September 15th, 2019 (1441محرم15)

گیلانی صاحب کی ایس او ایس کال

 

متین فکری

 

جب کوئی سفینہ بحری طوفان میں گھر جائے اور اس کے زندہ بچنے کی کوئی آس باقی نہ رہے تو اس کا کپتان آخری چارہ کار کے طور پر جھنڈا لہرا کر دور سمندر میں کھڑے جہازوں اور دخانی کشتیوں کو یہ وائرلیس پیغام دیتا ہے کہ ہم طوفان گھرے موت کے دہانے پر ہیں، ہماری مدد کو فوراً پہنچو ورنہ ہم مارے جائیں گے۔ اس پیغام کو بحری اصطلاح میں ایس او ایس (save our souls) کال کہا جاتا ہے۔ بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے بدترین قتل عام کے خطرے کے پیش نظر پوری اُمت مسلمہ کو جو پیغام دیا ہے اسے ایس او ایس کال سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کرئہ ارض پر بسنے والے 2 ارب مسلمانوں سے کہا ہے کہ اگر ہم مرگئے اور تم ہماری اس مظلومانہ موت پر اسی طرح خاموش رہے تو تم سب اللہ کے حضور جوابدہ ہوگے۔ گیلانی صاحب کا یہ پیغام مسلمان حکمرانوں کے لیے بھی ہے۔ مسلمانوں کی نمائندہ عالمی تنظیم او آئی سی کے لیے بھی ہے، دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اسلامی تحریکوں اور اسلامی جماعتوں کے لیے بھی ہے اور بحیثیت مجموعی پوری امت مسلمہ کے لیے بھی ہے۔ انہوں نے کسی موہوم خطرے کا ذکر نہیں کیا بلکہ وہ خطرہ ہے جو ان کے سروں پر منڈلا ہی نہیں رہا۔ عملاً اس کا وقوع شروع ہوچکا ہے، بھارت نے اپنے ہی آئین کو پامال کرتے ہوئے راجیا سبھا میں ایک بل کے ذریعے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی ہے اور اسے اپنے اندر ضم کرلیا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کو دبانے اور کشمیریوں کی مزاحمت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے وہ بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین قتل عام ہوگا جس کے لیے بھارت نے ضروری اقدامات شروع کردیے ہیں۔ یہ سیاحت کا سیزن ہے اور اس وقت مقبوضہ علاقے میں 2 لاکھ غیر ملکی سیاح موجود ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر علاقے سے نکل جائیں، اس کے لیے انہیں بسیں اور خصوصی ٹرانسپورٹ فراہم کی جارہی ہیں۔ مقبوضہ ریاست میں غیر معینہ عرصے کے لیے کرفیو لگادیا گیا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع کردیا ہے اور انٹرنیٹ، موبائل اور ٹیلیفون سروسز بند کردی ہیں۔ تمام تعلیمی ادارے بند اور امتحانات منسوخ کردیے گئے ہیں۔ تمام حریت قائدین اس وقت جیلوں میں ہیں یا گھروں میں نظر بند ہیں اور فوج کی بھاری نفری نے ان کے گھروں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ ممتاز کشمیری رہنما یاسین ملک کی جیل میں شہادت کی افواہ اُڑ گئی تھی لیکن اب پتا چلا کہ انہیں ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے اور اُن کی حالت غیر ہے۔ ایک اور کشمیری رہنما شبیر شاہ پر جیل میں غشی کے دورے پڑ رہے ہیں اور وہ اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ دیگر کشمیری اسیروں کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ بھارت کی 8 لاکھ فوج اور پیراملٹری فورسز نے مقبوضہ کشمیر کو پہلے ہی فوجی کیمپ بنا رکھا ہے جب کہ ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے مزید فوج علاقے میں بھیج دی گئی ہے۔ اس صورت حال نے کشمیریوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ بینکوں سے اپنی جمع پونجی نکلوارہے ہیں اور گھروں میں ضروری اشیائے خوراک ذخیرہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی کیفیت نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ والی ہے۔
سید علی گیلانی نے اس سنگین ترین صورتِ حال میں جو ایس او ایس کال دی ہے وہ اگرچہ پوری اُمت مسلمہ کے لیے ہے لیکن اس کے اولین مخاطب پاکستان، اس کی مسلح افواج اور اس کے حکمران ہیں۔ پاکستان ابتدا ہی سے مسئلہ کشمیر کا فریق ثانی چلا آرہا ہے، جب کہ فریق اوّل کشمیری عوام ہیں۔ بھارت کی حیثیت ایک جارح اور غاصب قوت کی ہے جس نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کشمیریوں کے حق خود ارادی کی حمایت میں قرار دادیں منظور کرچکی ہے جنہیں تسلیم کرنے والوں میں خود بھارت بھی شامل ہے۔ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے جس کا فیصلہ بھارت نہیں کرسکتا۔ بھارت نے راجیا سبھا میں ایک بل کے ذریعے کشمیر کو اپنے اندر ضم کرنے کا جو قدم اٹھایا ہے اس کی کوئی اخلاقی و قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اب یہ پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے پوری دُنیا میں طوفان برپا کردے۔ وہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر اصرار کرے، وہ او آئی سی کے رکن ممالک کو اس پر آمادہ کرے کہ وہ سفارتی سطح پر بھارت سے شدید احتجاج کریں اور اس کو سفارتی تعلقات توڑنے کی دھمکی دیں۔ پاکستان دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں کشمیریوں کے مظاہرے منظم کرے اور عالمی میڈیا میں بھی کشمیریوں کی آواز کو موثر بنائے۔ گیلانی صاحب کی ایس او ایس کال کسی صورت بھی رائیگاں نہیں جانی چاہیے۔ پاکستان کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بھارت کے خلاف جنگ سمیت سارے آپشنز کھلے رکھے اور بھارت کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دے۔ اس معاملے میں ذرا سی غفلت بھی تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔