August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

بھار ت کا سندھ طاس معاہدے سے انحراف

 

بھارتی حکومت سندھ طاس معاہدے سے منحرف ہوگئی ہے اور انتہا پسند وزیراعظم نریندرمودی نے بیاس، راوی اور ستلج کے پانی کا رخ موڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نہروں کی تعمیر کو حتمی شکل دی جائے گی ۔ خبر یہ بھی ہے کہ بھارت معاہدے کے خاتمے یا اس اسے انحراف کا باقاعدہ اعلان کسی بھی وقت کر سکتا ہے۔ اسی طرح جموں و کشمیر سے نکلنے والے تینوں دریاؤں کے پانی پر بھی قبضے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ بھارت کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں سندھ ، چناب اور جہلم پر کشن گنگا سمیت پن بجلی کے درجنوں منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے جس سے وہ 18ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کرے گا۔ بھارت کا یہ اقدام نیا نہیں وہ اس پر برسوں سے کام کررہا ہے پاکستان کے موجودہ اور سابق حکمران سوتے رہے ہیں پاک بھارت آبی تنازعات سے متعلق کمیشن کے پاکستانی سربراہ قوم کوتسلیاں دیتے رہے اور بس عالمی عدالت میں انصاف کی دہائیاں دیتے رہے اور بھارت کی جانب سے ہر ماہ نیا اقدام سامنے آرہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران اور ان کی مخالف بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں پانامالیکس نے حکومت کے ہوش اڑا رکھے ہیں جب حکومت کو کرسی کے لالے پڑے ہوئے ہوں تو وہ قومی مفاد کے بجائے اپنی کرسی بچانے میں ساری صلاحیت صرف کرتی ہے۔ اس طرح حکومتی مفاد قومی مفاد بن جاتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی بینک نے بھی ثالثی کا انتظار کیا جارہا تھا۔ بھارت روز دھمکاتا رہا یہاں تک کہ عالمی بینک نے بھی ثالثی سے معذرت کر لی۔ اب جبکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے سے منحرف ہونے کا عندیہ دیا ہے تو عالمی بینک کے صدر نے اسحٰق ڈار کو فون کرکے آبی تنازع حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عالمی بینک کی کسی یقین دہانی پر کیسے یقین کیا جائے جو آج کچھ کہہ رہا ہے اور کل تک وہ کسی قسم کی ثالثی اور عالمی عدالت انصاف میں جانے سے بھی انکاری تھا۔ دوسری کے ہاتھ میں معاملات دیے گئے تو نتیجہ تباہی ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پانی ایک ایسی ضرورت ہے جس سے قوموں کے مستقبل اور ان کی حیات کا گہرا تعلق ہے۔ آنے والے دنوں میں دنیا میں پانی کا سنگین بحران آنے والا ہے لیکن پاکستانی حکمران اس حوالے سے نہایت بے رخی کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو بھارت کی عیاری کا اندازہ ہونا چاہیے۔ وہ صرف ایک جانب سے پاکستان پر حملہ آور نہیں ہے ۔ سفارتی محاذ پر بھی بھارت حملے کر رہا ہے اور دفاعی نقطۂ نظر سے بھی پاکستان کے لیے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ بین البراعظمی میزائل اگنی 5پٹاخے پھوڑنے کے لیے تو نہیں بنایا گیا یہ میزائل 5ہزار کلو میٹر تک مار کر سکتا ہے گویا سارا پاکستان اگنی 5 کی پہنچ میں ہے۔ اس کے ساتھ امریکا کی سرپرستی میں بھارتی حکمران ساری دنیا میں پاکستان کے خلاف مہم میں مصروف ہیں۔ اور یہاں کلبھوشن کے خلاف ڈوزیئر تیار ہورہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں دستاویزات ہی تیار ہوتی رہ جائیں گی اور بھارت اقدامات پر اقدامات کرتا رہے گا۔ پاکستان کے حکمران خاندان اور بھارت کے وزیر اعظم کے دوستانہ تعلقات بھی موضوع بنے رہے ہیں اس حوالے سے بھی وزیراعظم پاکستان کی خاموشی قابل توجہ ہے۔ دوستیاں، تعلقات، رشتے داریاں وغیرہ قومی مفاد سے بالاتر نہیں ہوتیں۔ ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخابی دنگل، سیاسی بیان بازیاں اور جلسے جلوس اپنی جگہ قومی مفادات کا تحفظ اور ازلی دشمن سے نپٹنے میں کوئی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔