January 18th, 2020 (1441جمادى الأولى22)

مسئلہ کشمیر پر بدلتا ہوا بیانیہ

 

مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا بیانیہ مسلسل تبدیل ہورہا ہے ۔ پہلے کشمیر کا مسئلہ پاکستان کا مسئلہ تھا۔ بعد میں یہ بیانیہ تبدیل کرکے کہا گیا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اب اسے مزید تبدیل کرکے وزیر خارجہ اور آئندہ وزیر اعظم بننے کے متمنی شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے پیچھے کھڑا ہے ۔ ایک اور بیانیہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو روکاجائے ۔ شاہ محمود قریشی نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران نیازی کے دورہ اقوام متحدہ کا مقصد دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے آگاہ کرنا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں بھی یہی فرمایش کی کہ وہ مودی کو کہیں کہ کشمیر سے کرفیو ہٹائے ۔عمران خان نے ایک مرتبہ بھی یہ نہیں کہا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے یا کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کیا جائے ۔ یہ بیانیہ تو بھارت کا ہے ۔ اسی لیے اس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم شروع کیے ہیں کہ دنیا کی توجہ اصل وجہ یعنی کشمیر پر قبضے سے ہٹائی جاسکے ۔ اسے بھارت کی خوش قسمتی ہی کہا جائے گا کہ پاکستان میں برسراقتدار عمران خان اور ان کو لانے والے سلیکٹرز، دونوں ہی بھارت کے اس موقف کے عملی طور پر حامی ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں تو پاکستانی موقف کو بیان کریں ۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اس پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے ۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ 5 اگست کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اسے بھارتی یونین میں شامل کرنے کا جو اقدام کیا ہے ، اسے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ بھارت فوری طور پر 5 اگست کے اقدام کو واپس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق وہاں پر استصواب رائے کروایا جائے ۔ جس روز بھارت نے یہ سب کچھ کرلیا ، وہاں پر احتجاج ازخود ختم ہوجائے گا اور بھارت کو احتجاجی مظاہرین کو دبانے کے لیے انسانیت سوز مظالم کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ عمران خان کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستانی موقف کو پیش کرنے کے بجائے بھارتی موقف پیش کیا تو ان کا استقبال پاکستانی قوم ہار پھول کے ساتھ نہیں کرے گی ۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی بیانیے ہی کو بیان کرنے کا نتیجہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ شاہ محمود قریشی کی عالمی سطح پر کامیاب سفارتکاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھارت کے خلاف قرارداد بھی پیش نہیں کرسکا ۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اراکین کی تعداد 47 ہے ۔ اس میں قراردار پیش کرنے کے لیے پاکستان کو 15 اراکین کی حمایت کی ضرورت تھی جبکہ قرارداد کی منظوری کے لیے 24 اراکین کی حمایت کی ضرورت تھی ۔ اس امر کے باوجود کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں اسلامی کانفرنس تنظیم کے 15 ارکان موجود ہیں ، پاکستان قراردار کو کونسل میں پیش کرنے کے لیے مطلوبہ 15 اراکین کے دستخط بھی حاصل نہیں کرسکا ۔ اس کے باوجود بھی عمران نیازی ، ان کی ٹیم اور ان کے سلیکٹرز سے سینہ پھلائے ازخود اپنی کامیابی کا اعلان بھی کرتے رہتے ہیں اور خود ہی ایک دوسرے کو شاباش بھی دیتے رہتے ہیں ۔ عمران خان اور ان کی ٹیم اسی پرشاداں ہے کہ انہیں عمرے کے دوران خصوصی پروٹوکول دیا گیا اور امریکا کے سفر کے لیے سعودی عرب نے خصوصی طیارہ فراہم کیا ۔ وہ قوم کو بتائیں کہ اس سے کشمیر کاز کی کیا خدمت ہوئی جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں پاکستانی موقف کی حمایت کرنے سے انکار کردیا اور وہ مودی کے ساتھ کھڑے نظر آئے ۔ دنیا آج اس لیے مودی کے ساتھ کھڑی ہے کہ پاکستان کا سربراہ عمران خان خود پاکستانی عوام اور کشمیریوں کے ساتھ نہیں کھڑا ہے ۔ کشمیر پر بھارتی قبضے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے اور اصل مسئلے کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کی بھارتی کوششوں میں مددگار کا کردار ادا کرنے کی بنا پر دنیا نے موقف اپنایا ہے کہ جب پاکستان ہی کو اس بارے میں کوئی فکر نہیں ہے تو ہم بھارت سے کیوں اپنے تعلقات خراب کریں ۔حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے نہ تو بھارتی فضائی کمپنیوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند کی ہیں ، نہ بھارت سے تجارتی تعلقات منقطع کیے گئے ہیں ، نہ ہی بھارت کو افغانستان کے لیے دی گئی تجارتی راہداری کی سہولت ختم کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ بھارت کوپاکستانی قیمتی پہاڑی نمک کی مفت فراہمی بھی جاری ہے جسے عالمی منڈی میں بیچ کر بھارت بھاری زرمبادلہ کما رہا ہے ۔ ایسے میں عالمی برادری کیوں پاکستان کا ساتھ دے گی ۔وزیر اعظم عمران خان کا امریکا میں ایک اور کمال یہ رہا کہ انہوں نے طالبان کو پاکستان میں تربیت دینے کو تسلیم کرلیا ۔ اس کے بعد پاکستان کو دہشت گرد قرار دینے کی سازشیں کرنے والوں کو ایک نیا شوشا ہاتھ آگیا ہے اور وزیر اعظم عمران نیازی اگر ساتھ ہی یہ حقیقت بھی بیان فرمادیتے کہ 1998 تک طالبان حکومت میں عمال کی تنخواہیں سرکاری طور پر امریکا ادا کرتا رہا ہے تو ٹرمپ اور ان کے یار مودی کو کچھ تاریخ یاد آجاتی ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وزیر اعظم عمران نیازی کے یہ فرمودات ان کے اپنے ہیں یا پھر انہیں بریفنگ دینے والوں کے۔ دونوں ہی صورتیں انتہائی خطرناک ہیں ۔ اگر عمران خان کے یہ فرمودات ذاتی ہیں تو انہیں کس نے یہ اجازت دی کہ وہ دشمنوں کی زبان استعمال کرنے لگیں اور اگر یہ خیالات پس پردہ ڈائریکٹروں کے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان میں نا سمجھ افراد کا راج ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو عالمی محاذ کے ساتھ ساتھ اندرونی محاذوں پر بھی مسلسل ہزیمتوں کا سامنا ہے۔
بشکریہ جسارت