May 25th, 2019 (1440رمضان20)

حجاب مسلمان خواتین کا افتخار

راجا محمد اکرم
ساری دنیا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے مذہب اسلام کے خلاف مغرب ہر وقت ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔ مسلمانوں پر غلبہ پانے کے لیے اس کے نوجوانوں کو فحاشی و عریانی اور مادیت کا اسیر بنا دیناملت کفر کا آزمودہ نسخہ ہے۔ دور حاضر میں عالمی استعماری قوتوں نے امت مسلمہ پرتہذیبی یلغار کرتے ہوئے اسلامی شعائر کو ہدف بنا رکھا ہے ۔ ناموس رسالت ﷺ ،اخلاقی اقدار ،جہاد ،خاندانی نظام کے ساتھ ساتھ حجاب ان کا خصوصی ہدف ہے وہ شعائر جو اسلامی تہذیب و ثقافت کی علامات ہیں کو ہر جگہ انتہا پسندی ،قدامت پسندی اور دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے ۔ فرانس ،ہالینڈ اور ڈنمارک میں حجاب پر پابندی عائد کی جا چکی ہے ۔جرمنی اور دیگر مغربی ممالک میں حجاب استعما ل کرنے والی طالبات و خواتین کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مغربی ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ حجاب کا استعمال یورپی قرارداد برائے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس طرح حجاب مخالفانہ قوانین کے ذریعے مسلم عورتوں کو ان کے بنیادی حق پردہ سے محروم کیا جارہا ہے ۔دوسری طرف حیا انسانی فطرت کا خاصہ اور اسلام کا بنیادی وصف ہے ساتر لباس اور حجاب حیا ء کی صفت کوفروغ دیتا ہے۔اسلام نے حیاء اور حجاب کو عورت کا تحفظ قرار دے کر اسے معاشرے کے لیے قابل احترام ہستی بنایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حجاب عورتوں کے محض کپڑے کا ٹکڑا سر پراوڑھ لینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پورا نظام اخلاق ہے جو ہماری پوری زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔یہ اسلام کا نظام عفت و عصمت ہے جو معاشرے کو پاکیزگی عطا کرتا ہے اور عورت کو عزت و تکریم بخشتا ہے ۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جس دنیا میں عورت کی آ زادی کا تصور جسم کی نمائش اور مکمل بے حجابی سے وابستہ ہے اس میں حجاب کا استعمال اور جسم کو ڈھانپنا عورت کا اپنے بنیادی حق کی جدو جہد کا خالص نسوانی اظہار ہے۔ ۴ستمبر عالمی یوم حجاب کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ہر سال عالمی یوم حجاب پر مسلمان عورتیں اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ حجاب رب العالمین کا عطا کردہ معیار شرف و عزت ہے ۔یہ کسی جبرو اکراہ یا پابندی کی علامت نہیں اس کا پسماندگی اور دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ حجاب
عورت کاحق ہے اوریہ خواتین کے لیے فخرو انبساط کی علامت ہے کہ یہ اس کیلئے خالق کائنات کی طرف سے تحفہ ہے ۔پاکستان جس کی بنیاد ہی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اسکے عوام کا یہ حق ہے کہ حکومت ۴ستمبر عالمی یو م حجاب کو حکومتی سطح پر منانے کا اعلان کرے ۔حکومتِ و قت اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس دن کے لیے خصوصی پر و گراموں ،سیمینارز اور نمائشوں کا انعقاد کرے تاکہ نئی نسل خاص طور پر بچیوں کو پردے اور نقاب کی طرف راغب کیا جاسکے۔حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دے کہ حجاب مسلمان عورت کا بنیادی حق ہے لہٰذااس حوالے سے پابندی کے قوانین بنانے سے گریز کیا جائے ۔قومی میڈیا کو بھی حجاب کو عورت پر جبر کی بجائے اس کی نسوانیت کے محافظ کی حیثیت سے پیش کرنا چاہئے اور حیا ء کے کلچر کو فروغ دینے میں اپنا کردار اداکرنا چاہئے اورحجاب کے خلاف اسلام دشمنوں کے پروپیگنڈا کو فروغ نہیں دینا چاہئے ۔اشتہاری کمپنیاں ہمسایہ ملک کے اشتہارات کی بجائے اپنے اشتہارات بنائیںجس میں پاکستانی عورت کے حیا اور حجاب کے کلچر کو اجاگر کیا جائے ۔ وطن عزیز میں بالخصوص باحجاب طالبات و خواتین پر تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔فیشن انڈسٹری حجاب اور ساتر لباس پر فخر کے ساتھ نئے رجحانات متعارف کرائے۔سرکاری اور تعلیمی اداروں میں اسکارف اور حجاب کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور خواتین اساتذہ کو پابند کیا جائے کہ وہ اسلامی معاشرت اور طرز حیات کو اختیار کریں تاکہ نوخیز بچیوں کے ذہنوں میں اسلامی تہذیب و تمدن کو پختہ کیا جاسکے ۔ ہمیں بحیثیت قوم توبہ و استغفار کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک سے رجوع کرنا چاہئے کہ وہ ہمیں مکمل تباہی سے بچالے ،اس کے ساتھ ساتھ ہمیں قیام پاکستان کے وقت اللہ تعالیٰ سے کئے گئے اس عہد کو بھی پورا کرناہوگاکہ جس میں ہم نے پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنانے اور اس میں قرآن و سنت کو سپریم لاء کی حیثیت دینے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا ،ہمیں شاید اپنے اسی عہد سے روگردانی اور بے وفائی کی سزا مل رہی ہے کہ آج کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں ہمیں پہلے سے بڑھ کر شرمندگی کا سامنانہیںکرنا پڑتا ہے ۔