں سمجھی ۔ جب حزب اختلاف نے شورمچایاتو ساڑھے تین گھنٹے کے بعد وہ تشریف لائے ۔ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر اعظم سواتی نے قرارداد کا جو متن پیش کیا ، اس میں اصل بات یعنی بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا کہیں ذکر ہی نہیں تھا ۔ حزب اختلاف کے شور پر اسے قرارداد کے متن میں شامل کیا گیا ۔اعظم سواتی کا یہ جملہ ریکارڈ ہوا کہ میں نے تو آرٹیکل 370 کا حوالہ دیا تھا جو نکلوا دیا گیا۔ تقریر کی پہلی دعوت شیریں مزاری کو دی گئی مگر ان کا اصل زور بھارت کی مذمت کے بجائے حزب اختلاف کی مذمت پر تھا ۔ پارلیمنٹ کے پورے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اسے بدترین سیاسی ناپختگی کی مثال قرار دیا جاسکتا ہے ۔ پہلی غلطی عمران نیازی کی تھی کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے انتہائی اہم مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ ہی نہیں کیا تھا اور انہیں جبری طور پر اجلاس میں لایا گیا ۔ا س کے بعد جب عمران نیازی کی تقریر شروع ہوئی تو ن لیگ کے رہنما شہباز شریف جو شروع سے اجلاس میں شریک تھے ، باہر چلے گئے اور عین اس وقت اندر آئے جب عمران نیازی کی تقریر جاری تھی ۔ شہباز شریف کی آمد پر ان کی پارٹی کے اراکین نے ڈیسک بجا کر اور ن لیگ کے نعرے لگا کر خیر مقدم کیا جس سے عمران نیازی کی تقریر کے تسلسل میں خلل پڑا ۔ پیپلزپارٹی کے رہنما آصف زرداری نے بھی یہی کام دکھایا اور اسی وقت ایوان میں داخل ہوئے جب عمران نیازی کی تقریر جاری تھی ۔ آصف زرداری کی آمد پر بھی پیپلزپارٹی کے اراکین نے ایوان کو جلسہ گاہ میں تبدیل کردیا اور جئے بھٹو کے نعرے لگاتے رہے ۔بلاول بھٹو نے بھی یہی کارنامہ سرانجام دیا ۔ ایک وقت آیا کہ عمران نیازی نے تنگ آکر کہا کہ اگر آپ لوگ میری تقریر نہیں سننا چاہتے تو میں بیٹھ جاتا ہوں تو کئی آوازیں بلند ہوئیں کہ بیٹھ جاؤ ، بیٹھ جاؤ ۔حزب اختلاف کے اس مایوس کن رویے کے جواب میں وزیراعظم عمران نیازی کا خطاب بھی انتہائی مایوس کن تھا ۔ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ مسئلہ پر عمران نیازی کا بے ترتیب اور بلا کسی تیاری کے خطاب تھا ۔ نہ تو انہوں نے بھارتی جارحیت کے لیے کوئی اعداد و شمار پیش کیے ، نہ بھارت کو کوئی سخت پیغام دیا اور نہ ہی قوم کو بتایا کہ بھارتی جارحیت کے خاتمے کے لیے ان کے پاس کیا لائحہ عمل ہے ۔ عمران نیازی کی اتنے اہم مسئلے پر سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس اجلاس میں ان کا اہم ترین مسئلہ ان کے نام کی درستی کی قرارداد کی منظوری تھا ۔ مذکورہ قرارداد کے تحت اجلاس میں منظور کیا گیا کہ انہیں عمران خان نیازی کے بجائے عمران احمد خان نیازی لکھا اور پکارا جائے ۔ ان کا پورا زور اس پر تھا کہ ن لیگ کے دور میں کشمیر کے مسئلے کو خراب کیا گیا ۔ اس طرح سے یہ مشترکہ اجلاس بھارت کو کوئی موثر پیغام دینے کے بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور ایک دوسرے کو مودی کا یار کہنے پر صرف ہوا ۔ پاکستانی قوم اس وقت ایک صدمے کی حالت میں ہے اور منتظر ہے کہ پاکستان کی سیاسی طاقتیں اہم ترین پاکستانی علاقے جسے قائداعظم نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، اسے بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے کیا قدم اٹھاتی ہیں ۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے ذریعے عسکری قیادت نے دنیا کو درست پیغام دیا ہے کہ وہ پیشہ ورانہ اہمیت کی حامل فوج ہیں اور انہیں ملک کی سیاسی قیادت جو بھی حکم دے گی ، وہ اس کے مطابق عمل کریں گے ۔ یہ فیصلہ کرکے انہوں نے گیند سیاسی قیادت کے کورٹ میں پھینک دی ہے ۔ اس کے جواب میں ملک کی سیاسی جماعتیں جس احمقانہ طرز عمل کا مظاہرہ کررہی ہیں ، اسے نرم سے نرم الفاظ میں پاکستانی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ تمام ہی سیاسی رہنما عقل کے ناخن لیں اور اپنے اختلافات اور سیاسی الزام تراشیاں کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھیں ۔ دوسری صورت میں پاکستانی قوم انہیں اس طرح مسترد کرے گی کہ ان کا نام و نشان صرف تاریخ کے اوراق میں ملے گا ۔ عمران نیازی بھی صورتحال کا ادراک کریں اورکنٹینر سے نیچے اتر آئیں ۔انہیںاس امر کو اب تسلیم کرلینا چاہیے کہ وقت نے انہیں وزیر اعظم بنادیا ہے ۔ پاکستان کے استحکام کے لیے داخلہ ، خارجہ اور معاشی پالیسی بنانا ان ہی کی ذمہ داری ہے ۔ گزشتہ حکومتوں نے کیا کچھ کیا ، یہ انہیں وزیر اعظم کا حلف لینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔ انہوں نے خود آگے بڑھ کر اپنی خواہش اور ہر طرح کی کوشش کے بعد وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا ہے تو انہیں ہی تمام مسائل کو حل کرنا ہوگا ۔ گزشتہ حکومتوں کو ذمہ دار ٹھیرا کر وہ بری الزمہ نہیں ہوسکتے ۔ مودی مسلسل پیش قدمی کررہا ہے ۔ پورے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ کسی کو احتجاج کی بھی اجازت نہیں ہے ۔ اندر سے بہ مشکل باہر آنے والی اطلاعات کے مطابق روز کشمیریوں پر فائرنگ کی جارہی ہے اور بے گناہ کشمیری پاکستان سے الحاق کی آرزو کے جرم میں جام شہادت نوش کررہے ہیں ۔ بھارت کو جو کچھ کرنا تھا وہ کر گزرا ۔ اب پاکستان کی باری ہے ۔ اگر بھارت کو ویسا ہی دندان شکن جواب نہیں دیا گیا جو بھارتی ایٹمی دھماکے کے بعد دیا گیا تھا تو سمجھ لینا چاہیے کہ بھارت کے عزائم بقیہ پاکستان کے بارے میں بھی نیک نہیں ہیں ۔ وہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے مذموم منصوبے پر پہلے سے عمل پیرا ہے ۔ پاکستان میں عدم استحکام کے لیے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے علاوہ انہیں تربیت کی سہولتیں اور اسلحہ بھی مہیا کرتا ہے ۔ اگر پاکستان اس وقت کو دندان شکن جواب دے دیتا ہے تو بھارت کچھ عرصے کے لیے دم دبا کر بیٹھ جائے گا بصورت دیگر ہمیں اپنے دیگر علاقوں میں گڑ بڑ اور ایسی ہی کسی بھارتی جارحیت کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ بھارت وہ ملک ہے جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں کوئی اثر نہیں ڈالتیں ۔ بھارت پر بالا کوٹ کے قریب ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی ردعمل ہی کا نسخہ کارگر ہے ۔ موجودہ پارلیمنٹ کہاں سے آئی کس نے کس کو سلیکٹ کیا، الیکٹ ایبلز کون اور کیا ہیں یہ بات سب کو پتا ہے۔ پھرلوگوں کو وہ پارلیمنٹ کیوں یاد نہیں آئے گی جس میں پروفیسر عبدالغفور اور ڈاکٹرنذیر تھے ۔ وہ سیاسی اتحاد کیوں یاد نہیں آئیں گے جن میں قاضی حسین احمد اور مولانا نورانی تھے ۔ ان کے رعب سے جنرل پرویز بھی کانپتا تھا۔ یہ الیکٹ ایبلز اورسلیکٹڈ تو ہر وقت اپنے لانے والوں کے مرہون منت رہتے ہیں ۔         

                         بشکریہ جسارت