October 21st, 2018 (1440صفر11)

ٹی بی ۔۔۔۔ علاج ممکن ہے!

 

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر


24 مارچ ۔ دنیا بھر میں ٹی بی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں آگاہی اور ترقی پذیر ممالک میں اس جان لیوا بیماری سے پیدا ہونے والی مختلف پیچیدگیوں اور دنیا بھر میں اس بیماری سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش ہے۔
24 مارچ 1882کو جرمنی کے سائنسدان رابرٹ کاکس (Robert Koch)نے ٹی بی کے مہلک جرثومے کی تشخیص کی۔ٹی بی جسے تپ دق بھی کہتے ہیں ایک قدیم ترین مرض ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے بنی نوع انسان کے لئے صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جو مائیکو بیکٹریم ٹیوبر کلوسسز (Mycobacterium tuberculosis) نامی بیکٹریا سے پیدا ہوتی ہے جو عموماََ پھیپھڑوں کے لمف نوڈز کو متاثر کرتا ہے اور اس کو Pulmonary TB کہتے ہیں۔ لیکن یہ بیماری جسم کے مختلف حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے مثلاََ لمفی غدود، آنتوں، گلے اور ہڈی، جوڑ وغیرہ کو متاثر کرتے ہیں اور اسے Extrapulmonary tuberculosis کہتے ہیں۔
ٹی بی کا مرض چھپا ہوا یا پوشیدہ بھی ہو سکتا ہے جسے (Latent) ٹی بی کہتے ہیں اور فعال اور سر گرم بھی جو Active ٹی بی ہوتا ہے۔ مخفی ٹی بی میں مریض کے جسم میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہوتے ہیں، لیکن اس مریض سے دوسرے لوگوں تک یہ مرض نہیں پھیلتا ہے جبکہ فعال ٹی بی میں مریض دوسرے افراد تک اس بیماری کے جراثیم پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ٹی بی مریض کے کھانسنے، چھینکنے، تھوکنے اور اس کے قریب بیٹھ کر سانس لینے سے بھی پھیلتی ہے اور یہ مرض تندرست انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد ہر سال ٹی بی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر غربت میں زندگی گزارنے کی وجہ سے لوگ زیادہ تر اس موذی مرض کی لپیٹ میں آتے ہیں کیونکہ ان کے لئے مناسب اور ضرورت کے مطابق خوراک، صاف پانی اور مناسب رہائش کا انتظام بھی نہیں ہوتا ہے۔ جہاں لوگوں کو اگر کوئی وبائی مرض لاحق ہو جائے تو درست علاج ہونا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسے جگہوں میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور اندھیرے اور گٹھن زدہ ماحول میں ٹی بی کے مرض کو پھلنے پھولنے کا مواقع زیادہ میسر آتے ہیں۔ پرانے اور گندے گھر، حفصان ِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور غیر معیاری خوراک کا استعمال بھی ٹی بی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گرد و غبار اور دھول مٹی والے ماحول میں بھی اس مرض کے پھیلنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔
اگر کسی میں مخفی ٹی بی ہو تو اس وقت تک کوئی علامات دیکھنے میں نہیں آتے ہیں جب تک مرض فعال نہ ہو جائے۔فعال ٹی بی کی علامات میں مسلسل تین ہفتے سے زائد بلغم کے ساتھ ہونے والی کھانسی جس کے ساتھ گاڑھے اور بدبو دار بلغم کے ساتھ خون کا اخراج، بخار، بھوک کی کمی، جسمانی کمزوری، تھکاوٹ اور نڈھال رہنا، وزن میں کمی، سینے میں درد، رات کو پسینے کی زیادتی، کھانسی کے ساتھ ساتھ جھاگ اور بلغم کا رنگ زرد ہو جاتا ہے۔ گلے کی سوزش، خاص طور پر لمفی گلینڈ کا سوج جانا اس انفیکشن کی ایک اہم علامت ہے۔ اکثر اوقات پیشاب میں خون کی آمیزش بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
ٹی بی کا مرض متاثرہ اور فعال ٹی بی والے شخص کے کھانسنے، چھینکنے، تھوکنے یا ہنسنے سے بھی پھیلتا ہے جس میں متاثرہ شخص کے منہ سے ایسے بخارات یا قطروں کا اخراج ہوتا ہے جس میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اور پھر یہ جراثیم ہوا میں شامل ہو کر صحت مند افراد کی سانس کی ذریعے منتقل ہو کر ٹی بی کا باعث بنتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے دیگر اعضاء کو متاثر کرنے والی ٹی بی دوسروں تک آسانی سے نہیں پھیلتی ہے۔
ٹی بی کا جراثیم اکثر لوگوں کے جسم میں داخل ہوتا ہے لیکن جسم کا نظام دفاع بخوبی اسکا مقابلہ کر کے اس انسان کو ٹی بی میں مبتلا ہونے سے بچاتا ہے. ٹی بی کے جراثیم غیر فعال مگر زندہ رہتے ہیں اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر انسان کی قوت مدافعت کمزور پڑنے کے سبب اُس پر حملہ آور ہو کر ٹی بی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جب ٹی بی کا انفیکشن کسی شخص کو ہوتا ہے تو لازمی نہیں ہے کہ اس کو کوئی علامت بھی ظاہر ہوں مگر زندگی کے کسی بھی مرحلے میں یہ عنصر بہت زیادہ کمزور ہو کر جراثیم کو غلبہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
چھپی ہوئی ٹی بی کی تشخیص ٹیوبر کسن ٹیسٹ جسے ٹی بی اسکن ٹیسٹ کہتے ہیں، ذریعے ہوتی ہے جبکہ فعال ٹی بی کی تشخیص یا معالج کو ٹی بی کی موجودگی پر شک ہو تو پھیپھڑے سے خارج ہو نے والے بلغم کے ٹیسٹ، ایکسرے اور ایف این اے سی (FNAC) یعنی گردن کے کسی حصے میں گلٹیاں نمودار ہوتی ہوں، پی سی آر(PCR) وغیرہ کرواتے ہیں۔ جس کے بعد وہ تشخیص کے مراحل سے گزرنے کے بعد ٹی بی جیسے موذی مرض کا علاج شروع کرتے ہیں۔ لہذا ٹی بی کی کسی بھی قسم کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اپنے قریبی مرکز صحت یا منتخب پرائیوٹ لیبارٹری سے بلغم (Sputum) کا معائنہ کروائیں اور اگر ٹی بی کا مرض لاحق ہو جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے زیر نگرانی طریقہ علاج کے ذریعے اب مسلسل علاج سے ٹی بی جیسے موذی مرض سے مکمل صحت یابی ممکن ہے۔ نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اورعالمی ادارہ صحت نے ٍDOTS طریقہ علاج وضع کیا ہے جس میں مرض کی تشخیص ہو جانے کے بعد ایک ذمہ دار فرد کی زیر نگرانی ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات بغیر کسی وقفے کے مسلسل آٹھ مہینے تک استعمال کی جاتی ہیں۔
ٹی بی ایک متعدی لیکن سو فیصد قابل علاج مرض ہے اور ٹی بی کو ابتدائی مرحلہ میں ہی بر وقت اور باآسانی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس موذی مرض پر قابو پانے کے لئے ہم جن اقدامات پر عمل درآمد کر سکتے ہیں ان میں سب سے پہلے پیدائش کے بعد بچوں کو بروقت بی سی جی کے ٹیکے لگوانے چاہیئے۔ اس مرض کے معلوم ہوتے ہی اپنے معالج کے مشورے کے بعد مناسب ادویات کا استعمال شروع کر دینا چاہیئے اور مرض کے خاتمے تک علاج جاری رکھنا چاہیئے۔ ٹی بی کی تشخیص کے بعد علاج کے ابتدائی دنوں میں مریض طبیعت میں بہتری محسوس کرنے لگتا ہے، لیکن علاج سے غفلت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اور ٹی بی کے مرض میں اضافہ کی اہم وجوہات میں اس کے بارے میں آگہی نہ ہونا اور علاج مکمل ہونے سے پہلے ہی چھوڑ دینا ہے۔
گھروں کو صاف ستھرا رکھنا چاہیئے اور معیاری خوراک استعمال کرنی چاہیئے۔ ہر وقت مسائل کواپنے ذہن پر سوار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ بیماری ڈپریشن اور ہروقت پریشان رہنے سے بھی لاحق ہو جاتی ہے۔ مریض کو آرام دہ اور پر فضاء پرسکون ماحول میں رکھنا چاہیئے۔
یہ بیماری چونکہ مریض کے کھانسنے، چھینکنے اور تھوکنے سے پھیلتی ہے لہذا مریض کے کھانے پینے کا سامان گھر کے دیگر افراد سے الگ رکھنا چاہیئے تاکہ دوسرے تندرست افراد اس جان لیوا مرض سے محفوظ رہ سکیں۔ مگر مریض کا ادویات استعمال کرنے اور علاج کروانے میں حوصلہ بڑھانا چاہیئے اور مریض کو اس بات کا یقین دلانا چاہیئے کہ یہ بیماری قابل علاج ہے۔ اور مریض کو کھانستے، چھینکتے وقت منہ پر رومال یا کوئی کپڑا رکھنا چاہیئے اور جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ ٹی بی کے علاج کے دوران ماں اپنے بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہے اس سے بچے کی صحت پر کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں۔
مریض کو اس بیماری میں جسمانی اور ذہنی سکون و آرام کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ ابتداء میں جب تک بخار کم نہ ہوجائے مریض کو آرام کا مشورہ دینا چاہیئے اور عمدہ اور ہلکی غذا جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہو استعمال کروانی چاہیئے۔ انڈا، دودھ، یخنی، بہترین غذا ہیں۔
ٹی بی کی بیماری کسی کو بھی لگ سکتی ہے مگر وہ افراد جو دوسروں کے مقابلے میں اس موذی مرض کے زیادہ قریب ہوتے ہیں ان میں وہ افراد شامل ہیں جو ایک ہی کنبے یا گھر میں ٹی بی سے متاثرہ شخص کے ساتھ رہ چکے ہوں یا طویل عرصے تک گہرے رابطے میں رہے ہوں۔ وہ افراد جو غیرصحت مند یا زیادہ ہجوم کی جگہوں میں رہ رہے ہوں۔ وہ لوگ جو ایسے ممالک میں رہ چکے ہوں جہاں ٹی بی کی شرح نسبتاََ زیادہ ہو مثلاََ جنوب مشرقی ایشیاء اور مشرق یورپ کے بعض ممالک، ان والدین کے بچے بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں جن کے اصل وطن میں ٹی بی کی شرح زیادہ رہ چکی ہوں ۔ HIV بیماری یا علاج کی وجہ سے جن کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور منشیات کے عادی افراد جو غیر صحت مند ماحول میں رہتے ہیں۔
اس بیماری میں ہمیں ٹی بی جیسے مرض سے نفرت کرنی چاہیے نا کہ مریض سے۔ مریض کے ساتھ ہمدردانہ اور دوستانہ رویہ ٹی بی جیسے مرض کی روک تھام کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مریض کو خو شگوار ماحول اور عمدہ غذائیں فراہم کر کے ہم اس مرض سے جلداز جلد چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں۔