August 4th, 2020 (1441ذو الحجة15)

اقبال اوراسلام کی نشاتِ ثانیہ

پروفیسر خورشید احمد

علامہ اقبال ایک ہمہ گیر صاحب ِکمال اور غیرمعمولی ذہانت کے حامل جوہرِقابل تھے۔ ایک بڑے چمکتے دمکتے ہیرے کی مانند ان کی شخصیت کے بے شمار پہلو نظر کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی شاعری کے حُسن کمال اور ہنر کی خوب صورتی سے متاثر ہیں۔ کچھ ان کے علم کی وسعت اور خیالات کی گہرائی سے متاثرہیں، جب کہ کچھ ان کی فلسفیانہ سوچ اور سیاسی زکاوت و فراست سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔لیکن،جب عصری تاریخ کا ایک طالب علم اقبال پر نظر ڈالتا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک عظیم شاعر، علاوہ ازیں ایک تیزفہم اور دُوراندیش سیاست دان اور ایک معززونام ورفلسفی بھی تھے،مگر ان سب سے بڑ ھ کر وہ اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے بانی تھے۔ درحقیقت اسی میں ان کی حقیقی عظمت پوشیدہ ہے۔
مسلم معاشرہ ایک طویل عرصے سے انحطاط کے دور سے گزر رہا تھا۔ جس انتشار نے ’تحریکِ خلافت‘ کے خاتمے پر جنم لیا تھا،اس نے بتدریج اسلامی تہذیب وثقافت کی بنیادوں کو نگل لیا اور اس پر مصائب و پریشانیوں پر مشتمل مایوسی اور شعوری مدہوشی کی تاریک رات چھا گئی۔ تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ گئیں اور سیاسی قوت مضمحل ہوگئی۔اگرچہ مختلف اصلاحی تحریکوں نے جنم لیا اور بہت سے اصحاب فکر نے بھی مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے علاوہ مسلم معاشرے میں ایک نئی زندگی کی روح پھونکنے کی کوشش کی مگر انھیں بہت کم کامیابی نصیب ہوئی۔ اس صورت حال کا انتہائی المیہ یہ تھا کہ اب اسلام ایک سیاسی وتہذیبی متحرک قوت نہیں رہا تھا۔اب اسلام،محض چند مذہبی رسوم ورواج کا ملغوبہ بن کر رہ گیا تھا، اور المیہ تو یہ تھا کہ اس کے پیروکار بھی اسے تہذیب وتمدن کی نشوونما کے عنصر کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔یہ ایک افسوس ناک صورتِ حال تھی۔ مزید خرابی یہ ہوئی کہ جب انگریزوں نے ہندستان پر قبضہ کر لیا تو انھوں نے نہایت ہوشیاری سے اس خطے پر مغربی تہذیب وتمدن مسلط کر دیا اور یوں بے شمار مسائل پیدا ہوتے چلے گئے۔ مغرب کی سیاسی ومعاشی برتری اور نظام تعلیم نے ہندستان کے مسلمانوں میں غلامانہ ذہنیت پیدا کر دی۔ وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو گئے۔ان کے سیاسی اعتماد کی آخری نشانیاں بھی مٹ گئیں اوران کی بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
نئی بیداری کی علامات اس وقت افق پر نمودار ہوئیں جب کامریڈ،الہلال اورزمیندار نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت اور مدہوشی سے جگایا اوران میں حرکت کرنے اور اپنا فرض ادا کرنے کا حوصلہ پیدا کیا۔تحریکِ خلافت ایک عظیم نعمت ثابت ہوئی۔اس نے مسلمانانِ ہند کے جذبات کو مہمیز بخشی او ران کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سیاسی جدوجہد اور تہذیبی انقلاب کے دور میں داخل ہوجائیں۔لیکن یہ نئی بیداری کسی بھی مناسب عقلی اور فلسفیانہ بنیادوں سے محروم تھی۔یہ اقبال ہی تھے جنھوں نے یہ بنیادیں مہیا کیں۔وہ ہندستان میں اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے ہدی خواں تھے۔

اقبال کی تشخیص
اقبال واضح نظریے کے حامل اور تحقیقی ذہن کے مالک تھے۔انھوں نے مسلم معاشرے کے حالات کا مطالعہ کیا اور ان کمزوریوں وامراض کا ادراک کیا جو مسلم معاشرے میں سرایت کر چکے تھے۔ وہ انتہائی واضح طور پرمغربی تہذیب وثقافت کے دُور رس اثرات کوسمجھ چکے تھے اور انھوں نے نوشتۂ دیوار پڑھ لیا تھا۔انھیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کے نقطۂ نظر میں انقلابی تبدیلی،وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اگرانھوں نے اپنے دور کے عظیم چیلنج کو نظرانداز کیا، تو وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے اور تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے جائیں گے۔
اس ضمن میں اقبال کی تشخیص یہ تھی کہ تہذیبی وثقافتی انحطاط کے ایک طویل عرصے کے علاوہ جدید مغرب کے اثرونفوذنے مسلم معاشرے کی چولیں ہلا دی ہیں۔مسلمان اس لیے زوال پذیر ہوئے کیونکہ انھوں نے اسلام کو ترک کر دیا اور انھوں نے اتباع اور عدم فعالیت کی آسان زندگی اپنالی۔ مغرب کے زیرِ اثر رہتے ہوئے اپنی اقدار پر ان کا اعتماد متزلزل ہو گیا اور وہ مغربی طرزِ زندگی اپنانے لگے۔مزیدبرآں ان میں احساسِ کمتری پیدا ہوگیا، جب کہ سماجی زندگی اور مذہبی اقدار کے درمیان کدورت پیدا ہو گئی۔غیراسلامی تصوف نے فعالیت کے پَر مزید کاٹ دیے اور مسلمانوں کی حالت مزید ابتر ہوگئی۔یہ حالات کا درست ادراک اور تشخیص تھی اور اقبال نے مسلمانوں کو انحطاط کی دلدل سے نکالنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاںصرف کر دیں۔
مغرب کے متعلق نیا انداز فکر سب سے پہلے اقبال نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ مغرب کے متعلق اپنے اندازفکر پر نظرثانی کریں۔انھوں نے کہا کہ یورپ میں سب اچھا نہیں۔انھوں نے مغربی تہذیب وثقافت کے بنیادی اصولوں کا تنقیدی جائزہ لیا اور ان کی گمراہ کن نوعیت کو بے نقاب کیا۔انھوں نے ان لوگوں پر تنقید کی جو اندھادھندمغربی تہذیب وثقافت کی تقلید کررہے تھے۔ اقبال نے انھیں کہاکہ وہ اس ضمن میں استدلال اور ادراک سے کام لیں۔اپنے انگریزی خطبات میں انھوں نے کہا: ’’ہمارے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ جدید علم کے متعلق قابل احترام لیکن آزادانہ طرزعمل اپنائیں‘‘۔
انھوںنے اس خوف کا اظہار کیا:’’ یورپی تہذیب وتمدن کا خیرہ کن ظاہر ہمارے وقت کو اپنے حصار میں لے سکتا ہے‘‘۔انھوں نے مغرب کے مادی تہذیب وتمدن کے تباہ کن اثرات اور الحادوبے دینی کے خطرات سے خبردار کیا۔وہ اپنی نظمـ’پس چہ بایدکرداے اقوامِ شرق‘ میں کہتے ہیں: