October 24th, 2017 (1439صفر3)

بدترین دہشت گردی کی نئی لہر

 

اداریہ
پاکستان ایک بار پھر بد ترین دہشت گردی کی زد میں ہے۔ جمعرات کو لال شہباز قلندر کی درگاہ پر خوفناک دھماکے سے پہلے گزشتہ پیر کو لاہور میں مال روڈ پر مظاہرین کے درمیان خودکش دھماکا ہوا جس میں زیادہ تر پولیس افسران اور اہلکار نشانہ بنے۔ ابھی اس دھماکے کی بو فضاؤں میں تھی کہ بدھ کو تین مقامات پر دھماکے ہوگئے جن میں 9افراد جاں بحق ہوگئے۔ ان میں سے دو دھماکے مہمند ایجنسی کے علاقوں غلنئی اور موصل کور میں ہوئے۔ اسی دن پشاور کے علاقے حیات آباد میں اپنے گھروں کو واپس لے جانے والی ججوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری موٹر سائیکل ججوں کی گاڑی سے ٹکرادی۔ اس حملے میں ججوں کو لے جانے وال سرکاری گاڑی کا ڈرائیور اور ایک راہگیر جاں بحق ہوگئے۔ گاڑی میں موجود تین خواتین سمت 4جج زخمی ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد نے اس بار ججوں کو نشانہ بنایا لیکن اسی وقت حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بیرونی مریضوں کے شعبے (او پی ڈی) کا افتتاح بھی کیا جانا تھا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے صدر نشین عمران خان کی آمد بھی متوقع تھی۔ چنانچہ نہیں کہا جاسکتا کہ حملہ آور کا ہدف کیا تھا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے لاہور دھماکے کے بارے میں سرکاری ترجمانوں کی طرف سے کہا جارہاہے کہ وہاں سے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا گزر بھی ہونا تھا اور اصل ہدف وہ تھے جن کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ممکن ہے یہ بات شہباز شریف کے لیے ہمدردی کے جذبات اجاگر کرنے کی کوشش ہو لیکن ہوا تو یہ ہے کہ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سمیت پولیس کے اہلکار شہید ہوئے۔مہمند ایجنسی کی تحصیل غلنئی میں دو خودکش حملہ آوروں نے پولیٹیکل انتظامیہ کی رہائشی کالونی میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن لیویز فورس نے ان کو اندر نہیں جانے دیا۔ جس پر ایک حملہ آور نے خود کو گیٹ پر اُڑالیا اور دوسرے کو سیکورٹی فورس نے ہلاک کردیا۔ لیویز اہلکاروں کی وجہ سے حملہ آور بڑا نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔ اس کے باوجود دھماکے میں تین لیویز اہلکار، ایک اسکول ٹیچر اور ایک عام شہری سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ حملہ آوروں نے اﷲ اکبر کا نعرہ لگاکر ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ شروع کی ۔ تشویش کا پہلا یہ ہے کہ حملہ آور اپنی اس مذموم کارروائی اور مسلمانوں ہی کے قتل کو کوئی نیک کام سمجھ رہے تھے۔ اسی لیے اﷲ اکبر کا نعرہ لگایا۔ حملہ آوروں اور ان کو بھیجنے والوں کو خوب معلوم تھا کہ وہ خودکشی کرنے جارہے ہیں جو اسلام میں ایسا گناہ ہے جس کی بخشش نہیں۔ اور پھر اﷲ کی عظمت اور بڑائی کا اعلان کرکے انسانوں کو قتل کرنا! اس کے بارے میں واضح حکم ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا۔ اسی اثنا میں مہمند ایجنسی اور ضلع پشاور کے سنگم پر واقع موصل کور میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے آپریشن کے دوران میں ایک حملہ آور محاصرے میں آیا جس نے فائرنگ شروع کردی اور بچنے کی راہ نہ پاکر خودکش دھماکا کردیا جس سے ایک ایف سی اہلکار شہید ہوگیا۔ ان حملوں کی ذمے داری بھی تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار نے قبول کرلی ہے۔ پاکستانی ایجنسیوں کے پاس اطلاعات ہیں کہ افغانستان سے کئی دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوگئے ہیں۔ لاہور دھماکے کی تحقیقات کے ڈانڈے ملائے جارہے ہیں اور ان کا سرا جنوبی پنجاب سے جا ملا ہے۔ وہاں گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ گزشتہ بدھ کو افغان نائب سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اطلاعات یہی ہیں کہ دہشت گرد افغانستان سے آرہے ہیں جہاں انہوں نے محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں لیکن افغان حکومت ان کے خلاف کسی کارروائی سے گریزاں ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر سرحد پار ہی سے آئی ہے۔ افغانستان میں بھارت بھی پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف دشمنی افغان حکومت کے ذریعے آگے بڑھارہا ہے۔ افغانستان میں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اشرف غنی حکومت فوراً اس کا الزام پاکستان اور آئی ایس آئی پر دھر دیتی ہے۔ افغان حکومت کی سرپرستی میں پاکستانی سفارت خانے پر حملہ بھی کروادیا جاتا ہے۔ جماعت الاحرار کی تشکیل پاکستان میں ہوئی لیکن اب اس نے افغانستان میں اپنے مراکز قائم کر رکھے ہیں۔ ممکن ہے کہ بھارت کی آشیرواد بھی حاصل ہو کیونکہ اس جماعت کا نام پہلے احرار الہند بھی تھا۔ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کی روک تھام کے لیے پاکستان کو افغان سرحد پر جانچ پڑتال کا نظام بہت سخت کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان میں آباد پر امن افغان باشندوں کو بھی دہشت گردوں کی نشان دہی میں تعاون کرنا چاہیے۔ ابھی ان دھماکوں میں شہید ہونے والوں کی تدفین کا سلسلہ جاری تھا کہ جمعرات کو سندھ کے معروف شہر سہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر بد بختوں نے بہت بڑا دھماکا کردیا جس میں شہید ہونے والوں کی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے اور اس میں اضافے کا خدشہ ہے کیوں کہ کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ ان کو کراچی اور حیدرآباد کے اسپتالوں میں منتقل کیا جارہاہے۔ قلندر کی درگاہ پر سندھ سمیت ملک بھر سے لوگ آتے ہیں اور اس وقت گھر گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔ ابھی تو ہلاک ہونے والوں کی شناخت بھی نہیں ہوئی ہے اور زخمیوں کے رشتے دار بھی انہیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ یہ انتہائی سنگین واردات ہے اور بار بار کے اس دعوے پر سوالیہ نشان ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی۔ دوسری طرف اس میں کوئی شک نہیں کہ حملہ آور اور ان کے سرپرست ہرگز بھی مسلمان نہیں ہیں۔ یہ مردود لوگ ہیں۔ قلندر کی درگاہ پر قتل عام کی ذمے داری داعش نے قبول کرلی ہے جس کے بارے میں کہا جارہاتھا کہ یہ تنظیم پاکستان میں فعال نہیں ہے۔ فوری طور پر سول اور فوجی حکمرانوں کو کمر توڑنے کے دعوے سے تائب ہوجانا چاہیے۔