January 21st, 2020 (1441جمادى الأولى25)

غیر ملکی اقتصادی غارتگر

 

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری ہے کہ رکنے میں ہی نہیں آرہی۔ پیر کو بھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں چار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیااور بدھ کو انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 7.20 روپے تک اضافہ ہوا۔ ہر دو تین روز کے وقفے کے بعد ڈالر کے مقابلے میںپاکستانی کرنسی تین چار روپے بے قدر ہوجاتی ہے ۔ روپے کے بے قدر ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر چیز ہی بے قدری کا شکار ہوگئی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری پر مسلسل لکھا جارہا ہے۔ اس کے نتائج پر بھی کئی مرتبہ توجہ دلائی گئی ہے مگر حکومت ہے کہ اس کے کان پر جوں ہی نہیں رینگ رہی۔ ایک امر تو واضح ہے کہ روپے کی بے قدری کا کسی بھی معاشی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ مرکزی بینک کی صوابدید پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی کرنسی کو کس سطح پر رکھنا چاہتا ہے ۔ چین اور جاپان کی طرح کے ممالک جن کی برآمدات ان کی درآمدات سے زیادہ ہیں ، کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ملک کی کرنسی کی قدر کو کم رکھیں تاکہ ان کے ملک کی مصنوعات کی عالمی منڈی میں دیگر ممالک کے مقابلے میں سستی ہوں اور اس طرح وہ دیگر ممالک کو میدان سے باہر کرسکیں ۔ تاہم وہ ممالک جن کی درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہوں ، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنے ملک کی کرنسی کی قیمت بلند سطح پر رکھیں تاکہ ان کے شہریوں کو درآمدی مصنوعات کم قیمت پر دستیاب ہوسکیں ۔ پاکستان کا شمار ایسے ہی ممالک میں ہوتا ہے جن کی درآمدات اور برآمدات میں بے انتہا فرق ہے ۔ اسی طرح پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جو بیرونی قرض تلے دبے ہوئے ہیں ۔ لے دے کر چاول کے سوا کون سی ایسی جنس یا صنعتی پیداوار ہے جو پاکستان میں درآمد نہ ہوتی ہو۔ دال، خوردنی تیل سمیت اکثر اجناس ہم درآمد کرتے ہیں۔ اکثر چینی اور گندم بھی درآمد کی جارہی ہوتی ہے۔ اسی طرح سوئی سے لے ہوائی جہاز تک ہر چیز ہم درآمد کرتے ہیں ۔ ایسے میں روپے کی بے قدری ایک قیامت ہی لاسکتی ہے۔ روپے کی بے قدری کا صرف یہ نتیجہ نہیں نکلا ہے کہ مذکورہ درآمدی اشیاء ہی مہنگی ہوگئی ہیں بلکہ ہم تو ملک میں پیدا ہونے والا پٹرول اور گیس بھی عالمی نرخ پر ڈالروں میں خریدتے ہیں ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کے بے قدر ہوتے ہی ان کی قیمتیں بھی خودکار طریقے سے بڑھ جاتی ہیں ۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں سے بجلی بھی ڈالر ہی میں خریدی جاتی ہے۔ یہ معاہدے تو ایسے ہیں کہ جو بھی دیکھے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں۔ بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں سے حکومت بجلی خریدے یا نہ خریدے ، وہ انہیں ڈالروں میں ایک مخصوص رقم ادا کرنے کی پابند ہے ۔ اس کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی قیمت بھی روز بڑھ جاتی ہے اور عوام پر نیا حملہ یہ ہے کہ گیس کی قیمت میں 190 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ اس سب کا اثر روز مرہ زندگی پر بہت برا پڑ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ بیرونی قرضوں میں بھی روز اضافہ ہوجاتا ہے ۔ جب سے عمرانی حکومت برسر اقتدار آئی ہے ، اس وقت سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کو 50 فیصد تک بے قدر کردیا گیا ہے جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مہنگائی میں دو سو فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے ، بیرونی قرض از خود 50 فیصد بڑھ گئے ہیں اور لوگوں کی بچت بھی 50 فیصد ہی رہ گئی ہے ۔ شہریوں کی قوت خرید روز کم ہوتی جارہی ہے جس سے کاروباری حجم سکڑتا جارہا ہے ۔ آخر عمران خان کی حکومت چاہتی کیا ہے جو ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مستحکم کرنے کے بجائے اسے گرانے پر تلی ہوئی ہے ۔ بینک دولت پاکستان کے موجودہ گورنر اور آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم رضا باقر کا مصر میں گزشتہ ٹریک ریکارڈ یہی تھا کہ انہوں نے مصری کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں سو فیصد بے قدر کردیا تھا جس سے مصر کی معیشت شدید ابتری کا شکار ہوگئی۔ رضا باقر تو جو کررہے ہیں ، وہ درست کررہے ہیں کہ وہ تو آئی ایم ایف کے ملازم ہیں پاکستان کے نہیں اور آئی ایم ایف کا ہدف ہی پاکستان میں معاشی افراتفری پھیلا دینا ہے مگر عمران خان اور عمران خان کو لانے والی قوتیں کیا چاہتی ہیں۔ یہ امر سب کو معلوم ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان دفاع کو پہنچا ہے ۔ بحریہ اور فضائیہ کو ہر وقت متحرک رہنے کے لیے پٹرول درکار ہے ، دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیے درآمدی اسلحہ درکار ہے جو روپے کی ناقدری کے نتیجے میں روز بہ روز پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے ۔ کہیں یہ پاکستان کے دفاع کو کمزور کرنے کی سازش تو نہیں ہے ۔ خاص طور سے موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان کی عین سرحد پر امریکا اور ایران ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور خطے میں کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان کو بھی نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے ۔ پاکستان کی سلامتی کے لیے متعین ایجنسیوں کو اس زاویے سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل بے قدری کو دیکھنا چاہیے ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور حکومت کی معاشی ٹیم میں تبدیلی لائی جائے ۔ خاص طور سے بینک دولت پاکستان کے گورنررضا باقر اور وزیر اعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو فوری طور پر ان کے مناصب سے معزول کرکے ان کے خلاف پاکستان کی سلامتی کے خلاف شعوری طور پر اقدامات کرنے پر مقدمات چلائے جائیں اور انہیں عبرتناک سزائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ ہی ان مناصب پر اہل ، تجربہ کار اور محب وطن افراد کا تقرر کیا جائے ۔ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کی معاشی صورتحال ایسے مقام پر پہنچادیے جانے کا اندیشہ ہے جس کے بعد فسادات پھوٹ پڑتے ہیں اور غیرملکی آقاؤں کے ایجنٹوں کو اپنا مکروہ کھیل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو بھی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ ملک میں متفقہ طور پر کوئی طویل المیعاد مالی پالیسی تشکیل دی جائے ۔ سمجھنا چاہیے کہ یہ محض اقتدار کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کی بقاء اور سلامتی کا مسئلہ ہے ۔ ملک کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ ملک ہوگا تو دیگر معاملات چلیں گے ۔

 بشکریہ جسارت