August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

سندھ طاس معاہدہ اور اقوام متحدہ ،تازہ وارننگ

 

عارف بہار

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے غفلت سے پاکستان بنجر ہو سکتا ہے۔ آئندہ چند برس میں پانی کا بحران سنگین ہو سکتا ہے۔بھارت اپنے مقدمات انڈس واٹر کمیشن میں لے جانے سے گریز کر رہا ہے جس سے انڈس واٹر ٹریٹی کمزور پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں ابہام ہے جس کا فائدہ اُٹھا کر بھارت مغربی دریاؤں پر مسلسل ڈیم تعمیر کرنے میں مصروف ہے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان میں دریائی پانی میں کمی آرہی ہے اور اس کا اثر پینے کے پانی سے زراعت تک پڑرہا ہے ۔انڈس واٹرٹر یٹی کے تحت ستلج ،بیاس اور راوی کے دریاؤں پر بھارت جب کہ سندھ،چناب ،جہلم کے دریاؤں پر پاکستان کا حق ہے۔بھارت 1960میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے مقبوضہ کشمیر میں 32ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے حصے کے دریاؤں کا رخ موڑ رہاہے۔اس وقت مقبوضہ کشمیر میں 5بجلی گھروں کی تعمیر زور وشور سے جاری ہے ۔پاکستان اسے سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی کہہ کر اعتراض اُٹھا رہا ہے ۔انڈس واٹر کمیشن کی سطح پر مذاکرات سے بھی اس مسئلے کا حل نہیں نکل رہا۔ جس کے بعد عالمی عدالت انصاف کا دروزہ کھٹکھٹا یا جارہا ہے۔
یہ ایک تشویشناک امر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازع روز بروز سنگین تر ہوتا جا رہا ہے ،ایسا لگتا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو کلی طور ردی کی ٹوکری کی نذر کرنے کا ذہن بنا چکا ہے۔اس معاملے میں انڈس واٹر کمیشن جیسے مشترکہ اداروں کی اہمیت بھی گھٹائی جا رہی ہے جب کہ عالمی عدالت انصاف سے اول تو مبنی بر انصاف فیصلوں کی توقع ہی نہیں اگر کوئی فیصلہ آجائے تو اس پر عمل درآمد کون کرائے گا؟یہ ایک الگ سوال ہے ۔کشمیر کے پانیوں کو تصرف میں لینے کا عمل جاری ہے۔ ستلج، راوی اور بیاس تو پہلے ہی بھارت کے زیر استعمال تھے اب جہلم، چناب اور سندھ کے پانیوں پر بھی بجلی گھروں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی بجلی اگر کشمیریوں کے گھروں کو روش رکھتی تو گوار ا تھا۔ اگر اس سے عام کشمیری کی اقتصادی حالت بہتر ہوتی تو پاکستان کڑوا گھونٹ پی لیتا مگر کشمیر کے گھر بدستور تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ممبئی، ہریانہ اور آگرہ کے کارخانوں کا پہیہ رواں رکھنے کے کام آتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں پانی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان ایک طرف تو پانی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے پانی کی قلت سے نت نئے مسائل جنم لے رہے ہیں، پاکستان کی زراعت کبھی اپنی مثال آپ تھی۔ لہلہاتے کھیت اس ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے تھے۔ لوڈشیڈنگ نام کی کسی بلا سے عوام اسی کی دہائی تک واقف نہیں تھے ۔اس ملک میں صنعتوں کا پہیہ رواں تھا۔ مہنگائی کنٹرول میں تھی۔ بھارت نے رفتہ رفتہ پاکستان کے حصے کاپانی چوری کرنا شروع کیا جس سے راوی جیسے پاکستان کے کئی دریا خواب وخیال ہو کر رہ گئے ۔جن دریاؤں پر پاکستان کا حق تسلیم شدہ تھا ان کے پانیوں پر بھی بھارت نے تمام معاہدوں اور بین الاقوامی قواعد کونظر انداز کرتے ہوئے ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں ایک طرف تو توانائی کا سنگین بحران شروع ہوا تو دوسری طرف پاکستان کی زراعت کی تباہی کا آغاز ہوگیا ہے۔ لہلہاتے کھیتوں کی جگہ بے آب وگیاہ اور بنجر زمینوں نے لی اور آج حالت یہ کہ دنیا کے چند بڑے زرعی ملکوں میں شمار ہونے والا ملک آلو اور پیاز جیسی معمولی ضروریات بھی پڑوسی ملکوں سے پوری کرنے پر مجبور ہے۔ لوڈ شیڈنگ نے پاکستان کی پوری سماجی ،معاشی اور صنعتی زندگی کا پہیہ جام کر دیا ہے ۔ عام آدمی سے لے کر صنعت کاروں تک ہر شخص کی زندگی اجیرن ہے اور توانائی کے بحران کے باعث سرمایہ دار اپنا سرمایہ بیرونی دنیا میں منتقل کرچکے ہیں جس سے بے روز گاری نے جنم لیا ہے۔
سوکھتے دریاؤں نے پاکستان میں بے شمار ماحولیاتی مسائل کوجنم دیا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے کشمیر کی اہمیت کا ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے پاکستان چاہنے کے باوجود بھی کشمیر پر کمپرومائز نہیں کرسکتا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کا یہ تنازع اس قدر شدید ہے کہ عالمی ماہرین اور ریسرچر ز یہ پیش گوئی کررہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان چوتھی بھرپور جنگ پانی کے مسئلے پر ہوگی۔ بھارت کا طر زعمل اس سوچ کو مزید تقویت فراہم کررہا ہے ۔عالمی اداروں میں سیاسی مصلحتوں کے تحت ہونے والے فیصلے دوایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے بحران کو مزید گہرا بنا رہے ہیں۔پاکستان نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا فیصلہ تو کرلیا ہے مگر اس ایوان سے کسی منصفانہ فیصلے کی امید عبث ہے۔ اقوام متحدہ ہویا ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف اور عالمی عدالت انصاف ان عالمی اداروں پر امریکا کا اثر رسوخ مسلمہ ہے اور امریکا اس وقت بھارت کو اپنا بغل بچہ بنائے ہوئے ہے۔ اسٹرٹیجک شراکت داری کے نام پر امریکا بھارت کی ناز برداریوں میں مصروف ہے۔ جس سے حالات کی کوئی امیدا فز ا تصویر نہیں بن رہی۔ بہرحال پاکستان کو اپنی زندگی اور موت کے مسئلے پر کوئی کمزور نہیں دکھانی چاہیے۔ بھارت کی آبی جارحیت اورسرقے کا ہر میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔