October 24th, 2017 (1439صفر3)

آبرو ئے مازنا مصطفیﷺ است

 

اوریا مقبول جان

 پاکستان کی عدلیہ میں اس فقرے کی گونج اس مملکتِ خداداد میں بسنے والے اُن کروڑوں لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے روز اپنی بے بسی پر ماتم کرتے اور خون کے آنسو روتے تھے۔ ایسا تو دنیائے اسلام کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا کہ ہر روز ایک گروہ جو خود کو سیکولر اور لبرل کہتا ہو، وہ فیس بک، ٹوئٹر اور ویب سائٹس پر روزانہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی توہین کرے، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ جملے لکھے، کارٹون بنائے، اہلِ بیت و اطہار کے بارے میں ہرزہ سرائی کرے اور کوئی ان کا گریبان نہ تھامے، انھیں روکنے کی کوشش نہ کرے، ان پر نفرت انگیزی جیسے نرم قانون کے تحت بھی مقدمہ درج نہ ہو۔ سب سے زیادہ پریشان وہ لوگ تھے جو دن رات سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ان بدبختوں کا مقابلہ کرتے تھے۔

وہ ان لوگوں کو خوب جانتے تھے اور آج بھی انھیں علم ہے کہ یہ غلاظت کون کون پھیلا رہا ہے۔ انھیں ڈھونڈنا آج کی دنیا میں کوئی مشکل کام ہے! کون کون ہے جو ان توہین آمیز پیجز کی پوسٹ پسند کرتا ہے، ان پر پسندیدگی کے ’’کمنٹ‘‘ کرتا ہے، انھیں آگے ’’شیئر‘‘ کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد صرف ہزاروں میں ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اب گمنام رہنا ممکن ہی نہیں رہا۔ اب تو یہ جاسوسی کا ایک آلہ ہے جو ہر وقت ہر شخص کے ساتھ ہے۔ ہر شخص جو انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے، وہ جس ٹیلی فون، کمپیوٹر وغیرہ کو استعمال کرتا ہے وہ اس کی علامت اور نشانی بن جاتا ہے۔ اس نشانی سے اس شخص کو سات پردوں میں بھی ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

یہ تمام فیس بک پیجز، ٹوئٹر اکاؤنٹس، ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سوشل میڈیا چند ہزار لوگوں نے آگے بڑھائے ہیں اور ان کو پھیلایا ہے۔ ایسے لوگ پاکستان میں چند ہزار ہیں جن کا دفاع کرنے والے چند لوگ ہیں جو اچھل اچھل کر ان کا آزادئ اظہار کے نام پر دفاع کرتے رہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے چند ہزار لوگ سیکولرازم اور لبرل ازم کے نام پر اٹھارہ کروڑ عوام کے جذبات سے روز کھیلتے تھے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی معزز عدلیہ کے معزز ترین جج شوکت عزیز صدیقی نے تاریخی فقرہ کہا کہ ’’لبرل ازم دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے‘‘۔ ایسا کیوں ہے اور جج صاحب نے ایسا کیوں کہا؟

آپ پاکستان میں موجود لبرل طبقے کی سوچ کے نمائندہ کسی انٹرنیٹ پیج، ویب سائٹ یا اکاؤنٹ میں چلے جائیں، آپ کو ان میں کہیں بھی یہ تصور نہیں ملے گا کہ وہ مجموعی طور پر مذاہب کے خلاف ہیں۔ وہ ہولی، دیوالی، کرسمس، ایسٹر، گوتم بدھ، کرشن، گورونانک کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ یہاں تک کہ ہندومت میں موجود ذات پات کے انسانیت دشمن تصور کے خلاف بھی گفتگو نہیں کریں گے۔ یہ صرف اور صرف اسلام، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی قابلِ احترام شخصیات کے بارے میں ہرزہ سرائی کریں گے۔

یہ اپنے مضامین میں ذومعنی فقروں سے تشکیک پیدا کریں گے، وجودِ خداوندی پر بحث کریں گے، الحاد کی جانب مائل کرنے کے لیے مشتعل بحث کا آغاز کرتے رہیں گے۔ پاکستان کے آئین کے بارے میں غلیظ اور گالیوں بھری گفتگو کریں گے۔ مولوی کو گالی وہ بلاگر دیں گے جو اپنے نام سے مضامین لکھتے ہیں۔ کسی پنڈت، پادری، یہودی، ربائی، سکھ مذہبی رہنما یا بدھ بھکشو پر تنقید نہیں کرتے، لیکن توہین کے لیے یہ لوگ بے نام چہروں اور پس پردہ رہ کر مسلسل گستاخانہ مواد انٹرنیٹ پر شائع کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگوں کے سامنے اپنا ایک ایسا منافقانہ چہرہ لے کر آئیں گے جیسے انھیں تو معلوم تک نہیں۔ لیکن اگر اسلام کے دفاع میں لکھے جانے والے مضامین، کسی ویڈیو وغیرہ پر ان افراد کے ’’کمنٹ‘‘ ملاحظہ کریں تو یہ لوگ ٹھیک وہی زبان بول رہے ہوتے ہیں جو توہین آمیز پیجز میں بولی جاتی ہے۔

یہ اگر کسی شخص کے ساتھ ’’چیٹ‘‘ پر بحث کررہے ہوں تو ایک دم اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مقدس ہستیوں کی توہین میں وہی جملے کہیں گے جو ان پیجز پر موجود ہیں۔ معزز جج شوکت عزیز صدیقی صاحب نے وزارتِ داخلہ کو یہ حکم دیا ہے کہ ان لوگوں کا پتا چلا کر ان کا نام ای سی ایل پر ڈالا جائے۔ صرف ایک اعلان کافی ہے وزارتِ داخلہ کی جانب سے کہ ایسی تمام ’’چیٹ‘‘ یا ’’کمنٹ‘‘ محفوظ کرکے انھیں بھجوائے جائیں جو توہین آمیز پیجز کی زبان بولتے تھے۔ ان تمام لوگوں کے اکاؤنٹس دیکھے جائیں جو ان پیجز کی پوسٹیں ’’شیئر‘‘ کرتے رہے۔ آپ کو وہ چند درجن لوگ مل جائیں گے جو اس ملک میں یہ دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ کی دنیا کے ایسے کئی ماہرین ہیں جنھیں ’’چیتے‘‘ کہا جاتا ہے، جو اس سسٹم کی تہہ تک پہنچ کر اصل ’’گستاخ‘‘ کو باہر لاسکتے ہیں۔ پی ٹی اے ان تک اپنے سسٹم کی رسائی دے، ان کی خدمات حاصل کرے، یہ بزدل صرف چند گھنٹوں میں غائب ہوجائیں گے یا پکڑے جائیں گے۔

پاکستان کی تاریخ میں جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی پاکستانی قوم کی گزشتہ ایک دہائی کی خاموشی کا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں کفارہ ادا کررہے ہیں۔ جب کہ بقول اقبال ان کی مخالف قوتیں بھی سرگرم ہیں

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

گزشتہ دنوں جب انھوں نے ویلنٹائن ڈے کے مخالف فیصلہ دیا تو کہا گیا کہ ’’جج صاحب کو کسی مسجد کا خطیب ہونا چاہیے‘‘۔ انھیں شاید علم ہی نہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام عدالتی فیصلے مسجد میں ہی ہوا کرتے تھے۔ جس دن سے عدالت مسجد کے دروازے سے باہر نکلی ہے پورا معاشرہ اس کا دکھ سہہ رہا ہے۔ معزز جج جناب شوکت عزیز صدیقی ان سب لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں جو اس ملک میں انصاف کی بالادستی نہیں دیکھنا چاہتے۔ میں ان سے متعارف اُس وقت ہوا جب میں نے اُن کا سول سروس کی پروموشن کے بارے میں فیصلہ پڑھا۔ یہی فیصلہ تھا جس نے بیوروکریسی کو پہلی دفعہ بے نقاب کیا۔ اس کے بعد تو ایک سے ایک فیصلہ ایسا تھا کہ بڑے بڑے ایوانوں میں لرزہ طاری ہونے لگا۔

عمران کے دھرنے کے وقت شہر کو بند کرنے سے روکنا، ایک طاقتور شخص کو منی لانڈرنگ کے معاملے میں جوابدہ کرنا، پرویز مشرف کے بارے میں فیصلے، فورتھ شیڈول میں عام امام مسجدوں اور مؤذنوں کو ہراساں کرنے سے روکنا۔۔۔ ایسے کئی سو فیصلے ان کی عزت و توقیر کا باعث ہیں۔ ایسا جج کہاں برداشت ہوتا ہے! سی ڈی اے کے ایک ملازم سے درخواست لکھوا کر ان کے خلاف وکلا کا ایک طبقہ سپریم جوڈیشل کونسل جا پہنچا۔ آرٹیکل 209 کے تحت کسی بھی جج کے خلاف یہاں کارروائی ہوتی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے اپنے رولز کے تحت اسے خفیہ رکھا ہے۔

حق گوئی و بے باکی جن لوگوں کا شعار ہو، ان کے ہاں خوف پھٹک نہیں سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ کارروائی خفیہ اس لیے رکھی جاتی ہے کہ جج کی عزت و ناموس بہت پیاری ہے۔ کیا جج وہاں ایک ملزم کے طور پر پیش نہیں ہوتا؟ تو پھر اسے استثنا کس لیے؟ آئین کے تحت تو سب برابر ہیں اور اس پاکستان کے معزز جج نے کہا ہے کہ مجھ پر مقدمہ چلانا ہے تو کھلی عدالت میں چلاؤ، یہ آئین کے آرٹیکلA 10 کے تحت میرا بنیادی حق ہے۔ آئین تو حق تسلیم کرتا ہے۔ لیکن شوکت عزیز صدیقی صاحب تو ایک مسلمان کی حیثیت سے وہ مثال قائم کرنا چاہتے ہیں جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں میں تھی۔ خود کو سرِعام احتساب کے لیے پیش کرنا۔ کیا قرآن، سنتِ رسولؐ، حدیث یا اسلامی فقہ میں جج کو کوئی استثنا حاصل ہے؟ ہرگز نہیں۔ ان پر بند کمرے میں مقدمہ چلانے والے صرف ایک مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ وہاں اگر کیس ثابت نہ ہو تو باہر آکر یہ تبصرے کیے جائیں کہ عدلیہ نے اپنے ساتھی کو بچا لیا، اور عام آدمی تک کو کارروائی کی معلومات نہیں پہنچیں گی۔

اس لیے جسے چاہا، جیسے چاہا، گمراہ کرلیا۔ شوکت عزیز صدیقی صاحب خود کو کھلی عدالت میں پیش کرکے ایک ایسا دروازہ کھول رہے ہیں جس سے عدلیہ کا وقار برآمد ہوگا۔ کوئی بددیانت جج استعفیٰ دے کر کارروائی سے بچ کر تمام مراعات حاصل نہیں کرسکے گا، اور کوئی دیانت دار جج وکیلوں کے گروہوں سے بلیک میل نہیں ہوگا۔ یہ جرأت و بے باکی شوکت عزیز صدیقی پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا انعام ہے۔

درِ دل مسلم مقام مصطفی است

آبروئے ماز نام مصطفی است

 

 

 +