May 25th, 2019 (1440رمضان20)

مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے

غزالہ عزیز
وہ جو کہا گیا ہے کہ مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے۔ تو یہ آج مغرب کی جانب سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں بالکل درست محسوس ہوتا ہے۔ کہیں حجاب پر پابندی تو کہیںاسلامی ناموں پر کبھی نبی ؐ کی ناموس پر کارٹون مقابلے کے ذریعے حملہ کیا جاتا ہے لیکن دنیا بھر میں اسلام کے خلاف جس قدر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے واقعہ یہ ہے کہ اسی قدر اسلام ایک زبردست روحانی قوت کے طور پر اپنے آپ کو منوا رہا ہے۔ مغرب اور مغرب سے متاثر سیکولر طبقہ اسلام کو عورت مخالف مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے نہیںتھکتے لیکن اس تماتر مخالفت کے باوجود یورپ میں ہر پانچ اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں چار خواتین ہوتی ہیں۔ یورپ کے ہر بڑے شہر کی مساجد میں اگرچہ روز ہی کوئی نہ کوئی اپنے آپ کو امام کے سامنے پیش کرتا نظر آئے گا کہ وہ مسلم ہونا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ ایک لمحہ کی تاخیر مناسب نہیں سمجھتا لیکن یورپی خواتین کی تعداد مردوںسے زیادہ ہوگی جو یہ ہی تمنا لے کر مسجد میں داخل ہوں گئیں مغربی لباس لیکن ڈھکے ہوئے سر کے ساتھ وہ اس تصور کا یقین لے کر آتیں ہیں کہ گویا انہوں نے اسلامی لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ کیونکہ اب اسلامی لباس کے ساتھ اسکارف یعنی حجاب کا تصور گویا جڑا ہوا ہے۔
مسلم دشمنی کے اس ماحول میں اسلام قبول کرنا نو مسلموں اور اُن کے خاندان کے لیے نہ تو اتنا آسان ہے اور نہ ہی اس میں بظاہر کوئی ایسی کشش ہے کہ ظاہری ترجیح کسی طور پر ان کے لیے منافع بخش ہو۔ پھر 9/11 کے بعد 2004 تک صرف برطانیہ میں چودہ ہزار برطانوی شہریوں نے اسلام قبول کیا۔ ٹی وی پروگرام میں ان نومسلموں نے بتایا کہ آج جب کہ دنیا تہذیبوں کے درمیان تصادم کی بات کررہی ہے تو یہ نو مسلم اسلام اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کام دے سکتے ہیں۔ اور اس لحاظ یہ سے یہ پوری دنیا کے لیے امید افزا بات ہے۔ ان ہی نو مسلم خواتین میں شہناز ملک ہیں جو ایک سفید فام خاندان میں پیدا ہوئیں انہوں نے اپنے ایشیائی دوست نصیر سے شادی کے بعد اسلام قبول کرلیا وہ کہتی ہیں کہ اس وقت نصیر کوئی پکے مسلمان نہیں تھے۔ لیکن پھر وہ مذہب کی طرف راغب ہوئے۔ لیکن اُن سے پہلے شہناز مذہب اسلام کو اتنا سمجھ چکی تھیں کہ انہوں نے حجاب پہننا شروع کیا اور پھر بغیر کسی کے مجبور کیے ’’بُرقعہ‘‘ پہننا شروع کردیا۔ وہ کہتی ہیں کہ نصیر (اُن کے شوہر) اس برقع پہننے والی خواتین کو ’’ننجا‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن شہناز اس بات سے بالکل حوصلہ نہ ہاریں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’’حجاب‘‘ نے انہیں عورتوں کے مقابلۂ حسن کے کلچر سے آزاد کردیا ہے۔ اور وہ اس سے بہت خوش ہیں۔ یہ کلچر بقول ان کے مغرب پر چھایا ہوا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ان کے برقعے کا مذاق سفید فام لوگ تو اڑاتے ہی ہیں لیکن ایشیائی بھی اُسے پسند نہیں کرتے۔
وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
شاید اس لیے کہ مغرب میں حجاب کو ظلم وستم اور تقسیم کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ اور مغرب میں اسلامی شعار حجاب کو بحث کا ایک آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب کسی چیز کے بارے میں زیادہ بات کی جاتی ہے تو معاشرے میں اس کے بارے میں سوچنے والے لوگوں میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ ہی ہورہا ہے آزادی نسواں کی تحریک کے پردے میں مغرب نے خواتین پر جو ظلم کیے اس کا کسی قدر احساس دنیا کو ہورہا ہے۔ بظاہر پرکشش لباس میک اپ سے سچے مسکراہٹ بھرے چہرے کے ساتھ مردوں کے دوش بدش چلنے والی عورت جو مغرب کی نظر میں ایک آزاد عورت ہے۔ اندر سے کس قدر پریشان ہے۔
آزادی اور برابری دینے کا دعویٰ رکھنے والی تہذیب عورت کو عالم شباب میں ہر طرح کی ملازمتوں کے لیے آگے بڑھاتی ہے لیکن تنخواہوں اور مراعات میں کبھی برابری کی سطح پر نہیں رکھتی۔ پھر عمر اور شباب ڈھلنے کے ساتھ ہی ہر جگہ اس کے لیے امکانات معدوم ہوتے جاتے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں انہیں پیچھے دھکیلا جاتا ہے یہ عورت کے حسن وجوانی کا استحصال ہے جس کے خلاف وہاں وہ آواز بھی اٹھا نہیں سکتی۔
ایک جدید تحقیق بتاتی ہے کہ قدامت پسند لباس اور حجاب پہنے والی خواتین میں اپنی جسمانی شبیہ کا تصور زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس بات سے محقیقین نے یہ کہا کہ مذہب کو تنہا خوبصورتی کے اطمنان کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے۔ جس سے مغرب کے آئیڈیل خوبصورتی کے تصور کے خلاف مزاحمت کی جاسکتی ہے۔
محقیقین نے پتا لگایا کہ جو خواتین اپنی ثقافتی اقدار کے ساتھ نمایاں منسلک تھیں ان میں مغربی خوبصورتی کے معیار کے لیے دبائو کم تھا۔ یعنی یہ آرزو کہ ’’کاش کہ میں اس میگزین کی ماڈل جیسی خوبصورت نظر آئوں‘‘ تحقیق کے نتائج میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو خواتین باقاعدگی کے ساتھ قدامت پسند لباس پہنتی ہیں وہ اپنی جسمانی ساخت سے مطمئن تھیں۔ ان میں دبلے ہونے کی طرف دھیان کم تھا اور موٹا ہونے کا خوف بھی کم تھا۔ انہوں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ ’’پردہ دراصل جسمانی ساخت کے منفی تصور کے خلاف ایک ڈھال بن جاتا ہے۔‘‘
یہ معاملہ صرف ذاتی تسکین کا نہیں ہے۔ بلکہ خواتین جس قدر کھلی اور صاف طور پر نظر آئیںگی نظریں اُسی قدر باریکی سے اُن کا جائزہ لیں گی۔ آپس کی ملاقات میں گفتگو بعد میں ہوتی ہے اور بعض دفعہ ہوتی ہی نہیں لیکن پہلا تاثر لباس کا ہوتا ہے۔ ہر فرد کا لباس خصوصاً خواتین کا دوست ہو یا اجنبی ہر ایک سے کلام کرتا ہے چاہے براہ راست بات ہو یا نہ ہو۔
حجاب خواتین کے لیے ڈھال ہے۔ نظر کے اُن تیروں کے خلاف جن کا سامنا بے حجاب خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ پردہ اور حجاب کا حکم عورتوں کو عزت ووقار عطا کرنے کے لیے ہے۔
’’ھدیٰ خطیب‘‘ جو برطانوی نو مسلم ہیں کہتی ہیں کہ میں اس لیے پردہ کرتی ہوں تاکہ لوگوں کو پتا چل سکے کہ میں ایک مومنہ ہوں اور دوسروں سے مختلف ہوں پھر یہ کہ پردہ مجھے وقار عطا کرتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ ایک پردہ دار خاتون کا لباس دوسروں کو زبان حال سے یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ ’’میں بہت خاص ہوں‘‘
مغرب کے حملوں نے واقعی دنیابھر کے مسلمانوں کو یکجا کردیا ہے۔ حال ہی میں ہالینڈ میں ناموس رسالت ؐ پر حملے کی کوشش صرف اس لیے ناکام ہوئی کہ پاکستان و ترکی سمیت سارے عالم اسلام نے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ حکومتوں سے لاکھ اختلاف سہی لیکن پاکستان میں بھی اس حوالے سے سب حکومت کی کوششوں کے معترف ہیں ۔ مغرب کو اندازہ تو ہوا ہوگا کہ اپنے نبیؐ کی محبت مسلمانوں میں کس درجہ موجود ہے۔ ان کی سازشیں حجاب اتروا سکتی ہیں نہ دین سے دور کرسکتی ہیں ۔