January 21st, 2020 (1441جمادى الأولى25)

بجٹ، حکومت اور اپوزیشن کا کھیل

 

غزالہ عزیز 

مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہوگیا ہے۔ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں عام آدمی کے لیے کوئی ریلیف نہیں، ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ آٹے، دال، چینی، گھی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے یہ کہا جارہا ہے کہ ہم نے غریب نواز بجٹ بنایا ہے۔ حالاں کہ غریب کی زندگی پہلے بھی کوئی آسان نہ تھی لیکن اب تو دال روٹی کے لیے بھی لالے پڑ گئے ہیں۔ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں تو پہلے ہی اضافے پر اضافہ کیا جارہا ہے، اب گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں بھی 200 فی صد تک اضافے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ماہرین معاشیات بجٹ کے بارے میں یہ بتارہے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی اور غربت میں اضافہ دنوں کے حساب سے بڑھے گا۔ سود بڑھنے سے قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یعنی کاروباری افراد کو مہنگے ریٹ پر قرض ملتا ہے اس سے ایک طرف وہ صنعتوں اور کاروبار میں توسیع بند کردیتے ہیں اور دوسری طرف اپنا بوجھ صنعتی پیداوار پر منتقل کردیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور عام آدمی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ عام آدمی پہلے ہی پٹرولیم اور ڈالر کی قیمتیں بڑھ جانے کے باعث ہر چیز پر اضافی پیسہ دے رہا ہے، اب اُس کی زندگی مزید مشکل میں آجائے گی، کیوں کہ ہر چیز کی قیمتوں میں تو اضافہ ہورہا ہے لیکن اُس کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا۔ بلکہ بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔
بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضوں کے لیے جو معاہدہ کیا گیا ہے اس میں بجلی، گیس، ڈالر اور سود کے ریٹ میں اضافہ کرنا اس معاہدے کا حصہ ہے۔ وزارت منصوبہ بندی اور اصلاحات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 40 فی صد آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔ تعلیم، صحت اور زندگی کی بنیادی سہولتوں تک ان کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرض کی شرائط ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، البتہ ماہرین معاشیات یہ بتا رہے ہیں کہ جو کچھ سامنے آرہا ہے وہ یہ کہ یہ مصری ماڈل کا چربہ ہے۔ مصر میں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ نکلے تھے کہ غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا اور اسی طرح مصری کرنسی کی قدر کم ہونے سے وہاں مہنگائی بہت تیزی سے بڑھی تھی۔ مصر میں آئی ایم ایف کے پروگرام سے قبل 30 فی صد لوگ خط غربت سے نیچے تھے اور آج یہ 55 فی صد تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ اثرات پاکستان میں بھی ہوں گے جو کہ ہورہے ہیں۔ روپے کی قدر کم ہورہی ہے، غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، عوام کے لیے دی جانے والی سبسڈیز ختم کردی گئی ہیں، یہاں تک کہ مذہبی فریضے حج کی ادائیگی کے لیے بھی ہر طرح کی سبسڈیز ختم کردی گئی ہیں۔ گیس، بجلی، پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، یہ سب ابھی مزید بڑھنے کے بھرپور امکانات ہیں۔ یقینا یہ سب پاکستان کے عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہوگا۔
آئی ایم ایف کے قرض سے پاکستان میں کسی قسم کا معاشی استحکام نہیں آئے گا بلکہ پاکستانی عوام پر اس قرض کے شدید معاشی اثرات ہوں گے۔ یہ بات بھی بڑی حیران کن ہے کہ ماہرین معاشیات بتاتے ہیں کہ آئی ایم ایف جو قرض دیتا ہے وہ اپنے ممبر ممالک ہی کے پیسے ہوتے ہیں، ہر ممبر ملک آئی ایم ایف کو اپنے حصے کے پیسے دیتا ہے اور اس کے عیوض آئی ایم ایف ہر ممبر ملک کا ایک کوٹہ بناتا ہے اور پھر اسے اس کوٹے کے اندر رہ کر قرض دیا جاتا ہے۔ پاکستان کو اپنی آزادی کے صرف 3 سال بعد ہی یعنی 1950ء میں آئی ایم ایف کا ممبر بنایا گیا تھا۔ لیکن 1988ء سے قبل کسی بھی لیے جانے والے قرض سے معاشی اصلاحات مشروط نہیں ہوتی تھیں۔ لیکن اب قرض لینے والا ملک مخصوص شرائط کے تحت قرض لیتا ہے، کیوں کہ اب اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام یعنی (SAP) شروع ہوگئے ہیں۔ جس کے تحت شدید معاشی مشکلات کا شکار قرض حاصل کرنے والے ممالک کو مخصوص شرائط کے تحت قرض دیا جاتا ہے، جیسے اب پاکستان کو اپنے جال میں پھانس کر اپنی شرائط کے تحت قرض دیا جارہا ہے۔ یہ بجٹ دراصل آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جس سے صرف وہ ہی خوش ہے، حکومت عوام کی کمر توڑ اس بجٹ کی ایک طرف تعریفیں کررہی ہے اور دوسری طرف عوام کے ریلیف کے لیے اس پر ردوبدل کرنے کے لیے بھی تیار ہوگئی ہے جس کو میثاق معیشت کا نام دیا جارہا ہے۔ حالاں کہ درحقیقت آئی ایم ایف کو خوش کرنا مقصد ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن بجٹ کو پاس نہ کرنے کا اعلان کررہی ہے لیکن حقیقت میں اندرون خناہ اپنے رہنمائوں کے لیے این آر او مانگ رہی ہے، ساتھ ہی دھمکیاں بلکہ گیدڑ بھبھکیاں دے رہی ہے، حکومت اور اپوزیشن کے مسائل الگ الگ ہیں لیکن اس میں دور دور تک عوام کی مشکل اور ان کے حل نہیں ہیں۔
بلاول جو بجٹ کے پاس نہ ہونے کے لیے ہر ممکن زور لگانے کی بات کررہے ہیں اُن کے ابا جی اور ساتھیوں کو ریلیف ملتے ہی بجٹ پاس ہوجائے گا۔ شیخ رشید نے تو کہنا شروع کر ہی دیا ہے کہ نواز شریف کو لندن جانے دیا جائے کوئی انصافی اُن سے پوچھے کہ بھلا آپ کون ایک چور ڈاکو کو جیل سے نکال کر باہر بھیجنے کی باتیں کرنے والے؟۔ کیا مال نکلوالیا گیا؟ کیا ملکی خزانے لوٹنے اور اپنے خزانے بھرنے کی سزا دے دی گئی ہے؟۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پچھلے کئی عشروں سے پاکستان کے حکمران اپوزیشن اپوزیشن اور حکومت حکومت کھیل رہے ہیں، اس کھیل میں پاکستان کا خزانہ لوٹنے کا ٹارگٹ سیٹ کیا جاتا ہے، اس لوٹ مار کا نہ سوال ہے نہ جواب تو سزا کہاں ہوسکتی ہے۔ جیل بھی وی آئی پی… سارے خرچے عوام کے کھاتے میں… لیکن ایک کھاتہ تو کبھی بند نہیں ہوتا وہ ہی جس کے باعث پرویز مشرف کے وکیل بتارہے ہیں کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر ملک واپس آنے کے قابل نہیں کہ نہ وہ بول سکتے ہیں اور نہ چل سکتے ہیں۔