January 21st, 2020 (1441جمادى الأولى25)

کراچی کو عزت دو

 

طارق مسعود بیگ

ملک کے فائیو اسٹار ہوٹل کے ایک بڑے ہال میں تمام شہر جمع تھے۔ حقوق کے حوالے سے پاکستان کے شہروں کی قومی کانفرنس جاری تھی۔ پاکستان کا دارالحکومت’’اسلام آباد‘‘کرسی صدارت پر براجمان تھا۔ لاہور، پشاور، کوئٹہ اور کئی دوسرے شہر اپنی اپنی نسشتوں پر بیٹھے تھے۔ سب کی نگاہیں کراچی کو ڈھونڈ رہی تھیں جو اب تک نہ پہنچا تھا۔
اچانک ہال کا دروازہ کھلا۔ سرکتا سسکتا، سہمتا کراچی اندر ہوا۔ اسکے کپڑے پرانے اور جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔ جوتے ادھڑے اور غلاظت سے لتھڑے تھے۔ اسکی آنکھیں اندر کو دھنسی ، ہونٹوں پر خشکی کی پپڑی جمی، چہرے پر محرومی کی گھٹا تنی تھی۔ اسکا بدن انتہائی کمزور اور لاغر ہوچکا تھا۔ وہ ایک لمحہ کو رکا پورے ہال پر ایک اْچٹتی نگاہ ڈالی اور اپنی نشست کی جانب بڑھ گیا۔
اجلاس کی کاروائی رک گئی کانفرنس میں شریک تمام شہروں کی نگاہیں کراچی پر جم گئیں۔سارے ہال میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔کانفرنس کے سیکریٹری نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے شیڈول سے ہٹ کر کراچی کو خطاب کی دعوت دے دی۔ سارے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ کراچی اٹھا اور اپنے کچرے سے بھرے گردآلود قدموں کے نشان شہروں کے حقوق کے حوالے سے منعقد ہونے والی اس قومی کانفرنس کے قیمتی نفیس قالین پر ثبت کرتا اسٹیج پر پہنچا۔ ڈائس پر رکھے پانی کے گلاس کو اٹھایااپنے خشک ہونٹوں سے لگا گر برسوںسے سوکھے حلق کو تر کیا پھر سکوت توڑتے ہوئے بولا”میں بھی آپ سب کی طرح نہ صرف اس ملک کا ایک شہر ہوں بلکہ اپنے صوبے کا دارلحکومت بھی ہوں۔ میں ملک کی صنعت و تجارت کا مرکز ہوں۔ دوستو! میری مٹی میں “صنعتی ذرخیزی” بھی ہے اورہواوْں میں “تجارتی خوشبو” بھی۔ آپ سب کے مقابلے میں مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ بحیرہْ عرب کی موجیں میرے ساحلوں سے ٹکراتی ہیں لہٰذا اس نسبت سے بندرگاہ کا مالک ہوں۔ میں پاکستان کا معاشی حب ہوں۔ قدرے توقف کے بعد اس نے اپنائیت کی نگاہ سارے ہال پر ڈالی اور کہا” آپ تمام شہر میرے بھائی اور آپ کے بچوں کے روزگار کے لیئے میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ آپ تمام شہروں کے بچے میری زمین پر آباد ہیں اسی لیئے میں “منی پاکستان” کہلاتا ہوں۔
پھرذرا رکا اور فخر سے بولا ” میں ملک کو ٹیکس ریونیو کا بڑا حصہ ادا کرتا ہوں۔”
بھائیو! آپ یقیناً حیران ہورہے ہونگے اتنا سب کچھ کے باوجود یہ محرومی کیسی؟
میری یہ بدحالی کیوں؟
میرے جوان بیٹے بیروزگار کیوں؟
میری جوان بیٹیاں وومین یونیورسٹی سے محروم کیوں؟
میرے معصوم بچے ہسپتالوں میں بلک بلک کر مرتے کیوں؟
میری بوڑھی مائیں سسک سسک کر جیتی کیوں؟
میرے بوڑھے باپ سلگ سلگ کر تڑپتے کیوں؟اتنا کہہ کر کراچی کی آنکھوں میں آنسو آگئے پھر گھٹی گھٹی آواز میں بولا” گزشتہ کئی برسوں سے میرے بیٹے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ مجھے 1080 ملین گیلن یومیہ پانی چاہیے لیکن ملتا صرف 650 ملین گیلن ہے۔ یعنی مجھے یومیہ 430 ملین گیلن پانی کم ملتا ہے۔
ایک وقت تھا جب میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا لیکن آج کے الیکٹرک کے ظلم وستم کے باعث اندھیروں کا مسکن ہوں۔
ایک دور تھا جب میرے بچے کے ٹی سی کی بسوں اور ٹراموں میں سفر کرتے تھے لیکن آج ٹرانسپوٹ کا کوئی نظام نہیں۔ حال ہی میں بننے والا گرین لائن بس منصوبہ بھی تعطل کا شکار اور سرکلر ریلوے عدالتی حکم کے باوجود سست روی کے ساتھ برسرپیکار۔ ایک طرف ہائی رائز بلڈنگز آسمان چھو رہی ہیں تو دوسری طرف کچی بستیاں زمیں بوس ہورہی ہیں۔ میرے بیٹے بے گھر ہورہے ہیں۔
کبھی میں خوبصورت اور خوش لباس تھا لیکن آج کچرے کا ڈھیر بلکہ آپ میں سے کئی نے میرا نام ہی بدل کچراچی رکھ دیا۔ ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، اجڑے پارک، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر آج میری پہچان بن گئے ہیں۔
میرا مقام ، میری عزت نہ جانے کہاں گئی؟
اتنا کہہ کر کراچی دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔
تمام شہر اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہو اور زوردار آواز میں نعرہ لگایا
” کراچی کو عزت دو “