November 17th, 2018 (1440ربيع الأول8)

باہمت بچے۔۔۔ ہمارا مستقبل 

 

سلمان علی

اسلام یتیموں، مسکینوں، بیواؤں، بے سہارا اور غریب طبقے کو سہارا دینے، ان کی مکمل کفالت کرنے، ان سے پیار کرنے اور انہیں کھانا کھلانے، انہیں وسائل مہیا کرنے اور انہیں آسودگی فراہم کرنے کی ناصرف ترغیب دیتا ہے بلکہ معاشرے کے بے کس، محروم، نادار طبقے اور سوسائٹی کے محتاج، بے سہارا اور معصوم بچوں کی کفالت کے اہتمام کا ہدایت بھی دیتا ہے اور معاشرے کے ایسے افراد جو وسائل رکھتے ہوئے بھی اپنے مال سے یتیموں اور محتاجوں کا حصہ نہیں نکالتے ان کی نمازیں، حج و دیگر اعمال اللہ رب العزت رد فرما دیتا ہے۔
سورہ الفجر میں ارشاد ربانی ہے ’’کچھ لوگ دوزخ میں پھینک دیے جائیں گے۔ ان سے جنتی پوچھیں گے کہ تمہیں دوزخ میں کیوں ڈالا گیا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں دوزخ میں اس لیے ڈالاگیا کہ: ’’ہم اپنے مال و وسائل سے یتیموں کی کفالت نہیں کرتے تھے، انہیں معاشرے میں باعزت مقام نہیں دیتے تھے، انہیں آغوش میں نہیں لیتے تھے۔ ہمیں اپنے مال سے بہت محبت تھی، غریبوں مسکینوں سے محبت نہیں کرتے تھے‘‘۔ (سورہ الفجر آیت نمبر 17)
کہا جاتا ہے کہ آفرین ہے اس گھر پر جس میں یتیم پلتا ہو، یتیم کی حق رسی ہوتی ہو اسے شفقت وپیار ملتا ہو اور ہلاکت ہے اس گھر کے لیے جس گھر میں یتیم کی داد رسی اور اس کے حق کی پہچان نہیں ہوتی۔ مروی ہے کہ بارگاہ رسالت مآب ؐ میں ایک شخص حاضر خدمت ہوا عرض کی یا نبی ؐ ! میں ایک یتیم کی پرورش کرتا ہوں کس حد تک اس کی سرزنش کرسکتا ہوں؟ نبی مکرم ؐ نے ارشادفرمایا کہ جس حد تک اپنی اولاد کی سرزنش کرتے ہو یعنی اسے ادب سکھانے کے لیے سرزنش کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اسی طرح جس طرح ایک والد اپنی اولادکے ساتھ کرتا ہے۔
فضیل بن عیاضؓ فرمایا کرتے تھے کہ بسا اوقات یتیم (کی تربیت)کے لیے ایک طمانچہ اس کو حلوہ کھلانے سے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ فقیہؓ فرماتے ہیں کہ اگر پٹائی کیے بغیر تعلیم وادب سکھایا جاسکتا ہے تو پھر یہی مناسب ہے کہ کسی قسم کی سرزنش نہ کرے۔ یتیم کو بلاوجہ مارنا عتاب الٰہی کا سبب ہے۔ امیر المؤمنین عمر فاروقؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد گرامی ہے: جب کوئی یتیم کو مارتا ہے تو اس کے رونے سے عرش الٰہی ہل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے اے میرے فرشتوں! اس بچے کو کس نے رلایا ہے جس کے باپ کو سپرد خاک کردیا گیا ہے حالاں کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں یا ربّ العالمین! ہم نہیں جانتے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جو یتیم کو میرے لیے راضی رکھے گا میں روز قیامت اپنی طرف سے اسے خوشیوں سے مالا مال کردوں گا۔
نبی اکرم ؐ یتیموں کے سروں پر خصوصی طور پر دست شفقت رکھتے اوران کے ساتھ نرمی برتا کرتے تھے۔ عمر فاروقؓ بھی نبی کریم ؐ کی سنت کے مطابق ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
عبدالرحمن بن ابزیٰ ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام سے فرمایا: اے میرے نبی داؤد! یتیم کے لیے مہربان باپ کی طرح بن جاؤ، اور خوب جان لو جو بو گے وہی کاٹو گے اور یہ بھی یاد رکھو نیک اور وفا شعار بیوی شوہر کے لیے اس بادشاہ کی طرح ہے جو سونے کا تاج سجائے خوش باش ہو جب بھی اسے دیکھے اس کی آنکھوں کو تسکین مل جائے اور بری عورت شوہر کے لیے بوڑھے شخص پر ثقیل بوجھ کی طرح ہے۔ (تنبیہ الغافلین: فقہیہ ابو اللیث سمرقندی)
الخدمت فاؤنڈیشن مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے معاشرے کے ایسے محروم، محتاج، بے کس وبے بس یتیموں کو سہارا دینے اور ان کی مکمل کفالت کا اہتمام کیا ہے یہی دین کی اصل روح ہے۔ معاشرے کا وہ طبقہ جنہیں اللہ رب العزت نے وسائل دے رکھے ہیں ان کے وسائل میں ایسے یتیموں، بے سہارا محتاجوں اور مسکینوں کا بھی حق ہے۔
یتیم بچوں کی کفالت کے حوالے سے ’’الخدمت کفالت یتامیٰ پروگرام‘‘ کے تحت کام کر رہی ہے، جس کا مقصد یتیم بچوں کا سہارا بن کر انہیں تعلیم و تربیت اور دیگر بنیادی ضروریات کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہیں تاکہ وہ با اعتماد اور صحت مند شہری کے طور پر ملک و ملت کی ترقی میں اہم حصہ لے سکیں۔ الخدمت کفالت یتامیٰ پروگرام کے دو حصے ہیں، جن میں آغوش الخدمت ہومز کی تعمیر اور گھروں میں یتیم بچوں کی کفالت کا منصوبہ شامل ہے۔
پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اتنی بڑی تعداد میں یتیم بچوں کی کفالت کا اہتمام صرف یتیم خانے (Orphanage) بنانے سے ممکن نہیں۔ اِسی ضرورت کے پیشِ نظر الخدمت فاؤنڈیشن نے ’’آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘ کے نام سے یتیم بچوں کی کفالت کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت ایسے یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت کا اہتمام اْن کے گھروں میں کیا جارہا ہے، جو اپنے خاندان کے کفیل کے نہ ہونے کے باعث بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ بچے اپنی والدہ، نانا، چچا یا کسی بھی عزیز رشتہ دار کے ساتھ رہ رہے ہوں، اگر ان کی عمر 5 سے 15 برس ہے اور وہ اسکول جاتے ہیں تو وہ آر فن فیملی سپورٹ پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے آرفن فیملی سپورٹ پروگرام کے منصوبے کا آغاز 2012ء میں کیا۔ عوام کو اِس اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانے اور ان یتیم بچوں کی کفالت کی دعوت دینے کے لیے ملک بھر میں مہم چلائی گئی۔ الحمدللہ اِس وقت الخدمت فاؤنڈیشن ’’آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘ کے تحت تمام صوبہ جات بشمول آزاد کشمیر، گلگت و بلتستا ن اور فاٹا میں 10ہزار سے زاید بچوں کی کفالت کر رہی ہے۔ ان 10ہزارسے زاید بچوں کو ملک بھر میں 52 کلسٹر (Clusters) میں سے چْنا گیا ہے۔ ہر کلسٹر میں 1 انچارج مقرر کیا گیا ہے جسے ایف۔ ایس۔ او (فیملی سپورٹ آرگنائزر) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ فیملی سپورٹ آرگنائزر بچوں، ان کے خاندان اور تعلیمی ادارے کے سربراہ سے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ فیملی سپورٹ آرگنائزرز اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بچے اسکول جاتے ہوں۔ بچوں کو گھروں اور اسکولوں میں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور الخدمت کی جانب سے جاری کیے گئے وظائف ان بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہی استعمال ہوں۔ بچوں میں اسکول بیگ اور اسٹیشنری کی تقسیم کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اور دیگر بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ بچوں کو سیر و تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ لیکچرز، دستاویزی فلمیں اور کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، جس سے بچوں میں احساس محرومی کم کرنے میں مدد مل رہی ہے اور بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہو رہی ہے۔ ایک بچے کی کفالت پر 3500 روپے ما ہوار اور، 42000 روپے سالانہ خرچ آتا ہے جس میں اْس کی تعلیم، خواراک اور صحت کے اخراجات شامل ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن، فیملی سپورٹ آرگنائزر کے لیے بھی مختلف ٹریننگ ورکشاپس کا انعقاد کر رہی ہے، جس میں بچوں سے ہمددری، دوستانہ ماحول اور ذمے داری کا احساس اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس اہم ذمے داری کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن، کراچی سمیت سندھ بھر میں 1650بچوں کی کفالت کر رہی ہے اور اس سال 2500 بے سہارا بچوں کی کفالت کا عزم رکھتی ہے۔ یتیم بچوں کے ساتھ ساتھ اْن کی ماؤں کو ہنر مند بنانے اور چھوٹے قرضے فراہم کرنے کے لیے الخدمت مواخات پروگرام کے تحت مدد فراہم کرے گی، جس کا مقصد انہیں اْن کے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔
الخدمت کفالت یتامیٰ پروگرام میں جہاں یتیم بچوں کی کفالت ان کے گھروں پر کی جا رہی ہے وہیں یتیم بچوں کے لیے ’’آغوش الخدمت‘‘ کے نام سے اداروں کے قیام کے منصوبوں پر کام بھی جا ری ہے۔ الخدمت آغوش سینٹرز کے قیام کا مقصد والدین سے محروم بچوں کی پرورش و تربیت کے لیے قیام و طعام، تعلیم و صحت اور ذہنی و جسمانی نشو نما کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنا ہے۔ ان سینٹرز میں بچوں کے لیے رہائش، تعلیم اور صحت سمیت زندگی کی بنیادی سہولتیں بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔ اس وقت الخدمت آغوش سینٹرز اٹک، راولپنڈی، راولا کوٹ، باغ، پشاور مانسہرہ، اسلام آباد، شیخوپورہ راولپنڈی اور مری میں965بچے قیام پزیر ہیں، جب کہ کراچی، لوئر دیر، گجرانوالہ اور اندرون سندھ کے ضلع مٹیاری میں آغوش کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اِس ماں جیسی آغوش عمارت میں ان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تعلیم یافتہ انتظامی عملہ موجود ہے جو بچوں کے لیے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے صحت مند ماحول کا اہتمام کرتا ہے۔ آغوش کے قریب ہی بچوں کے لیے اسکول کی سہولت بھی موجود ہے۔
آغوش کے قریب ہی بچوں کے لیے اسکول کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ آغوش الخدمت میں کمپیوٹر لیب، لائبریری، اسپورٹس گراؤنڈ، ان ڈور گیمز اور بچوں کی نفسیاتی نشونما کے لیے مختلف لیکچرز اور تعلیمی ٹورز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک بچے پر 10000 روپے ماہانہ اور 120000 روپے سالانہ خرچ آتا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے آغوش میں جس بات کو خاص اہمیت دی وہ یہ ہے کہ بچوں کو یہ احساس نہ ہو کہ یتیم ہونا خدا نخواستہ کوئی بری بات یا عیب ہے۔ ہمارے پیارے نبیؐ بھی یتیم تھے۔ اور یہ وجہ ہے کہ الخدمت کے زیرِ کفالت بچے احساس کمتری کے بجائے پْر اعتماد رہتے ہیں۔