October 15th, 2019 (1441صفر15)

پاکستان کو آئی ایم ایف کی دھمکیاں

 

آئی ایم ایف نے سقوط کشمیر کے پیش منظر میں پاکستان کو سنگین دھمکیاں دی ہیں ۔ حکومت پاکستان کے نام اپنے تازہ ترین مراسلے میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے مثبت اقدامات کرے ۔ ان مثبت اقدامات میں جہادی تنظیموں کے حوالے سے کریک ڈاؤن کرنے کا کہا گیا ہے ۔ آئی ایم ایف نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نہ نکلا تو آئی ایم ایف نہ صرف اپنا دیا گیا قرض منسوخ کردے گا بلکہ دیگر اداروں کو دی گئی ضمانتیں بھی واپس لے لے گا جس کا نتیجہ پاکستان کا دیوالا نکلنے کی صورت میں نکلے گا ۔ آئی ایم ایف نے براہ راست کہا ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کرے ۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر جہادی تنظیموںکے خلاف کارروائی کا دباؤ ایسے وقت میں ڈالا ہے جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے اور اسے اس کے ردعمل میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں شدید مزاحمت کا اندیشہ ہے ۔ پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ پاکستان میں جہادی تنظیموں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے ۔ بھارت سمیت پوری دنیااس امر سے بخوبی واقف ہے کہ پاکستانیوں کے دل امت مسلمہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ مجاہدین کی بھرتی سرکاری طور پر نہیں کی جاتی بلکہ یہ مسلمانوں کا امتیازی وصف ہے کہ ان کے نزدیک شہادت مطلوب ومقصود ہے ۔ ہر طرح کا ظلم روا رکھنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں جذبہ حریت پر قابو نہیں پاسکا ۔ اب بھارت اور اس کے مربیوں اسرائیل اور امریکا کی ہدایت پر آئی ایم ایف بھی میدان میں آگیا ہے اور پاکستان کے معاشی مقاطعے کی دھمکی دے دی ہے ۔ پاکستان نے قرض لیا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنی داخلی سلامتی ، خارجہ پالیسی اور مقتدر حیثیت بھی گروی رکھ دی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ آئی ایم ایف کو واضح طور پر جتا دیا جائے کہ پاکستان کی داخلہ پالیسی ، خارجہ امور اور اقتصادی معاملات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہیں اور یہ پاکستان کے عوام کی مرضی سے حل ہوں گے ۔ اس معاملے پر بیرونی مداخلت نہ صرف قبول نہیں کی جائے گی ۔بلکہ اس پر شدید ردعمل بھی دیا جائے گا ۔ پاکستان کو واضح موقف اپنانا ہوگا کہ حریت پسندوں اور دہشت گردوں میں واضح فرق ہے ۔ امریکی ریاستوں میں اسکولوں ، بازاروں اور کلبوں میں ہونے والی فائرنگ تو دہشت گردی ہے مگر اہل فلسطین جو کچھ بھی قابض اسرائیلی فوج کے ساتھ کرتے ہیں وہ ان کی جنگ آزادی ہے ۔ اسی طرح کشمیری بھی بھارتی تسلط کے خلاف جنگ آزادی لڑ رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا ہے اور اسے کشمیریوں کواستصواب رائے کا حق دینا چاہیے ۔ بین الاقوامی طور پر ایک تسلیم شدہ قابض حکومت کے خلاف جدوجہد کو دہشت گردی قرار دینے کا واضح مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک بھارت کی کٹھ پتلی میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔ 

بشکریہ جسارت