September 19th, 2018 (1440محرم8)

ووٹ :نوٹ اوربریانی کی پلیٹ کے لیے نہیں۔۔۔

 

غزالہ عزیز 

2017ء میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 78 لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے، جس میں مردوں کی تعداد 10 کروڑ 65 لاکھ ہے اور عورتوں کی تعداد بس ذرا ہی کم یعنی 10 کروڑ 14 لاکھ ہے۔ اس کا ایک فوری اور موثر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر انتخابات میں خواتین ووٹ دینے گھروں سے نکل گئیں تو نتائج پر پوری طرح اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انتخابات پر اثر انداز ہونے کے سلسلے میں اس وقت ایک بڑی بحث نئی حلقہ بندیوں کے سلسلے میں بھی چل رہی ہے۔ اگرچہ مارچ میں مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ وقت کی قلت کے باعث نئی حلقہ بندیاں ممکن نہیں ہوں گی، ورنہ عام انتخابات وقت پر ہونا مشکل ہوجائیں گے۔ لیکن اب حلقہ بندیوں کا مسئلہ حل کرلیا گیا، 2018ء کے الیکشن کے لیے کی جانے والی حلقہ بندیوں نے سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے لیے البتہ مسائل پیدا کردیے ہیں، یہاں تک کہ کچھ سیاست دان ٹکٹوں کی غیر یقینی صورت حال کے باعث اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہورہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنی انتخابی حکمت عملی پر غور کررہی ہیں۔
پنجاب سے سات سیٹیں کم ہونے سے امیدواروں کو پریشانی لاحق ہے۔ برادریوں کے لگے بندھے حلقے متاثر ہونے کے باعث کہیں کہیں امیدوار دو اور حلقہ ایک ہوگیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال ہے کہ یہ حلقہ بندیاں سراسر (ن) کو نقصان پہنچانے کے لیے کی گئی ہیں۔ یہ بعض جگہ نظر بھی آرہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ٹکٹ نہ ملنے کے خدشے کے باعث تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے میاں طارق اپنی پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تو انہوں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں عمران خان کو سونے کا تاج اور چاندی کا بلا تحفے میں دیا۔ انہیں پارٹی بدلنے کے باوجود اپنے ووٹروں پر اعتماد ہے کہ برادریوں کا معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے آبادی میں اضافے کے باوجود قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا لیکن نقشوں سے لے کر صوبوں کی نشستوں کی تعداد تک تبدیلی تو کی ہے۔ یہ تبدیلیاں اگلے اندازاً دس سال تک قائم رہیں گی یعنی جب تک نئی مردم شماری نہیں ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے کرنے کے اور بھی بہت سے کام ہیں، مثلاً انتخابات میں استعمال ہونے والے ’’کالے دھن‘‘ کو روکا جائے جس کے ذریعے الیکشن پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔ مثلاً قرضے، کیش پے منٹ، ٹھیکیداروں کے ذریعے ووٹروں میں رقم کی تقسیم، مخالف امیدوار کو وفاداریاں خریدنے یا انتخاب سے دستبردار ہونے کے لیے پیشکش، مخالف امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو رقم کی پیشکش تا کہ وہ اندرون بوتھ ہونے والی بے قاعدگی اور دھاندلی پر خاموش رہیں۔
اس کے علاوہ میڈیا پر خبریں چلانے کے لیے تو بڑی رقوم کی ضرورت ہوتی ہے، جسے اسی کالے دھن سے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس وقت حکومت نے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی ہوئی ہے، حکومت ختم ہونے میں 2 ماہ سے کم مدت ہے، اس وقت اس اسکیم کو عجلت میں متعارف کرانے کی کیا ضرورت تھی؟؟۔
سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں ووٹ کی خریداری کے معاملات سب کے سامنے ہیں۔ اب بھی انتخابی جوڑ توڑ کے نام پر ارکان اسمبلی ایک جماعت سے دوسری جماعت کا رُخ کررہے ہیں۔ جسے تجزیہ کار ایک معمول کی بات کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے پچھلے ہفتے سرکاری اشتہارات سے متعلق ازخود نوٹس لیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہے ’’انتخابات سے قبل ترقیاتی اخراجات پر پابندی لگائی جاسکتی ہے، ہم قوم کا پیسہ ووٹ مانگنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں‘‘۔ سرکاری وکیل نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ پچھلے 3 ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے 90 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے جن میں تصاویر بھی دی گئی تھیں۔ غور کیجیے کہ یہ معاملہ صرف 3 ماہ کا ہے۔ انتخابی مہم میں فنڈ کے انتظام کا ایک ذریعہ پارٹی ٹکٹ ہے۔ حکومتوں کی جانب سے ترقیاتی اسکیموں کا اعلان آزاد امیدواروں کی حمایت پر ملنے والا فنڈ جو عموماً ابتدائی طور پر سونے کے تاج اور چاندی کے بلے کی صورت میں ہوسکتے ہیں۔ ہمیشہ اقتدار کی غلام گردشوں میں چکر لگانے والے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے حقیقی معنوں میں پاکستان میں جمہوریت پنپنے ہی نہیں دی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں میں خاندانی تسلط ہے جو انہیں اندرونی جمہوریت سے دور رکھتا ہے۔ جماعتوں کے اندرونی انتخابات کے سلسلے میں اگر کسی جماعت کی مثال دی جاسکتی ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے، جہاں نہ اقربا پروری ہے، نہ سرمایہ داری کا سفینہ ساحل مراد پر پہنچ پاتا ہے۔ خالص اخلاص نیت کے ساتھ کارکن سے لے کر امیر تک بغیر کسی ذاتی فائدے کے وقت، مال اور قابلیت کی جمع پونجی لیے لبیک کہتے نظر آتے ہیں۔ صادق اور امین کا لقب اسی جماعت کو ملک کی سب سے بڑی عدالت کی طرف سے ملتا ہے۔ لہٰذا کرپشن کے خاتمے کے لیے پاکستان کے عوام کو اس مرتبہ یہ سوچ لینا چاہیے کہ ووٹ، نوٹ اور بریانی کی پلیٹ کے لیے نہیں پاکستان کے لیے دیا جائے گا۔