September 15th, 2019 (1441محرم15)

قرارداد : یوم پاکستان کے تقا ضے


14 اگست 1947 کو27 رمضا ن المبارک کی نصف شب کے قریب قیا م پاکستان کا اعلان خا لصتََا کُن فیکون کا مظہر محسو س ہو تا ہے جسکی بدولت اس دھرتی پر ظلم و سامرا جیت کا خا تمہ ہوا اور باطل کو شکست فاش نصیب ہوئی ۔ دنیا کے نقشہ پر ایک آ زاد مملکت نے جنم لیا جسکے باسی بر سوں سے غلامی کی زنجیرو ں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ آ زادی کا یہ کار واں مسلما نا ن ہند کی ہمّت ، جر أت ، ایثا ر و قربانی ، مسلم زعماء کی سیا سی حکمت عملی ، علماء دین کی فہم و فرا ست ، قا ئد اعظم ؒ کی دا نش و بصیرت اور علا مہ اقبال ؒ کے تفکر اور مسلم قو م کے نصب العین پر یقین محکم کے با عث منزل مقصود تک پہنچا ۔
یہ وطن ہمیں تھالی میں رکھ کر ہر گز پیش نہیں کیا گیا بلکہ ہماری آ زادی تاریخ بڑی طویل ، صبر آ زما اور عظیم جدو جہد سے عبارت ہے ۔ ہندوستان کےمسلما نوں نے پاکستان قا ئم کرنے کیلئے بڑی عظیم اور نا قا بل فرا مو ش قر بانیا ں دی ہیں ۔ خون کے دریا بہے ، لاکھوں عصمتیں لٹیں ، ہزاروں بچے یتیم ہوئے ، کتنے ہی لوگ بے خا نما ں ہوئے ، گھر اُ جڑے اور اآج ہمیں اس ملک میں ہر طرح کی نعمت میسّر ہے مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیے اس میں ٹیپو سلطان کا خون ، سر سیّد کی نگا ہ دور بین ، اقبال کے افکار ، قا ئد اعظم ؒ کی جہد مسلسل اور دوسرے اکا برین کا ایثا ر بھی شا مل ہے ۔
نظر یہ پا کستان کی آ بیا ری کے بجا ئے عوا می اور حکو متی دونو ں سطحو ں پر عملی زندگی سے اسلام کو خا رج کر دیا گیا ۔ آ ج پاکستان لہو لہان اور قومی یکجہتی و استحکام متا ثر ہے ۔ 70 سال کے سفر کے بعد بھی ہم ایک قوم نہیں بن سکے ۔ مقتدر حکمرا ن ملک کو لو ٹنے میں مصروف ہیں ۔ دہشت گرد اپنا ضا بطہ لا گو کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم مملکت خداد اد پاکستان کو اس طرح مستحکم نہیں کرسکے جو بانئ پاکستان قا ئد اعظم محمد علی جنا ح ؒ کا خواب تھا ۔ 
ملک میں بد عنوانی ، لوٹ مار ، کرپشن ، بلیک مار کیٹنگ اور اقرباء پر وری کا با زار گر م ہے ۔ ہم مجمو عی طور پر قو ل و فعل کے تضا د کا شکار ہو گئے ہیں ۔ یہا ں کئی طا غو تی قوّ تیں بیک وقت سر گرم ہیں ۔ وطن عزیز پاکستان دوہری آ زمائش سے دوچار ہے ۔ ایک طرف اس میں سیا سی عدم استحکام ، خونریزی ، انتہا پسندی ، تشدّد اور بد عنوانی کا زہر پھیلا یا جا رہا ہے اور دوسری طرف اسکی جغر افیائی سر حدو ں کو کمزور کرنے میں کو شاں ہیں ۔ کُفر ملّت واحدہ بن کر اس اسلامی نظر یاتی اور ایٹمی مملکت کو تو ڑ نے کے در پے ہیں ۔ ہمیں اس وقت قر آ ن مجید اور اسلام کے سائے تلے اپنے تمام اختلا فات کو مٹا کر متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔آ ج ہمیں اسلامی طر ز حیات اور قا ئد اعظم ؒ کے اصو لو ں پر چلنے کا وعدہ لینا ہے ، تجدید عہد وفا کرنا ہے کہ وطن عزیز کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔

 

* بحیثیت پاکستانی ہمیں اپنے فرا ئض کو پہچا ننا ہو گا ، دین کا صحیح فہم حا صل کرنا ہوگا ۔ اپنے ذہنو ں سے مغربی مر عو بیت مٹا کر اسلامی عقا ئد را سخ کرنے
ہونگے ۔
* بحیثیت والدین ہمیں اسلامی نہج پر اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تر بیت کرنی ہوگی ۔ ہمیں یکجہتی کے ساتھ اسلا می نظر یات ، اقدار اور افکا ر کو فرو غ دینے کی
ضرورت ہے ۔ تا کہ ہم دشمن کی سا زش کا توڑ کرتے ہوئے مملکت کی بقا ء اور استحکام میں اپنا مثبت رول ادا کر سکیں ۔
* ہمیں تعلیم کو ایک چیلنج سمجھ کر حا صل کرنا ہو گ ۔ سائنس و ٹیکنا لو جی کی تعلیم کے ذریعہ دنیا ئے عا لم میں اپنا آپ منوا نا ہوگا ۔
* قر آ ن اور سنّت نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے پاکستان اور اس میں بسنے والے تمام مسلما نوں کو دشمن کی ریشہ دوا نیو ں سے محفو ظ ر ہنے کیلئے فر قہ واریت
اور لسا نی تعصّبات کے خلاف جہا د کرنا ہو گا ۔
ہم حکو مت وقت سے مطا لبہ کرتے ہے ں کہ :
۔ نظر یہ پاکستان کے مطا بق اس مملکت خداد کو پر وان چڑ ھایا جائے ۔
۔ پاکستان کے قا نون ساز ادا روں کے ہر رکن پر آ ئین کی دفع 62 اور 63 کا اطلا ق کیا جائے ۔ 
۔ اسلام کے نام پر حا صل کئے اس خطّہ ار ضی میں اسلامی قوا نین بلا تفریق نا فذ کئے جائیں ۔
۔ اغیار کی معا شی غلامی سے نجا ت دلا کر قو می وقار کو بلند کیا جائے ۔
۔ پاکستان کی شہہ رگ کشمیر کو دشمن کے نر غہ سے آزاد کروانے کیلئے ہر ممکن فورم سے جدو جہد کی جائے ۔
۔ بھا رت کی آ بی جا رحیت کا مقا بلہ کرنے کیلئے فوری ہنگا می انتظا مات کئے جائیں ۔
۔ کر پشن فری پاکستان کیلئے عملی اقدا مات کئے جائیں ۔ تمام کر پٹ عنا صر کا بلا تفریق احتسا ب کیاجائے ۔
۔ پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت پاکستان واپس لائی جائے ۔