September 15th, 2019 (1441محرم15)

کشمیر پر بھارتی قبضہ

 

مسعود انور

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مقبوضہ کشمیر باقاعدہ طور پر بھارت میں شامل کرلیا گیا ہے اور وہ اس کا حصہ بن چکا ہے ۔ یہ امر اس بناءپر حقیقت نہیںہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 کا غیر قانونی طور پر خاتمہ کردیا ہے ۔ غیر قانونی طور پر اس لیے کہ بھارتی آئین کی رو سے اس آرٹیکل کے خاتمہ کے لیے ریاستی اسمبلی کی بھی منظوری ضروری تھی مگر اس وقت تو ریاست میں کٹھ پتلی اسمبلی بھی موجود نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جنہیں بھارت نے بھی تسلیم کیا ہے اور ان پر دستخط بھی کیے ہیں،بھارت کو یہاں پر استصواب رائے کروانا تھا تاکہ کشمیری خود یہ فیصلہ سناسکیں کہ انہیں بھارت کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا پاکستان کے ساتھ یا پھر وہ ایک آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں ۔
کشمیر ی اب ہمیشہ کے لیے بھارتی تسلط میں چلے گئے ہیں ، یہ تلخ حقیقت اس لیے تسلیم کرنا پڑے گی کہ پاکستان کی مقتدر قوتوں نے اسے نہ صرف تسلیم کرلیا ہے بلکہ وہ اس ناپاک سازش میں برابر کا حصہ بھی ہیں ۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ کوئی ایک دن کی بات نہیں ہے ۔مودی کی انتخابی مہم کا یہ بنیادی نعرہ تھا اوردوبارہ سے اقتدار میں آنے کے بعد مودی نے اس پر علی الاعلان کام بھی شروع کردیا تھا ۔ اس طرح کے فیصلے اچانک نہیں کرلیے جاتے بلکہ ان کے نفاذ کے لیے برسوں کی تیاری درکار ہوتی ہے ۔ جس طرح جنگ شروع کرنے سے پہلے سامان حرب و رسد جمع کیا جاتا ہے ۔ سرحدوں تک فوج کی نقل و حرکت کے لیے ہی ہزاروں گاڑیاں درکار ہوتی ہیں ۔ ان گاڑیوں کے لیے ایندھن اور سرحد پر پہنچائی گئی فوج کے لیے درکار کھانا ہی مہیا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔ آج کے زمانے میں جنگ صرف ایک ملک کا فیصلہ نہیں ہوتا ۔ اس سے قبل دوست ممالک کو آگاہ کرنا ہوتا ہے ، سفارتی محاذ پر سرگرمی دکھانا ہوتی ہے ۔ امریکا جیسے ملک کو بھی دیگر ممالک پر حملے سے قبل اپنے دوست ممالک کو بہت پہلے اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے ۔ امریکا نہ صرف اپنے دوست ممالک کو اعتماد میں لیتا ہے بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ چاہے علامتی طور پر ہی صحیح ، دوست ممالک کی اس جنگ میں شرکت بھی ہو تاکہ وہ سفارتی محاذ پر تنہا نہ ہو ۔
کچھ ایسی ہی صورتحال بھارت کے ساتھ بھی تھی ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے قبل اس نے مہینوں پہلے تیاری شروع کردی تھی ۔ پلوامہ واقعے کا ڈراما کر کے ماحول بنایا گیا تاکہ اس کی آڑ میں وہاں پر اپنی فوجی تنصیبات کو پہنچاسکے اور انہیں متحرک کرسکے ۔ پاکستان کے ساتھ سرحدی جارحیت کا کھیل کھیلا گیا تاکہ روز فوجیوں کے قافلے مقبوضہ ریاست میں داخل ہوسکیں ۔ جب زمینی طور پر ساری تیاریاں مکمل ہوگئیں تو مقبوضہ ریاست کو ہڑپ کرنے سے قبل سارے ہی بااثر ممالک کو اعتماد میں لیا گیا ۔ جس کے بعد 5 اگست کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ۔
اس اقدام کے نتیجے میں بھارت کو دو قسم کے ردعمل آنے کا خوف تھا ۔ ایک وادی کے اندر سے اور دوسرا وادی کے باہر پاکستان سے ۔ وادی کے اندر کے ردعمل کی بھارت کو کوئی فکر نہیں ہے ۔ اس صورتحال سے وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نمٹ رہا ہے ۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا بھارت کے دوست اسرائیل کو بھی ہے اور اب یہ دونوں اس صورتحال کے عادی ہوگئے ہیں ۔ ویسے بھی وادی میں جو بھی شورش برپا ہو، اس کا بھاری نقصان وادی کے لوگوں کو ہی بھگتنا ہی پڑتا ہے ۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں کو بھارت میں ہی مصروف رکھا ہے ۔ اگر یہ آگ کشمیر سے نکل کر نئی دہلی یا پنجاب تک پہنچتی تو ضرور بھارتی حکومت کو اس کی فکر ہوتی ۔ ویسے بھی بھارتی حکومت نے اس کا پہلے سے بندوبست کررکھا تھا ۔ یعنی پوری وادی کا محاصرہ ، فوجی لاک ڈاون ، غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو ،فون ،موبائل فون اور انٹرنیٹ سمیت ہر قسم کا مواصلاتی رابطہ منقطع ۔ ایسی صورت میں وادی کے لوگ کرفیو توڑنے اور احتجاجی مظاہرے کرنے کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں ۔ سو اس کے لیے بھی بھارت کے پاس ترکیب ہے کہ یہ مظاہرے محدود پیمانے پر کرنے دیے جائیں اور کشمیریوں کو تھکا کر شکست دینے کی پالیسی پر عمل کیا جائے ۔ کشمیری عسکری جدوجہد کو روکنے کے لیے پہلے سے ہی بھارت نے اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر پیش بندی کرلی ہے کہ کشمیری مجاہدین کو باہر سے اسلحہ وکمک نہ ملنے پائے ۔ کسی بھی ملک کے خلاف مسلح جدوجہد آسان بات نہیں ہے ۔ اس کے لیے کسی نہ کسی ریاست کی مدد درکار ہوتی ہے تاکہ اسلحہ، بارود اور مالی معاونت مل سکے ۔ اس کے بغیر دنیا میں کہیں پر بھی کوئی مسلح جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ پاکستان کے پڑوس افغانستان کی 1979 سے لے کر اب تک کی مسلح جدوجہد کا جائزہ لیں یا پھر سعودی عرب کے پڑوس یمن میں حوثی ملیثیا کو دیکھیں ، لیبیا کی حفتر ملیشیا کو دیکھیں یا پھر داعش کو ہی دیکھ لیں ۔ ان سب کے اعلانیہ و خفیہ مددگار موجود ہیں ۔
کشمیری مجاہدین کا واحد پشتیبان پاکستان ہی تھا ، سو اس کے لیے ہر طرح کی ترکیب کی گئی ۔ پاکستان کے اندر سے بھی اور باہر سے بھی ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب پاکستان نے کشمیری مجاہدین کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔ اس طرح اب کشمیر کے اندربھارت کو کسی ایسی مسلح جدوجہد کا خوف نہیں ہے جو اس کے لیے کسی پریشانی کا باعث بن سکے ۔ جہاں تک کشمیر یوں کے سینے میں جلنے والی حریت کی شمع کا تعلق ہے ،ا سے فلسطین کی ترکیب سے قابو کرلیا جائے گا۔ بیس تیس برسوں کے بعد آنے والی کشمیریوں کی نئی نسل آزادی کے بجائے اپنے معاشی و سیاسی حقوق کی بات کررہی ہوگی ۔ سو اس میں فکر کی کوئی بات نہیں ہے ۔
بھارت نے اس اندرونی ردعمل کو تو قابو کرلیا مگر اس کے لیے سب سے اہم مسئلہ پاکستان کی جانب سے آنے والا بیرونی ردعمل تھا ۔ اگر پاکستان بھارت پر حملہ کردے تو پوری دنیا میں تھرتھری دوڑ جائے گی کہ پہلی مرتبہ دو ایٹمی طاقتیں یوں ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار ہوں گی اور اس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے ۔ اس جنگ کو روکنے کے لیے دنیا کی ساری طاقتیں میدان میں آجاتیں اور معاملہ 5 اگست سے پہلے کی پوزیشن پر لانا پڑتا ۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے ہی کروانا پڑ جاتا ۔

کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے فیصلے کے خلاف پاکستانی ردعمل کو روکنے کے لیے بھارت نے اپنے اتحادی اسرائیل اور اس کے ذریعے دیگر ممالک کی مدد حاصل کی ۔ پاکستان کو لالی پاپ دیا گیا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک جاری یہ تنازعہ مستقل حل کی جانب جارہا ہے ۔ اس سے ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ امر ہوجائے گا ۔ کہا جارہا ہے کہ کوئی بھی قوم اپنا مسئلہ اس وقت ہی حل کرسکتی ہے جب وہ معاشی طور پر مضبوط ہو ۔ اس کے لیے کئی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ سب سے اہم مثال چین کی پیش کی جاتی ہے کہ جب تک وہ معاشی طور پر بدحال تھا تو اس کا بھی وہی حال تھا جو پاکستان کا ہے ۔ برطانیہ نے ہانگ کانگ پر قبضہ کررکھا تھا مگر جیسے ہی چین مضبوط ہوا ، برطانیہ سے اس نے ہانگ کانگ حاصل کرلیا ۔ اس کے لیے اسے کسی فوجی مہم جوئی کی ضرورت نہیں پڑی ۔

دی گئی لالی پاپ میں کہا جارہا ہے کہ جس خطے میں پاکستان ہے ، اس خطے میں اس وقت اہم ترین تبدیلیاں ہورہی ہیں ۔ سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ امریکا افغانستان چھوڑ کر واپس جارہا ہے اور اب افغانستان میں استحکام آجائے گا جس کے بعد اس خطے میں معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا ۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشتی کوچھوڑنے کی حماقت نہ کرے بلکہ اس میں سوار ہوجائے تاکہ وہ بھی ترقی کے ثمرات کو حاصل کرسکے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت پر عملی طور پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے ۔ یہ پہلے بھی بھارت کے قبضے میں تھا اور اب بھی وہی صورتحال ہے ۔ لائن آف کنٹرول کو سرحد تسلیم کرنے سے معاشی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے ۔

مذکورہ بالا پٹیاں پڑھانے کے ساتھ ساتھ دھمکانے کا عمل بھی جاری رکھا گیا کہ جنگ کی صورت میں یہ جنگ لائن آف کنٹرول تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کو اپنے چاروں طرف جنگ لڑنا پڑے گی ۔ بھارت لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ پر بھی حملہ آور ہوگا ۔ پاکستان کی سمندری ناکہ بندی کردی جائے گی ۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کا اتحادی امریکا افغانستان کی سرحد کو بھی متحرک کردے گا اور ایران سے بھی پاکستان کوئی اچھی امید نہ رکھے ۔ یہ پیغامات پاکستان میں بھی پہنچائے گئے اور اس کے لیے پاکستان کی ہر طرح کی قیادت کو امریکا طلب کرکے ان کی بریفنگ اور ڈی بریفنگ بھی کی گئی ۔

جب مودی کو ہرطرح کا اطمینان ہوگیا کہ اب کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے تو اس نے 5 اگست کو مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ۔ پاکستانی قیادت دیے گئے اسکرپٹ پر کتنا اور کیسے عمل کررہی ہے اس کا اندازہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے 5 اگست کو ہی دیے گئے بیان سے لگایا جاسکتا ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں 4 اگست کو صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا ، اندازہ نہیں تھا کہ بھارت 24 گھنٹے میں یہ اقدام کرے گا ۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی کونسل کے اراکین میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ تمام ہی حساس ایجنسیوں کے سربراہان بھی شامل ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے یہ مضحکہ خیز بیان ایسے وقت میں دیا جب جمعہ 2 اگست سے سوشل میڈیا پر وڈیو اور پوسٹیں شیئر کی جارہی تھیں کہ مودی حکومت نے پیر کو ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اس کے لیے بل بھارتی پارلیمان میں پیر 5 اگست کو پیش کیا جائے گا ۔ ایک لمحے کے لیے شاہ محمود قریشی کے بیان کو درست مان لیا جائے تو پاکستان کی مسلح افواج اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی صلاحیت پر شک ہونے لگتا ہے ۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کئی ماہ پہلے سے یہ جاننے کے باوجود کہ بھارت مقبوضہ ریاست جموں و کشمیرمیں مہم جوئی کرنے جارہا ہے ، پاکستان نے جوابی حکمت عملی کیوں تشکیل نہیں دی ۔ جس طرح سے بھارت سفارتی محاذ پر سرگرم تھا اور کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیے دوستوں کی مدد لے رہا تھا ، اسی طرح پاکستان نے کیوں سفارتی سرگرمی نہیں دکھائی ۔ صورتحال کو Point of no return پر پہنچنے کی صورت میں فوجی آپشن کو کیوں ذہن میں نہیں رکھا اور اس کے لیے پہلے سے تیاری کیوں نہیں کی ۔ دنیا کواور بھارت کو یہ پیغام کیوں نہیں بھیجا کہ کشمیر اہل پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے اور پاکستان کسی بھی صورت میں کشمیر سے دستبردار نہیں ہوگا ۔ اگر بھار ت باز نہیں آیا تو آخری آپشن صرف اور صرف جنگ ہے ۔ اگر پاکستان بھی پہلے سے اپنی فوجیں سرحد پر لے آتا تو بھارت کو یہ قدم اٹھانے کی ہمت ہی نہیں ہوپاتی ۔

اب 5 اگست کے بعد کی صورتحال کو دیکھتے ہیں ۔ عوام کو گمراہ کرنے اور مصروف رکھنے کے لیے پاکستان کی ساری سیاسی پارٹیوں اور ان کے قائدین نے منہ کی توپوں کے دہانے کھول دیے ۔ اس اہم مسئلے پر مشترکہ موقف اپنانے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا روایتی طور پر مشرکہ اجلاس بلایا گیا جو تمام ہی ارکان پارلیمنٹ کے غیر سنجیدہ رویے کی بناء پر مایوسی کے سوا اور کوئی پیغام نہ دے سکا ۔ پاکستان کے سیلیکٹد وزیر اعظم عمران نیازی نے اتنے اہم اجلاس میں شرکت سے غیر حاضری ضروری سمجھی ۔ حزب اختلاف کے شور شرابے کے بعد وہ ساڑھے تین گھنٹے تاخیر سے جبری طور پر اجلاس میں پہنچے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی امور کے وزیر اعظم سواتی نے جو قراردار منظوری کے لیے پیش کی اس میں اصل مسئلہ آرٹیکل 370 کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا ۔ جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ڈالا تھا مگر یہ نکلوادیا گیا ۔ شہباز شریف ، بلاول زرداری اور آصف زرداری صبح سے ایوان میں موجود تھے مگر سیلیکٹڈ عمران نیازی کی تقریر کے وقت ایوان سے باہر چلے گئے اور پھر ایک ایک کرکے ایوان میں داخل ہوئے ۔ ان کے داخلے کے وقت ان کی پارٹیوں کے ارکان نے ان کا استقبال اس طرح کیا کہ جیسے وہ جلسہ گاہ میں داخل ہوئے ہیں اور ایوان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے نعروں سے گونجتا رہا ۔ مقررین کا سارا زور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے پر ہی رہا ، کسی نے بھی نہ تو ٹھوس اعداد و شمار پیش کیے اور نہ ہی کوئی لائحہ عمل تجویز کیا ۔ سیلیکٹڈ وزیر اعظم عمران نیازی نے ایوان میں جو تقریر کی وہ کسی تھڑے پر کی جانے والی تقریر تو کہی جاسکتی ہے مگر کہیں سے بھی اہم ترین موضوع پر بلائے گئے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے وزیراعظم کا خطاب نہیں کہا جاسکتا ۔

کیا یہ سب محض اتفاق تھا یا یہ سب دیے گئے اسکرپٹ اور ڈائریکٹر کی ہدایات کے عین مطابق تھا ۔ اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ایسے وقت میں جب قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے ، آصف علی زرداری نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان تو سندھیوں اور بنگالیوں نے بنایا ۔ ہجرت کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ آپ تو بھاگ کر آئے ، ہم نے آپ کو پناہ دی ۔ 

مودی کے اقدام کے جواب میں پاکستان کے پاس چار آپشن تھے ۔ بھارت پر بین الاقوامی دباو ڈالا جائے ، بھارت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے جائیں ، جہادی تنظیموں کے ذریعے پراکسی وار لڑی جائے یا براہ راست بھارت پر حملہ کردیا جائے ۔پہلے آپشن بین الاقوامی دباو کی صورتحال سب کے سامنے ہے ۔ اس کا نتیجہ ہے دو چار مذمتی بیانات اور اس کے بعد طرفین کو مشتعل ہونے سے گریز کا مشورہ ۔ دوسرے آپشن کی صورتحال یہ ہے کہ بھارت پر کوئی دباو نہیں ہے اس لیے وہ مذاکرات کی میز پر پاکستان کے پاس موجود کشمیر کے لیے تو بات کرنا چاہتا ہے مگر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے بارے میں لفظ بھی نہیں سننا چاہتا ۔ جہادی تنظیموں کا تیسرا آپشن اب ختم ہوگیا ہے کہ بھارت کی سفارتکاری زیادہ مضبوط ہے اور اب ہر کوئی انتہاپسندی کے نام پر پاکستان کو اپنے گھر کی صفائی کا مشورہ دیتا ہے اور پاکستان اس مشورے پر خلوص دل کے ساتھ عمل پیرا بھی ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کو اس سلسلے میں پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا اس لیے اب یہ آپشن بھی خارج از بحث ہوگیا ۔ اب آخری آپشن بھارت پر حملہ ہی بچتا ہے ۔

چونکہ یہی آپشن قابل عمل تھا اس لیے اس پر پہلے سے ہی بھارت اور اسرائیل نے بھرپور کام کیا اور اس امر کو یقینی بنایا کہ بھارت پر حملے کے آپشن کو پاکستان کی کسی بھی قسم کی قیادت اپنے ذہن میں نہ رکھے ۔ چونکہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ فوجی آپشن پر پہلے سے یقین دہانی حاصل کرلی گئی تھی اس لیے پاکستان میں فوجی سطح پر 5 اگست کے بعد چلت پھرت بھی نظر نہیں آئی ۔ حتیٰ کہ فوج میں عید پر دی گئی چھٹیاں بھی منسوخ نہیں کی گئیں اور نہ ہی حج پر جانے والے جوانوں اور افسران کو روکا گیا ۔ اس کے بجائے پاکستان میں ایک منظم مہم سوشل میڈیا پر شروع کی گئی جس میں بتایا جارہا ہے کہ پاکستان اگر پنگاہ لینے کے بجائے سمجھداری سے کام لے تو جلد ہی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا ۔ بتایا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا حقیقی مطلب یہ تھا کہ 5 اگست کے بعد کی صورتحال میں بھارت اور پاکستان کو بٹھا کر مستقل سرحد بندی کردی جائے ۔ اس پوری منظم مہم کا المیہ یہ ہے کہ یہ مہم ان گوشوں کی جانب سے لانچ کی گئی ہے جن سے قوم اس کے برعکس مہم کی امید رکھتی ہے ۔ ان گوشوں کے ترجمان یا ملازم اینکر پرائیویٹ ریکارڈ کیے گئے کلپ میں اسی کی تبلیغ کررہے ہیں ۔ میڈیا خصوصی طور پر الیکٹرانک میڈیا کو مسئلہ کشمیر پر دھیما انداز رکھنے کی تلقین کی گئی ہے ۔

فوجی آپشن اتنا زیادہ خارج از بحث تھا کہ کسی بھی ملکی یا غیر ملکی میڈیا نے اپنے کسی نمائندے کو لائن آف کنٹرول پر بھیجنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ 5 اگست کا المیہ اتنا زیادہ scripted تھا کہ حکومت میں کسی بھی سطح پر حیرت یا اچانک ہونے کاشائبہ تک محسوس نہیں ہوا ۔ ہر طرح کی قیادت اطمینان سے اپنے اپنے ڈائیلاگ کی ادائیگی کرتی رہی اور بس ۔ اب سب کا ایک ہی ہدف ہے اور وہ ہے عوام کو اپنے اپنے دائرہ کار میں non issues میں الجھا کر رکھنا ۔ اس کا آغاز سیاسی گرفتاریوں سے کیا گیا ہے ۔ آئندہ مرحلے میں سندھ سمیت کسی بھی صوبے میں حکومت کی تبدیلی یا گورنر راج بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ عدالتی ایکٹوزم بھی ہوسکتا ہے اور دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات بھی ۔ عوام کو مہنگائی کے پے درپے شاک بھی دیے جاسکتے ہیں اور انہیں سیلاب میں بھی ڈبویا جاسکتا ہے ۔ یکے بعد دیگرے کچھ بھی ہوسکتا ہے جس سے آئندہ چھ ماہ تک عوام کی توجہ کشمیر کی طرف نہ رہے ۔ اس کے بعد بھول جانے کے قدرتی اصول کے تحت سب کچھ وقت کی دھول میں دب جائے گا اور لوگ عادی ہوجائیں گے ۔ آخر لوگ سانحہ مشرقی پاکستان بھی بھول ہی گئے اور 72 برسوں تک مقبوضہ کشمیر پر بھی صبر ہی کیے رہے ۔

اس سلسلے میں سمجھنے کی اہم ترین بات یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضہ بین الاقوامی سازش کی آخری کڑی نہیں ہے ۔ یہ سلسلہ تو اب دوبارہ شروع کیا گیا ہے ۔ 2005میں جاری کیے گے بین الاقوامی سازش کاروں کے نقشے پر دوبارہ سے نگاہ ڈالیں ۔ ا س کے مطابق پاکستانی بلوچستان اور ایرانی بلوچستان کو ملا کر ایک نیا ملک گریٹر بلوچستان کو تشکیل دیا گیا ہے ۔ خیبر پختون خوا پر افغانستان کا قبضہ ہے اور پورے کشمیر پر بھارت کا ۔ بقیہ پاکستان محض سندھ اور پنجاب پر مشتمل ہے ۔ اگر اس سازش کو ناکام بنانا ہے تو پہلے دن سے ہی بھارت کو یہاں پر روکنا ہوگا ۔ ابھی یا پھر کبھی نہیں کا ہی فارمولا کارگر ہوگا ۔

بھارت بھر میں ہندو برہمن کے ظلم کی شکار اقلیتوں کی مدد اور تعاون کے ساتھ فوجی آپشن ہی واحد حل ہے جس کی مدد سے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکا جاسکتا ہے ۔ جب پاکستانی فوج اپنے tactical ہتھیار بھارتی سرحد پر لے کر آئے گی تو ہی 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن بحال ہوگی اور کشمیر میں استصواب رائے کی کوئی صورت بن سکتی ہے ۔ اگر کوئی اس پروپیگنڈے کے اثر میں ہے کہ اقوام متحدہ کوئی کردار ادا کرسکے گا تو وہ اقوام متحدہ کے کردار کو فلسطین میں بھی دیکھ سکتا ہے اور انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کے سقوط کو بھی ۔ اقوام متحدہ کا کردار عراق پر حملے میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اور کریمیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔

جہاں تک ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا تعلق ہے تو اسے خواہ مخواہ کا ہوا بنایا ہوا ہے ۔ پاکستان پہلے بھی بلیک لسٹ میں رہا ہے اور اگر دوبارہ سے چلا گیا تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی مگر کشمیر کے بھارت کے تسلط میں جانے سے ضرور قیامت آجائے گی ۔ ویسے بھی جب جنگ شروع ہوتی ہے تو بہت سارے معاملات طے کرنا آسان ہوتے ہیں جیسے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکال کر دوبارہ سے پاکستانی عملداری میں لانا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے کہ بتدریج موت کا شکار ہونا ہے اور پاکستان کو ٹوٹتے ہوئے دیکھنا ہے یا پھر مزاحمت کرکے آزادی کو برقرار رکھنا ہے ۔