October 15th, 2019 (1441صفر15)

تحریک ِ آزادی کشمیر: موجودہ مرحلہ اور ہماری ذمہ داری

 

پروفیسر خورشید احمد

مسئلہ کشمیر کسی ’زمینی تنازع‘ کا نام نہیں اور نہ یہ دوملکوں کے درمیان جوع الارض کی کسی لڑائی کا شاخسانہ ہے۔ یہ ایک کروڑ ۳۰لاکھ انسانوں کی آزادی اور حقِ خود ارادیت کا مسئلہ ہے، جن کی ریاست کے بڑے حصے پر ایک سامراجی ملک بھارت نے محض طاقت کے بل پر، فوج کشی کے ذریعے قبضہ کرکے تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل کو سبوتاژ کیا ہے۔ وہ قوت کے ذریعے آج بھی نہ صرف اس پر قابض ہے بلکہ اس نے اپنے دستور کی دو دفعات (۳۵-الف، اور دفعہ ۳۷۰) کو تبدیل کرنے کے لیے، ترمیمی ضابطے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور سیاسی عہدوپیمان کا خون کرکے ضم کرنے کا خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ جس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں و کشمیر، بدترین کرفیو اور شہری و کاروباری زندگی کی مکمل معطلی سے دوچار کیا جاچکا ہے۔ پوری ریاست کے مظلوم، نہتے اور بے نوا شہری ۹لاکھ بھارتی مسلح فوجیوں کی سنگینوں تلے ایک ہولناک اجتماعی جیل خانے (Collective Prison) کی چکّی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ لیکن آفرین ہے کہ ان کی تحریک مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد نہ صرف جاری ہے بلکہ وہ ایک فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

یہ غاصب ملک خود اپنے وعدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی بے مثال جدوجہد آزادی اور قربانیوں کو یکسر نظرانداز کرکے فسطائی اور سامراجی فلسفے کی بالادستی قائم کرنے پر بضد ہے۔ اقوام متحدہ بہ حیثیت ادارہ بدستور بزدلانہ لاتعلقی اور مجرمانہ روش پر قائم ہے اور لفظی لیپاپوتی سے زیادہ ایک قدم آگے بڑھنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ کشمیر میں اقوامِ متحدہ کے مبصروں کی موجودگی اور مسئلے کے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود رہنے کے باوجود، ۷۲برسوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے عملی کوششوں سے دست کش ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں قصۂ پارینہ ہیں اور اس عالمی تنظیم کو اپنے چارٹر کے تحت قیامِ امن اور تصفیہ طلب تنازعات کی دفعات سے بھی کوئی غرض نہیں۔ اب لے دے کے دوطرفہ مذاکرات کے وعظ اور اپیلوں کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں، اور ان کا بھارت کی طرف سے وہی ایک جواب ہوگا کہ ’’پہلے فضا سازگار ہو‘‘۔یعنی وہ فضا کہ جو خود بھارت کی سفاکی نے خراب کی ہے۔
بھارت کی اصل دل چسپی مسئلہ کشمیر کے حل سے نہیں، صرف اس دبائو سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ہوگی، جو ۳۰ سالہ تحریک ِ جہاد نے اس پر ڈالا ہے اور جس کے نتیجے میں بھارت کی فوج اور ایک حد تک سوچنے سمجھنے والے سیاسی عناصر کسی راہِ نجات کی تلاش میں ہیں۔ بھارتی قیادت پوری عیاری کے ساتھ اصل اسباب کی طرف رجوع کرنے کے بجاے ’دہشت گردی‘، ’انتہاپسندی‘ کا راگ الاپ رہی ہے، اور امریکا اور بہت سے مغربی سیاست کار بھی اسی آواز میں آواز ملاتے نظر آرہے ہیں۔ یہ سب نہ نیا ہے اور نہ غیرمتوقع، البتہ سب سے تشویش ناک پہلو پاکستان کے کچھ رہنمائوں کے متعدد متضاد بیانات اور صحافت کے کچھ قلم کاروں کی مغالطہ انگیز خلافِ جہاد مہم ہے، جس کا بروقت نوٹس لینا بہت ضروری ہے۔
امریکا، بھارت، اسرائیل اور ان کے حواریوں نے ایک عرصے سے جہاد کے خلاف ایک عالم گیر مہم چلا رکھی ہے اور اسے ’دہشت گردی‘ اور ’تشدد‘ کے ہم معنی قرار دیا جارہا ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ خود پاکستان کی انگریزی صحافت میں ’مجاہد‘ کو اب ’جہادی‘ اور ’دہشت گرد‘ بناکر پیش کیا جاتا ہے، اور دفاع پر اخراجات کو غربت اور پس ماندگی کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔کبھی دینی مدارس پر پابندیوں کی باتیں کی جاتی ہیں، کبھی ان کو دہشت گردی کے مراکز بناکر پیش کیا جاتا ہے۔

اصولی موقف
اس پس منظر میں امریکی سیاسی اور فوجی قیادتوں کی مداخلت بلکہ مداخلت کرنے کی دعوت اور دبے اور کھلے الفاظ میں کشمیر کے مسئلے کے جلد حل ہوجانے کی ہوائیاں اپنے اندر خطرات رکھتی ہیں۔ اس کھیل میں شامل سابق فوجی افسران ہوں یا سفارت کار، سب کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی قوم کا ایک اصولی اور تاریخی موقف ہے جس سے ہٹ کر کسی فرد کو اس قوم کی قسمت سے کھیلنے کا اختیار نہیں۔ کسی کو یہ حق اور مینڈیٹ حاصل نہیں ہے کہ پاکستانی قوم اور مسلمانانِ جموں و کشمیر، قائداعظم سے لے کر آج تک جس موقف پر قائم ہیں اور جس کے لیے انھوں نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور تنگی اور غربت کے باوجود ایک عظیم الشان فوج کی تمام ضرورتیں پوری کی ہیں اور ملک کو ایک ایٹمی قوت بنایا ہے، وہ اس بارے میں کسی انحراف یا پسپائی یا سمجھوتے کا تصور بھی کرے۔ یہ قوم غریب ہے اور بٹی ہوئی بھی، لیکن جہاں تک کشمیر کے مسئلے کا تعلق ہے یہ اس کے لیے ایمان و اعتقاد اور زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ زمانے اور وقت کی قید کا بھی پابند نہیں۔ اس جدوجہد کے بارآور ہونے میں جتنی مدت بھی لگے، لیکن مسلمانانِ پاکستان اور مسلمانانِ جموں و کشمیر اس علاقے کے مستقبل کو طے کرنے کے لیے اپنے حقِ خود ارادیت سے کم کسی بات کو کبھی قبول نہیں کرسکتے۔
اسی طرح یہ کسی خاص جماعت، گروہ یا طبقے کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اس مسئلے کے بارے میں قوم، قومی سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان بھی مکمل ہم آہنگی ہے۔ امریکا کو الگ سے اس عمل میں ملوث کرنے کے طرف دار چند طالع آزمائوں کے سوا کوئی پاکستانی اس بارے میں کسی سمجھوتے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ماضی میں بھی، جس کسی نے پاکستانی قوم کے اصولی موقف سے انحراف کی کوشش کی ہے، اس کا حشر عبرت ناک ہوا ہے اور مستقبل بھی ان شاء اللہ اس سے مختلف نہیں ہوگا۔
خود اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں دفعہ ۲۵۷ میں یہ بات واضح طور پر تحریر ہے: ’’جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات، مذکورہ ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے‘‘۔
جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہمارے قومی دستور کی رُو سے بھی استصواب راے ہی کے ذریعے اس ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے اور وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق ہی پاکستان سے ان کا رشتہ اور انتظام و انصرام کا دروبست قائم ہوگا۔ اس موقف میں کوئی تبدیلی یا اس پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں کیوں کہ یہ حق و انصاف پر مبنی اور عالمی قانون اور عہدوپیمان کے مطابق ہے۔ محض غاصبانہ قبضہ، خواہ وہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، اہل جموں و کشمیر کے اس استحقاق کو متاثر نہیں کرسکتا اور پاکستان کے اس موقف کو کمزور یا غیرمتعلق نہیں بناسکتا۔ دستور کی یہ دفعہ اس امر کو واضح کردیتی ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاست کی قسمت کا آخری فیصلہ کرنے کا اختیار، صرف وہاں کے عوام کو حاصل ہے۔ اس طرح کشمیر کے تنازعے کے بنیادی فریق پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام ہیں۔ یہی وہ پوزیشن ہے جسے اقوام متحدہ کی ۱۸ قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔

کشمیر:
تاریخی حقائق بلاشبہہ پاکستان سے ریاست جموں و کشمیر کے الحاق کے دلائل اور اس کی تاریخی بنیادیں بھی بڑی محکم ہیں۔ جغرافیائی حیثیت سے دونوں کا ملحق ہونا ہی نہیں، سارا فطری اور تہذیبی نظام مشترک ہے۔ دریائوں کے رُخ اور سڑکوں کے تسلسل، رنگ و نسل کی یکسانی، طریق بودوباش کی وحدت، دین و ثقافت، رسوم و رواج، تہذیبی روایات، تاریخی جدوجہد، سیاسی ہم آہنگی، سب نے کشمیر اور پاکستان کو ایک ناقابلِ تقسیم وحدت بنائے رکھا ہے اور ہمیشہ رکھیں گے۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں جموں اور کشمیر کے مسلمان بھی شانہ بشانہ شریک تھے اور اصول تقسیم کی رُو سے ۱۷جولائی ۱۹۴۷ء میں کشمیر کی اسمبلی کے منتخب ارکان کی اکثریت نے الحاق پاکستان کا اعلان تک کر دیا تھا اور پونچھ اور شمالی علاقہ جات کے مسلمانوں نے باقاعدہ جنگ آزادی لڑ کر اپنے کو ڈوگرہ راج سے آزاد اور پاکستان سے وابستہ کیا تھا۔
ہم صرف ان حقائق کی بنیاد پر یہ بات نہیں کر رہے بلکہ اس اصول کو بنیاد بنارہے ہیں جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے، جس کی بنیاد پر خود امریکا کے لوگوں نے برطانیہ کی حکمرانی کے خلاف بغاوت کی تھی اور مسلح جنگ کے ذریعے اپنے لیے اور دنیا کے تمام انسانوں کے لیے حقِ خود ارادی کے اصول کا اعلان، ’فلاڈلفیا کے اعلامیے‘ کی شکل میں کیا تھا۔ اس پر ریاست ہاے متحدہ امریکا کی بنیاد پڑی اور امریکی صدر ووڈرو ولسن نے پہلی جنگ عظیم کے بعد ساری دنیا کی قوموں کے لیے اس کا اعلان کیا تھا۔ اسی اصول پربرعظیم کی تقسیم واقع ہوئی اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔

کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے ایک کروڑ ۳۰لاکھ انسانوں کی قسمت سے کھیلے۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں بھی خود یا کسی بیرونی دبائو سے ان کے مستقبل کو طے نہیں کرسکیں گی۔ ان کی اور عالمی ادارے کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ عالمی انتظام میں غیرجانب دارانہ استصواب کے ذریعے ان کو حقِ خود ارادیت کے استعمال کا موقع فراہم کردیں۔ اسی حق کی خاطر وہاں کے مسلمان جدوجہد کر رہے ہیں۔ جب ان کے لیے سیاسی اور پُرامن جدوجہد کے تمام دروازے بند کر دیے گئے تو اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے اسی حق کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے مسلح جہاد کا آغاز کیا۔ یہی وہ جدوجہد ہے جس نے آج بھارت کو اور عالمی راے عامہ کو اسے ایک زندہ انسانی مسئلہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ محض امن ، غربت سے نجات، ایٹمی جنگ کے خطرات سے بچائو اور عالمی کمیونٹی کی خواہشات کے نام پر کسی کنٹرول لائن کو (جس کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں) مستقل سرحد میں بدلنے یا تقسیم ریاست کے کسی منصوبے کو جموں و کشمیر کے عوام پر مسلط کرنے کا کسی کو اختیار نہیں۔ یہ مسئلے کا حل نہیں، اسے مزید بگاڑنے اور دائمی فساد کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہوگا۔ آزادی کی قوتوں کو خاموش یا کمزور کرنے کی ہرکوشش خدا اور خلق دونوں سے غداری کے مترادف ہے۔
اس لیے مغربی یا بڑی طاقتوں کے دبائو پر کوئی مذاکرات اس وقت تک بامعنی اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکیں گے، جب تک:
۱- بھارت صاف الفاظ میں اس حقیقت کو تسلیم نہ کرے کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام اپنی آزاد مرضی سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے وعدوں کے مطابق کریں گے۔
۲- مذاکرات کا اصل مقصد ان کی راے کو معلوم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر آج کے حالات کے مطابق عمل درآمد اور اس کے لیے مناسب انتظام اور اقدامات ہوگا۔
۳- استصواب کے لیے ایک ہی قانونی، سیاسی اور اخلاقی فریم ورک ہے اور وہ اقوام متحدہ کی ۱۳؍اگست ۱۹۴۸ء، ۵جنوری ۱۹۵۱ء اور ۲۴جنوری ۱۹۵۷ء کی قراردادیں ہیں۔ البتہ پاکستان، بھارت اور جموں و کشمیر کے عوامی نمایندوں کی ذمہ داری ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ایک متفقہ لائحہ عمل حقِ خودارادیت کے استعمال کے لیے طے کریں اور جو فیصلہ بھی وہاں کے عوام کریں اسے کھلے دل سے قبول کریں۔ پاکستان کی کسی قیادت، اور کسی عالمی رہنما کو ان تاریخی حقائق اور حق و انصاف پر مبنی اس موقف سے ہٹ کر کوئی راہ اختیار کرنے اور جموں و کشمیر کے عوام کی قسمت سے کھیلنے کا اختیار نہیں۔ جس نے بھی اس کے برعکس کوئی راستہ اختیار کیا، یا کرے گا، اسے بالآخر منہ کی کھانا پڑے گی اور وہ حالات کو سنوارنے اور سنبھالنے کا نہیں مزید بگاڑنے کا باعث ہوگا۔ یہ تاریخ کا اٹل اصول ہے جو کسی کی خواہش یا سازش سے بدلا نہیں جاسکتا۔

کشمیر پر قراردادوں کی حیثیت
ماضی میں اقوام متحدہ کے ایک سیکرٹری جنرل کوفی عنان صاحب نے کہا تھا: ’’کشمیر کے بارے میں قراردادوں پر کافی عرصہ گزر گیا ہے۔ اس لیے اگر بھارت اور پاکستان دونوں درخواست کریں، تب ہی اقوام متحدہ کچھ کرسکتی ہے ورنہ وہ صرف دوطرفہ مذاکرات کی اپیل ہی کرسکتی ہے‘‘۔اور آج کے امریکی صدر ٹرمپ ہوں یا اقوام متحدہ کے موجودہ ذمہ دار، سبھی ’مذاکرات کی بحالی‘ پر زور دے رہے ہیں، حالاں کہ اصل مسئلہ، جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا اور مقبوضہ کشمیر میں جبر اور ظلم کے راج اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی ایسی پامالی ہے، جو اَب نسل کشی (Genocide) اور آبادی کی نوعیت (demographic composition) ہی کو تبدیل کرنے کی طرف جارہی ہے۔ ’اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے‘ کی تازہ ترین رپورٹیں، اور ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی متعدد رپورٹیں اس کا کھلا ثبوت ہیں، جب کہ ’ورلڈ جینوسایڈواچ‘ (WGW) نے تو ان مظلوم کشمیریوں کی اجتماعی قبروں کی بھی نشان دہی کی ہے۔
اس میں پہلا سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی قانون، جنیوا کنونشن، قوموں کے درمیان معاہدات اور بین الاقوامی یقین دہانیاں کسی زمانی تحدید (Time limitation) کے پابند ہیں؟ ہمارے علم میں ایسا کوئی بین الاقوامی قانون، اصول یا روایت نہیں اور یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ اس طرح تو قانون محض ایک کھیل بن جائے گا اور معاہدات بے معنی اور بے وقعت ہوکر رہ جائیں گے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مکائو (Macau) کے علاقے پر پرتگالیوں نے ۱۵۵۷ء میں قبضہ کیا تھا اور وہ ان کے تسلط میں ساڑھے چار سو سال تک رہا۔ مگر یکم دسمبر ۱۸۸۷ء کے ’معاہدہ بیجنگ‘ کے تحت آخرکار ۲۲دسمبر ۱۹۹۹ء کو چین نے اسے حاصل کرلیا، اور محض ایک طویل مدت تک قبضہ حقائق کو بدلنے کے لیے وجۂ جواز نہ بن سکا۔

کیا ۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد منظور ہونے والی قراداد ۲۴۲ محض وقت گزر جانے سے ازکار رفتہ (out dated) ہوگئی؟ ۱۷۱۳ء میں یوٹرخت کا معاہدہ واقع ہوا جس کے تحت جبرالٹر کی حاکمیت اسپین سے برطانیہ کو منتقل ہوئی۔ اسپین کے دعوئوں کے باوجود کیا محض وقت کے گزرنے سے معاہدہ کالعدم ہوگیا؟ ۱۸۹۸ء میں ہانگ کانگ کا علاقہ برطانیہ نے چین سے حاصل کیا تھا، لیکن ۹۹سال گزرنے پر برطانیہ کو معاہدے کو پورا کرنا پڑا۔ تائیوان کا معاہدہ بھی اسی طرح وقت گزرنے کے باوجود ایک زندہ مسئلہ ہے۔ مسلم ریاست انڈونیشیا کے علاقے مشرقی تیمور ہی کو لے لیجیے، جس پر اقوام متحدہ کی قرارداد تو ۱۹۷۵ء میں منظور ہوئی، لیکن عمل ۲۷سال کے بعد ۲۰مئی ۲۰۰۲ء کو ہوا، اور عیسائی اکثریت پر مشتمل مشرقی تیمور ایک الگ ملک کے طور پر وجود میں آیا۔اسی طرح امریکی دھونس اور دبائو کے نتیجے میں مسلم ریاست سوڈان کو دولخت کرنے کے لیے جنوری ۲۰۱۱ء کو ریفرنڈم کرایا گیا اور ۹جولائی ۲۰۱۱ء کو جنوبی سوڈان پر مشتمل عیسائی ریاست قائم کردی گئی۔ اگر ۲۷ سال میں مشرقی تیمور کی قرارداد غیرمؤثر نہیں ہوئی، تو کشمیر کی قراردادیں کیوں غیرمتعلقہ ہوگئیں؟
پھر کشمیر کی قرارداد کا معاملہ محض ایک قرارداد کا نہیں، ایک اصول کا ہے، یعنی حقِ خود ارادیت۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا بنیادی اصول ہے۔ دفعہ۱، اقوام متحدہ کے مقاصد کا تعین کرتی ہے۔ اس کی شق۲ میں صاف الفاظ میں اس مستقل اصول کو بیان کیا گیا ہے، یعنی:
لوگوں کے حقِ خود ارادی اور مساوی حقوق کے حصول کے احترام میں۔
اسی طرح دفعہ ۲ (۴) تمام رکن ممالک کو پابند کرتی ہے کہ:
تمام ممبران اپنے بین الاقوامی تعلقات میں کسی ریاست کی سیاسی آزادی یا ملکی سرحدوں کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے احتراز کریں گے، یا کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کریں گےجو اقوام متحدہ کے مقاصد کے خلاف ہو۔
واضح رہے کہ حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کے مقاصد میں سے ایک ہے۔
کشمیر کی قرارداد کا تعلق حقِ خود ارادیت سے ہے جس پر وقت گزرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ۱۹۷۰ء اور ۱۹۷۴ء کی دو تاریخی قراردادوں میں بین الاقوامی قانون کو واضح کیا گیا ہے۔ اسے اقوام متحدہ کے تمام ممالک نے بشمول امریکا، بھارت اور پاکستان نے تسلیم کیا ہے۔ ۱۹۷۰ء کا اعلامیہ: دوستانہ تعلقات اور تعاون کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا اعلامیہ ہے اور ۱۹۷۴ء کے اعلامیہ کا عنوان: ’جارحیت کی تعریف پر قرارداد‘ ہے۔ یہ دونوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوئی ہیں۔ ۱۹۷۰ء کے اعلامیے کی مزید اہمیت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ۲۵سال پورے ہونے پر جس جنرل اسمبلی نے اس کا چارٹر قبول کیا تھا، اسی نے اسے منظور کیا ہے۔

ان قراردادوں میں جن دو بنیادی اصولوں کی وضاحت ہے، وہ دراصل اقوام متحدہ کے چارٹر کی توضیح ہے۔ جس میں حقِ خود ارادیت اور طاقت کے استعمال کے اصول سرفہرست ہیں۔ اس میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ: طاقت کے استعمال کے نتیجے میں جو علاقہ حاصل ہوا ہو، اسے جائز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ نیز یہ کہ نہ جارحیت کے نتیجے میں ملنے والے کسی خصوصی فائدے کو قانونی تسلیم کیا جائے گا۔
ان اعلانات کو اقوام متحدہ ہی کے اجلاس میں آسٹریلیا کے نمایندے نے چارٹر کی دفعہ۱۳ کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کا حصہ قرار دیا تھا۔ (ملاحظہ ہو: بین الاقوامی قانون کی تدوین اور مرحلہ وار ارتقا میں ایک حصہ، نوم چومسکی کی کتاب Power and Prospects ، ۱۹۶۶ء، ص ۲۰۷) بین الاقوامی قانون کی اس پوزیشن کی روشنی میں سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۴جنوری ۱۹۵۷ء پر نگاہ ڈال لیجیے جس میں مقبوضہ کشمیر کی اُس نام نہاد دستور ساز اسمبلی کو غیرمؤثر قرار دیا گیا ہے جس نے بھارت سے الحاق کی توثیق کی تھی، اورصاف الفاظ میں کہا ہے کہ اسمبلی کی قرارداد اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق اور اس کے انتظام میں استصواب راے کا بدل نہیں اور کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ استصواب راے کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔
اور اگر اس بارے میں کسی کو کوئی شبہہ ہو تو عالمی ماہرین قانون کے کمیشن کی اپریل ۱۹۹۴ء کی رپورٹ کا مطالعہ کرے جن میں کشمیریوں کے اس حق کا ان صاف الفاظ میں اعتراف کیا گیا ہے اور اسے وقت کی گردش سے آزاد حق مانا گیا ہے:

کشمیریوں کا حق اُس حق کی بنا پر ہے جو کسی علاقے کے غیرملکی غلبے سے آزاد ہوتے ہوئے وہاں کے لوگوں کو اپنے لیے یہ انتخاب کرنے کا ہوتا ہے کہ بعد میں قائم ہونے والی (Successor) ریاستوں میں سے کس ریاست میں شامل ہوں۔ یہ حق ایک قائم شدہ آزاد ریاست سے علاحدگی کے قابلِ بحث حق سے بالکل ممتاز اور جدا ہے اور یہ ہندستان سے اس کے علاقوں میں سے کسی کی علاحدگی کے لیے مثال نہیں بنتا۔
تقسیم کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے عوام کو جس حقِ خود ارادی کا استحقاق حاصل ہوا تھا، وہ ابھی تک استعمال نہیں ہوا اور نہ ختم ہوا ہے اور اس لیے آج بھی قابلِ استعمال ہے۔
اس لیے یہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ امن عالم کو درپیش ہر خطرے کا خود نوٹس لے اور تمام ارکان کی طرف سے عملی اقدام کرے۔ دفعہ ۲۴ کے مطابق:
اقوامِ متحدہ کی جانب سے فوری اور مؤثر اقدام یقینی بنانے کے لیے اس کے ممبران عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کی اوّلین ذمہ داری سلامتی کونسل پر ڈالتے ہیں۔ وہ قرار دیتے ہیں کہ اس ذمہ داری کے تحت اپنے فرائض کی ادایگی کا عمل سلامتی کونسل ان کی جانب سے کرتی ہے۔
اس میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ ہرملک کا اتفاق کرنا ضروری ہے یا اس کا اطلاق صرف باب ہفتم کی قراردادوں پر ہے۔ اس شرط کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ کبھی بھی کسی بھی جارح کے خلاف اقدام نہ ہوسکے کیونکہ وہ خود اپنے خلاف اقدام کو کیوں قبول کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ دفعہ ۲۵ میں کہا گیا ہے:
اقوامِ متحدہ کے ممبران موجودہ چارٹر کے مطابق سلامتی کونسل کے فیصلوں کو قبول کرنے اور بجالانے کو تسلیم کرتے ہیں۔
پھر دفعہ ۳۳ میں ہر تنازعے کے تمام فریقوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خود، یا اقوامِ متحدہ کے ذریعے، تمام تنازعات کے پُرامن تصفیے کے لیے اقدام کریں گے۔ دفعہ ۳۶ ، اور ۳۷ کے تحت یہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ مناسب اقدامات اور طریقۂ کار تجویز کرے، خصوصیت سے ان معاملات میں جہاں دفعہ۳۳ کے تحت کارروائی نہ ہوپارہی ہو۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر ان دفعات پر عمل نہ ہورہا ہو تو یہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ باب ہفتم کی دفعہ ۵۱-۳۹ کے تحت کارروائی کا اہتمام کرے۔

یہ یاد دلانے کی بھی ضرورت ہے کہ اعلانِ لاہور، معاہدۂ تاشقند یا شملہ معاہدہ دو ملکوں کے درمیان معاہدے کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ۱۳؍اگست ۱۹۴۸ء اور ۵جنوری ۱۹۴۹ء کی قراردادیں بین الاقوامی معاہدات کی حیثیت رکھتی ہیں جن کے بارے میں ان کے چارٹر کی دفعہ ۱۰۳ یہ کہتی ہے:
اقوام متحدہ کے ممبران کے فرائض میں، جو موجودہ چارٹر کے مطابق طے ہیں، اور کسی دوسرے بین الاقوامی معاہدے کے تحت فرائض میں اگر کوئی تنازع ہو، تو موجودہ چارٹر کے تحت متعین فرائض رُوبۂ عمل آئیں گے۔
اس سب کی موجودگی میں اقوامِ متحدہ کے ذمہ داران اور دوسرے قائدین کا، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ سے مجرمانہ پہلوتہی اور محض مذاکرات کی بات اس بات کا ثبوت ہے کہ اقوامِ متحدہ صرف طاقت ور ملکوں کے ہاتھوں میں کھلونا ہے۔ ان کے مفادات کے لیے تو سب دفعات حرکت میں آجاتی ہیں، خواہ معاملہ عراق کا ہو، یا مشرقی تیمور اور سوڈان کا۔ اور اگر ان کا مفاد نہ ہو تو کمزور ملکوں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں، اور ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے جو راستہ بھی انھیں نظر آئے خود اختیار کریں۔ چومسکی نے صحیح کہا ہے کہ یہی رویہ پورے عالمی نظام کے لیے خطرہ ہے:
ایسے لوگوں کی قسمت دائو پر لگی ہے جنھوں نے سخت تکلیفیں اُٹھائی ہیں اور اب بھی اُٹھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عالمی نظام اور بین الاقوامی قانون کی بنیادیں بھی دائو پر لگی ہیں بشمول طاقت کے استعمال اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادی کے یو این چارٹر کے اہم اصول کے، جو تمام ریاستوں پر لازمی اور فرض ہے۔ (کتاب مذکور، ص ۲۰۴)

جاری ہے ......  مزید پڑھیئے