May 25th, 2019 (1440رمضان20)

اقبال ،عورت اور حجاب

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
یہ فطرت کااصول ہے کہ جو شے جس قدر قیمتی ہے اُسی قدر اُسے لوگوں کی نظروں سے دور رکھا جاتاہے ۔ جتنے قیمتی زرو جواہر ہوتے ہیں انہیں ڈبوںمیں بند کرکے لاکرز اور سیفوں میں چھپاکر رکھا جاتاہے اور جو چیز قدر معمولی ہے وہ بازاروں تھڑوں پر سرعام رکھی ہوئی ہوتی ہے ۔ جو شخص جتنا اہم ہوتاہے اس کی اُس قدر سیکورٹی رکھی جاتی ہے۔ جو چیز جتنی مقدس ہوتی ہے اُتنا ہی غلافوں میں لپیٹ کر رکھی جاتی ہے ۔ جیسے خانہ کعبہ، قرآن کریم کے علاوہ دیگر مقدس اور قیمتی اشیاء کو غلافوں میں لپیٹ کر رکھا جاتاہے۔ان مقدس اور قیمتی اشیاء کو پردے میں رکھنا عقل اور فطرت دونوں کاتقاضا ہے تاکہ اُسے بیرونی آلائشوں اور ماحول کی گندگی سے دور رکھاجاسکے اور اُس کی قدر و قیمت برقرار رہے۔
اللہ کے نزدیک عورت بھی ایک مقدس اور قیمتی ہستی ہے جس کو اُس کا حجاب مزید وقار عطاکرتاہے اور اُسے افتخار اور اعتبار بخشتاہے۔ تہذیب جدید نے اس فطری اصول سے بغاوت کرکے عورت کو محبت اور حفاظت کے حصاروں سے نکال کر آزادی ،مساوات اور حقوق کے نام نہاد نعروں کے دھوکے میں مبتلا کرکے شمع محفل اور (Commercial Commodity)بنادیا ہے۔ عالمی استعماری طاقتوں نے اُمت مسلمہ پر تہذیبی یلغار کرتے ہوئے اسلامی شعائر کو ہدف بنایا ہواہے ، جہاد ،ناموس رسالتؐ ،خاندانی نظام اور حجاب ان کے خصوصی اہداف ہیں ۔ ہرجگہ پر اُن شعائر کو جو تہذیب اسلامی کی علامات ہیں کو انتہا پسندی ، قدامت پرستی اور دہشت گردی سے جوڑا جا رہاہے۔ فرانس ، ہالینڈ ، ڈنمارک، بیلجیئم اور اٹلی حجاب پر پابندی عائد کرچکے ہیں۔ اُمت مسلمہ بالخصوص مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان ان متعصب رویوں اور امتیازی قوانین کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہیں۔ خود ترکی میں جوکہ عظیم الشان خلافت عثمانیہ کا مرکز اور مسلمانوں کے تہذیبی عروج کا علمبردار رہاہے، حجاب پر پابندی عائد کرد ی گئی تھی ۔ وہاں کی با حجاب رکن پارلیمنٹ مروہ قواچی انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین میں میری ساتھی رہ چکی ہیں۔ ہم نے اُس وقت سے حجاب کے لیے ایک انٹرنیشنل موومنٹ شروع کرلی ہوئی تھی جب اُسے حجاب کی وجہ سے اسمبلی کی رکنیت اور اپنے ملک کی شہریت سے بھی محروم کرلیا گیاتھا ۔ 2004ء میں لندن میں ’’اسمبلی فار دی پروٹیکشن آف حجاب ‘‘ کے زیر اہتمام ایک اجلاس منعقد کیاگیا اور حجاب کے خلاف متعصبانہ رویوں کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے آواز بلند کرنے کے لیے باقاعدہ، منظم اور مربوط تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 4ستمبر 2004ء کو عالم اسلام کے ممتاز علمائے کرام کے ایک گروپ نے علامہ یوسف القرضاوی صاحب کی قیادت میں عالمی یوم حجاب منانے کااعلان کیاتھا۔ جسے چیلنج کی طرح قبول کیاگیا اور آج ہر طرف حجاب کی بہار ہے۔
اقبالؒ نے شاعری کے ذریعے سے اُمت کو خواب غفلت سے جگانے کی انتہائی کوشش کی ۔ وہ اسرا ر خودی میں اپنی شاعری کے بارے میں فرماتے ہیں :
زندگی کامقصد کائنات کی قوتوں کی تسخیر ہے اور آرزو اس تسخیر کے لیے فسوں کا کام دیتی ہے۔ شاعر کا سینہ جلوہ گاہ حسن ہے اور اس سے حسن کے انوار پھوٹتے ہیں۔ جو چیز خوبصورت، زیبا اور جمیل ہے وہی طلب کے بیابان میں ہمارے لیے راہنما بنتی ہے۔ شاعر کی نگاہ سے خوبصورت چیز اور خوبصورت بن جاتی ہے۔ اس کی شاعری کے اثر سے فطرت کاحسن اور نمایاں ہوجاتا ہے ۔ شاعر کے دل میں سینکڑوں جہاں پوشیدہ ہیں ۔ وہ بد صورتی سے ناآشنا ہے صرف حسن کی تخلیق کرتاہے۔ اس کے جادو سے زندگی کی قوت میں اضافہ ہوتاہے ، زندگی اپنا احتساب کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے بے تاب ہوجاتی ہے۔
جس قوم کا شاعر ذوق حیات سے روگردانی کرتا ہے وہ قوم اپنی موت آپ مرنے میں خود حصہ دار بنتی ہے ۔ وہ قوم کووسوسوں کے سمندر میں ڈالتا ہے اور عمل سے بیگانہ کردیتاہے۔ وہ نیند کو بیدار ی سے بہتر قرار دیتا ہے اور اس کی پھونکوں سے آگ تیز ہونے کی بجائے اُلٹا بجھ جاتی ہے۔
اے شاعر! جس کی جیب میں سخن کی نقدی ہے ۔ اپنی شاعری کو زندگی کی کسوٹی پر کُس لے ۔ پُر اُمید سوچ عمل کی راہبربنتی ہے۔ ادب میں فکر صالح ہونی چاہیے جو عمل کی طرف راہنمائی کرے۔ اپنی فارسی شاعری میں وہ پھر عورت کو کہتے ہیں :
بتولے باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرےؓ بگیرے
بتول بن جائو اور اس زمانے کی نظروں سے چھپ جائو کہ تمہاری گود میں پھر ایک حسین ؓ پرورش پاسکے۔
جاوید نامہ میں محکمات عالم قرآنی میں خلافت آدم کے عنوان کے تحت حجاب کے حقیقت پر بات کرتے ہیں :
اے کہ دور حاضر نے تیرے دینی جذبے کی گرمی کو سردکردیا ہے
آئو میں تمہیں حجاب کی مصلحتوں کو کھول کر بتاتا ہوں
ذوق خلیق کا انسانی جسم میں آگ کی طرح سلگ رہاہے
اس ذوق تخلیق سے انسانی معاشرے کو فروغ حاصل ہے
جس کو بھی ذوق تخلیق کی اس آگ سے کچھ حصہ ملا ہے
وہ اپنے اندر کے سو زوساز سے ایک کشمکش میں مبتلا ہوجاتاہے
وہ ہر وقت اپنے نقش کی نگرانی کرتاہے تاکہ اس پر کوئی دوسرا نقش اثر انداز نہ ہو
مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرا میں خلوت اختیار کی
ہمارا نقش (اُمت مسلمہ کا نقش) اُنؐ کے دل میں راسخ کردیا گیا
اُنؐ کی خلوت سے ایک قوم پیدا کردی گئی
اگرچہ کلیم اللہ کی طرح تجھے ایک روشن روح تو حاصل ہے
لیکن خلوت کے بغیر تیرے افکار بانجھ ہیں
کم آمیزی سے تخیل میں زندگی کی لہر تیز دوڑتی ہے
اور زیادہ بیدارزیادہ جستجو کرنے والا اور زیادہ حاصل کرنے والا بن جاتاہے
علم اور شوق دونوں زندگی کے مقامات میں سے ہیں
دونوں واردات قلبی سے اپنا اپنا حصہ پاتے ہیں
علم تحقیق سے لذت حاصل کرتا ہے
عشق تخلیق سے لذت حاصل کرتا ہے
تحقیق والے جلوت کو عزیز رکھتے ہیں
تخلیق والے خلوت کو عزیز رکھتے ہیں
موسیٰ علیہ السلام نے ذات حق کو سامنے دیکھنے کی درخواست کی
یہ سب لذت تحقیق کا کرشمہ تھا
اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے اس میں بہت سارے دقیق نکتے پوشیدہ ہیں
تھوڑی دیر کے لیے اس گہرے سمندر میں گم ہوجائیں
ہر جگہ زندگی کے آثار بے پردہ نظر آتے ہیں
کائنات کا ضمیر اس چشمے کا منبع ہے
آفاق کے سارے ہنگامے پر نظر ڈالو
تخلیق کرنے والی ہستی کو جلوت کے ہنگاموں کی تکلیف نہ دو
اس لیے کہ ہر تخلیق کی حفاظت کے لیے خلوت کی ضرورت ہوتی ہے
اور اس کے صدف کا موتی خلوت میں جنم لیتاہے
علامہ اقبالؒ یہاں حجاب کی مصلحت یہ بتاتے ہیں کہ اللہ خودخالق ہے اور اس نے اپنی یہ صفت تخلیق صرف عورت کو عطا کی ہے اوروہ خود بھی حجابوں میں ہے اور عورت سے بھی کہتاہے کہ وہ اپنی تخلیق کی حفاظت کے لیے دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہے تاکہ صدف کی طرح خلوت میں اپنے موتی کی حفاظت کرسکے۔
درنگر ہنگامہ آفاق را
زحمتِ جلوت مدّہ خلّاق را
حفظ ہر نقش آفرین از خلوت است
خاتم اُو رانگین از خلوت است
آفاق کے سارے ہنگامے پر نظر ڈالواور تخلیق کرنے والی ہستی کو جلوت کے ہنگاموں کی تکلیف نہ دو۔ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
بہل اے دخترک ایں دلبر یھا
مسلمان را نہ زیبد کافریھا
منہ دلبر جمال غازہ پرور
ازنگاہ باموز غارت گری ہا
اے میری چھوٹی بٹیا !یہ آرائش و زیبائش چھوڑ دے ۔ مسلمانوں کو یہ کافرانہ ادائیں زیب نہیں دیتیں ۔ اس مصنوعی آرائش و غازے کی سرخی کو چھوڑ کر کردار کی طاقت سے دلوں کو مسخر کرنا سیکھو۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ اقبال کی شاعری کو بطور فیشن ہر مقرر اپنی تقریر کی زینت بنا رہاہے۔ ہمیںاُن کی شاعری کے اصل پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل پیراہونا چاہیے کہ عورت ہی تہذیبوں کی عمارتوں کا ستون ہے۔ وہ مایوسیوں میں اُمید کے چراغ کو روشن کرتی ہے۔ اپنے خون جگر سے ایک بے جان لوتھڑے کوانسان بناتی ہے۔ اس کے کردار سے قومیں سربلند ہوتی ہیں ۔ وہ ایک روشن مشعل کی طرح اندھیروں سے لڑبھڑ جانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ کبھی نہ بجھنے والے چراغ کی مانند ہماری راہنمائی کرتی ہے ۔ اس کی پکار ہمیشہ محبت کی پکار ہوتی ہے۔ اس کی صدازندگی کاپیام بن کر صدیوں ہماری راہیں منور کرتی ہے۔ آئیے اس کی ردا اسے لوٹانے میں اپناحصہ ڈالیں۔ یہ حوا کی بیٹی آپ سے عزت ، محبت اور تحفظ مانگتی ہے۔ کیا آپ اپنا یہ کردار ادا کریں گے؟؟؟
یہ حجاب اب عالم میں انقلاب کااستعارہ بن چکاہے۔ پہلے اسے پسماندگی کی علامت سمجھا جاتاتھا مگر اب انقلاب اور تبدیلی کی لہروں میں اسے ہر جگہ پر دیکھاجاسکتا ہے ۔ انقلاب کے اس سفر میں حجاب کی بہار بھی ہر طرف آگئی ہے۔ اس یوم حجاب پر معاشرے کے محروم طبقات جس
میں خواجہ سرا بھی شامل ہیں ، کو عزت و وقار فراہم کرنا ہمارا مشن ہے۔ کیا آپ اس میں ہمارا ساتھ دیں گے ؟؟