March 20th, 2019 (1440رجب13)

لیلۃالقدر

ڈاکٹر انیس احمد

قرآن کریم نے سورہ القدر میں ایک ایسی را ت کا ذکر کیا ہے جو انتہا ئی قدرت اور قوت وا لی ہے اور جسے لیلۃالقدر کا خطا ب دیا گیا ہے ۔حدیث شریف میں بھی اس کا ذکر کئی مقا ما ت پر ملتا ہے ۔با لخصوص حدیث جو ابو ہریرہؓ نے روایت کی ہے اس میں یہ با ت فرما ئی گئی ہے کہ :

’’آپ نے یہ فرما یا :تم پر رمضان مبا رک کا مہینہ آیا ہے جس میں اللہ تعا لی نے تم پر رو زے فرض کیے ہیں ، اُس میں آسما ن کے دروا زے کھو ل دیے جا تے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جا تے ہیں ،سر کش شیا طین با ند ھ دیے جا تے ہیں ، اس میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی را ت ہیں جو ہزاروں مہینوں سے بہتر ہے اور جو اس را ت کی بڑا ئی سے محرو م رہا وہ بس محرو م ہی رہ گیا ۔‘‘(مسنداحمد نسا ئی )

اس حدیث شریف میں جس را ت کا ذکر ہے یہ وہی ہے جس کے با رے میں قرآن پا ک میں سورہ القدر میں یہ فرمایا گیا :

اناانزلنا ہ فی لیلۃالقدر ، وما ادراک ما لیلۃالقدر ، لیلۃ القدر خیر من الف شھر.تنزل الملکۃوالروح فیھا با ذن ربھم من کل امر .سلم ھی حتی مطلع الفجر.

پہلی با ت یہ فرما ئی گئی اناانزلنا ہ فی لیلۃالقدر یہا ں پر انزلنا ہ کی ضمیر کا اشا رہ قرآن پا ک کی طرف ہے کہ اسے قدرت وا لی را ت میں نا زل کیا گیا ۔ہم جب اس آیت کو پڑھتے ہیں تو ذہن یہ سوا ل کرتا ہے کہ آخر یہ رات کیوں اتنی قوت والی ہے،کیو ں اتنی عظیم ہے ؟حقیقت یہ ہے کہ قرآن پا ک کا نزول اس را ت میں ایک ایسا تا ریخ سا ز وا قعہ ہے جس کے اقوا م عا لم کی تقدیر بدل دی ۔تا ریخ کے رخ کو تبدیل کر دیا ۔ ایک نئے دور کا آغاز کیا ۔ایک روا یت علم کو، ایک ثقافتِ علم کو ، ایک ایسے تصورِ حیا ت کو جو انسا ن کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ذریعہ تجا رت ہے ، متعا رف کرایا ۔ یہ ایک ایسا عظیم وا قعہ ہے جس کو ایک انتہا ئی قوت وا لی را ت ہی بردا شت کر سکتی تھی ۔

اسی آیت مبا رکہ میں یہ با ت بھی بیا ن کر دی گئی کہ قرآن کریم اس لیلۃ القدر میں نا زل ہوا جو رمضا ن کے آخری عشرہ کی طا ق را توں میں سے ایک را ت تھی ۔ اگر تقا بلی مطا لعہ کیا جا ئے تو دیگرمذاہب کی کتبِ مقدسہ کے با رے میں ان مذاہب کے ما ہرین یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ کتب واقعتاکب نا زل ہو ئیں ، صرف قرآن کریم خو د شہا دت دیتا ہے کہ یہ لیلۃالقدر میںیعنی آخری عشرہ کی طاق را توں میں سے ایک میں نا زل ہوا ،اور یہ قرآ ن کی عظمت اور منفردہو نے کا ایک اہم پہلو ہے ۔

اگلی آیت میں یہ بات فرما ئی گئی کہ یہ وہ را ت ہے جو ہزاروں ما ہ سے بہتر ہے ۔اگر ان ہزاروں مہینوں کو حسا ب کتا ب لگا کر دیکھا جا ئے تو یہ چند سا ل چند ماہ میں تبدیل ہو سکتے ہیں ، لیکن کیا اس سے مرا د فی الوا قع صرف یہ مدت ہے ، یا اس سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایک را ت میں عبا دت کرے تو یہ 80سا ل عبا دت کر نے کے برا بر ہے ۔ اس لیے وہ اب 80سا ل تک عبا دت ہی نہ کرے ؟یا اس سے مراد اس را ت کی اہمیت کو سمجھانا ہے ، اس کی عظمت اور اس کی وسعت کی طرف اشا رہ کر نا ہے ۔اور اس کی اثرانگیزی کو ظا ہر کر نے کے لیے قرآن پا ک نے اس ایک را ت کی عبا دت کو ایسے قرار دیا ہے جیسے کہ ایک ہزاررا توں تک مسلسل عبا دت کی گئی ہو ۔

یہاں پر سا ل اور مہینے کے لحا ظ سے حسا ب کتا ب لگا کر نا پنا اور تو لنا آیت کا مدعا نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا مدعا یہ معلوم ہو تا ہے کہ اس کی اہمیت کو وا ضح کیا جا ئے اور یہ با ت سمجھا ئی جا ئے کہ اگر ہم ہزار سا ل عبا دت کر یں ، جب بھی اس ایک را ت کی عبا دت کے برا بر اجر حا صل نہیں ہو سکتا ۔کیو ں کہ اس را ت میں اللہ سبحانہ وتعا لیٰ ملا ئک کو حکم دیتے ہیں کہ جا ؤ اور دیکھو میرے کو ن سے بندے ایسے ہیں جو مجھے یا د کر رہے ہیں اگر یہ وزاری کر رہے ہیں ، سجدے میں پڑے ہوئے ہیں ، رکو ع میں ہیں قیا م میں ہیں ، جن کے پہلو بستروں سے الگ ہیں ، جو ا پنے رب کو تنہا ئی میں گر یہ وزاری کے سا تھ یا د کر رہے ہیں ۔ ان پر رقتِ قلب طا ری ہے ، اپنے گنا ہوں کی مغفرت طلب کر رہے ہیں ،درخوا ست کر رہے ہیں کہ ان کا رب ان کو صحیح را ہ دکھا دے ،ہدا یت پر رکھے ، جب فرشتے ان کے با رے میں آکر اطلا ع دیتے ہیں تو اللہ سبحانہ وتعا لیٰ ان کو اپنے رحم وکرم سے معا ف فرما دیتے ہیں ۔

اس را ت کی عظمت کا ایک سبب یہ ہے کہ اس را ت اللہ سبحا نہ وتعا لیٰ کی صفا تِ رحم ،کرم ، عفو ر و درگزر اور مغفرت جوش میں آتی ہیں اور اللہ تعا لیٰ اپنے ان سب بندو ں کو جو اس را ت میں اس کے حضور گر یہ وزاری کر تے ہیں اپنی بے پنا ہ محبت ورحمت سے معا ف فردیتا ہے ۔

اگلی آیت میں جو با ت فرما ئی گئی ہے یعنی تنزل الملئکۃ وا لرو ح اس کے با رے میں مفسرین نے دو پہلوؤ ں کی طرف متوجہ کیا ہے ، ایک تو یہ کہ یہ وہ مو قع ہے کہ اس میں جبریل امین آتے ہیں ، دوسری را ئے یہ پا ئی جا تی ہے کہ رو ح سے خو د مرا د قرآن پا ک کا نزول ہے۔ اسی نو عیت کا مضمو ن سو رہ النحل میں آتا ہے ۔ مفسرین کی را ئے ہیں کہ سورہ النحل میں با لرو ح سے مراد حضرت جبریل علیہ السلا م نہیں ہیں بلکہ قرآن ہے ، اس لیے القدر میں بھی ’’والروح ‘‘کے دو نوں مفہو م لیے جا سکتے ہیں ۔ ان دو نو ں مقا ما ت اور آرا میں کو ئی تضا دنہیں ۔ینزل الملئکۃ بالروح من امرہ (النحل2:16)’’وہ اس رو ح کو اپنے جس بندے پر چا ہتا ہے اپنے حکم سے ملا ئکہ کے ذریعہ نازل فرما دیتا ہے ۔‘‘جو با ت غور کر نے کی ہے وہ یہ ہے کہ کہ یہ وہ را ت ہے جس میں حضرت جبریل علیہ السلا م قرآن پا ک لے کر آئے اور جس میں یہ قرآن خو د نا زل ہوا ۔

یہا ں پر لیلۃالقدر کے حوا لے سے ایک سوال یہ بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے اور اللہ کے رسو لنے اس کا تعین نہیں فرما دیا ؟یعنی کیا وجہ ہے کہ یہ با ت نہیں کہی گئی کہ یہ اکیسویں را ت ہے تیئسویں ہے ، پچیسویں یا ستا ئیسویں رات ہے یا انتیسویں را ت ہے ۔ اسے غیر متعین کیو ں چھوڑ دیا گیا کہ آخری عشرے کی طا ق را توں میں سے ایک را ت ہے عقل یہ کہتی ہے کہ اگر قرآن پا ک کے نزول کو حدیث شریف میں کسی ایک را ت کے حوا لے سے متعین کر دیا جا تا تو شا ید ہی کو ئی ایسا فرد ہو تا جو اس را ت کی عبا دت نہ کر تااور بقیہ طا ق را تو ں کو غیر اہم سمجھتے ہو ئے عبا دت کا مستحق نہ سمجھتا ۔لیکن وہ را ت اکیس سے انتیس رات میں سے کو ئی بھی طا ق را ت ہو سکتی ہو توایک شخص چاہے گا کہ ہر طا ق را ت میں عبا دت کرے اور اس طرح محض ایک طا ق را ت کی جگہ اسے پا نچ را تو ں میں عبا دت کر نے کی تو فیق ہو جا ئے گی ۔ بظاہر یہ معلوم ہو تا ہے کہ را ت کا تعین نہ ہو نا امتِ مسلمہ کے فا ئدے کے لیے ہے تا کہ الرحیم الراحمین محض ایک را ت میں نہیں بلکہ پا نچ را توں میں اپنے بندوں کی دعا ؤں کو سنے اور ان کی مغفرت کر سکے ۔

ایک حدیث میں اس با ت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے نبی کریم کو لیلۃالقدر کے با رے میں مطلع فرما نے کے بعد آپ کی یا د سے محوکر دیا ۔غالباََاسی بنا پر اسے بھلا دیا گیا کہ طا ق را ت میں عبا دت کی تحریک ہو سکے ۔

قرآن کریم کی عظمت اور اس منا سبت سے اس را ت کو قوت اور قدرت وا لی را ت کہنے کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسلا م سے پہلے جو شریعتیں آئیں وہ ان اقوام تک محدود رہیں جن پر وہ نا زل کی گئی تھیں ۔ قرآن کریم تما م انسا نو ں کے لیے نا زل کیا گیا چا ہے وہ گو رے ہو ں یا کا لے ، امیر ہو ں یا غریب ، مرد ہو ں یا عورتیں ،بچے ہو ں یا جوان .........ہر ہر فر د کے لیے قرآن کریم پیغا م ہدا یت اور را ہِ را ست بن کر آیا ۔ یہ خو د ایک اتنا عظیم وا قعہ ہے ، جو قرآن کریم کی عظمت کو ، اس پیغا م کی وسعت اور پا کیزگی کو بتا نے کے لیے اپنی مثا ل آپ ہے ، اور اس بنا پر جس را ت اس کا نزول ہوا اسے لیلۃالقدر ہو نا ہی چا ہیے تھا ۔

یہ وہ را ت ہے جس میں گھر کے سب افرا د شا مل ہو کر عبا دت کر تے ہیں ۔ مسا جد میں قیا م ا للیل کیا جا تا ہے ، نوا فل پڑھے جا تے ہیں اور قرآن کریم کی تلا وت کی جا تی ہے ، خوا تین اور بچے عموماََگھر میں نوا فل کا اہتما م کر تے ہیں اور مقا بلہ کر تے ہیں کہ کس نے زیا دہ نفل پڑھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھے کا موں میں مقا بلہ بہت پسند یدہ عمل ہے ۔ لیکن اس را ت عبا دت میں اہم چیز تعدا د نہیں ہے بلکہ وہ کیفیت ہے جو اللہ کے حضور کھڑے ہو نے سے پیدا ہو تی ہے ۔ وہ خشیت ہے جس کا ذکر سورہ المومنو ن میں کیا گیا ہے کہ فلا ح پا نے وا لے مو منین وہ ہیں کہ جن کہ نمازیں خشیت سے بھری ہو تی ہیں (المومنون2.1:23)۔ اس لیے اس چیز سے بے پر وا ہو کر کسی نے تعدا د کے لحاظ سے پچاس رکعتیں پڑھی ہیں یا سو ،اصل فکر یہ کر نی چاہیے کہ جو نما ز ہو اس میں اللہ کا خو ف ہو اور محبت ہو ، اس کے سا منے گریہ وزاری ہو ،التجا ہو ، مغفر ت کی دعا ہو ، تاکہ وہ اپنی رحمت سے ما ضی کے سب گنا ہ معا ف فرما دے ۔

اس عظیم را ت کے بارے میں قرآن کریم یہ فرما تا ہے کہ غروبِ آفتا ب سے اگلے دن مطلع فجر تک یہ را ت اللہ تعا لیٰ کی رحمتوں سے بھری ہو تی ہے ، یہ تلا ش کر نے وا لے کی طلب پر ہے کہ وہ کیا کچھ طلب کر تا ہے ، جب کے دینے وا لا ہر ہر خواہش اور درخوا ست کو قبو لیت بخشنے پر تیا ر ہو ۔ ہر دعا کو سننے اور قبو ل کر نے کے لیے آما دہ ہو ۔جس نے اس را ت کا ایک حصہ بھی پا لیا اس نے بہت کچھ پا لیا اور جو تما م را ت رب کے حضور گر یہ وزاری کرتا رہا اس کی ہر دعا کی قبو لیت کا وعدہ کر لیا گیا ہے ۔

لیلۃ القدر میں ایک بندے کی گریہ وزاری اور عبا دت کے حوا لے سے ایک سوا ل ذہن میں آتا ہے کہ کیا کو ئی خا ص دعائیں ایسی ہیں جو اس را ت میں کی جا ئے تو وہ قبو ل ہوں گی ۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ سبحا نہ وتعا لیٰ کو جس زبا ن میں جس خوبصورت نا م سے پکا را جا ئے وہ اس کو سنتے ہیں ۔ لیکن لا زمی طو ر پر جو دعا ئیں حضور نبی کریم نے اپنی زبا نِ مبا رک سے ادا فر ما ئی ہیں ہما رے لیے سب سے قیمتی دعا ئیں وہی ہیں ۔ ایک حدیث صحیح میں کہا گیا ہے کہ اس را ت یہ دعا کر نا :اللھم انک عفو کر یما تحب العفوفا عفوعنی ۔یا یہ کہنا کہ اے اللہ سبحانہ وتعا لیٰ میں اپنے تما م گنا ہوں سے تو بہ کر تا ہو ں، مجھ پر رحم فرما ئیے ۔استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتو ب علیہ کہنا ۔یا دیگر استغفارجو احا دیث میں بتا ئے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک کو کثرت کے سا تھ اس را ت کی عبا دت کی قبولیت میں اضافہ کر دیتا ہے ۔لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اگر کسی فرد کو مسنون دعا ئیں یا د نہیں تو یہ شرط نہیں ہے کہ وہ لا زمی طو ر پر عربی زبا ن میں مسنو ن دعا کرے ۔ اللہ سبحانہ وتعا لیٰ دلو ں کے حال جا نے وا لے ہیں ۔ اگر ایک کسا ن ، محنت کش جو با لکل بھی پڑھا لکھا نہیں ہے وہ اپنی زبا ن میں اللہ کے سا منے یہ کہتا ہے کہ آپ مکمل بخشنے اور مغفرت کر نے وا لے ہیں ،آپ رحم کو پسند کر تے ہیں ، آپ مجھ پر رحم کیجئے ،تو وہ جس زبا ن میں بھی کہے گا اس کی دعا اور درخوا ست ان شا ء اللہ قبول ہو گی ۔ کیو ں کہ اللہ سبحانہ وتعا لیٰ دلو ں کے حال جا ننے و لا ہے اور اسی کے ہا تھ میں اصل فیصلہ ہے اسی کے ہا تھ میں اصل فیصلہ اور قدرت ہے ،اور اس را ت خا ص طور پر اس کی رحمت بے انتہاجو ش میں ہو تی ہے ۔وہ منتظر ہو تا ہے کہ کوئی بندہ میری جا نب ایک قدم بڑھے اور میں دس قدم آگے آکر اس کا استقبا ل کرو ں جیسا کہ ایک حدیث میں آتاہے کہ اگر ایک شخض اللہ کی جا نب ایک قدم بڑھتا ہے وہ دس قدم آگے بڑھتا ہے ۔ گو یا کہ وہ منتظر رہتا ہے کہ ایک بندہ عا جزی کے ساتھ انکسا ر کے سا تھ ، شرمسا ری کے سا تھ اس کی طرف بڑھے اور وہ فوری طو ر پر اس کو معا ف فرما دے ۔اس لیے دعا میں زبا ن کی کو ئی قید نہیں ہے ، بہتر یہ ہے کہ وہ دعا ئیں جو مسنون ہیں پڑھی جا ئیں ، لیکن اگر یہ دعا ئیں کسی کو نہیں آتی تو اس کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کو پکا رے،وہ پکا ر کو سننے وا لا ہے ۔ اللہ تعا لی فرما تا ہے:وقا ل ربکم ادعو نی استجب لکم (المو من 60 :40 )

’’ تمہا را رب کہتا ہے کہ ’’ مجھے پکا رو ں میں تمہا ری دعا ئیں قبول کر و گا ۔

گو یا یہ ایک open invitationہے ، ایک کھلا دعوت نا مہ ہے ۔جس میں ہر ہر فرد خوا ہ وہ خا ندا ن کا بڑا ہو یا چھو ٹا ، اس کو دعو ت دی جا رہے کہ آگے بڑھو ، کھڑے ہو کر ، رکو ع میں جا کر ، سجو د میں جا کر اپنے رب کے سامنے اپنی بندگی کے احسا س کے سا تھ جھک جا ؤ اور اس جھکنے کے نتیجے میں بلندی حا صل کر لو ،اپنے آپ کو گرا کر وہ عظمت پا لو جو ایما ن کی عظمت ہے ، جو احسا ن کی عظمت ہے ، جو ایک متقی فرد کو ، ایک مومن اور ایک مو منہ کو حاصل ہو سکتی ہے ۔گویہ یہ را ت ا یک ایسا نا در مو قع ہے جس کو ہا تھ سے نہ جانے دینا چا ہیے اور کو شش کر نے چا ہیے کہ اس کو بہترین عبا دت کے سا تھ ،بہترین نیت کے سا تھ ، بہترین خلو ص کے سا تھ اور بہترین عا جزی کے سا تھ اور برکتو ں کے حصول کے لیے اللہ کے حضور قیا م، رکو ع اور سجو د میں گزار اجا ئے ۔

لیلۃ القدر میں قرآن کریم کا نزول ایک ایسا اہم تا ریخ سا زواقعہ ہے جس کی اہمیت وعظمت یہ مطا لبہ کر تی تھی کہ نہ صرف ان پا نچ طا ق را تو ں میں بلکہ اس پو رے ما ہِ میں رب کریم اپنے بندو ں کو قرآن کریم سے وا بستہ ہو نے اور اس سر چشمہ ہدا یت سے مستفیدہو نے کے لیے ہر رات وقت کاایک حصہ مخصوص کر نے کی طرف سے متو جہ کر دے ۔ چنا نچہ نزول قرآن کا جشن منا نے کے لیے خو د اس کلا مِ عزیز کی تلاوت اور اس کے مفہو م کو سمجھنے کے لیے صلوٰۃالترا ویحکو سنت بنا یا گیا تا کہ قیا مت تک کے لیے ہر سا ل آنے وا لے رمضان میں دنیا میں جہا ں کہیں بھی مسلما ن پا ئے جا تے ہیں اگر وہا ں مسا جد ہو ں تو مسا جد میں ، اگر مسا جد نہ ہو ں تو گھرو ں میں اور باگر غیر ممالک میں طلبہ تعلیم کی غرض گئے ہو ں تو یو نیو رسٹی کیمپس پر طلبہ کی سر گرمی کے مرا کز میں رمضا ن کے دورا ن خوبصورت آواز کے سا تھ تلا وت کر نے وا لے طلبہ ہر را ت تراویح کی شکل میں قرآن کریم کا تقریباّ 1\30حصہ سکو ن کے سا تھ سن سکیں ۔آج مسلم طلبہ آسٹریلیا میں ہو ںیا امریکہ یا یو رپ میں ...........الحمداللہ رمضان کے دورا ن دینی مدرسہ کے فا رغ حفا ظ نہیں خو د وہ طلبہ جو انجینئرنگ ، میڈیکل یا دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر نے جا تے اپنے کیمپس پر خود اپنے میں سے ایسے نو جوا نو ں سے تراویح میں قرآن کریم سنتے ہیں جنہو ں نے چاہے مکمل حفظ نہ کیا ہو لیکن اچھی آوا ز سے تلا وت کر سکتے ہیں ۔ کتا بِ عزیز نے اس کتا ب کی تلا وت اور سما عت کے با رے میں جو ہدا یت دی ہیں وہ بھی اہل ایمان کے اجر میں اضافہ کر تی ہیں ، چنا نچہ فرما یا گیا ’’ جب اس کی تلا وت ہو تو اسے خا مو شی اور تو جہ کے سا تھ سنا جا ئے ۔‘‘ ( الاعرا ف204:7)

پھر ہر آیت کو صحیح مخارج اور ادا ئیگی کے سا تھ ٹھیر ٹھیر پڑھا جا ئے تا کہ جو کچھ پڑھا جا رہا ہے اس کے مفہو م کو ذہن میں نشین کا جا سکے ۔

صلٰو ۃ التراویح ایک جلدی اور تیری سی قرآن کریم بغیر سو چے سمجھے دہر الینے کا نا م نہیں ہے۔ اس کا بنیا دی مقصد قرآن سے تعلق کو مضبو ط سے مضبو ط تر کرنا ہے ۔اور اس طرح اللہ تعا لیٰ اپنے بندو ں کی مغفرت کا ایک مبنی بر مشا ہدہ ذریعہ (Evidence based) فر اہم کرتا ہے ۔حدیث شریف میں اس حوا لے سے فرما یا گیا :

’’ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ نے فرما یا : رو زہ اور قرآ ن بندے کی شفا عت کرتے ہیں۔ رو زہ کہتا ہے کہ اے رب میں نے اس کو دن بھر کھا نے پینے اور شہوا ت سے رو کے رکھا ، تو میری سفارش اس کے حق میں قبو ل فرما۔اور قرآن کہتا ہے کہ ( اے رب )میں نے اسے ر ات کو سو نے سے رو کے رکھا تو اس کے حق میں میری سفا رش فرما ۔ پس دو نو ں کی شفا عت قبو ل فرما ئی جا ئے گی۔‘‘(بہیقی)

قرآن کریم میں شفا عت کا تصور وہ نہیں ہے جو ہم اپنے ذہن میں قا ئم کر لیتے ہیں ۔اس کا برا ہ را ست تعلق عملِ صالح کے سا تھ ہے ۔ قرآن کریم اور رو زے کی شفا عت کر نا ایک ایسیobjectiveشہا دت ہے ۔ جس میں کسی تعصب ، کسی جا نب دا ری کا امکا ن نہیں ہو سکتا ۔ ایک انسا ن تو اپنے کئی عزیز بیٹے ، بھا ئی ، بیوی یا با پ اورما ہ سے تعلق کی بنا پر یہ سو چ سکتا ہے کہ قریبی رشتے کی بنا پر شا ید ان کی سفا رش کا م آجائے ،جب کہ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلا م اور حضرت نو ح علیہ السلام کے وا قعات میں یہ با ت وا ضح کر دی ہے کہ نہ کسی نبی کا بیٹا ہو نا کسی کے نبو ت کو بطو ر میراث حاصل کر نے کا سبب بن سکتا ہے ، نہ کسی نبی کا بیٹاہو نا اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہے ، بلکہ نبی کی آنکھو ں کے سا منے نبی کی محبت اور خوا ہش کے با وجو د اللہ کے عذاب کی نذرہو سکتا ہے ۔اس لیے حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم کا یہ فرما ناکہ قرآن اور رو زہ یو مِ الحساب بندے کی شفا عت کریں گے ، ایسا ہی ہے جیسے انسا نی اعضا اس دن پر گو اہی دیں گے کہ ایک شخص نے کون سا کا م صحیح یا غلط کیا ۔

اس حدیث پر قیاس کرتے ہوئے اللہ تعا لیٰ سے امید کی جا سکتی ہے کہ جن طا ق را تو ں میں ایک بندہ جا گ کر استغفار کر تے ہو ئے ، قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے، نوافل پڑھتے ہوئے قوت والی رات کو تلاش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کے خلوص اور شوقِ عبادت کو قبول فرما سکتا ہے۔ اس کی رحمت کی وسعتیں ناقابلِ تصور ہیں۔وہ اپنے بندوں پر شفیق اور کریم ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی جائز بنیاد پر بندے کو معاف کردے۔اس لیے ان طاق راتوں میں قرآن کریم کا کثرت سے پڑھنا، نوافل ادا کرنا اہلِ ایمان کی مغفرت اور نجات کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

نزولِ قرآن کا آغاز جن کلمات سے ہوا ان میں سے ہر ہر آیت بھی اس بات کی مستحق ہے کہ اس پر غور کیا جائے اور دیکھا جائے کہ اس اہم تاریخ ساز واقعہ سے ہم کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں۔فرمایا جارہا ہے:

(ترجمہ)’’پڑھو(اے نبء) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا‘‘۔(العلق5.1:96)

پہلی بات یہ سمجھائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام سے پڑھنے کا آغاز کیا جائے۔اس کے اولین مخاطب خاتم النبین اور ان کے ذریعے پوری امتِ مسلمہ ہے۔ اُمیّوں کے درمیان ان میں سے منتخب کیے جانے والے نبی سے خطاب فرمایا جارہا ہے کہ وہ جبریلِ امین نے جو آیا ت تلاوت کی ہیں ان کی قر آت کرے۔ یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ ہم کسی نئی چیز کو جاننے کے لیے دو ذرائع پر ہی اعتبار کرتے ہیں، ایک مشاہدے کے ذریعے یعنی تحریر یا کتاب یا دستاویز کو پڑھ کر اپنے علم میں اضافہ کرنا،اور دوسرے کسی بات کو سن کر ذہن میں محفوظ کرنا۔دونوں طریقے تعلیم کے میدان میں معروف ہیں، اور آج تک انسان علم کے حصول کے لیے تحریر کو پڑھ کر یا ایک علم کو سن کر ہی تعلیم یافتہ بنتے ہیں۔

حضرت جبریل امین نے ان پانچ آیات کو نبی کریم کو تعلیم فرمایا اور آپ نے انہیں جبریل امین کے سامنے دہرا کر یہ یقین کرلیا کہ جو علم آپ کو دیا گیا ہے وہ محفوظ ہوگیا تاکہ وہ اب آگے منتقل ہو۔اقرا ء کا مفہوم جہاں تلاوت کا ہے وہاں یکجا کرنے کا بھی ہے۔گویا اس طرح علم کا جو حصہ بھی قرآن کی شکل میں نازل ہوتا گیا، وحی الٰہی کو حافظہ میں محفوظ کرنے کے ساتھ نبی کریم ان اجزا کے یکجا کرنے والے بھی بنتے گئے۔نزولِ قرآن اور حصول وحی الٰہی کا یہ سلسلہ 23 سال جاری رہا۔جب اس نزول کی تکمیل ہوگئی اورجبریل امین نے رمضان کے آخری ایام میں دو مرتبہ قرآن کریم مکمل نبی کریم کو سنا دیا اور آپ سے دو مرتبہ سن لیا تو اب یہ بات یقین کو پہنچ گئی کہ بھیجنے والے نے جو وعدہ کیا تھا کہ میں خود اس کی حفاظت کروں گا،وہ پورا ہوا اور قیامت تک ہررمضان میں اس کلام کا کروڑوں افراد کا سننا اور سنانا اس کی حفاظت کا ایک عظیم ذریعہ بن گیا۔یہ ایک ایسا محفوظ ذریعہ ہے کہ اگر قرآن کریم کے تمام نسخے کوئی عالمی طاقت ضبط کر لے توسینوں میں اس کتاب کا نور اور اس کلام عزیز کے محفوظ ہونے کی بنا پر سو کروڑ سے زائد افراد کے پاس جو ہدایت محفوظ ہے وہ کسی بھی ظالمانہ عمل سے انشاء اللہ ختم نہیں ہوسکتی۔

اس پہلی آیاتِ مبارکہ میں یہ ادب تعلیم کردیا گیا ہے کہ اللہ کے کلام کا آغاز اُس کے نام سے کیا جانا چاہیے۔چنانچہ قرآن کریم کی ہر سورت کا آغاز بسم اللہ سے اور نہ صرف ہر سورت بلکہ مسلمان کے ہر کام کاآغاز بسم اللہ سے کرنا برکت کا باعث بن جاتا ہے۔

دوسری آیتِ مبارکہ میں انسانوں کو ان کی تخلیق کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ایک چپکنے والے مادہ سے انسان کی مسلسل تخلیق کے عمل کا آغاز کیا جائے، تاکہ خود اس عمل پر غور کرکے دیکھے کہ جس ہستی نے اسے ایک قطرے سے بلکہ ایک انتہائی حقیر اور چھوٹے جرثومے (Gene) سے پیدا کیا ہے وہ کتنی عظیم ہے۔یہ وہ ہستی ہے جو انتہائی کریم و رحیم ہے، جس نے قلم کے ذریعے انسان کو حصولِ علم اور اشاعتِ علم کی تعلیم دی۔

یہاں قرآن کریم کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ ایک جانب اسے اللہ کے بزرگ اور پاک فرشتوں نے لوح محفوظ پر قلم کے ذریعے لکھ کر محفوظ کیا، اور دوسری طرف اس دنیا میں انسانوں کے لیے قلم کے ذریعے علم کی اشاعت کا سلسلہ قائم فرمایا ہے۔

دنیا کی الہامی کتابوں میں قرآن کریم وہ یکتا کتاب ہے جسے آغازِ نزول سے تکمیلِ دین تک کتابی شکل میں اللہ تعالیٰ نے کسی مقام پر محفوظ فرمادیا اور حفظ اور تحریر دونوں شکلوں میں دنیا میں اسے اتنا عام کردیا کہ ہر مسلمان گھر میں اس کا ایک نسخہ موجود اور قیامت تک اس میں کسی تبدیلی یا تحریف کا امکان باقی نہ رہے۔ان مبارک آیات میں قرآن یہ بات بھی سمجھا رہا ہے کہ جو عمل یہ کتاب انسانوں کو دیتی ہے وہ اس سے قبل اس سے ناواقف تھے۔جو ہدایات یہ کتاب فراہم کرتی ہے وہ کسی انسانی ذہن کی ایجاد نہیں ہیں۔جو احکامات یہ کتاب دیتی ہے وہ کسی علاقہ اور وقت کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ زمان و مکان کی قید سے آزاد رب کریم کی وحی ہے جو اس کے غیر محدود علم کا ثبوت ہے۔ یہ ایسی باتیں بتاتی ہے جن تک انسان کا ذہن تمام ترکوششوں کے بعد بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔وحی الٰہی علم کا اعلیٰ ترین ذریعہ ہے جو انسان کو ان باتوں سے آگاہ کرتی ہے جو اس کی عقل کی پہنچ سے بلند ہیں۔انسنای عقل غور کرنے کے بعد یہ تو کہہ سکتی ہے کہ اس حسین و جمیل کائنات اور انسان کا کوئی خالق ہونا چاہئے۔لیکن یہ خالق کیسا ہے، وہ کیا چاہتا ہے، وہ کس بات سے خوش اور کس سے ناراض ہوسکتا ہے یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انسانی عقل حل نہیں کرسکتی۔اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ انسان کو اس کتاب اور وحی کے ذریعے وہ علم دیا گیا جو اس سے قبل اس کی سمجھ سے باہر تھا۔

ان پانچ آیات نے جو پہلے وحی کی شکل میں نازل ہوئیں،ایک ایسی روایتِ علم کا آغاز کیا جس کے ذریعے وہ عرب جو اُمّی مشہور تھے اب علم و ہدایت کے عَلم بردار بن گئے، جن کے ہاں زیادہ اعتماد یاداشت پر ہوا کرتا تھا قلم کے دھنی بن گئے، اور قرآن کریم کا عربی زبان میں نازل کیا جانا اس لحاظ سے عربوں کے لیے ایک ایسی نعمت ثابت ہوا کہ وہ جو کل تک ایک جزیرہ نما ریگستان میں اونٹوں کے ذریعے تجارت کرنے والے تھے اب علم کے مبلغ اور فکر کے رہنما بن گئے۔

غالباََ عربی میں قرآن کریم کے نازل کیے جانے کا ایک برا سبب یہی تھا کہ اس زبان میں ادبیت، وسعت اور اہم مضامین کو اختصار کے ساتھ پیش کیے جانے کی صلاحیت تھی۔گو عرب اپنی طوالتِ بیان ا ور شعر و ادب پر مہارت کے لیے مشہور تھے لیکن قرآن کریم جس عرب مبین(سادہ زبان) میں نازل ہوا اور جسے قرآن نے خود عربی مبین کہا، یہ وہ عربی تھی جس کے سادہ الفاظ ، مختصر جملے اور اسلوب اُن عربوں کے لیے حیران کن تھے جو ہر معمولی سے معمولی بات کو اپنی شاعرانہ مہارت کے ساتھ طولِ بیان کے ساتھ بیان کرنے پر نازاں تھے۔ وہ کہنے پر مجبور پوگئے کہ یہ قرآن نہ تو شعر ہے ، نہ کہاوت، یہ تو کوئی مسحور کردینے والی حکایت ہے۔قرآن کریم نے اس پہلو کی طرف خود اشارہ کیا، چنانچہ فرمایا گیا: اور اگر ہم اس قرآن کو غیر عربی زبان میں نازل کرتے تو یہی اعراب اس پر اعتراض کرتے اور یہ کہتے کہ جو بات ہماری زبان میں نہیں ہم اسے کس طرح سمجھ اور مان لیں!

چنانچہ قرآن کریم کا نزول ایک ایسی زبان میں ہوا جس سے عرب آگاہ تھے لیکن اپنے تمام تر ادبی اور شعری کمال کے باوجود اس قرآن سے ملتی جلتی کوئی ایک سورت بلکہ کوئی ایک آیت اپنی تمام تر کوشش کے باوجود بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔یہ قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی اہم دلیل ہے۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ یہ کلامِ ربانی ہے، یہ انسانی کلام نہیں ہے، گو اس کے نزول کا مقصد انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی ہے لیکن اس کی ایک ایک آیت اپنے مضمون کی وسعت کی بنا پر معافی کا ایک سمندر ہے۔

تمام انسانوں کے لیے اس دستورِ عمل کے نزول کا آغاز جس رات میں ہوااور جس نور نے اس رات کو نہیں بلکہ انسانوں کی قسمت کو منور کردیا وہ نہ صرف عربی جاننے والوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک تاریخ ساز رات ہے۔یہی سبب ہے کہ ہر سال رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اس کا تلاش کیا جانا ایک برکت والا عمل ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دستورِ حیات اور نور و ہدایت کے ساتھ رمضان کی طاق راتوں کے علاوہ بھی قریبی تعلق قائم کیا جائے تاکہ انسانیت تاریکی سے نکل کر نور میں آسکے۔