September 19th, 2019 (1441محرم19)

کیا کشمیر کا سودا ہو گیا؟

 

بھارتی وزیر اعظم مودی جارحانہ موڈ میں ہیںاور کسی بھی معقول بات کو سننے پر راضی نہیں ہیں ۔ وہ اپنے ہی آئین کے برخلاف مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرچکے ہیں اور اس پر ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں ۔ اس پر پاکستان کا ردعمل صرف اور صرف یہ رہا ہے کہ مودی سے درخواست کریں گے کہ وہ کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کردے ۔ مودی کی رعونت کا یہ عالم ہے کہ وہ پاکستانی وزیر اعظم عمران نیازی کو نشستند ، گفتنداور برخاستند کی حیثیت بھی دینے کو تیار نہیں ہے ۔ عمران نیازی کا خیال تھا کہ بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیں گے تو وہ دوڑا دوڑا چلا آئے گا اور یوں ان کی عزت قوم کے سامنے بچی رہے گی کہ حکومت دوڑ دھوپ تو کررہی ہے ۔ ویسے بھی بھارت کے ساتھ اس سے قبل جتنے بھی مذاکرات ہوتے رہے ہیں ، ان کا کیا نتیجہ نکلا ہے ۔ ہرمرتبہ مذاکرات کا کھیل اس طرح شروع ہوتا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کے خاتمے کے لیے کشمیر کے مسئلے کا مستقل حل ضروری ہے ۔ اس کے لیے دونوں ممالک کو آپس میں مذاکرات کرنے چاہییں ۔ بھارت کہتا بالکل درست ۔ مذاکرات کی تاریخ طے ہوجاتی اور اسے پہلی کامیابی قرار دیا جاتا ۔ مذاکرات کے انعقاد کو دوسری اور بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ۔ مذاکرات اس طرح شروع ہوتے کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے ۔ جی بالکل درست ۔ تو پھر مقبوضہ جموں و کشمیر کی بات کرتے ہیں ۔ بالکل درست ۔ معاملہ ہر مرتبہ یہاں پر آ کر اٹک جاتا کہ بھارت کے نزدیک مقبوضہ کشمیر وہ ہے جو پاکستان کے پاس ہے اور پاکستان کے نزدیک مقبوضہ کشمیر وہ ہے جو بھارت کے پاس ہے ۔ اور یوں معاملہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوجاتا ۔ پاکستان میں مذاکرات کی بات کرنے والے بتائیں کہ کب بھارت کسی بھی مسئلے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہوا ہے ۔ سابق مشرقی پاکستان میں مداخلت ، کشمیر سے پاکستان آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنانے سمیت ہر معاملے میں بھارت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔’’اب کی مار تو بتاؤں‘‘ ہر مرتبہ پاکستان کی طرف سے یہی جواب آتا ہے ۔ اب بھی یہی کہا جارہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو پھر بھارت کی خیر نہیں ۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملہ کرنے سے باز رہے ۔ اتنے عرصے کے بعد وزیر اعظم عمران نیازی کی بھی سمجھ میں آگیا ہے کہ مودی نے ان کی امن کی کوششوں کو کمزوری سمجھا اور مودی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بھارت کے ساتھ مذاکرات کا آپشن ختم ہوچکا ہے ۔ اس کا اندازہ وزیر اعظم عمران نیازی کو بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی ہونے والی ہے ۔ نسل کشی سے متعلق عالمی تنظیم جینوسائیڈ واچ نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے عالمی الرٹ جاری کردیا ہے ۔ یہ سب تو درست ہے کہ مودی امن کے بارے میں کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی برادری عملی طور پر مودی کے ساتھ کھڑی ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلسل کرفیو کا بیسواں روز ہے ، انسانی حقوق کی کونسی خلاف ورزی ہے جو وہاں پر نہیں کی جارہی ۔ ہر گھر پر روز چھاپے مارے جارہے ہیں اورنوجوانوںکے ساتھ ساتھ دس بارہ سال کے بچوں تک کو گرفتار کرکے حراستی مراکز میں منتقل کیا جارہا ہے ۔ ایک آسٹریلوی صحافی کی رپورٹ کے مطابق اب تک وادی میں چھ ہزار سے زاید اجتماعی قبروں کی نشاندہی ہوچکی ہے جن میں لاکھوں لاپتا نوجوان مدفون ہیں ۔ چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین کی عصمت دری اب عام سی بات ہوگئی ہے ۔ مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ۔ ہماری پاکستان کے ارباب اقتدار سے ایک ہی درخواست ہے کہ منافقت ختم کریں اور صاف و سیدھی زبان میں بتائیں کہ کشمیر کے بارے میں ان کی پالیسی کیا ہے ۔ اگر پاکستان عملی طور پر کشمیر سے دست کش ہوچکا ہے تو بہتر ہوگا کہ اس کا اعلان کردیا جائے تاکہ کم از کم کشمیری تو یکسو ہو کر جائیں ۔ وہ خواہ مخواہ پاکستان سے الحاق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہاں پر کہا جارہا ہے کہ مودی تو ہمارا فون ہی نہیں سنتا ، ہم کیا کریں ۔ اگر کشمیر پر مودی کی ہر بات مان لی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب پاکستان کا بھارت کے ساتھ کوئی تنازع ہی نہیں رہا ہے ۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان کی بھارت کے ساتھ طویل ترین سرحد بھی محفوظ ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی سرحدیں بھارت کے علاوہ افغانستان ، ایران اور چین کے ساتھ بھی ملتی ہیں ۔ یعنی اب کسی کے ساتھ کوئی تنازع نہیں رہا اور سرحدوں پر معمول کی کارروائی کے لیے پولیس کافی ہے ۔ ارباب اقتدارکا رویہ صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں والا ہے ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اینٹ کا جواب پتھرسے دیا جائے گا ، وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات نہیں ہے ، وہ اس سے بھی خبردار کرتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کرنے والا ہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے ، جنگ تباہی لاتی ہے اوربھارت کے ساتھ جنگ کاآپشن ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے ۔ اس مسئلے کا بہترین حل یہی ہے جس کی درخواست ہم نے بالائی سطروں میں کی ہے کہ منافقت ترک کی جائے ۔ قوم کو بتادیا جائے کہ کشمیر کا سودا کرلیا گیا ہے یا پھر عزم کا اظہار کیا جائے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر سے بھارت دستبردار نہیں ہواا ور وہاں پر استصواب رائے نہیں کروایا گیا تو پاکستان بھی کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کرنے کا اتنا ہی حق رکھتا ہے جتنا بھارت ۔ بھارتی پارلیمنٹ میں منظور کی گئی کسی قانون کی پاکستان کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہے ۔

                                                                                                                                                                   بشکریہ جسارت