September 17th, 2019 (1441محرم18)

مسئلہ کشمیر حل، حق خودارادیت

 

لیاقت بلوچ

مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کے بعد سے حل طلب مسئلہ ہے۔ برطانیہ نے خطہ میں عدم استحکام کے لیے ہندوقیادت کے ساتھ مل کر انحراف کیا اور جموں و کشمیر پر بھارت کو ناجائر قبضہ کا راستہ دے دیا۔ سازش اور منافقت کے ساتھ انسانوں کے بنیادی حق، آزادی کے خلاف بہت برا اقدام تھا اسی وجہ سے آج تک پورا خطہ غیر مستحکم اور بے یقینی کا شکار ہے۔ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی اور غلط موقف کی وجہ سے عالمی استعماری قوتوں کو بار بار مداخلت، جارحیت اور اپنے ایجنڈے کے تسلط کے مواقع مل رہے ہیں۔ دوسری طرف بھارت، پاکستان، بنگلا دیش، افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے کم و بیش 2ارب انسان معاشی، سماجی اور انسانی مسائل کا شکار ہیں۔ خطہ کی اتنی بڑی آبادی بھارتی پالیسی سازوں کے غلط رویوں، بالادستی کے ہندتوا کے جنون کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا ہیں۔ بھارت ہی اپنے ملک اور ہمسایہ ممالک کے عوام کا مجرم اور انسانی قدروں کے احساس سے عاری ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی بدترین ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیری مردو خواتین، نوجوان اور طلبہ ثابت قدمی، جرأت اور دلیری کے ساتھ آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں یہ آزادی کے لیے تاریخ ساز جدوجہد ہے۔ جموں و کشمیر کے حریت پسند عوام کی قربانیاں بے مثال، مبنی بر حق اور لائق تحسین ہیں۔ ہندو برہمن کی اندھی اور وحشیانہ طاقت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو مغلوب کرنے میں ناکام ہے۔ مقبوضہ جموںو کشمیر میں آزادی کی تحریک خالصتاً مقامی تحریک ہے۔ یہ بین الاقوامی تمام اصولوں، قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔ بے مثال تحریک آزادی تمام رکاوٹوں کے باوجود آزادی اور حق خود ارادیت کی منزل جلد پالے گی۔ جموں و کشمیر کو بھارت کا اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا جھوٹ، بلاجواز اور بے بنیاد ہے۔ یہ موقف ہندوستان کی جھوٹی انا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے ایک بار پھر ہندوستانی ڈھونگ، نام نہاد انتخابات کو اپنے کامیاب بائیکاٹ کے ساتھ مسترد کردیا ہے۔ کشمیریوں کا بائیکاٹ ہندوستان سے نفرت کا مظہر اور ہندو برہمن کے ناجائز جابرانہ تسلط کے خلاف ریفرنڈم ہے۔ اس عمل سے یہ امر بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ اور مسئلہ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اس کی نگرانی میں رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کشمیریوں کا مسلمہ حق ہے۔ اقوام متحدہ اپنی ذمے داری پوری کرے، کشمیریوں کوحق خودارادیت دلایا جائے، عالمی برادری انسانی مسئلہ کے حل اور انسانی المیوں کی روک تھام کے لیے ہندوستان کو دبائو کے ذریعے راہ راست پر لائے۔ ہندوستانی قابض فوج جموںو کشمیر میں مظالم کی انتہا کررہی ہے، کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، بدترین تشدد کا شکار کردیا گیا ہے، کشمیری قیادت، مرد و خواتین، نوجوان، طلبہ و طالبات مظالم کا شکار ہیں۔ تمام بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ عالمی برادری کے غیر جانبدار مبصرین کو جانے کی اجازت نہیں اور اظہار رائے پر پابندی خصوصاً سوشل میڈیا پر قدغن ہر پہلو سے بڑھتی جارہی ہے۔ برھان مظفر وانی شہید نے جموں و کشمیر کے عوام میں آزادی کی جدوجہد کے لیے نئی لہر پھونک دی، ہر آنے والا دن آزادی کی تحریک میں شدت اور اضافہ لا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حق خود ارادیت اور آزادی کے لیے شدت پکڑنے والی تحریک کو دبانے کے لیے ریاستی دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ہندوستانی ناجائز قابض فوج کو فورسز پاور ایکٹ کے تحت تشدد، قتل و غارت گری، پیلٹ گنوں کے ذریعے انسانوں کی بینائی چھیننا، طاقت کے وحشیانہ اور بلاامتیاز استعمال اور اسرائیل کے طرز، بی جے پی اور آر ایس ایس کے تعاون سے دہشت گردی کے نت نئے طریقے استعمال کیے جارہے ہیں یہ انتہائی قابل مذمت ہیں۔ یہ ایسا المیہ ہے کہ جس پر عالمی برادری کی جانبداری اور عالم اسلام کی بے حسی سے انسانی المیوں کی المناک داستانیں رقم ہورہی ہیں۔ خواتین کی عزتیں غیر محفوظ اور عورت ہر بنیادی حق سے محروم ہے۔
جموں و کشمیر کی قیادت قید، نظر بندی، تعذیب اور تشدد کے نت نئے ہتھکنڈوں کا شکار ہے۔ سید علی گیلانی دس سال سے گھر میں نظر بند ہیں۔ سید شبیر شاہ، یاسین ملک، ڈاکٹر عبدالمجید، فیاض، آسیہ اندرابی، مسرت عالم مسلسل قید، غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں۔ خاندان سے دور اور دور دراز جیلوں میں بند ہیں۔ عزیز و اقارب، وکلا کو بھی ملنے کی اجازت نہیں۔ علاج معالجے کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق کو بار بار نظر بند کرنا معمول ہے۔ جامع مسجد سری نگر کو مقفل کر دیا گیاہے۔ نماز جمعہ وعیدین کے فریضہ کی ادائیگی روک دی گئی ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت پر عالمی برادری مجرمانہ خاموشی کا شکار، ایسی مداخلت تو مہاراجا کے شخصی جابرانہ راج میں بھی نہیں تھی۔ صورتحال یہ ہے کہ سرچ آپریشن کے نام پر بستیوں کی بستیاں تاراج کی جارہی ہیں۔ لاتعداد نوجوان لاپتا ہیں اور نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے اہداف دیے جارہے ہیں۔ جھوٹا پروپیگنڈا، عوام میں انتشار، سماج کو توڑنا، کردار کشی کے ذریعے فساد برپا کرنا ہندوستانی سرکار کا ظالمانہ شیطانی کردار ہے۔ قیادت اور تنظیمیں تو پہلے عتاب کا شکار تھیں تازہ شکار جماعت اسلامی پر بندش، جائدادوں، اثاثوں کی ضبطی ہے۔ یہ عمل سراسر غیر جمہوری اور غیر انسانی ہے۔ عالمی ضمیر جاگنے میں دیر کر رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں دلّی سرکار کی یہ خوفناک سازش کارفرما ہے کہ آبادی کا تناسب تبدیل کر دیا جائے۔ مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی خاطر ہندوستانی آئین کی دفعات 370 اور 35-A کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر میں نئی آباد کاری، کشمیری اور ہندوپنڈتوں کی الگ بستیاں بسانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ یہ بھی عجیب معاملہ ہے کہ ہندوستانی عدلیہ کشمیر کے معاملہ میں عالمی قوانین کے بجائے ہندوستانی حکومت کے تابع فرمان ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ایسا تھنک ٹینک جو آر ایس ایس کی پشت پناہی میں کام کررہا ہے، اس کے ذریعے آئینی دفعات عدلیہ میں چیلنج کی گئی ہیں، یہ ملی بھگت اور سازش ہے۔ اقوام متحدہ ہندوستان کی ریاستی طاقت کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے اقدام کو روکے۔ ہندوستانی حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے تنبیہ ہے کہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہوگی، ہندوستانی قیادت اس کھیل سے باز رہے۔
ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، او آئی سی، برطانیہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام، اجتماعی آبروریزی، جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کی شہادتیں، جبری گمشدگیوں، حراستی قتل، جان بوجھ کر پیلٹ گنوں کے ذریعے انسانوں کو بینائی سے محروم کرنا بڑا ہی المناک منظر ہے۔ بین الاقوامی ادارے ہندوستان کا ہاتھ روکیں، مجبور کریں، ریاستی دہشت گردی کے شکار مظلوم و بے بس کشمیریوں کو انصاف مہیا کریں۔ عالمی سطح پر مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر مقبوضہ کشمیر تک اس کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن کی مقبوضہ کشمیر بارے رپورٹ ہوشربا اور چشم کشا ہے۔ ہندوستان کے خلاف انسدادی اور تعذیبی اقدامات ناگزیر ہیں۔
مسئلہ کشمیر کا حل پرامن، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مسئلہ کشمیر بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اسے حل کیے بغیرپاک بھارت تعلقات کی بحالی اور جنوبی ایشیا میں امن و ترقی اور استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کور ایشو مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جاری کشیدگی پوری دنیا کے امن کے لیے خوفناک خطرات برقرار رکھے گی۔ عالمی برادری کو جانبداری اور لاتعلقی کا رویہ ختم کرنا ہوگا۔ سیز فائر لائن پر بلااشتعال فائرنگ، شہریوں کا قتل اور خلا ف ورزیاں قابل مذمت ہیں۔ ہندوستانی قیادت ہوش کے ناخن لینے کے بجائے حواس باختگی میں انسانوں کو ہی ظلم کا شکار کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر کسی ثالثی کو ہندوستان تسلیم نہیں کرتا۔ پرامن مذاکرات کے ہر دور کو ہندوستان ہی نے ناکام کیا ہے اس لیے بھارت سے کسی خیر، عقل، حل کی توقعات معدوم ہو گئی ہیں۔ ہندوستانی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو ہمہ گیر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگا۔ کشمیریوں کے مایوسی میں بدلتے جذبات کو سہارا دینا ہوگا۔ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس نے ہندوستان کے دہشت گرد چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔ موثر پالیسی، حکمت عملی، سفارت کاری پاکستان کی ذمے داری ہے۔
پاکستانی حکومت تذبذب اور بے بنیاد توقعات اور بیرونی غیبی مدد کے خوابوں سے باہر نکلے۔ حکومت اور قومی قیادت مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ریاستی دہشت گردی سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے پارلیمنٹ اور قومی قیادت کے ذریعے متفقہ قومی پالیسی و حکمت عملی ترتیب دیں۔ ہندوستان پر دبائو بڑھانے کے لیے دنیا کے سفارتی حساس مراکز خصوصاً اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل ارکان ممالک میں موثر سفارت کاری کی جائے۔ بین الاقوامی میڈیا کو دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر موثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے مضبوط قومی کشمیر پالیسی کے ذریعے آگاہ رکھا جائے۔ سوشل میڈیا طاقتور ذریعہ ابلاغ ہے، پوری قوم اور نوجوانوں کی صحیح سمت دینے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔ بار بار مذاکرات کے لیے ہندوستان کے سامنے کشکول پھیلانا غلط حکمت عملی ہے۔ مضبوط دو ٹوک قومی کشمیر پالیسی اور عالمی سطح پر موثر سفارتی حکمت عملی ہی مسئلہ کشمیر کے حل کا راستہ ہموار کرے گا۔
حکومت پاکستان نے عدم حکمت اور بے وقت اقدام سے کشمیریوں کو منفی پیغام دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اجلاس میں غیر مستقل رکنیت کے لیے پاکستان کی طرف سے بھارت کی غیر مشروط حمایت تشویش کا باعث بنی ہے۔ ایسا عمل کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ بھارت پاکستان کی سلامتی اور آزادی پر حملہ آور ہے۔ دہشت گردی کے پیچھے مودی ہے ایسے اقدام ناقابل یقین اور ناقابل قبول ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ مودی سے بات ہوچکی، کشمیر پر ثالثی کراسکتا ہوں بہت ہی معنی خیز ہے۔ کچھ معلوم نہیں کہ ٹرمپ کی ثالثی کے تھیلے میں کیا ہے۔ پاکستان ہوشیار رہے، امریکا نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کو دھوکا دیا، ہندوستان کی ہمیشہ ناجائز پشتیبانی کی، مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل صرف اور صرف کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے میں ہے۔