August 4th, 2020 (1441ذو الحجة15)

کشمیر کا مسئلہ کرفیو نہیں آزادی ہے

 

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو ختم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر پاکستان میں سرکاری طور پر زبردست ردعمل ظاہر کیا گیا اور اسے پاکستانی موقف کی فتح قرار دیا گیا ۔ ہم 5 اگست سے مسلسل لکھ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کا اصل مسئلہ وہاں پر کرفیو ، گرفتاری اور پھر بدترین تشدد کے نتیجے میں اموات ، کشمیری بچیوں کی بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں منظم آبرو ریزی نہیں ہے ۔ اصل مسئلہ کشمیریوں کی جانب سے بھارت سے آزادی اور آزادانہ استصواب رائے کا مطالبہ اور آزادی کے لیے جدوجہد ہے جس سے خوفزدہ ہوکر بھارتی حکومت کشمیریوںکو بزور قوت دبانا چاہتی ہے ۔ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنے اور انہیں آزادی کی تحریک سے روکنے کے لیے بھارت نے ہر وہ حربہ آزمایا ہے جو ممکن ہے ۔ اس ضمن میں بھارت کو اسرائیل کی بھی بھرپور مددواعانت حاصل ہے ۔ فلسطین کو ہڑپ کرنے کے لیے اسرائیل نے جو طریقہ اختیار کیا ، وہی بھارت نے بھی اختیار کیا یعنی بالجبر کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کا اعلان کردیا اور کشمیریوں کے احتجاج اور تحریک کو کچلنے کے لیے مسلسل کرفیو لگائے رکھا ۔ اس دوران پوری وادی میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رہا جس میں ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا گیا ۔ اس امر سے ہر شخص کو اتفاق ہے کہ کشمیر میں بھارت کا ظلم و ستم ختم ہونا چاہیے اور عالمی برادری کشمیریوں کی منصوبہ بندی کے ساتھ نسل کشی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے مگر پاکستان کو یہ امر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اصل مسئلہ کشمیریوں پر ظلم نہیں ہے بلکہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی ہے ۔ کشمیری کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگانے کے جرم میں یہ خوفناک ظلم برداشت کررہے ہیں مگر ان کی ہمتیں جوان ہیں ۔ کشمیری جانتے ہیں کہ جس دن وہ اپنے مطالبہ حریت سے دست بردار ہوگئے ان پر سے ظلم کے بادل چھٹ جائیں گے ۔ اس تمام کے باوجود وہ پاکستانی پرچم بلند کیے ہوئے ہیں اور سینے پر گولیاں کھا رہے ہیں مگر پاکستانی حکومت کا بیانیہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ وہ اصل مسئلے یعنی مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے کے بارے میں پراسرار مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگایا ہی اسی لیے تھا کہ دنیا کی توجہ اسی طرف مرکوز رہے اور کوئی بھارت سے 5 اگست کے اقدام پر جواب نہ طلب کرے ۔ بھارت کی حکمت عملی کامیاب رہی اور پاکستان سمیت سب بھارت کی ڈفلی پر ہی رقص کرتے رہے ۔ اب بھی پاکستانی سرکار اس امر پر شاداں ہے اور اسے بھارتی حکومت کی شکست سے تعبیر کررہی ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ وادی میںمعمولات زندگی کی بحالی کے احکامات جاری کیے ہیں ۔اگر پاکستان ہی اصل موقف سے ہٹ گیا اور بھارتی موقف کی حمایت جاری رکھی تو اسے کشمیریوں کے ساتھ غداری اور حریت پسندوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہی کہا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران نیازی کے اس موقف سے پاکستان میں بھی شدید بے چینی پائی جارہی ہے اور عوام میں اشتعال پھیل رہا ہے ۔اگر عمران نیازی نہیں چاہتے کہ وقت سے پہلے ان کی حکومت رخصت ہو اور وہ پاکستانی تاریخ میں عبرت کے طور پر یاد رکھے جائیں تو وہ پاکستانی عوام کے ساتھ ایک صفحے پر آئیں۔

                                                          بشکریہ جسارت