October 20th, 2017 (1439محرم29)

قانونِ حجاب ۔ حوصلے اور بہادری کی علامت

حمیرا خالد

دنیا میں قوموں کا بگاڑ عموماََ دو شکلوں میں ہوتا ہے۔ ایک دولت کےمعاملے میں غلط رویہ اوردوسرے عورت کا درست مقام متعین نہ کرنا۔ لیکن ہر بگاڑ کی اصل وجہ خدائی ہدایت سے انحرافہے۔ دنیا میں جتنے بھی فساد وبگاڑ ہم دیکھتے ہیں ان کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے عقل کا رتشہ آفاقی تعلیمات سے کاٹ دیا ہے جس کے نتیجے میں انسانیعقلکےبنائے ہوئے قانون جنہیںوحی الہٰی کی روشنی حاصل نہیں ہوتی، افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔

قانونِ حجاب قرآن وسنت کی رہنمائی میں عورت کے لیے بہترین انعام ہے۔ اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہمیں اُس وقت ہوگا جب ہم اُس معاشرے کی عورت کو دیکھیں جہاں قانونِ حجاب نہیں ہے۔ وہاں کے قوانین عورت کو آزادی کا پروانہ تو دے سکتے ہیں لیکن تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ ہر سال بڑھتے ہوئے جرائم بتاتے ہیں کہ ان کے پاس عورت کی عزت و آبرو کی حفاظت کا کوئی قانون نہیں۔ مغرب کی یہ عورت مشرق کے حجاب کو ایک پابندی اور خود مختاری میں رکاوٹ سمجھتی ہے لیکن اگر اسے مشرقی عورت کی راج دھانی اور گھر کی ملکہ کی حیثیت کا علم ہوجائے تو وہ واپس آنے کوتیار ہوجائے گی۔  معروف برطانوی صحافی ایوان ریڈ لی کا کہنا ہے’’میں حجاب کرنےوالی مسلمان خواتین کو دباؤ کا شکار سمجھتی تھی۔ میرا خیال تھا کہ قرآن(نعوذباللہ) ان کو مارنے اور بیٹی کو دباؤ میں رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، لیکن مجھے تو حجاب میں آزادی کا پیغام ملا اور مغرب کے سیاست دان جو حجاب کے خلاف بول رہے ہیں، وہ حقیقت میں حجاب کے اسلامی تصور کو جانتے نہیں، وہ اپنی جہالت اور تکبر کی وجہ سے کم عمر کی شادیوں، خواتین سے زیادتی اور غیرت کے نام پر قتل اور زبردستی کی شادیوں کا الزام اسلام کو دیتا ہیں حالانکہ یہ ثقافتی روایتیں ہیں، انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔

بہت سے ممالک کے مسلمان اور مسلم حکومتیں ان مسائل سے لا تعلق بنی ہوئی ہیں حالانکہ اسلام کا قانون ِ حجاب مسلم معاشرہ کی ترقی اور بقا کا ذریعہ ہے۔ اسلام عورت کو گھر میں قید کرتا ہے نہ محبوس کر کےرکھتا ہے، بلکہ عورت کو اس کے دائرہٓ کار میں پوری آزادی، سہولیات اور تحفظ فراہم کرتا ہے اور حجاب کے ساتھ باہر نکلنے پر اس کی عزت اور توقیر میں اضافہ کرتا ہے۔

ایک جاپانی نو مسلم خولہ لگاتا حجاب کے بارے میں کہتی ہیں کہ میرا حجاب مجھے مستعد اور آمادہ کرتا ہے کہ ’’ہوشیار ہوجاؤ‘‘ تمہارا طرزِ عمل ایک مسلم کی طرح ہونا چاہیے‘‘۔ جس طرح پولیس کا ایک سپاہی اپنی وردی میں اپنے پیشے کا خیال رکھتا ہے اسی طرح میرا حجاب بھی میری مسلم شناخت کو تقویت دیتا ہے۔ مردوں کے معاشرے میں کام کرنے سے عورت کی حیا اور جھجھک غائب ہوجاتی ہے اور وہ تمام اسکینڈل سامنے آتے ہیں جو معاشرے میں فساد پیدا کرتے ہیں۔ فطرت  نے مرد کے کردار کے تحفظ کی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے اگر اس میں کوتاہی ہوئی تو معاشرے کے جرائم میں وہ برابر کی شریک ہوگی۔

نوبل انعام جیتنے والی ایک لڑکی جو یمن کے شہر کرمان سے تعلق رکھتی ہے جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ حجاب کیوں پہنتی ہیں جب کے باشعور اور تعلیم یافتہ ہیں؟ تو اس نے کہا:’’آغازِ اسلام میں انسان بالکل برہنہ تھا، جب اسے شعور ملا تو اس نے سب سے پہلے اپنے جسم کو ڈھانپا۔ آج جو حجاب کرتا ہے وہ انسانی سوچ اور انسانی تہذیب کے اعلیٰ ترین مقام پر ہے۔ یہ قدامت پسندی نہیں۔ اگر انسان پرانے وقتوں کی طرح کپڑے اتارنا شروع کردے تو یہ قدامت پسندی ہے‘‘۔

اسلام تاریخ گواہ ہےکہ وہ نبوی سے لے کر آج تک حجاب مسلمان عورت کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ وہ حجاب کسی جبر کسی فیشن کے طور پر یا مردوں کی سختی اور پابندی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ کے حکم اور قرآن کے عائد کردہ فرض اور قانون کی وجہ سے کرتی ہے۔ باہر سے دیکھنے والے کو ہوسکتا ہے اس میں قید یا جیل خانہ نظر آتا ہو لیکن اسلام کے اندر رہنے والا اس میں سکون، خوشی، آزادی اور تحفظ پاتا ہے۔

دور جدید میں عورت کو ہدف بنا کر اس کے بنیادی حق کو چھین لینے کی عالمی سازشیں ہورہی ہیں، بالخصوص نقاب والی عورت کو دہشت گرد، غیر مہذب بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔

ثمر قند و بخارا کی تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح وہاں جبراََ خواتین کو گھروں سے نکالا گیا، ان کے پردے اتروائے گئے، نقاب اور پردے پر پابندی لگائی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور چوراہوں پر یہ کام ہوتا تھا کہ عورت کے نقاب نوچے جاتے اور چوٹیاں کاٹی جاتیں۔

مصر میں ایک قانون نافذ کیا گیا جس کے مطابق اسکول کی طالبات کے لیے اسکارف پہننے پر پابندی عائد کردی گئی۔ اسکارف پہننے کے لیے ضروری تھا کہ وا والدین سے اجازت نامہ لائیں اور اسکول میں جمع کرائیں۔

فرانس کے وزیر داخلہ نے کہا کہ اسکارف عورتوں کو کم تر بنا دیتا ہے۔فرانسیسی معاشرے میں خواتین کو پاسپورٹ کی تجدید کروانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شمالی عراق میں طالبات کو اسکارف پہننے پر ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے۔ اسکولوں میں باحجاب لڑکیوں کی تضحیک کی جاتی ہے۔ پردہ کرنے والی خواتین کو ملازمتوں کے لائق نہیں سمجھا جاتا۔

ڈنمارک میں اسکارف سے نمٹنے کی یہ صورت نکالی گئی کہ مقابلہ حسن کی طرز پر مقابلہ اسکارف کراوادیا گیا تا کہ ایک مذہبی علامت کو اس کی تقدیس سے محروم کردیا جائے۔

برطانوی حکومت نے سب سے شرمناک طرز عمل اختیار کرتے ہوئے ایک نام نہاد مسخرے کی خدمات حاصل کرلیں تاکہ وہ حجاب کا تمسخر اڑائے۔ ان تمام پابندیوں، تعذیب اور تمسخر کے باوجود اسکارف کرنے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ان حجاب حوصلے اور بہادری کی علامت بن شکا ہے۔ حکمران اس اضافے پر حیران ہیں۔ وہ مغربی معاشرے میں مسلم عورت کی بڑھتی ہوئی دینی بیداری اور شعور کو دیکھ کر خوف زدہ ہیں۔

۱۹۶۸ء میں ترکی کے قانون کے مطابق خواتین سر نہیں ڈھانپ سکتی تھیں۔ ایک رکن پارلیمنٹ کو صرف اس لیے حلف لینے سے روک دیا گیا کہ اس نے اسکارف پہنا ہوا تھا۔ سیکولر پارلیمنٹ کے ارکان ۳۰ منٹ تک چلّاتے رہے ’’آؤٹ۔ ۔ ۔ ۔ آؤٹ‘‘۔ ایک طالبہ قانون سے بغاوت کرت ہوئے جب سر ڈھانپ کر یونیورسٹی گئی تو اسے ادارے سے باہر کردیا گیا۔

جب ۸۰ سال کے بعد اسکارف پہننے کی اجازت ملی تو ترکی کے اخباروں نے لکھا کہ اسکارف پہننے کی اجازت دینا درست نہیں، اس سے دینی رجحان پیدا ہوگا، اسکارف کے استعمال سے ذہنی نشونما پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خطرہ ہے کہ اسکارف کی اجازت ۔ ۔ ۔ ۔  چادر تک جا پہنچے گی۔

بلاشبہ ان کے لیے یہ خطرے کی بات ہے کہ ڈھائی فٹ کا یہ کپڑا اسکارف وہ قوت رکھتا ہے جس سے پارلیمنٹ میں قانون سازی کروائی جا سکتی ہے یا ترکی میں تین فٹ کا کپڑا حکومت کی بر طرفی کا سبب بن سکتا ہے۔اس وقت اس نام نہاد آزاد معاشرے میں حجاب کو برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک مضبوط نظریاتی جماعت میدانِ عمل میں آئے جو ان خطوط پر کام کرے کہ خواتین کے لیے الگ یونیورسٹیاں قائم کرے، مخلوط تعلیم کا خاتمہ کیا جائے، دفتروں اور سرکاری ٹرانسپورٹ میں عورتوں کے لیے علیحدہ نشستیں ہوں، کاروباری مراکز میں خواتین کے لیے علیحدہ کمرےمختص ہوں، عورتوں کو دکانوں، ہوٹلوں اور اشتہارات سے نجات دلا کر باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔ اس کے بعد پردہ کرنا مشکل رہےگا، نہ انہیں مغربیت کا سیلاب بہا کر لے جا سکے گا۔