January 18th, 2020 (1441جمادى الأولى22)

کشمیری عوام نئی آزمائش

 

میاں منیراحمد

مقبوضہ وادی میں پانچ اگست سے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ اے کی منسوخی، کشمیر میں نو لاکھ بھارتی فوج کی تعیناتی، چار ہزار سے زائد نہتے کشمیریوں کی گرفتاری، وادی میں ڈیڑھ ماہ سے نافذ کرفیو، اشیائے خورو نوش اور ادویات کی کمی نے بھارت کے سیکولر ہونے کے دعوے کی ایک طرح سے قلعی کھول دی ہے جو افراد باشعور اور اپنے حقوق سے آگاہ ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ خواہ کشمیر ہو، فلسطین ہو، شام ہو یا عراق ہر جگہ مظلومیت کی علامت مسلمان ہیں، اگرچہ کہ دہشت گرد کا کوئی دین کوئی مذہب نہیں ہے اسے کسی ملک سے مشروط نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ دنیا بھر میں تمام مسلمانوں کو ایک سازش کے تحت نسل کشی کی طرف لایا جا رہا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ کنٹرول لائن کی دونوں جانب اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری 27 اکتوبر کا دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں بھارتی فوج نے سرینگر پر اترتے ہی بے گناہ کشمیریوں پر مظالم، قتل عام اور جبری قبضے کا آغاز کیا تھا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس دن پوری دنیا میں کشمیری اپنے وطن پر بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مقبوضہ وادی کشمیر میں جہاں صورتحال روز بروز خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے، 5 اگست سے نافذ کرفیو نے پوری وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ گزشتہ 82 روزہ کرفیو کی وجہ سے کشمیر کا رابطہ بیرونی دنیا سے کٹ چکا ہے کیونکہ تمام ذرائع ابلاغ انٹرنیٹ، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن اور اخبارات بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی بندش کے سبب وادی میں اشیاء خورونوش کی کمی کے باعث قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، شیر خوار بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں، مریض دوائیوں کے لیے سرگرداں ہیں، اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ بھارت کشمیر کی جغرافیائی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی بھی کر رہا ہے۔ سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، نہتے کشمیریوں کو آئے روز شہید کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں وہ ممنوع ہتھیار بھی استعمال کیے جا رہے ہیں جن پر اسرائیل بھی پابندی لگا چکا ہے، بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال کی وجہ سے ہزاروں کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کی املاک و باغات کو تباہ کیا جا رہا ہے، کشمیریوں کی تیار فصلوں اور جنگلات کو جلایا جا رہا ہے۔ بھارتی فوجی اور بھارتیا جنتا پارٹی کے غنڈے کشمیری ماؤں بیٹیوں کی عصمت دری کر رہے ہیں، مساجد بند ہیں مسلمانوں کو مساجد میں نماز کی ادائیگی تک کی اجازت نہیں۔ کشمیری اپنے مرحومین کو گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں لیکن ان سب ظالمانہ اقدامات کے باوجود عالمی ضمیر جاگنے کا نام نہیں لے رہا اور بھارت کے قاتل ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ اس صورتحال پر دنیا بھر میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے محبت کرنے والے لوگ مقبوضہ کشمیر کے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو سلام پیش کر رہے ہیں جنہوں نے ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم نہ صرف سر بلند رکھا بلکہ ان کی جدوجہد ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ ولولہ انگیز نظر آ رہی ہے۔
مظلوم کشمیری عوام نے بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہر ظلم کے باوجود آزادی، آزادی کے نعرے لگا کر اور جابجا پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لیے بھارت پر زور دیا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی اپنی قرار دادوں پر عملدر آمد کروانے میں بے بس ہے۔ لاکھوں کشمیری عوام حق خود اردایت کے حصول کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر ظلم کے بہتر سال کے بعد تک اس مسئلے کے حل کے سلسلے کی کوششیں جاری ہیں جس کے لیے کئی فارمولے اور معاہدے ہو چکے ہیں لیکن بھارت کبھی اس معاملے کے حل میں کبھی مخلص نہیں رہا مسئلہ کشمیر ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا مسئلہ ہے، آٹھ لاکھ بھارتی فوج وحشیانہ کارروائیوں کی مدد سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ بھارتی میڈیا منفی پروپیگنڈے پر عمل پیرا ہے۔ بھارت کا مسلسل غیر ذمے دارانہ رویہ ایشیاء میں کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے، کنٹرول لائن پر روز بروز بڑھتی بھارتی فائرنگ اور گولہ باری کسی بڑے تنازع میں تبدیل ہو گئی تو خطے میں ایٹمی جنگ کے بادل منڈلانے لگیں گے جس کی آگ نہ صرف اس خطے کو لپیٹ میں لے گی بلکہ اس کی تباہ کاریوں سے پوری دنیا متاثر ہو گی۔