August 25th, 2019 (1440ذو الحجة24)

’’کراچی کو عزت دو‘‘ ایک مہم ایک جدوجہد

 

محمد انور

پیپلز پارٹی اور اس کے چیئرمین بلاول زرداری سڑکوں پر حکومت کے خلاف جلوس جلسے کررہے ہیں تو اس کی وجہ شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کو جیل کی سلاخوں سے باہر نکالنا ہے۔ مریم نواز حکومت کے خلاف بیان بازی اور احتجاجی جلسے منعقد کررہی ہیں تو اس کی وجہ اپنے والد اور مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کو جیل سے نکال کر انہیں علاج کی غرض سے لندن بھجوانا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ حکومت میں رہتے ہوئے اچانک ’’پانی دو‘‘ کے نعرے لیکر سڑک پر آئی تو اس کی وجہ صرف وفاقی حکومت پر پڑنے والے سیاسی دباؤ کو کم کرکے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر محض ’’بلیک میل‘‘ کرنے کے لیے دبائو ڈالنا تھا۔
ان میں سے کوئی بھی کراچی کے مجموعی مسائل کے سدباب کی بات کرتا ہوا نظر ہی نہیں آتا۔ لیکن کراچی والوں کی خوش قسمتی ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن کراچی کے ڈھائی کروڑ لوگوں کو درپیش پانی، بجلی، صفائی ستھرائی، مہنگائیاور بیروزگاری کے مسائل کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ صرف میڈیا اور اخبارات کے بیانات تک محدود نہیں رہتے اور نہ ہی ٹاک شوز میں جذباتی باتیں کرکے اپنے آپ کو اور جماعت اسلامی کی سیاست کو نمایاں کرتے ہیں۔ وہ جو کررہے ہیں اور کرتے ہیں پورے شہر کو نظر آتا ہے، شہری دیکھ کر اس بات کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ’’جماعت اسلامی ہی تو واحد سیاسی پارٹی ہے جو لوگوں کے حقیقی مسائل کی نہ صرف نشاندہی کرتی ہے بلکہ ان کے سدباب کے لیے صرف عوامی مہم نہیں چلاتی بلکہ عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹایا کرتی ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے شہر کراچی کی یہ خوش قسمتی ہے کہ یہاں انجینئرحافظ نعیم الرحمن جیسے انسان دوست اور شہر پرست رہنما امیر جماعت اسلامی کراچی کی حیثیت سے لوگوں کو درپیش مسائل کے سدباب کے لیے ’’کراچی کو عزت دو‘‘ سلوگن کے تحت جماعت کے کارکنوں، ہمدردوں اور متفقین کے ساتھ مل کر ایک نئی جدوجہد کا آغاز کرچکے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کراچی منی پاکستان ہے، ہر زبان بولنے والا یہاں موجود ہے، غریبوں کی ماں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان میں جو کچھ طے ہوا تھا اس کے مطابق کراچی کا انفرا اسٹرکچر بننا چاہیے تھا، اس کے مطابق کراچی میں انڈسٹرالائزیشن کے لیے کوششیں ہونی چاہیے تھیں، کسی ایک پارٹی نے بھی یہ کام نہیں کیا اور صرف یہ کہہ دینا کہ کراچی اپنی جنریشن خود کرے۔ کراچی تو یہ خود کرے گا اور کرتا ہے، مگر کراچی پر ایک مافیا لاکر اسٹیبلشمنٹ نے بٹھائی تھی جس نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ آج جو صورتحال ہے وہ کیا ہے، یہاں نہ ایم کیو ایم نے ڈلیور کیا اب تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا مینڈیٹ بھی کم ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کا تو کام ہی کچھ اور ہے، 42 ہزار نوکریاں دی گئیں مگر کیا کوئی ہے ان میں کراچی کاتھا؟ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم تو ایک خاص قسم کی سیاست کرتی ہے ان کو ایک وزارت مل جائے گی وہ چھ ماہ کے لیے خاموش ہوجائے گی، ان کو کراچی کی میئر شپ ملی ہوئی ہے اس سے وہ اپنا حساب کتاب کررہے ہیں۔ اس کراچی کے جو اصل مسائل ہیں ان کے لیے یہ لوگ کیا کررہے ہیں ؟، کیا کوئی نیپرا میں جاتا ہے، ہم جاتے ہیں‘ الحمدللہ ہم نے کراچی کے لوگوں کو ریلیف دلایا ہے۔ کراچی کو ساری پارٹیوں نے نظر انداز کیا، مجھے بتائیے کہ ایک سو 62 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان عمران خان نے کن بنیادوں پر کیا تھا، کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے، کے فور منصوبے پر آپ پیسے نہیں دے رہے گرین لائن منصوبہ آپ مکمل نہیں کررہے۔ پیپلز پارٹی کو تو صرف لینا ہے دینا کچھ نہیں ہے، کرپشن اور لوٹ مار ان کا مقصد ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ ووٹ ڈال دیتے ہیں پھر امیدوں پر چلتے رہتے ہیں اس لیے جماعت اسلامی نکلی ہے اور ہم نے سلوگن یہ دیا ہے کہ ’’کراچی کو عزت دو‘‘۔
امیر جماعت اسلامی کراچی یہ تمام باتیں ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں کررہے تھے۔ ان کے لب و لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ کراچی کو عزت دلانے کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔
سب ہی لوگ جانتے ہیں کہ گزشتہ 30، 32 سال کے دوران شہر کے لوگوں میں خوف پھیلا کر ان کی عزتیں ہی نہیں‘ جانیں تک لے لی گئیں۔ شہر کے مہاجر جو اسلحہ رکھنے کا تصور بھی نہیں کرتے تھے انہیں ایک سازش کے تحت اسلحہ رکھنے پر مجبور کیا گیا۔ پھر اسی اسلحے کو سیاست سمیت ہر شعبے ہر ادارے میں استعمال کرکے کراچی والوں کی تہذیب اور وقار کا بھی جنازہ نکال دیا گیا۔ اس طرح کراچی کے پرامن لوگوں اور پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو قاتل اور بھتا خور بناکر پوری نسل کی بے عزتی کرائی گئی لیکن اب جماعت اسلامی ’’کراچی کو عزت دو‘‘ کا پیغام پھیلاکر نہ صرف نوجوانوں کی عزتوں کو بحال کرائے گی بلکہ پورے شہر کو عزت دار بنائے گی۔ اس شہر کی گلی کوچوں سے کچرے کے ڈھیر گندگی‘ غلاظت اور دیگر تمام مسائل کے حل کے لیے مہم چلاکر کراچی کو اس کا حق دلائے گی۔ یہی مقصد ہے ’’کراچی کو عزت دو‘‘ کے نعرے کا۔ توقع ہے کہ سب ہی لوگ جماعت کی اس مہم میں شامل ہوکر ’’کراچی کو عزت دو‘‘ کی جدوجہد میں شامل ہوں گے اور اپنا حق ادا کریں گے۔