October 15th, 2019 (1441صفر15)

کشمیریوں کی نئی تحریک۔امید کی کرن

 

 

جب بھارت نے 370 اور 35 اے کا خاتمہ کیا اور پورے ملک میں مایوسی اور حیرت کی کیفیت تھی تو اس وقت بھی توجہ دلائی گئی تھی کہ مذاکرات اس مسئلے کا حل نہیں۔ جس طرح مسئلہ کشمیر پیدا ہوا تھا اور الجھایا گیا اسی طرح یہ حل ہوگا یعنی بھارت نے فوج اتاری پاکستان کو بھی فوج اتارنی ہوگی۔ ان ہی دنوں میں وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید نے کہا تھا کہ کشمیریوں کو نئی تحریک شروع کرنی پڑے گی۔ غیر ملکی قبضوں کو چھڑانے کا یہ دوسرا راستہ ہے جس پر عمل کرکے افغان مجاہدین نے بھی کامیابی حاصل کی ہے اور فلسطین میں بھی جب جب اسرائیل مذاکرات پر آمادہ ہوتا ہے اس کا سبب دنیا کا دبائو یا اسرائیل کی کوئی معقولیت نہیں بلکہ یہ تحریک حریت ہی اسے بھی مجبور کر دیتی ہے۔ وفاقی وزیر شیخ رشید نے حکومت کی جانب سے کشمیر پر سب سے زیادہ جذباتی تقریریں کی ہیں کیونکہ وہ جنرل ضیا الحق کی باقیات اور جنرل پرویز کے ساتھی رہے ہیں انہیں اندازہ ہے کہ عوام کے جذبات کیا ہیں لیکن شاید وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اب کشمیریوں میں دم خم ختم ہو گیا ہے اس لیے انہوں نے بھی ساری ذمے داری کشمیریوں پر ڈال کر کہہ دیا تھا کہ کشمیریوں کو نئی تحریک مزاحمت شروع کرنی ہوگی۔ لیکن یہ کیا کہ کشمیریوں نے واقعی نئی تحریک مزاحمت شروع کردی۔ شیخ رشید تو اکتوبر نومبر میں جنگ دیکھ رہے تھے ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ جنگ کون لڑے گا اور کس کے حکم پر لڑے گا۔ یہ کام تو وزیراعظم کو کرنا ہے۔ وہ حکم دیں گے تو فوج پیش قدمی کرے گی اور ان کا یہ حال ہے کہ اب تک بھارت کی فضائی حدود بند کرنے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔ اس قدر خوف کیوں ہے۔ قومی غیرت کا کہیں تو اظہار کیا جائے۔ مودی غلط کام کرکے ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہا ہے اور پاکستانی حکمران صرف زبانی جمع خرچ میں لگے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی صورت حال کشمیریوں کی نئی تحریک کے لیے کوئی اچھی نہیں ہے۔ اس تحریک کو قوت اسی صورت میں مل سکتی ہے جب پاکستان سے اس تحریک کی کھل کر پشت پناہی کی جائے لیکن کشمیریوں کی پشت میں چھرا گھونپنے والے کشمیریوں کی نئی تحریک کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سابق سربراہ آئی ایس آئی ریٹائرڈ جنرل احسان الحق نے بھی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ عوام اشتعال میں ہیں حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ لیکن وہ بھی فوجی اقدام کے حوالے سے سوچ سمجھ کر کچھ کرنے کی بات کررہے ہیں۔ یہ بھی شکر ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو دیر سے سہی، اس بات کا احساس تو ہوگیا کہ عوام اشتعال میں ہیں ورنہ جب وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں منصب پر تھے تو انہیں عوام کے اشتعال کی خبر بھی نہیں ہوئی تھی۔ بہرحال کشمیریوں نے نئی تحریک شروع کردی ہے حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ اس کی پشت پناہی کرے اس کے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالے۔ اگر پاکستان نے صرف اتنا کرلیا تو بھارت کو گھٹنے ٹیکنے میں دیر نہیں لگے گی۔ یہ حقیقت تو ہمارے حکمران بھی جانتے ہیں کہ جنگ مسلط ہوگئی تو لڑنی پڑے گی جنگ اچھی نہیں ہوتی لیکن بھارت نے تو 72 برس سے کشمیر میں جنگ چھیڑ رکھی ہے تو پھر اس کا جواب کیا ہونا چاہیے؟؟ امت مسلمہ اور خصوصاً پاکستانی قوم سے امید ہے کہ وہ کشمیریوں کی نئی تحریک کی پشتیبانی کرے گی۔

                                                          بشکریہ جسارت