April 19th, 2019 (1440شعبان14)

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

امیر جماعت اسلامی پاکستان

مزدوروں کے عالمی دن یکم مئی کے موقع پر ہر سال سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر ملک بھر میں تعطیل ہوتی ہے اور تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، ان تقریبات، سیمینارز اور جلسے جلوسوں میں مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ مزوروں کو درپیش مشکلات کو کم کرنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی راہ میں جو بھی رکاوٹیں ہیں انہیں دور کیا جائے گا، اسی طرح کے نعروں، وعدوں اور دعوؤں میں آٹھ گھنٹے کا دن گزر جاتا ہے اور جونہی سورج غروب ہوتا ہے، رات کی سیاہی چھاتی ہے تو مزدور کا مقدر پھر انہی تاریکیوں میں گم ہوجاتا ہے۔ محض یکم مئی کو یوم مزدوراں منا لینے سے مزدوروں کے مسائل حل نہیں ہوتے، مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور تعلیم صحت چھت اور روز گار کی ضمانت اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ لیبر قوانین بھی صرف رجسٹرڈ مزدوروں کی تعداد کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں حالاں کہ کھیتوں میں دن بھر محنت کرنے والے، اینٹوں کے بھٹوں پر خون پسینہ ایک کرنے والے، ہوٹلوں اور ورکشاپوں میں کام کرنے والے کروڑوں مزدور ایسے ہیں جن کو کبھی کسی ادارے نے رجسٹرڈ نہیں کیا۔ یہاں مزدور محنت کش اور کسان کی محنت کا پھل سرمایہ دار اور جاگیردار کھاتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ مزوروں اور کسانوں کے حقوق غصب کرنے والا ٹولہ ہی ان کی وکالت کی ڈراما بازی کرکے انہیں بار بار دھوکا دیتا ہے۔ ہمارا اصل ہدف یہ ہے کہ محنت کشوں کی محنت کا پھل جس پر ان کے بچوں اور گھر والوں کا حق ہے کسی جاگیر دار اور وڈیر ے کو نہ کھانے دیا جائے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر مزدوروں کو کارخانوں اور کسانوں کو زمینوں کی پیداوار میں حصہ دار بنائے گی۔
اس وقت ملک میں بجلی اور گیس کا سنگین بحران ہے جس کی وجہ سے کارخانے اور صنعتی یونٹ شدید دباؤ کا شکار ہیں، کارخانوں اور فیکٹریوں کو تالے لگ رہے ہیں، ہزاروں مزدور بے روزگار ہورہے ہیں جس کے اثرات ان سے وابستہ خاندانوں اور زیر کفالت لاکھوں افراد پر پڑ رہے ہیں، ہزاروں نوجوان حالات سے تنگ آکر ملک سے باہر بھاگ رہے ہیں اور قانونی و غیر قانونی طریقوں سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جس کا اکثر بڑا بھیانک انجام ہوتا ہے، کچھ لوگ دوسرے ممالک کی سرحد پر پکڑے جاتے ہیں اور پھر ساری عمر بیرونی جیلوں میں گزار دیتے ہیں، کچھ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور کچھ بارڈر فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ توانائی کے اس بحران سے نکلنے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات نہیں کررہی، حکومت کی ساری توجہ میٹرو، اورنج لائن ٹرین، سڑکیں اور پل بنانے پر مرکوز ہے حالاں کہ ان کے بغیر بھی کام چل رہا تھا، یہ منصوبے عیاشی کے زمرے میں آتے ہیں، عوام کی بنیادی ضروریات تعلیم، صحت، روز گار، چھت اور امن عامہ کا قیام اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام شعبوں میں حکومت بری طرح ناکام نظر آتی ہے اور ہر شعبہ زبوں حالی کی تصویر بن چکا ہے۔ بے روز گاری مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تعلیم سرکاری شعبے سے نکل کر پرائیویٹ سیکٹر میں چلی گئی ہے اور یہ اتنی مہنگی ہے کہ ایک متوسط طبقہ کے لیے اس کا حصول ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری فیسوں اور مہنگی کتابوں اور کاپیوں کی وجہ سے ہر فرد پریشان ہے۔ ایک مزدور اور دیہاڑی دار شخص تو ان اسکولوں میں بچوں کو پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ صحت کے شعبہ کی حالت اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہے اور سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے سہولتیں ہیں اور نہ آبادی کے حساب سے سرکاری اسپتال موجود ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر ہیں نہ ادویات دستیاب ہیں۔ بڑے سرکاری اسپتالوں میں ایک ایک بستر پر دو دو تین تین مریض پڑے ہوتے ہیں۔
اب میں گوادر کے ہزاروں ماہی گیروں کو درپیش مشکلات کی طرف آتا ہوں۔ پاک چائنا اقتصادی راہ داری بلا شبہ گیم چینجر اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے ایک انقلابی منصوبہ ہے جس سے علاقے کی تقدیر بدل جائے گی، لیکن کیا تقدیر ہمیشہ سرداروں، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں ہی کی بدلتی رہے گی یا اس کا کوئی فائدہ غریب مزدور کو بھی پہنچے گا۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ کھانا سب سے پہلے ان لوگوں کو ملے جو بھوک سے نڈھال ہیں لیکن یہاں سب سے پہلے کھانے پر وہ ٹوٹ پڑتے ہیں جن کی پہلے ہی توندیں نکلی ہوئی ہیں۔
سیکڑوں سال سے گوادر ماہی گیروں اور چھوٹے مچھیروں کے لیے مچھلی کی ایک قدرتی شکار گاہ ہے، مچھلی نہ صرف دنیا بھر میں انسانی خوراک کے طور پر استعمال ہوتی ہے بلکہ یہ انسانوں کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر تقریباً 12 کروڑ سے زاید افراد کلی یا جزوی طور پر مچھلی کے کاروبار سے منسلک ہیں، مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرنے میں اس شعبے کا اہم کردار ہے پاکستان کا ساحل 1050 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس میں 750 کلومیٹر بلوچستان اور 330 کلومیٹر تک سندھ ہے۔ ماہی گیری پاکستان کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے مچھلی پاکستان کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے مچھلی اور مچھلی سے بنی مصنوعات کی برآمدات تقریباً 84493 میٹر ک ٹن تک پہنچ چکی ہے جس کی قیمت تقریباً 7.9 ارب روپے بنتی ہے مچھلی سے بنی ہوئی اشیاء تقریباً 30 سے 35 پورپین ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں جب کہ کچھ ممالک جاپان، امریکا، چین، ملائشیا، سنگاپور مچھلی سے تیار شدہ اشیاء درآمد کرتے ہیں۔ سی پیک اور بندر گاہ بننے سے ان غریب مچھیروں کو روزگار کے لالے پڑ گئے ہیں، ان کا معمولی روز گار بھی ان سے چھینا جارہا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ماہی گیری کے شعبے سے 395000 افراد منسلک ہیں۔ اتنا اہم شعبہ حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ بظاہر وفاقی اور صوبائی سطح پر محکمہ فشریز کا ادارہ قائم ہے لیکن یہ محکمہ ماہی گیروں اور ماہی گیری کے تحفظ کے بجائے ماہی گیروں کے لیے مستقل درد سر بن چکا ہے اور ماہی گیر محکمہ فشریز کے اقدامات سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سمندری طوفانوں میں سمندر کے اندر جاں بحق ہونے والے ماہی گیروں کے بچوں کو مالی امداد فراہم کی جائے اور ان کے بچوں کی سرپرستی کی جائے۔ ماہی گیروں کے روزگار کو مزید بہتر بنانے، ماہی گیری کے آلات خریدنے کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ وہ ماہی گیر جو غلطی سے کسی ملک میں سرحد پار چلے جاتے ہیں ان کے خاندان کی مالی امداد کی جائے اور ان کی رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ بینڈ سیزن (جون، جولائی) میں ماہی گیروں کے لیے راشن وغیرہ کی مد میں سبسڈی کا اعلان کیا جائے۔ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے فشریز ویلفیئر بورڈ قائم کیا جائے۔ ان ماہی گیروں کو گزارہ الاوئنس فراہم کریں جو ضعیف العمری یاکسی بیماری کی وجہ سے کام نہیں کر سکتے۔ کشتی سازی کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ کشتی سازوں کو جدید سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کی سرپرستی کی جائے۔ ماہی گیروں کے بچوں کو مختلف محکموں کی آسامیوں کے لیے روزگار دینے کے لیے ایک کوٹا مقرر کیا جائے۔ مچھلی کے انڈوں کے موسم میں ماہی گیری پر مخصوص علاقوں کی بنیاد پر پابندی لگائی جائے۔ ماہی گیر ی شعبے کو ادارہ جاتی قرضے میسر نہیں اس سلسلے میں ماہی گیروں کے لیے علیحدہ فشریز ڈویلپمنٹ بینک قائم کیے جائیں جن کے ذریعے سے ماہی گیروں کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔