October 17th, 2019 (1441صفر17)

عوام کا خون نچوڑنے کا بیانیہ

 

سرکار کی میں نہ مانوں پالیسی کے خلاف تاجروں نے عید کے فوری بعد ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے ۔ جب سے عمران خان برسراقتدار آئے ہیں ، اس دن سے ملک کی معاشی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں ۔ عمران خان کا ایک ہی بیانیہ ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دے رہے ۔ اس بات کی کئی مرتبہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ نان فائلر کو ٹیکس نادہندہ کہنا یکسر غلط ہے ۔ ٹیکس تو ا س ملک کا ہر باشندہ دے رہا ہے اور اوقات سے زیادہ دے رہا ہے ۔ اگر بات انکم ٹیکس کی ہے تو بھی بیشتر افراد ایسے ہیں جن کی تنخواہ سے ٹیکس کی براہ راست کٹوتی ہوجاتی ہے مگر وہ پیچیدہ نظام کی وجہ سے ریٹرن فائل نہیں کرتے ۔ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوپائی ہے کہ عمران خان اس ملک کے عوام کی خدمت کے لیے حکومت میں آئے ہیں یا آئی ایم ایف کی ہدایت پر عوام کا خون چوسنے کے لیے ۔عمران خان کی کارکردگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا اس وقت ایک ڈالر کی شرح تبادلہ 106 روپے تھی جو اب بڑھ کر 160 پر پہنچ گئی ہے اور روپے کی مزید بے قدری جاری ہے ۔ سونا 54 ہزار روپے فی تولہ تھا جو اب بڑھ کر84 ہزار 500 فی تولہ ہوگیا ہے ۔ پٹرول 70 روپے سے بڑھ کر 114 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے ۔ سی این جی کی قیمت 74 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 118 روپے فی کلو گرام ، سیمنٹ کی بوری 450 سے بڑھ کر 650 روپے ، آٹے کی بوری 1400 روپے سے بڑھ کر 2000 روپے ، چینی کی بوری 2300 روپے سے بڑھ 3500 روپے اور گیس کا سلنڈر ایک ہزار روپے سے بڑھ کر 1700 روپے پر پہنچ گیا ہے ۔ قیمتوں میں یہ اضافہ تھما نہیں ہے اور ہر ماہ اس میں اضافہ ہی ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد بھی عمران خان کہتے ہیں کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے تو وہ بتائیں کہ عوام کہاں سے ٹیکس دیں گے ۔ کیا حکومت تنخواہ میں اسی تناسب سے ہر ماہ اضافہ کرتی ہے جس تناسب سے وہ مہنگائی میں اضافہ کررہے ہیں ۔ ان ہی صفحات میں ہم کئی مرتبہ اس امر کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتے یا دینا نہیں چاہتے ۔ مسئلہ حکومت کے بدعنوان اہلکاروں اور پیچیدہ نظام کا ہے ۔ عمران خان تاجروں اور چھوٹے دکانداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے ایف بی آر کے اہلکاروں کے اثاثے کیوں چیک نہیں کرتے ۔ آمدنی سے بڑھ کرطرز زندگی گزارنے پر ان سے کیوں پوچھ گچھ نہیں کی جاتی ۔ ایک مرتبہ عمران خان ایف بی آر کے افسران اور عملے کی تطہیر کرلیں تو سب کچھ درست ہوجائے گا ۔سب کو علم ہے کہ ٹیکس چوری کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچانے والے چھوٹے تاجر یا دکاندار نہیں ہیں بلکہ لارج ٹیکس پیئر ہیں ۔ یہ لارج ٹیکس پیئر وہ ادارے ہیں جن کا صارفین کا نیٹ ورک بہت بڑا ہے ۔ اس میں موبائل فون کمپنیاں ، بجلی پیدا کرنے والی اور تقسیم کرنے والی نجی کمپنیاں ، فضائی کمپنیاں، بڑے ریستوران اور ہوٹل اور ان ہی جیسے دیگر ادارے شامل ہیں ۔ یہ ادارے نہ صرف اپنا قابل ادائیگی ٹیکس ادا نہیں کرتے بلکہ اس سے بھی بڑا جرم یہ کرتے ہیں کہ سرکار کے نام پر سیلز ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیاں عوام سے جمع کرتے ہیں اور خود ہی ہڑپ کرجاتے ہیں ۔ خودسرکار کے مطابق صرف کے الیکٹرک اور گیس کمپنیاں ہی 750 ارب روپے کی سرکار کو نادہندہ ہیں ۔ اگر حکومت یہی ٹیکس مع جرمانہ وصول کرلے تو اسے مزید کوئی نیا ٹیکس لگانے اور عوام کا خون نچوڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ حیرت انگیز طور پر عمران خان کی اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے مگر وہ عوام جن کی خدمت کرنے کا نعرہ لگاکے عمران خان برسراقتدار آئے ہیں ، ان کے کس بل نکالنے کی طرف ضرور عمران خان سنجیدگی سے متوجہ ہیں ۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ واضح طور پر اس امر کا اعلان کریں کہ وہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں یا پھر آئی ایم ایف کی ہدایت پر پاکستان کو فروخت کردینا چاہتے ہیں ۔ عمران خان کے اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف معاشی سرگرمیاں منجمد ہوگئی ہیں بلکہ مہنگائی میں مصنوعی اضافے کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد روزانہ خط غربت کے نیچے چلی جاتی ہے ۔عمران خان ادائیگی کا یہ سلسلہ اپنے گھر اور اپنے دوستوں سے کیوں شروع نہیں کرتے جن کے اثاثوں میں اربوں روپے مالیت کا ہر شب اضافہ ہوجاتا ہے ۔ایک دکان کے بند ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ دکاندار اور اس کے چند ملازم بیروزگاری کا شکار ہوجائیں گے بلکہ اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں اور اس کی لپیٹ میں وہ کارخانے بھی آتے ہیں جن کا مال وہ فروخت کررہا تھا اور وہ ٹرانسپورٹر بھی جو اس کا مال دکان تک لاتا تھا وغیرہ وغیرہ ۔

                                                                                                                                     بشکریہ جسارت