October 20th, 2018 (1440صفر10)

مدینہ کی اسلامی ریاست . . . ایک بہترین ماڈل

 

منشور


ہمارے لئے مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست ایک بہترین ماڈل ہے جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں فلاحی نظام وضع کیا گیا ۔ اُس با برکت اسلامی ریاست ک چند خصوصیات یہ تھیں ۔

  1. معاشرہ میں دولت اور دیگر وسائل ثروت کی عادلانہ تقسیم کا بندوبست کیا گیا۔ زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے ذریعہ دولت کا رُخ امراء سے غرباء کی طرف پھیرا گیا۔ ایسے ذرائع اور طورطریقوں پر پابندی لگائی گئی جس سے کسی خاص طبقے کے ہاتھ میں دولت کے  ارتکاز کا امکان تھا۔ مثلاََ سُود، احتکار، ذخیرہ اندوزی ، ناجائز منافع خوری وغیرہ ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی سالوں میں دولت صالح خون   کی مانند پورے معاشرے میں گردش کرنے لگی اور خوش حالی کا دوردور ہوگیا۔

  2. رعایا کے لیے خوراک ،لباس ،صحت اور تعلیم کا مناسب انتظام کیا گیا ۔ شیرخوار بچوں تک کے لیے ریاست کی طرف وظائف کے انتظامات کی  مثالیں بکثریت ملتی ہیں۔

  3.  قانون کا احترام سب کے لیے لازم قراردیا گیا۔ حکمران اور رعایا کے درمیان فرق ختم کیا گیا۔ لوگوں کے لیے اپنے خلیفہ، گورنر یا امیر تک   رسائی انتہائی آسان بنائی گئی۔

  4.  کاروبار، تجارت، صنعت و حرفت ،زراعت غرض ہر میدان میں کام کرنے کے کھلے مواقع فراہم کیے گئے۔ رسل و رسائل کے ذرائع وضع کئے   گئے۔ راستے محفوظ ہوگئے۔ بدامنی ،بے چینی اور ڈاکہ زنی کا قلع قمع کردیا گیا ۔

  5.  زکوٰۃ ،صدقات ،اموال فے اور دیگر مّدات میں جمع ہونے والی رقوم کو رعایا کی فلاح و بہبود اور خدمت خلق کے دیگر کاموں پر خرچ کیا گیا ۔اور چند ہی سالوں میں صورت حال یہ ہوگئی کہ صدقات دینے والے تو موجود تھے لیکن لینے والا کوئی نہ رہا۔

  6.  نہ صرف انسان کی زندگی میں اس کی کفالت کا انتظام کیا بلکہ مرنے کے بعد بھی اُس کی جانب سے رہ جانے والی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا انتظام کیا ۔

  7.  انسان تو کُجا، جانوروں اور نباتات کے بارے میں بھی واضح احکامات جاری کیے گئے۔ درختوں کے کاٹنے کو ناپسند کیا گیا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا فرات کے کنارے پیاسا کتا بھی مرجائے تو خدشہ ہے کہ عمرؓ سے اس کا حساب لیا جائے گا۔