September 19th, 2019 (1441محرم19)

طیبہ عاطف سے خصوصی بات چیت

 

انٹرویو: غزالہ عزیز

ڈائریکٹرشعبہ تعلیم جماعت اسلامی جماعت اسلامی پاکستان (حلقہ خواتین)طیبہ عاطف سے خصوصی بات چیت   

  • 50 کا لجز قا ئم کیے گئے ۔
  • پرا ئمری اسکو لز کو بھی Elementry کے درجے میں لایا گیا ۔
    O Elementry اسکو لز کو secondary اور Higher secondary
    تک upgrade کیا گیا ۔
  • تمام اسکو لز میں Computer labs قائم کی گئیں ۔
    O Science lab کے لیے خصو صی گرا نٹ منظور کروائی گئی۔
  • نظر یہ پاکستان اور پیشہ ورا نہ تربیت پر مبنی کو ر سز تمام اسا تذہ کو کروائے گئے ۔
  • سر کاری اسکو لو ں میں شفا ف طریقہ سے مفت نصا ب طلبہ تک فرا ہم کرنے کے نئے
    تا ریخی سلسلے کا آ غا ز کیا گیا۔ گو یا ر یا ست نے بنیا دی تعلیم کو مفت اور آ سان بنا دیا ۔
  •  اسکو لو ں اور کا لجز کی عما ر تو ں کی تعمیر نو کر وائی گئی ۔
  •  اسا تذہ کے مشا ہرے میں ترقی دی گئی ۔
    اسکے علا وہ جب بھی بغیر حکو مت کے چند ارکان بھی جما عت اسلامی میں قومی / صو بائی اسمبلی یا کو نسلر ز و غیرہ کے منتخب ہو ئے انہو ں نے تعلیم کے مو ضو ع پر قرا ر داد اور بلز و غیرہ پیش کیے ۔ نیز عملی تجا ویز تعلیم کی بہتری کے لیے جمع کروائی گئی۔

٭ جما عت اسلا می پا کستا ن تعلیمی میدان میں ہمہ جہتی جدو جہد کر رہی ہے۔ مثلََا تعلیم و تر بیت پر
تحقیق و تجزیہ جو مختلف ادا رہ جات کا تخصص ہے مثلََا IPS ، ادارہ معا ر ف اسلامی، آ فا ق اور ERI و غیرہ ۔
٭ اساتذہ کی ٹریننگ، اساتذہ کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد مثلََا اساتذہ کے مشاہرے میں اضا
فے کی کو ششیں، اسا تذہ کی تر قی کے موا قع کے حصو ل کے لیے عملی کوششیں اور اساتذہ کی کار کر دگی
کو بہتر بنانے کے لیے کو ششیں و غیرہ ۔
٭ عصری علوم کے لیے تعلیمی ادا رو ں کا ہزاروں کی تعداد میں قیام مثلََا عثمان پبلک سسٹم،
حرا پبلک اسکول ، دار ارقم و غیرہ ۔
٭ پسما ندہ علا قہ جات میں سیکڑ و ں رسمی و غیر رسمی ادا رہ جات کے تعلیمی نیٹ ورک مثلََا بیٹھک
اسکو ل، غزالی ٹرسٹ ، ہلال پبلک اور ذیلی جا معا ت و غیرہ ۔
٭ گاؤں دیہات کے ان نیٹ ورک میں لا کھوں طلبہ تعلیم و تر بیت سے مستفید ہو ئے ہیں ۔
٭ مدا رس کے نظا م کو فکری و عملی رہنما ئی دینے کے لیے را بطۃ المدا رس بو ر ڈ تشکیل دیا گیا ۔
٭ علو م دینیہ کے فروغ کے لیے ہزا رو ں کی تعداد میں مدارس ، جا معۃ المحصنات 19 ،
40 قرآن انسٹی ٹیو ٹ اور 150 ذیلی جامعا ت قا ئم کی گئیں ۔ جن میں تین لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔
٭ تعلیم سے متعلق اہم ایشو ز پر proactive اور ضرورت کے مطا بق رد عمل کی عملی جدو جہد کی۔
مثلََا خواتین یو نیو ر سٹیز کے قیا م کا مطا لبہ جو الحمد اللہ پا یہ تکمیل تک پہنچا۔ یو نین سازی، طلبہ یو نین
میں کردار، طلبہ یو نین کی بحا لی کے لیے عملی جدو جہد کا تسلسل ، فیس میں اضافے کے خلا ف جدو جہد ،
دا خلے کے لیے مشکل معیار کے خلا ف جدوجہد وغیرہ۔

 

حالیہ انتخابات میں ایم ایم اے کا تعلیمی منشور
٭ غیر طبقاتی نظا م تعلیم ، ہر طبقہ زند گی کے لیے برابر موا قع ۔
٭ انٹر میڈیٹ تک دینی و دنیا وی تعلیم کے امتزا ج سے یکسا ں نظا م تعلیم کی تشکیل کے ذ ریعے ہر
طا لب علم کے لیے قر آ ن و حدیث کی تعلیم لازمی اور دینی مدارس کے طلبہ کے لیے عصر ی تعلیم لا زمی ۔
٭ نظا م تعلیم کو ملک کی نظر یاتی اسا س سے ہم آ ہنگ کر کے طبقاتی نظا م تعلیم کا خا تمہ ۔ ہر سطح
تک اسلامی نظا م تعلیم کا نفا ذ ، فنی تعلیم کو تر جیح ۔
٭ شر ح خواندگی 5 سال میں 100 فیصد کرنے کا مؤ ثر نظا م ، میٹر ک تک تعلیم مفت اور لا زمی ۔
٭ ابتدا ئی طبی امداد ، خو د حفا ظتی اور ابتدا ئی زرعی اور صنعتی مہا رت نصا ب کا حصّہ۔
٭ طلبہ کے لیے جمہو ری اقدار کا فرو غ ، طلبہ یو نینز کی بحا لی ۔
٭ ایسی پالیسی کی تشکیل کہ ہر استاد کے لیے ریٹا ئر منٹ کے بعد ذا تی مکا ن کا حصول ممکن ہو ۔
٭ اردو کو حقیقی معنو ں میں قو می ، سرکاری ، تدریسی ، زبان کی حیثیت دلا نا نیز علا قائی ز با نو ں
کے تحفظ کی ضما نت ۔
٭ مقا بلے کے امتحا نا ت اردو میں دینے کی سہو لت ۔
٭ تعلیم پر کم از کم اخرا جات جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برا بر اور ہر صو بائی بجٹ میں تعلیم کے لیے
کم از کم 25 فیصد مختص ہو گا ۔
٭ ہر طا لب علم کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول آ سان کیا جائے گا ۔
٭ تعلیمی ادارو ں میں بنیادی سہو لیا ت کی فرا ہمی ۔
٭ بچیو ں کے لیے لا زمی تعلیم کا اہتمام اور ان کے لیے ہر سطح پر علاحدہ تعلیمی ادارے ۔
٭ نجی تعلیمی ادارو ں کے نصا ب تعلیم ، فیسو ں اور معیار تعلیم کے لیے ٹھو س پالیسی۔

نمایندہ جسارت: کیا تعلیم کے ذریعے معاشرے کی تبدیلی ممکن ہے؟
طیبہ عاطف: جی با لکل! اسی لیے معا شرے کی اصلا ح کے ذمے دار یہ سلو گن پر وان چڑ ھا تے ہیں کہ ’انقلا ب بذ ر یعہ تعلیم‘ حکیم الا مت علامہ اقبا ل فر ماتے ہیں کہ:
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر
گو یا تعلیم ہی مطلو ب تبدیلی کے لیے کلیدی کر دار ادا کرتی ہے ۔ اسی لیے اکبر الٰہ آبادی نے سو سال قبل ہی متنبہ کیا تھا کہ :
’ دل بدل جائیں گے تعلیم بد ل جانے سے ‘
نمایندہ جسارت: پاکستان میں اس وقت تعلیم کی صو ر تحا ل کو آپ کیسے دیکھتی ہیں ؟
طیبہ عاطف: وطن عزیز پاکستان تعلیم کے ایک انتہا ئی تشویشنا ک دور سے گزر رہا ہے اور یہ سب کچھ اچا نک نہیں ہو گیا بلکہ پاکستان کی تشکیل کے وقت سے آج تک تعلیم کا نظا م مغر ب ہی کا وضع کردہ قا ئم ہے۔ اس نے بتد ریج تعلیم کے تمام عنا صر یعنی معلم ، متعلم ، نصا ب ، کتب امتحا ن حتیٰ کے والدین تک کو اپنے زیر اثر کر لیا ہے۔ گو یا سر ما یہ دا را نہ نظا م کا تیا ر کر دہ بد ترین تعلیمی منظر نا مہ اس وقت ہما رے سامنے ہے ۔ جس کے نتیجے میں تعلیم اپنے اصل مقصد سے عاری ہے۔ تعلیم کو ما دّ یت اور مغر بی تہذیب سے ہم آ ہنگ کر دیا گیا ۔مختصر یہ کہ :
٭ ملک کا تعلیمی نظا م آ ئین پاکستان سے مطا بقت نہیں رکھتا ۔
٭ مغر ب نے نظر یاتی اور ثقا فتی یلغار کے لیے Pre-school سے جامعات کو اپنا کامیاب tool بنا دیا ہے ۔ اس کے لیے USAID ، ایجو کیشن ریفارمز اسٹنس پر و گرام ( ESRAP ) کی تنظیم کے ذر یعے بے تحاشا مالی وسا ئل فر اہم کرتے ہوئی اپنے اہدا ف حا صل کر رہے ہیں۔ نجی یو نیو ر سٹیز کا کثرت سے قیام اور انکا ما حو ل اسکا عملی ثبو ت ہے ۔
٭ طبقا تی تعلیمی نظام نے پاکستان کی نسلو ں کو احسا س کمتری میں مبتلا کر دیا ہے ۔ نیز فیسو ں میں کئی گنا اضا فہ کیا جا رہا ہے ۔
٭ میرٹ کی عد م شفا فیت
٭ تعلیمی میدان میں کر پشن
٭ نظا م امتحا نا ت کی خرا بیا ں
٭ طریقہ تد ریس کا غیر مؤ ثر ہو نا
٭ فنی تعلیمی تر بیت کا فقدان وغیرہ
٭ عالمی سطح پر Top Ten
Universities میں پاکستان کی کو ئی
جا معہ معیا ر پر پو ری نہیں ا تر تی ۔
٭ اسا تذہ کی تربیت بھی مطلو ب ضرورت
کے مطا بق نہیں ۔
٭ شرح خوا ندگی 70 سال گزا رنے کے
با و جو د قا بل اطمینا ن نہیں ۔
نمایندہ جسارت : کو ئی مثبت پیش رفت جو پاکستان کے تعلیمی نظا م میں مو جو د ہو ؟
طیبہ عاطف : حکو متی سطح پر نظا م تعلیم میں کو ئی بہتر ی نہیں آئی، البتہ نجی سطح پرچند امو ر میں جز وی بہتری نظر آ تی ہے مثلاً خواتین کے لیے علاحدہ جامعات کا قیام، لڑکیو ںکے لیے مواقع پہلے سے قدرے بہتر کیے گئے ہیں۔ چند نجی تعلیمی ادارہ جات میں طریقہ تد ریس کو مؤ ثر بنا نے کی کو ششیں نظر آ تی ہیں جس سے طلبہ کی تخلیقی صلا حیت، مشاہدے و غور و خو ض کی صلاحیت، اعتماد میں بہتری اور رٹنے کے بجائے conceptiual clearity وغیرہ میں بہتری آئی ہے نیز project activity based سیکھنے سیکھا نے اور ہنر کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ اسا تذہ کی ٹر یننگ بھی چند نجی اداروں میں ترجیحاً دی جاتی ہے ، نجی سطح پر ٹریننگ کے ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ چند نظریاتی تعلیمی ادارہ جات اپنی مدد آپ کے تحت ایک دو سرے سے ربط بہتر بنا نے کی کو ششیں کر رہے ہیں کہ ایک دو سرے کے تجر بات سے استفا دہ کیا جائے۔ حالیہ سرکاری سطح پر قرآن پاک کی تعلیم ابتدا سے میٹر ک تک لا زمی طور پر دیے جا نے کا اعلا ن کیا ہے ۔ جس کا آ غا ز خیبر پختون خوا میں کیا جا چکا ہے۔ اگر چہ یہ چند مثبت پہلو آ ٹے میں نمک کے برا بر ہی کی شکل رکھتے ہیں ۔
نمایندہ جسارت : جما عت اسلامی کی تعلیمی کو ششو ں کے بارے میں بتائیں؟
طیبہ عاطف : جماعت اسلامی کے قیا م سے قبل ہی با نی جما عت مو لا نا ابو الا علیٰ مو دو دی ؒ نے دارالاسلام کے تعلیمی ادا رے کی بنیا د ڈا لی جس کا مقصد اسلام کے نظریے کے مطا بق نظا م تعلیم کا عملی نمو نہ وضع کرنا تھا۔ جما عت اسلامی کے آ غا ز ہی پر با نی جما عت نے نصب العین کے حصول کے لیے پا نچ شعبہ جات میں کام تقسیم کیا۔ جس میں تر جیح اوّل شعبہ تعلیم کو رکھا اور جما عت کی حیثیت سے خو د نگرا نی کی۔ بعد ازا ں ادارہ دا ر الا سلام کی شاخیں ملک بھر میں قا ئم کیں ۔ 1942ء میں مو لا نا ابو الا علیٰ مو دو دیـؒ نے تعلیم و تر بیت کے اسلامی نظریے کے مطا بق عملی خا کہ وضع کیا اور تعلیم کے تمام بنیادی مو ضو عا ت پر مو لا نا اور ماہرین تعلیم نے نظر یاتی کتب تحریر کیں۔ جس کے ذریعے آ ج بھی اسلامی نظا م تعلیم کے علمبر دار استفا دہ کر رہے ہیں۔
جامع تعلیمی پروگرام
جما عت اسلا می پاکستان نے آ ئین پاکستان کے مطا بق نظر یا تی تعلیم و تر بیت کا عملی خاکہ مر تب کیا اور سر کا ر ی و نجی پا لیسی ساز ایوا نو ں تک جمع کروا یا ۔ مثلََا ہر قو می تعلیمی پا لیسی سازی کے مو قع پر۔
1993ء میں سینیٹر پر و فیسر خو رشید اور دیگر منتخب نما ئند گا ن کے ذ ریعے عملی خاکہ پالیسی ایوانوں میں جمع کرائی۔
شرح خواندگی میں اضافہ
خوا ندگی کی شر ح میں ایک محتا ط اندا زے کے مطا بق 5% اضا فہ جماعت اسلامی پاکستا ن نے گا ؤ ں دیہا ت میں مختلف رسمی اسکو لو ں کے نیٹ ورک ( جن کی تعدا د 1000 کے لگ بھگ ہے) اور غیر رسمی طور پر اپنے کار کنان، ہمدردوں کے ذ ریعے سے تعلیمی تحر یک ( Educational movement ) کے طر ز پر کام کیا ۔
لڑکیوں کی تعلیم پر
صدارتی ایوارڈ
جما عت اسلامی پاکستان نے حلقہ خواتین کے ذ ریعے لڑ کیو ں کی تعلیم و تر بیت پر خصو صی تو جہ رکھی ۔ اس کے لیے کمیو نٹی کی بنیا د پر گھر و ں کی بیٹھک کو تعلیم کے لیے عام کیا گیا تا کہ گا ؤ ں، دیہا ت کے عوا م اپنی لڑ کیو ں کو اپنے گھر و ں پر ہی تعلیم دلوا سکیں۔ اسی بنیا د پر سابقہ MNA عا ئشہ سیّد کو فا طمہ جنا ح صدا رتی ایوارڈ ملا۔
15 فیصد عوام کا جماعت اسلامی کی تعلیمی خدمات سے استفادہ
محتاط سروے کے مطابق پاکستان کے ڈھا ئی کروڑ یعنی 15% عوام جماعت اسلامی پاکستان کی تعلیمی خد مات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس میں پبلیکیشنز کے نجی ادارے ، تعلیمی ادارے ، ٹر یننگ کے ادارہ جات وغیرہ شامل ہیں۔
نمایندہ جسارت : اسا تذہ کی ٹر یننگ نظا م تعلیم کی بہتری میں کیا مقا م رکھتی ہے ؟
طیبہ عاطف: مؤثر نظام تعلیم میں تربیت یافتہ اساتذہ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر تعلیمی اداروں میں نصاب، عمارت، وسائل وغیرہ سب بہت اعلیٰ ہو لیکن اگر تر بیت یافتہ اسا تذہ نہ ہوں تو تعلیم کے مطلو بہ نتا ئج حا صل نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے نبی کریمﷺ نے فر مایا کہ ’معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘ گو یا قو م کی اصلاح معلمانہ کردار ہی سے ممکن ہے ۔
نمایندہ جسارت : تربیت یافتہ اسا تذہ سے کیا مرا د ہے ؟ اور جما عت اسلامی کا اس حوالے سے کیا کردار رہا ہے؟
طیبہ عاطف : اس سے مرا د یہ ہے کہ جو افراد استاد کے مقا م پر ہوں، ان کو اپنی حقیقی حیثیت کا ادراک ہو کہ در اصل وہ معلم ہیں۔ جو علم کے خا لق کا جا نشین ہے ، گویا داعی ہے ، مربی ہے۔ وہ تعلیم و تر بیت کے بنیادی مقا صد سے آ شنا ہو ۔ جس مو ضو ع کی تد ریس کر رہا ہو اسکا بخو بی ادراک رکھتا ہو ۔ اس فر ض منصبی کو ادا کرنے کے لیے جس مؤ ثر کردار ، مؤ ثر ابلا غ یعنی تد ریس کے مؤ ثر طر یقہ کی صلا حیت رکھتا ہو و غیرہ ۔
اسا تذہ کی تربیت کے مو ضو ع کو جما عت اسلامی نے ہمیشہ تر جیح اوّل پر رکھا ۔ اس کے لیے مختلف کتب تحریر کی گئیں ۔ مختلف پر و گرا مز کے ذر یعے ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ملک گیر سطح پر ہزا رو ں افراد کو ( Master trainer ) ماسٹر ٹرینر کے طور پر تیار کیا تا کہ وہ مقا می سطح پر تر بیت اسا تذہ کا فریضہ انجام دے سکیں ۔ اس سلسلے میں کئی ادارہ جات کو فرو غ دیا گیا مثلََا ( ERI ) ایجو کیشن ریسر چ انسٹیٹیو ٹ ، آ فاق ، ( CEF ) کر یکٹر ایجو کیشن فا ؤ نڈیشن ، العلم وغیرہ ۔ ان ٹر یننگ کے ادارہ جات سے لا کھو ں اسا تذہ تر بیت حا صل کر چکے ہیں ۔
نمایندہ جسارت: دیہات میں تعلیم و تر بیت کے لیے جما عت اسلامی نے کیا کو ششیں کیں اور کن رکا و ٹو ں کا سامنا کیا؟ ان ر کا و ٹو ں کا حل کیسے نکالا گیا؟
طیبہ عاطف : دیہا ت۔ جیسا کہ آ پ بخو بی واقف ہیں کہ ملک کی آ بادی میں نما یا ں شر ح دیہا ت سے متعلق ہے۔ اور سر دست خوا ند گی کی شر ح بھی بمشکل 45% ہی ہے ۔ اس صو ر تحا ل میں جما عت اسلامی نے ’’شکوئہ ظلمت سے کہیں بہتر ہے کہ اپنے حصے کا کوئی دیپ جلاتے جائیں‘‘ کے مصداق پسماندہ علا قہ جات میں نہ صرف مختلف رسمی تعلیمی نیٹ ورک قائم کیے مثلََا بیٹھک اسکو ل، غزالی پبلک اسکو ل ، ہلال پبلک اسکو ل وغیرہ جن کے طلبہ کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ وہیں ان آ با دیو ں میں غیر رسمی تعلیم کی کو شش ایک movement کی شکل میں جاری و ساری ہے۔ مثلََا جما عت کے کار کنان، ہمدر دان و غیرہ رضا کا را نہ بنیا د پر اپنی مدد آپ کے تحت خواندہ بنا نے کے لیے کو شا ں ہیں۔ مثلََا اپنے گھر کے ملا ز مین کو علم کے زیو ر سے آ راستہ کرتے ہیں ۔ کہیں مختلف پر وگرا مز یا شا ر ٹ کو رسز کے ذریعے جہا لت کے خا تمے کی کو شش کرتے ہیں ۔
دیہا ت کے کام کی مشکلا ت : پاکستان خصوصاً اس وقت اقتصا دی میدان میں مغر بی ایجنڈے پر کار فر ما ہے ۔ اس لیے امیر ، امیر ترین اور غریب ،غریب ترین بننے کی طرف روا ں دوا ں ہے ۔ جا گیر دارانہ نظا م کے زیر اثر با لخصو ص دیہا تی آ بادی تعلیمی جدو جہد میں سب سے بڑی رکا وٹ ہے۔ چو نکہ یہ وہی mind set ہے جو فو ری طور پر عوا م کو جہا لت کے اند ھیر و ں میں رکھ کر غلا ما نہ مقا م پر ہی رکھنا چا ہتا ہے تا کہ کو ئی ان کے مقا بلے پر نہ آ سکے اور غلا م بن کر رہے ۔ دو سری بڑی ر کا و ٹ مؤ ثر استا د کی عد م دستیابی ۔ تیسری ر کا و ٹ انتظا می سہو لتو ں کا فقدا ن مثلََا آ مد ورفت کے مسا ئل ، پا نی و بجلی ، عما ر تو ں کا نا قص ہو نا وغیرہ ۔ حکو متی تعلیمی ادارو ں کی دگر گو ں صو ر تحا ل ، کر پشن و غیرہ کا ہو نا بھی عا م ہے ۔ جما عت اسلامی چو نکہ ہمہ گیر انقلا ب کی تحریک ہے اس کے لیے تعلیم سے تعمیر تک ، تعمیر سے تکمیل تک کی جدو جہد میں مصرو ف عمل ہیں کہ کہیں جا گیر دارو ں اور و ڈیرو ں کے سا تھ مکا لمہ اور ذہن سازی کے لیے روا بط ہیں ۔ کہیں کسان اور ہا ر یو ں کے حقوق کے لیے کسا ن بو ر ڈ کی شکل میں کو شش ہے۔ کہیں تعلیم و تربیت کے لیے سیکڑوں رسمی تعلیمی ادارہ جات کے جال بچھا ئے گئے ہیں جن کا او پر تذ کرہ کیا جا چکا ہے ۔ اور کہیں غیر رسمی طور پر ہمدر دا ن جما عت اسلامی رضا کا را نہ طر یقہ سے تعلیم و تر بیت فرا ہم کر رہے ہیں ۔ نیز شعبہ الخد مت کے ذر یعے ان آ با د یو ں کے بنیا دی حقو ق کے لیے مستقل بنیا دو ں پر صا ف پانی ، علا ج ، پسما ند گان کے لیے رہا ئشی پر و جیکٹ یا Micro Finance Scheme ( ما ئیکر و فنانس اسکیم ) کے ذ ر یعے روز گار کی فرا ہمی کے لیے کو شا ں ہیں ان تما م پہلو ؤ ں سے خد مات فرا ہم کرنے کے با و جو د جما عت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ دیہا ت ہو یا شہر کے مسا ئل، انکا ا صل پا ئیدار حل اسلامی نظا م زندگی کا قیا م ہے جس کے لیے جما عت قا نو نی دائرے میں رہتے ہو ئے سیا سی جدو جہد میں حصّہ لیتی ہے ۔
نمایندہ جسارت : تعلیم و تربیت کے لیے زبا ن کا انتخاب کس بنیاد پر ہو نا چاہیے؟
طیبہ عاطف : دنیا کی تا ریخ گوا ہ ہے کہ کامیاب قو میں اپنی قو می زبا ن میں ہی تعلیم و تربیت کر کے تر قی کرتی ہیں ۔ اس لیے بنیا دی طور پر ذ ر یعہ تعلیم ار دو ہی ہو نا چاہیے ۔ جو کہ آ ئینی فر یضہ بھی ہے ۔ لیکن ساتھ ساتھ دیگر زبا نو ں کے سیکھنے کو فر و غ دینا چا ہیے ۔ ویسے بھی تحقیق بتا تی ہے کہ ایک بچہ پا نچ زبا نیں با لعموم سیکھنے سمجھنے کی استعداد رکھتا ہے ۔ پاکستان میں تعلیم و تربیت میں زبا ن کے سیکھنے کی تر جیحا ت ، اردو ، انگریزی ، عر بی اور متعلقہ علا قا ئی زبا نیں ہو نی چا ہیے ۔ نیز اس وقت چینی زبا ن کو مستقبل کے متو قع منظر نامہ کے پیش نظر تعلیم و تربیت کا حصّہ بنانا چا ہیے ۔
نمایندہ جسارت : لڑ کے اور لڑ کیو ں کے لیے نصا ب ، عملی شعبہ جات علاحدہ ہو نے چا ہییں؟
طیبہ عاطف : با لکل ! جب اللہ رب العا لمین نے مر د اور عو رت کی جسمانی ساخت، ان کی فطر ی ضروریات اور ان کے فرا ئض علاحدہ متعین کیے ہیں تو تعلیم و تربیت کا حقیقی فا ئدہ تو تب ہی ممکن ہے جب لڑ کے لڑ کیو ں کو اپنے فطری منصبی دائرہ کار کے مطا بق تعلیم و تربیت دی جائے ۔ ان کے مضا مین کا تعین ، ہنر (skills ) و غیرہ کا تعین جنس کے اعتبار سے ہی ہو نا چا ہیے ۔
نمایندہ جسارت : وا لدین کو تعلیم و تربیت کے ضمن میں خصوصاً ما ؤ ں کو آپ کیا مشورہ دیں گی ؟
طیبہ عاطف : بہت اہم بات ہے۔ بنیادی چیز یہ غو ر کرنے کی ہے کہ حضرت انسا ن اللہ کی مخلو ق ہے اور اللہ نے اپنی مخلو ق کی تمام ضروریات کا خو د اپنے نظا م میں فطری طور پر انتظا م کر رکھا ہے۔ اس لیے انسا نی بچے کی پیدا ئش سے قبل نشو نما اور دنیا میں آ نے کے بعد ما ں ہی کو بنیا دی طور پر( Resources person ) بنایا گیا ہے جو صرف جسمانی ضرو ریات کو فرا ہم کرنے کی ذمے دارنہیں ہے بلکہ بنیادی تعلیم و تر بیت کی بھی ذمے دار ہے ۔ اس اہم فر یضہ کو مغرب نے اپنی ضرو ریات کے مطا بق تبدیل کر ڈا لا، با لخصو ص صنعتی انقلا ب کے دور میں ما ں ، باپ نے اس فرض عین کو ( Outsource ) کر دیا اور معا وضہ بھی ادا کیا جانے لگا ۔ اس طویل دور کے جا ئزے سے بخو بی اندا زہ ہو جاتا ہے کہ بیسو یں اور اکیسویں صدی میں معا شرے سے اصل ( pure ) ما ں اورباپ گم ہو گئے جو انسا ن سازی کے اہم فر یضے پر فائز تھے ۔ جو چو بیس گھنٹے چلتے پھرتے غیر رسمی طور پر اپنی اولاد کو سکھا نے کا کام پو ری یکسو ئی سے کرتے تھے ۔ دنیا کے سامنے آ ج ماضی کے مقا بلے میں بہتر انسا نی و سائل مو جو د نہیں ۔ بہر کیف اگر آ ج ہمیں آ نے والی نسل کو مطلو بہ معیا ر کے مطا بق بنا نا ہے تو بقول نیپو لین ’تم ایک اچھی ماں دو میں ایک بہتر قو م دو نگا‘۔ آ ج کی ما ںکو با لخصو ص اور با لعموم باپ کو اپنے اصل فر ض کو تر جیح اوّل رکھ کر فو کس کا م کرنا چا ہیے ۔ اس موضو ع پر بہت ساری کتب مو جو د ہیں اس مختصر وقت میں صر ف اتنا شیئر کیا جانامنا سب ہو گاکہ آج کے challanging دور میں بچو ں کے لیے خو د والدین کو با علم ، متحر ک ، دوستا نہ رویہ لیکن قد رے ایک منا سب وقار کیساتھ اختیا رکرنا ہو گا ۔
بچو ں کو ابتدا ئی عمر میں اسکول کو ( Outsource ) کرنے کے بجائے خو د وا لدین با لخصو ص ماں ایک مکتب کی شکل اختیا ر کر لے ۔ ایسا مکتب جہا ں ر ٹو طو طا بنانے کے بجائے (conceptual learning activity base ) ہو ۔
اللہ ۔۔۔۔ ذا ت۔۔۔۔ اور معا شرے کا تصور اس کے تقاضے اور آ داب سکھا ئے جائیں۔ یہ تین پہلو ہی انسا ن سازی کے لیے بنیادی ستو ن ہیں ان ستو نوں ہی پر انسا ن کی شخصیت و کردار اور زند گی کی کامیابی کا انحصا ر ہو تا ہے ۔
اپنے گھر کے ما حو ل کو learning center کے طور پر اجا گر کیا جائے ۔
دعا جو مو من کا ہتھیا ر ہے اس سے والدین اور بچے دعا اور جوا ب دعا پر فو کس کریں۔
تعلیمی ادارو ں کے چنا ؤ میں والدین کو بنیادی طور پر اس ادارے کا منہج ( curriculum ) پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ادارے کے مقا صد ، نصا ب ، ماحو لیا ت وغیرہ دین کے مطا بق ہی کر لیں ۔
نمایندہ جسارت : تعلیم و تربیت کے ضمن میں میڈیا کے مثبت استعمال کے لیے جما عت اسلامی کیا کر رہی ہے ؟
طیبہ عاطف : اس سلسلے میں جما عت اسلامی کا میڈیا سیل قا ئم ہے ۔ جس سے وقت کی اس اہم ضرو رت کو پیش نظر رکھتے ہو ئے ایک ڈیپا رٹمنٹ کا قیا م رو شنی میڈیا کے طور سے کیا ہے جہاں سے ہفتہ وار وا ٹس ایپ اور دیگر سو شل میڈ یا پر مختلف النو ع تعلیم و تربیت کے تنا ظر میں آ ڈ یو اور وڈ یو جاری کی جاتی ہے۔ چھوٹے بچو ں کے لحا ظ سے سیکڑ و ں کار ٹو نز تیار کیے گئے ہیں ۔
جما عت اسلامی کے تعلیمی ادارہ جات میں ملٹی میڈیا کے ذ ریعے مؤ ثر presentation سے تد ریس میں استفا دہ کیا جاتا ہے ۔
جما عت اسلامی نے میڈ یا کے مثبت استعمال کو بھی تر جیح میں لکھا ہے ۔ جس کے ذ ریعے 500 (Master trainers ) تیار کیے گئے ہیں ۔
نیز میڈیا کے مثبت استعمال کی ٹریننگ کو نصا ب میں بھی شا مل کیا ہے ۔
نمایندہ جسارت : جما عت اسلامی پاکستان کا حکو مت میں رہتے ہو ئے تعلیم کے لیے کیا کردار رہا ہے ؟
طیبہ عاطف : جیسا کہ آ پ جا نتے ہیں کہ جما عت اسلامی کو کبھی مکمل طور پر حکومت نہیں ملی۔ البتہ جب بھی جز وی طور پر حکو مت کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملا، جماعت اسلامی نے ہمیشہ تعلیم کو اولین ترجیح کے طور پر ہی رکھا۔ مثلاً کراچی یعنی Mini Pakistan میں دو ادوار بلد یاتی حکو مت کے حا صل رہے جبکہ بلد یاتی اختیا رات سے تعلیم کا شعبہ صر ف جزوی خصوصاً انتظا می پہلو ہی فرا ئض منصبی میں آتے ہیں لیکن اس دور میں بھی کارہا ئے نمایاں دیے گئے۔ جبکہ ایم ایم اے کے خیبر پختون خوا میں حکومتی دور میں بھی بنیادی کام کیے گئے۔
نمایندہ جسارت: آپ ہمارے قارئین کو کیا پیغام دیناچاہیں گی؟
طیبہ عاطف: والدین کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ تربیت اور تعلیم کا جو فرض ان پر عائد ہوتاہے وہ اس پر بہت زیادہ توجہ رکھیں۔ بچے چھوٹے ہوں یا بڑے، تعلیمی اداروں میں ان کی کارکردگی سے آگاہ رہیں۔ وقتاً فوقتاً اساتذہ سے ملیں اور ان کی کاردگی کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہیں۔ توجہ کے بغیر تربیت کا فریضہ نہ تو وہ خود ادا کر سکتے ہیں نہ اساتذہ ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری بات میں پوری قوم سے کہنا چاہتی ہوں کہ انتخابات سرپر ہیں۔ اس میں بہتر تعلیمی پالیسی اور تعلیمی ترقی کے لیے ایماندار اور دیانتدار حکمرانوں کا چناؤ کریں۔ آج آپ کا درست فیصلہ کل آپ کی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ لہٰذا بہت سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ ہر گز گھروں میں نہ بیٹھیں۔ آپ کا ووٹ نہ دینا بھی کرپٹ لوگوں کا راستہ آسان کرتاہے۔
محترمہ طیبہ عاطف آپ کا بے حد شکریہ۔