November 19th, 2019 (1441ربيع الأول21)

حکومت پاکستان کو کہاں لے جا رہی ہے؟

 

حبیب الرحمن

عقل حیران اور دل پریشان ہے اور عقل کی یہ حیرانی اور دل کی یہ پریشانی ہے کہ مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ پاکستان کس سمت چل نکلا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی حکومت ابھی تک ایسی نہیں آئی جس نے ایسے اقدامات اٹھائے ہوں جن سے عوام کی مشکلات میں کمی آئی ہو لیکن گیارہ ماہ قبل تک جو بھی حکومتیں رہیں اور انہوں نے عوام کو جن مشکلات سے بھی دو چار کیا ان کی رفتار بہت ہی سست تھی۔ معلوم نہیں بے روز گاری، مہنگائی اور مشکلات اچانک یاجوج ماجوج کی طرح ہر بلندی و پستی سے کیسے نکلنا شروع ہو گئیں۔ پہلے تو دوچار سال بعد کسی شے کی خریداری پر قیمت بڑھ جانے کے سوال پر دکاندار کے منہ سے یہ سنائی دیتا تھا کہ صاحب یہ بات تو پرانی ہوئی۔ پھر ہرسال ایسا ہی کچھ سننا پڑتا، پھر بات مہینوں کی ہونے لگی لیکن اب یہ حال ہے کہ بازار کا چکر لگا کر دوبارہ جانا پڑے تو ہر شے کے دام بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ حیرانی اس بات پر نہیں ہوتی کہ آخر ہر چیز کو آگ کیوں لگ گئی ہے پریشانی اس بات کی ہے کہ آخر اچانک پاکستان پر ایسی کون سی نحوست سوار ہو گئی ہے کہ کوئی شے کسی بھی مقام پر آکر رکتی نظر نہیں آرہی۔ ڈالر ہے کہ اس کے ریٹ صبح کچھ دوپہر کچھ اور دن کے اختتام پر کچھ اور ہوجاتے ہیں۔ پٹرول، بجلی، پانی، گیس، کھانے پینے اور عام استعمال کی اشیا یہاں تک کہ ادویات تک، سب میں آگ لگی ہوئی ہے اور اس کے شعلے بجائے سرد ہونے یا مدھم ہونے کے آسمان کی جانب بلند سے بلند تر ہوتے جارہے ہیں۔ مہنگائی کا جن عوام کا جتنا بھی خون چوستا جارہا ہے اتنا ہی اپنا حجم بڑھاتا جا رہا ہے۔
ایک دل دہلادینے والی خبر نے شبستانِ وجود لرزا کر رکھ دیا۔ خبروں کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 164 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی رکنے کا نام نہیں لے رہی جب کہ ڈالر تیزی کے ساتھ ڈبل سنچری کی جانب گامزن ہے، آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مزید 7 روپے 20 پیسے مہنگا ہوگیا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 164 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کس دور میں نہیں ہوتی رہی لیکن جس رفتار سے چند مہینوں میں روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے وہ عقل و فہم سے کہیں باہر ہے۔ یہ اس حکومت کے دور میں ہو رہا ہے جس کے سربراہ کا یہ کہنا تھا کہ اگر روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ایک روپیہ بھی گر جائے تو اربوں روپے قرضوں کا بوجھ ملکی خزانوں پر بڑھ جاتا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ روپے دو روپے والی بات تو خواب و خیال ہی بن کر رہ گئی ہے۔ عالم یہ ہو گیا ہے کہ ٹاور سے گلشن حدید تک کا سفر طے کرتے کرتے ڈالر کی قیمتوں میں درجن بار رد و بدل ہو چکا ہوتا ہے۔ تیزی سے گرتی ہوئی روپے کی قدر کی وجہ سے چند ہی ہفتوں میں قرضوں کی مد میں تقریباً 1500 ارب روپے بڑھ چکے ہیں جو غریبی میں آٹا گیلا ہونے کے مترادف ہے۔ پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ گیس کی قیمتیں بھی یکم جولائی سے بڑھادی گئی ہیں جس کی سمری کی منظوری ہو چکی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دعوؤں کے مطابق کرپشن کی مد میں جو روزآنہ 12 ارب کی خورد برد ہوا کرتی تھی اس کے رک جانے، سرکار کے ہر قسم کے اخراجات میں مثالی کفایت شعاری کے سبب، شاہی زندگی کو فقیرانہ طرز میں بدلنے کی وجہ سے بچت، ٹیکسوں کی مد میں زبردست اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی، ڈیزل کی ادھار ترسیل اور وہ بھی تین سال کے لیے اور بے حساب قرضوں کے مل جانے کے باوجود بھی ڈالر کی پرواز اور مہنگائی کا جن اگر قابو میں نہیں آرہا تو اس کو کس کی نااہلی یا ناکامی سمجھا جائے گا؟۔ حیران ہوں کہ دل کو رویا جائے یا جگر کو پیٹا جائے۔ ہر شے قابو سے باہر ہوتی جارہی ہے اور جس جس پھوڑے کو ناسور سمجھ کر چیرا جارہا ہے وہ کینسر بنتا جا رہا ہے۔ مہنگائی کی نحوست ہو یا ڈالروں کی اڑان، کوئی ایک معاملہ بھی ایسا دکھائی نہیں دے رہا جو ہرجراحی (آپریشن) کے بعد مزید پھلتا پھولتا نہ جارہا ہو۔ یہ تمام صورت حال نہ صرف عوام کے لیے سخت مایوس کن ہے بلکہ ریاست کے وجود کو ہلاکر رکھ دینے والی ہے جس پر اگر فوری قابو نہ پایا گیا تو ریاست کی بنیادیں بھی ہل سکتی ہیں۔
ایک جانب معیشت کی یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب خارجی معاملات بھی عقل و سمجھ سے باہر ہیں۔ بھارت ایک عرصہ دراز سے اس تگ و دو میں لگا ہوا تھا کہ اسے سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت حاصل ہو جائے۔ پاکستان وہ واحد ملک تھا جو اس کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا کیونکہ پاکستان ہی کی وجہ سے کئی ایسے ممالک جو پاکستان کی حمایت میں تھے، بھارت کے خلاف ووٹ ڈالا کرتے تھے، جن میں چین سب سے نمایاں تھا، یہی وجہ ہے کہ بھارت ہر مرتبہ اپنی کوششوں میں ناکام ہوتا رہا لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ خبر قارئین تک پہنچائی جا رہی ہے کہ ’’پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے حریف ملک بھارت کی حمایت کردی‘‘۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کی حمایت کشمیر پر اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنا اور کشمیریوں کی دل آزاری کے ساتھ ساتھ کشمیر کاز کو نقصان پہنچنے کے مترادف ہے۔ بھارتی اخبار’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے مطابق 55 ممالک پر مشتمل ایشیا پیسیفک گروپ نے متفقہ طور پر سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے بھارت کے بطور امیدوار کی توثیق کی ہے جو سفارتی محاذ پر بھارت کی بہت بڑی کامیابی ہے، بھارت کی بطور امید وار حمایت کرنے والے 55 ممالک میں چین، افغانستان، بنگلا دیش،بھوٹان، انڈونیشیا، ایران، جاپان، کویت، کرغزستان، ملائیشیا، مالدیپ، میانمر، نیپال، قطر، سعودی عرب، سری لنکا، شام، ترکی، متحدہ عرب امارات اور ویتنام شامل ہیں۔ یہ وہی ممالک ہیں جن میں سے بیشتر پاکستان کے ساتھ ہی کھڑے نظر آتے رہے تھے لیکن اب وہ کس بنیاد پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کر سکیں گے۔ اسی ساری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان، سراج الحق نے کہاہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے علاوہ حکومت نے کشمیریوں کی پیٹھ میں بھی چھرا گھونپ دیاہے۔ پاکستان کی کسی حکومت کی طرف سے پہلی بار بھارت کی حمایت کرنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ حکومت اپنے دعوؤں کے برعکس سر اٹھانے کر چلنے کے بجائے عالمی طاقتوں کے آگے ڈھیر ہوگئی ہے۔ ساری صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ عوام کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اور آنے والے مہینوں میں جو کچھ بھی ہونے والا ہے، وہ اپنی جگہ لیکن جو کچھ بھی ریاست کے ساتھ ہونے والا ہے، اس کی فکر اب مقدم ہو گئی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ان حالات کے خلاف فوری اٹھاجائے ورنہ ریاست پاکستان بڑے صدمے کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔