January 21st, 2020 (1441جمادى الأولى25)

کشمیر میں بھارتی ظلم ودرندگی

 

عالمگیر آفریدی
اقوامِ متحدہ کے تحت ہیومن رائٹس کونسل کے ایک غیرمعمولی اجلاس میں 50 سے زائد ممالک نے مقبوضہ کشمیر پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بھارت کے سامنے 5مطالبات پیش کیے ہیں۔ پہلے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے اور انہیں جینے دیا جائے۔ دوسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں مسلسل 47روز سے جاری کرفیو فوری ختم کیا جائے۔ تیسرے مطالبے میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کشمیر میں مواصلات کے کریک ڈاؤن کی تصدیق کرچکا ہے اور کشمیر میں مواصلات کو یقینی بنایا جائے۔ چوتھے مطالبے میں کئی ذیلی مطالبات رکھے گئے ہیں جن کے تحت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کا تحفظ، آزادی اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ گن سمیت طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے نیز مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو جانے کی اجازت دی جائے۔ پانچواں اور اہم مطالبہ یہ کہتا ہے کہ جموں و کشمیر کے حل کے لیے پرامن طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کی مخدوش ترین صورتحال کے حوالے سے ایک بھیانک اور سیاہ ترین پہلو یہ ہے کہ یہاں بھارتی ہندو انتہا پسند جنونی حکمرانوں کی جانب سے تاریخ کا بدترین اور طویل کرفیو نافذ ہے جس نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے، دوسری جانب حکومت پاکستان کی کاوشوں اور رابطوں کی وجہ سے عالمی برادری نے کسی حد تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مسلح افواج کے ہاتھوں جاری مظالم کا زبانی کلامی نوٹس تولیا ہے لیکن ان مظالم کو عملاً رکوانے کے لیے تاحال کوئی موثر اور سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں سے نہ صرف تمام کشمیری حریت رہنما نظر بند ہیں بلکہ عام آبادی بھی کرفیو کے ہاتھوں آٹھ لاکھ بھارتی افواج کے ہاتھوں محصور ہے پورا مقبوضہ جموں و کشمیر پچھلے پچاس دنوں سے جہنم کدے کا منظر پیش کر رہا ہے، یہاں ہر تیسرے فرد پر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے جس سے پوری وادی ایک بڑے عقوبت خانے کا منظر پیش کر رہی ہے ایسے میں 50ممالک کی جانب سے بھارت کے سامنے جو پانچ مطالبات رکھے گئے ہیں ان میں بظاہر تو بڑی جان ہے اور وہ تمام نکات جموں وکشمیر کی پریشان کن صورتحال کا مکمل احاطہ کرتے ہیں لیکن اصل مسئلہ وہی ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے کانوں پر اب تک اس حوالے سے جوں تک نہیں رینگی بلکہ مودی اپنا مکروہ اور سیاہ چہرہ چھپاتے ہوئے دنیا کو جس بے شرمی سے بے وقوف بنا رہا ہے بھارت کا یہ جھوٹ اور منفی پروپیگنڈا عن قریب عالمی برادری کے سامنے عین چوراہے میں پھوٹے گا تب ہندوتوا کے ان پجاریوں کوکہیں بھی منہ چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملے گی۔
بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار کہتا ہے تاہم بھارت کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے ایسا کیسے ہوگا اس کے متعلق سوچ کر بھی دل حلق کو آجاتا ہے۔ بھارت ان دنوں مقبوضہ جموں وکشمیر میں چنگیزیت کی جونئی تاریخ رقم کر رہا ہے اسے اس ظلم ودرندگی کا جواب عالمی برادری کو جلد یا بدیر دینا پڑے گا۔ واضح رہے کہ بھارت کشمیر میں جو بھیانک ناٹک کھیلنے جارہا ہے اس کا گر اس کی انتہا پسند قیادت نے اسرائیل سے سیکھا ہے جس کے ہاتھوں پچھلے 72سال سے نہ صرف اس کے عرب پڑوسی شدید دبائو اور پریشانی میں مبتلا ہیں بلکہ وہ ان پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ فلسطین کی سرزمین پر بھی زبردستی قابض ہونے کے ساتھ ساتھ انبیاء کرام کی اس مقدس سرزمین سے یہاں کے مقامی فلسطینی باشندوں کو مختلف انتہا پسندانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی سرزمین سے بے دخل کر کے یہاں دنیا بھر سے یہودیوں کو آبا د کرچکا ہے لہٰذا اب بھارت بھی مقبوضہ کشمیر کو آئین کی دفعہ 370 اے کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دباتے ہوئے اس خطہ جنت نظیر کو جہنم میں تبدیل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
بھارتی سورمائوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اپنے منفی ہتھکنڈوں اور انسانیت سوز مظالم کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دباتے ہوئے کشمیر کوہڑپ کر جائے گا لیکن یہ ان کی بھول ہے۔ بھارت کے ہٹ دھرم حکمرانوں کویا درکھنا چاہیے کہ نہ تو کشمیر تر نوالہ ہے جسے بھارت اتنی آسانی سے ہڑپ کر جائے گا اور نہ ہی پاکستان اس ساری صورتحال پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرے گا۔ موصولہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو کے نفاذ کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ برطا نوی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر حل کروانے میں کردار کرنے کے لیے کہا ہے، اس کاکہنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور وہاں طوفان کے آنے سے پہلے کی سی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ برطانوی میڈیا کا یہ تجزیہ سو فی صد درست ہے کہ بھارت ایک بار مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹا کر تو دیکھے اسے معلوم ہو جائے گا، اب جب وہاں سخت ترین کرفیو نافذ اور ساری حریت قیادت گرفتار ہے تو ایسے میں وہاں ہو کا عالم ہے جسے خونخوار بھارتی حکمران اپنی فتح اور کامیابی سے تعبیرکررہے ہیں حالانکہ اس جبر کے ماحول میں بھی موقع ملتے ہی کشمیری مسلمان گھروں سے نکل کر بھارت کی مخالفت اور پاکستان کے حق میں دیوانہ وار نعرے لگاتے ہیں جن میں سے صرف پچھلے 47دنوں کے دوران دو درجن سے زائد شہید کیے جا چکے ہیں۔ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اب وہ کشمیریوں پر اپنا غاصبانہ قبضہ مزید برقرار نہیں رکھ سکتا ہے کیونکہ اس کے مظالم کے خلاف کشمیر میں جو لاواپک چکا ہے وہ کسی بھی وقت پھٹ کر بھارتی غرور اور تکبر کو خاک میں ملا دے گا۔