October 21st, 2018 (1440صفر11)

شوگر کے مریضوں کو دانتوں کی بیماریاں نظرانداز نہیں کرنی چاہئیں

 


ماہرین صحت نے کہا ہے کہ شوگر کے مریضوں کو دانتوں کی بیماریاں نظرانداز نہیں کرنی چاہئیں، کیونکہ دانتوں کی بیماریوں کا تعلق انسانی جسم کے تمام اعضا سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں پان، گٹکا، مین پوری، چھالیہ، نسوار، شیشہ اور تمباکونوشی کے استعمال سے منہ کا کینسر سرفہرست ہے، جب کہ شوگر کے مریضوں کے لیے مضر صحت اشیا کا استعمال انتہائی نقصان دہ ہے جس کا خمیازہ مریضوں کو بھگتنا پڑتا ہے، اس لیے دانتوں کی صفائی لازمی رکھنی چاہیے۔ اواری ہوٹل میں منہ کی سوچ اور صحت کی سوچ کے حوالے سے منعقدہ آگاہی سیمینار سے ماہرینِ صحت نے خطاب میں کہا کہ دانتوں کی بیماریوں کا تعلق انسانی جسم کے تمام اعضا سے ہوتا ہے، دانتوں کے امراض پر لاپروائی برتنے سے دیگر بیماریوں کے ساتھ ان کی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں جو ہولناک صورت اختیار کرجاتی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ذیابیطس کے مریضوں کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، ان کو پابندی کے ساتھ اپنی شوگر اور دانتوں کا معائنہ بھی باقاعدگی سے کرانا چاہیے، دانتوں کو صحت مند رکھنے کے لیے باقاعدگی سے دو بار ٹوٹھ برش اور نیم گرم پانی میں نمک ملاکر غرارے بھی کرنے چاہئیں۔ دانتوں میں معمولی سے انفیکشن، مسوڑھوں میں ورم، دانتوں میںکیڑا لگنے اور درد ہونے کی صورت میں فوری معالج سے رجوع کرنا چاہیے، ذیابیطس کے مریضوں میں دانتوں کے امراض لاحق ہونا اچھی علامت نہیں ہوتی، شوگرکے مریضوں میں عدم توجہی کی وجہ سے دانت شدید متاثر ہوجاتے ہیں، ان میں دانتوں کا ہلنا، مسوڑھوںکی ہڈیوں کا نرم پڑ جانا، کھانا چباتے وقت مسوڑھوں میں تکلیف ہونا اور منہ سے بو آنا علامات ہیں۔ شوگر کے مریضوں کے دانت خراب ہونے سے ان کی شوگر کا کنٹرول بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا شوگر کے مریض اپنے دانتوں اور مسوڑھوں کا خیال رکھیں، اور دانتوں میں معمولی سا انفیکشن محسوس ہونے پر ڈینٹل سرجن سے رجوع کریں۔
بچوں کو بتایا جائے کہ چھالیہ کھانے سے منہ میں زخم ہوجاتے ہیں جو بعدازاں منہ کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ منہ یا زبان اور مسوڑھوں میں زخم یا چھالیہ محسوس ہونے کی صورت میں مستند معالجین سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان ماہرین کا کہنا تھا کہ کراچی میں ایسی کوئی علاج گاہ نہیں جہاں منہ کے کینسر کا مکمل علاج کیا جاسکے۔ماہرینِ صحت نے کہاکہ پاکستان میں اینٹی ٹوبیکوکے قانون کے باوجود پبلک مقامات پرکھلے عام تمباکونوشی کی جارہی ہے، سگریٹ، شیشہ اور دیگر تمباکوونسوار سے منہ کا کینسر ہولناک صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ بیرونی ممالک میں ان مضر صحت اشیا کے استعمال پر بھاری ٹیکس عائد کردیے گئے جس کی وجہ سے سگریٹ نوشی سمیت مضر صحت اشیا کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوئی، لہٰذا پاکستان میں بھی ان اشیا پر بھاری ٹیکس عائد کیاجائے۔ پاکستان میں گٹکے، مین پوری، چھالیہ سمیت مضر صحت اشیا کے استعمال سے نوجوانوں میں منہ کا کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔