November 17th, 2018 (1440ربيع الأول8)

مزدوروں کی حامی ۔۔۔ جماعت اسلامی

 

حامد ریاض ڈوگر


کم و بیش نصف صدی قبل کی بات ہے 1970ء کے عام انتخابات سے پہلے کا زمانہ تھا۔۔۔ گلیوں اور بازاروں میں دیواروں پر ایک نعرہ لکھا نظر آتا تھا ’’غریبوں کی حامی۔۔۔ جماعت اسلامی مزدوروں کی حامی۔ جماعت اسلامی‘‘۔ لیکن غریبوں اور مزدوروں نے اس نعرے پر یقین کرنے، اس کی پکار پر لبیک کہنے سے انکار کر دیا وہ ایک اور نعرے کے جھانسے میں آ گئے، جس کا لگانے والا ملک کا سب سے بڑا جاگیردار تھا مگر وہ بھی غریبوں کے حقوق کا علم بردار تھا۔ وہ عوام کو ’’روٹی۔ کپڑا اور مکان‘‘ دلوانے کا دعوے دار تھا حالاں کہ وہ خود جاگیردار ہی نہیں تھا اس کے دائیں بائیں کھڑے اس کے ساتھی بھی ایک سے بڑھ کر ایک سرمایہ دار تھے یہ طرفہ تماشا تھا کہ غریبوں کا استیصال کرنے والے ہی غریبوں کے ہمدرد اور غم گسار بن کر میدان میں اترے اور پھر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے اپنے سرمایے کے بل پر جھوٹ کا وہ طومار باندھا اور پروپیگنڈے کا وہ طوفان برپا کیا کہ 1970ء کے انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو ’’بانگ درا‘‘ میں علامہ اقبال ؒ کے اس فرمان کی صداقت ایک بار پھر ثابت ہوگئی ؂
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
کہنے کو 1970ء کے انتخابات کو نصف صدی بیت چکی اور قوم اب بہت ’’باشعور‘‘ ہو چکی ہے مگر ذرائع ابلاغ اور سماجی ابلاغیات کی تمام تر ترقی اور عوام کے بے پناہ ’’باشعور‘‘ ہو چکنے کے باوجود انتخابی سیاست کے حقائق میں ذرا برابر تبدیلی نہیں آئی، آج بھی وہی حیلے ہیں پرویزی اور قوم کی بدحالی اور زوال پزیری کے سب سے زیادہ ذمے دار بدعنوان عناصر ہی قوم کی دست گیری کے علم بردار ہیں۔ وہی سرمایہ دار اور جاگیردار آج بھی کبھی ایک نام سے اور کبھی دوسرے نام سے قوم کے سراور ذہنوں پر مسلط ہیں۔ قیادت کے منصب پر براجمان ہیں، خود ارب اور کھرب پتی ہونے کے باوجود غریب عوام کے ترجمان ہیں اور عوام بھی حقائق کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود آج بھی انہی فریب کاریوں کے دام فریب میں مبتلا ہیں۔ اس طرز عمل کا نتیجہ بھی سامنے ہے کہ مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، مصائب بڑھ رہے ہیں۔ گھروں اور ذہنوں کا سکون غارت ہو چکا ہے مگر ہم بحیثیت مجموعی اپنی روش بدلنے اور اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کے لیے تیار ہیں۔۔۔!!
کون نہیں جانتا کہ جماعت اسلامی کی قیادت ہی ہے جس کا دامن ہر طرح کی بدعنوانی سے پاک ہے۔ ان میں کوئی سرمایہ دار اور جاگیردار نہیں بلکہ مرکزی امیر سے لے کر وارڈ ناظم تک سب عام اور عوام میں سے ہیں، آسمانی آفات اور مصائب کے مواقع پر سب سے پہلے جماعت اسلامی کے کارکن ہر مصیبت زدگان کے بچاؤ کی تدابیر کرتے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے نعرے تو عوام کے ارب پتی اور کھرب پتی قائدین لگاتے ہیں مگر عملاً جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کے طول و عرض میں سب سے زیادہ تعلیمی ادارے اور اسپتال غریب عوام کے بچوں کے لیے قائم کیے ہوئے ہے۔ یتیموں اور بیواؤں کے لیے الخدمت کی ’’آغوش‘‘ وا رکھنے والی اکلوتی سیاسی جماعت۔ جماعت اسلامی ہے۔ اس سب کے باوجود انتخابی نتائج وہی ’’ڈھاک کے تین پات‘‘ کی صورت ہی سامنے آتے ہیں۔!!!
داد کے قابل ہیں جماعت اسلامی کے قائدین اور کارکنان کہ وہ ان مایوس کن حالات اور بار بار کے حوصلہ شکن انتخابی نتائج کے باوجود وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیں؟‘‘ کے پر عزم اور جرأت مندانہ طرز عمل پر کاربند ہیں۔ سبب اس کا شاید یہ ہے کہ انہیں اپنے خالق و مالک کی اس یقین دہانی پر ایمان کامل ہے کہ: ’’لاتقنطو من الرحمۃ اللہ‘‘ چناں چہ وہ ہر طرح کے سرد و گرم حالات میں کلام ربیّ کے دکھاتے ہوئے صراط مستقیم پر رواں دواں ہیں!!!
ابھی کل کی بات ہے یکم مئی کو ’’یوم مزدور‘‘ منایا گیا۔ اس موقع پر چھوٹی بڑی ہر سیاسی جماعت کے قائدین نے دل خوش کن بیانات جاری کیے بعض جماعتوں نے ریلیوں کا اہتمام بھی کیا جن میں سرخ پرچموں کے زیر سایہ تقاریر اور نعروں میں مزدوروں کے مطالبات کے لیے تن من دھن وار دینے کے اعلانات کیے گئے، مگر ان نعروں اور تقاریر کے دوران بھی مجال ہے قائدین اور محنت کشوں کے درمیان موجود فاصلہ میں کمی آنے دی گئی ہو۔ جی
ہاں ۔۔۔ ’’سیکورٹی‘‘ اور ’’پروٹوکول‘‘ کے تقاضوں کا خیال رکھنا بھی تو لازم ہے مگر اس مجموعی اور عمومی روش میں ایک فرد، ایک لیڈر، ایک قائد، ملک کے ایوان بالا کا ایک رکن۔ ایک صوبے کا دو بار وزیر خزانہ رہنے والا رہنما ایسا بھی تھا جس کے لیے کسی ’’پروٹوکول‘‘ کا کوئی مسئلہ تھا اور نہ ہی ’’سیکورٹی‘‘ کے تقاضے اس کے آڑے آئے اور وہ صرف محاورے کی زبان ہی میں نہیں فی الحقیقت غریبوں اور محنت کشوں میں گھل مل گیا اور اس کا یہ عمل کسی کو بھی مصنوعی اس لیے محسوس نہیں ہوا کہ وہ پہلی بار ایسا نہیں کر رہا تھا یہ اس کا روز مرہ کا معمول ہے۔ وہ ایک مزدور کا بیٹا ہے اور خود بھی محنت مزدوری کرتا ہوا بڑا ہوا ہے وہ ہمارے دیگر قائدین اور رہنماؤں کی طرح منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوا ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی بنا پر قیادت کے منصب کا حق دار نہیں ٹھیرایا گیا بلکہ اس کی اہلیت اور صلاحیت نے اس کو اس منصب جلیلہ تک پہنچایا ہے۔ منصب دینے سے قبل اس کے ساتھیوں نے خوب ٹھوک بجا کر اسے آزمایا ہے۔ وہ خود کبھی اس منصب کا طلب گار نہیں پایا گیا، اگر ایسا ہوتا تو یہ اس کی نااہلی کی دلیل قرار پاتا۔ بہرحال آج وہ ملک کی منظم ترین جماعت کا امیر ہے حالاں کہ وہ جماعت کے ارکان کی اکثریت کے مقابلے میں غریب ہے اور آج بھی اس کی رہائش گاہ دیگر قائدین کے برعکس ایکڑوں اور مربعوں پر محیط نہیں بلکہ چند مرلوں پر مشتمل ہے وہ ’’خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر‘‘ کی روشن مثال ہے کہ اس کی جماعت میں ’امارات‘ کے لیے امیری معیار نہیں۔ اہلیت، صلاحیت اور تقویٰ جیسی خوبیاں لازم ہیں۔
یہ لیڈر، یہ قائد، یہ رہبر، یہ رہنما امیر جماعت اسلامی سراج الحق ہے جس نے یوم مئی منفرد انداز میں منایا اور گفتار ہی نہیں کردار سے بھی یہ ثابت کیا کہ وہ مزدوروں میں سے ہے، مزدوروں کے مسائل و مصائب کو سمجھتا اور ان کے حل کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ وہ دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرح دور دور سے محنت کی عظمت کے نعرے نہیں لگاتا۔ اسے مزدور سے ہاتھ ملا لینے کے بعد جراثیم کش صابن سے ہاتھ دھونے کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ وہ اس یقین سے مالا مال ہے کہ: ’’دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے‘‘۔ اپنے اس یقین کی بدولت سینیٹر سراج الحق نے یکم مئی کا دن اپنے محنت کش ساتھیوں سے عملاً یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے گزارا۔ دن کا آغاز امیر جماعت کی حیثیت سے منصورہ میں اپنی جماعت کے مرکزی دفاتر کی صفائی، سیکورٹی اور دیگر عملہ کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ سے کیا اس موقع پر فرداً فرداً اپنے ان کارکنوں کے مسائل سنے اور محض سننے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ موقع پر ہی ان کے حل کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔۔۔!!!
منصورہ سے فراغت کے بعد سینیٹر سراج الحق ریلوے واشنگ لائن پہنچے جہاں انہوں نے بوگیوں کی صفائی میں مصروف ریلوے محنت کشوں کے کام میں عملاً ہاتھ بٹایا اور پھر وہیں مزدوروں اور قلیوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا جس کے دوران ہلکی پھلکی بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہا اور امیر جماعت ریلوے کے ان نچلے درجے کے کارکنوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرتے رہے۔ ان کی ریلوے واشنگ لائن آمد کی اطلاع ملنے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی وہاں پہنچ گئے چناں چہ اس موقع پر ان سے بھی گفت گو ہوئی۔ جس کا بڑا حصہ برقی ذرائع ابلاغ سے نشر اور اخبارات میں شائع ہو چکا ہے اور یوں بھی اس سے کہیں زیادہ دل خوش کن بلکہ گمراہ کن تقاریر ’’بڑی‘‘ سیاسی جماعتوں کے ’’بڑے‘‘ قائدین نے بھی یوم مئی پر فرمائیں مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان میں سے کسی کو بھی اپنی ٹھنڈی ٹھار آرم گاہوں اور بلٹ پروف ائر کنڈیشنڈ گاڑیوں سے نکل کر محنت کشوں سے ہاتھ ملانے اور ان کی بات سننے کی توفیق ملی اور نہ ہمت کہ یہ انہیں کا کام ہے جن کے حوصلے سے زیاد، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ؂
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد، خدائے بخشندہ
عام انتخابات کا معرکۂ خیر و شر ایک بار پھر برپا ہونے کو ہے، غریبوں اور مزدوروں کی سچ مچ کی حامی، جماعت اسلامی اپنے نیک سیرت، ہر طرح کی برائیوں، بدعنوانیوں، جھوٹ، مکر، فریب جیسی آلائشوں سے پاک، خدمت گزار، محنتی اور با صلاحیت نمائندے عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ فیصلہ قوم کو کرنا ہے کہ وہ ان بے داغ کردار کے حامل افراد کے حق میں رائے دیتی ہے یا ماضی کی طرح علاقائی لسانی اور فرقہ ورانہ تعصبات اور برادری ازم کے پھندوں کی شکار ہوتی ہے۔۔۔!!!