October 20th, 2018 (1440صفر10)

مزارِقائد اور مینارِ پاکستان کے آنسو

 

مظفر اعجاز


پاکستانی قوم 23مارچ منارہی تھی لیکن مینار پاکستان اور مزار قائد رو رہے تھے۔ یوم پاکستان اس قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس میں برصغیرکے مسلم اکثریت والے علاقوں پر مشتمل آزاد علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا اس وطن کے خدوخال اور اس کے دستوری خاکے پر بھی بات کی گئی تھی ہر سال پوری قوم یہ دن مناتی ہے جس جگہ یہ قرارداد منظور کی گئی تھی اس منٹو پارک کو اقبال پارک قرار دے کر قیام پاکستان کے بعد وہاں عظیم الشان مینار تعمیرکردیا گیا۔ قرارداد پاکستان کی منطوری کے بعد 7سال کے اندر مسلمانان برصغیر کو ایک علیحدہ وطن مل گیا۔ بہت سے لوگ مینار پاکستان کو یادگار پاکستان بھی کہتے ہیں۔ پہلے پہل یہ الفاظ سن کر تحریک پاکستان سے جذباتی وابستگی رکھنے والے لوگ برہم ہوجاتے تھے ان کو یہ بات بری لگتی تھی۔ لیکن 6 دھائیاں گزرنے کے بعد آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ سڑکیں ،عمارتیں صنعتیں پھل پھول رہی ہیں تعلیم کے معیار میں اضافہ ہورہا ہے۔ پی ایچ ڈی کی تعداد میں اضافہ ہے ملک ایٹمی قوت بن چکا ہے۔ اسمبلیاں بن رہی ہیں ٹوٹ رہی ہیں اور نئی حکومتیں بن رہی ہیں۔ لیکن اگر ذرا ٹھہر کر تھوڑی دیر تک جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ قرارداد پاکستان جس نظریہ کی بنیاد پر پیش کی گئی تھی۔ ایک علیحدہ مملکت کی ضرورت جس بنیاد پر محسوس کی گئی تھی۔ جس دو قومی نظریہ کو تحریک پاکستان میں بنیادی اہمیت حاصل تھی وہ سب کہاں ہے۔ کیا ہم نے مینار پاکستان کا تو سچ مچ یادگار پاکستان نہیں بنادیا ہے۔ کیا قیام پاکستان کا مقصد سڑکیں ، عمارتیں ،صنعتیں اور ایٹم بم کاحصول تھا۔ یہ سب تو اب بھی بھارت میں بہت اچھا موجود ہے۔ اسمبلیوں اور حکومتوں کے لئے یہ سب کچھ کیا گیا تھا جسے عرف عام میں جمہوریت کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب بھی بھارت میں پاکستان سے زیادہ بہتر اور زیادہ مضبوط ہے۔ پاکستان میں تو بار بار مارشل لاء لگتا ہے، اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں’پی سی او جاری ہوتا ہے۔ کوئی ادارہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے محفوظ نہیں۔ عدلیہ کو بھی سیاست میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔ قانون ہمیشہ حکمران ٹولے کے ہاتھ میں موم کی طرح نرم رہتا ہے جس طرف چاہتا ہے موڑدیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان سب چیزوں کے لیے بھی پاکستان حاصل نہیں کیا گیا تھا۔

23مارچ کو تو اس جذبے اور مقصد کو زندہ کرنے کی ضرورت تھی جس کے لیے پاکستان کی تحریک چلی تھی جس کے لیے ہندوستان کے گلی کوچوں میں لے کے رہیں گے پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان اور پاکستان کا مطلب کیا ۔لاالہٰ الا اللہ کے نعرے گونج رہے تھے اور کیا وجہ تھی کہ برصغیر کے ان علاقوں کے لوگوں نے سب سے زیادہ تحریک چلائی اور سب سے زیادہ نعرہ دیا جو پاکستان میں شامل نہیں ہونے والے تھے۔ ان علاقوں کو ہندوستان میں بھی رہنا تھا یہ صرف دوقومی نظریہ تھا۔ جس نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرودیا تھا ۔ آج تقاریب، سیمینار، تقریریں اور کروڑوں اربوں روپے کے اشتہارات دنیا کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ ہم اپنا قومی دن منارہے ہیں ۔ تقریروں میں دوقومی نظریہ کو یاد رکھنے کی بات کی گئی۔ لیکن ہماری صورتحال کیا ہے ہم نے عملی طور پر دوقومی نظریہ کوخود عملاََ فراموش کر رکھا ہے۔ سیاست میں قائد اعظم کے اصولوں کو ہر سیاستدان خود پامال کررہا ہے۔ قائداعظم ہر ادارے کو اپنے دائرے میں کام کرتے دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن پاکستان کی برادری اپنے دائرہ سے باہر ہے۔ خصوصاََ فوج جس کے بارے میں قائداعظم نے خود فرمایا کہ اس کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے وہ قومی سرحدوں کو چھوڑ کر قومی اداروں میں داخل ہوگئی ہے اور اس بری طرح سے الجھ گئی ہے کہ اب نکلنے کی کوشش بھی کرے تو نہیں نکل سکتی۔ ایک تماشہ یہ بھی ہے کہ 23 مارچ اس قرارداد کی منظوری کی  یاد سے جو سیاسی جماعتوں نے سیاسی عمل کے بعد پیش کی تھی ایک خالص سیاسی جلسے میں اس قرارداد کو منظور کیا تھا۔ لیکن تماشہ یہ ہے کہ ہرسال 23 مارچ کی پریڈ، سلامی وغیرہ فوج کے سربراہ کے کھاتے میں جاتی ہے۔ اس موقع کو تو سیاسی و سماجی اداروں کو منانا چاہیے اس پر پوری پوری نیک نیتی سے عزم کرنا چاہیے کہ ملک کو اس دوقومی نظریہ کی بنیاد پر چلایا جائے گا جس کی خاطر یہ حاصل کیا گیا تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی چیز کو اس کے مقصد سے ہٹادیا جائے تو وہ کام کی نہیں رہتی۔ صرف گاڑی ہی کو دیکھ لیں اگر اسے سڑک پر چلانے کے بجائے سمندر میں اتار دیا جائے تو وہ ڈوب ہی جائے گی ۔اسی طرح کسی بھی ادارے کو جس کام کے لیے بنایا جائے اس سے وہ کام نہ لیا جائے تو وہ ادارہ تباہ ہوجاتا ہے یہی حال ملکوں کا ہے اگر ملک دوقومی نظریہ کی بنیاد پر بنایا جائے اور دوقومی نظریہ کی خود دھجیاں بکھیری جائیں تو کیا ہوگا ؟وہی جو آج ہورہا ہے۔ پاکستانی قوم کواس نازک موقع پر جبکہ نئی اسمبلیاں قائم ہوچکی ہیں ملک میں نیا وزیراعظم آنے والا ہے‘سیاسی جماعتیں سیاست کی مصروفیتوں میں الجھی ہوئی ہیں ایک نئے عزم کی ضرورت ہے۔ پوری سیاستدان، فوج اور تمام ادارے یوم پاکستان اس عزم کے ساتھ منائیں کہ اب اس ملک کو اس کے اصل مقاصد کی طرف لے جائیں گے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ حکمران ہی ملک کوغلط راستوں پر لے جاتے ہیں وہ خود اہم قومی پالیسیوں سے انحراف کرتے ہیں ان پالیسیوں سے انحراف کو بھی پاکستان کی اصل پالیسی قراردیتے ہیں اور قوم کوبھی مجبور کرتے ہیں کہ یہی پالیسیاں اختیارکرے۔ 23 مارچ کو مزارقائد پر گارڈر کی تبدیلی کا عمل ہوا ۔ایک رنگا رنگ تقریب ہوئی۔