May 24th, 2018 (1439رمضان9)

گردوں کی بیماریاں

 

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گردوں کا عالمی دن 8 مارچ کو منایا جاتا ہے اور اس سال گردوں کے عالمی دن کا عنوان "خواتین میں گردوں کی بیماری" ہے۔ گردوں کے امراض کا عالمی دن منانے کا سبب اس مہلک مرض سے متعلق عوام الناس میں شعور پیدا کرنا ہے تا کہ گردے کے مریضوں کو بر وقت تشخیص اور فوری علاج ممکن کیا جاسکے۔

پاکستان میں گردوں کی بیماریوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباََ 2 کڑور سے زائد افراد گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ہر سال پچاس ہزار افراد گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

گردے انسانی جسم کا ایک بے حد لازمی جزو ہے جو خون کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ کیمیائی طور پر بھی خون کو متوازن رکھتا ہے۔ گردے ہر روز تقریباََ انسانی جسم میں 200 ملی لیٹر خون اور 2 ملی لیٹر فاصل اجزاء اور زائد پانی کا اخراج کرتے ہیں اور اگر گردے یہ اجزاء بروقت اور درست طریقے سے جسم سے خارج نہ کریں تو یہ جسم میں رہ کر جسم کے اندرونی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور جسم کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ گردے انسانی جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جسم میں پوٹاشیم، فاسفورس، کیلشم اور سوڈیم میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو انسان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ جبکہ جسم سے زیادہ پانی کے اخراج اور پانی کی کمی کی صورت میں پانی کو جسم کے اندر ہی رکھنا گردے کی اہم ذمہ داری ہے کیونکہ اگر گردے پانی کے اس توازن کو برقرار نہ رکھیں اور پانی کی مقدار بڑھنے سے جسم کے مختلف حصوں مثلاََ پھیپھڑوں، پیروں اور آنکھوں کے گرد اور پھر پورے جسم میں پانی اکھٹا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے منہ اور آنکھوں کے نیچے اور پیروں پر سوجن ہو جاتی ہے۔

گردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے خون سے زہریلے اور فاصل مواد کو خارج کرنے کی صلاحیت بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس مرض کی بروقت اور درست تشخیص نہ ہونے کے سبب گردے آہستہ آہستہ ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ڈائی لیسسز یا گردوں کی پیوندکاری کی نوبت ہو جاتی ہے۔

گردوں کی خرابی سے پہلے اس کی کچھ علامات پہلے سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ کمر کے پچھلے حصے میں نچلی جانب درد، گردے کی خرابی میں ظاہر ہونے والی سب سے پہلی علامت ہے اور بعض اوقات یہ صرف خراب گردے کی جانب ظاہر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مریض جب اسی کروٹ سوتا ہے جس جانب گردے میں تکلیف ہو تو کچھ عرصے بعد یہ درد دونوں جانب ہونے لگتا ہے۔ پیشاب کرنے میں تکلیف بھی گردوں کی خرابی کی ایک اہم علامت ہے کیونکہ گردوں کا سب سے بنیادی کام جسم سے پیشاب کے ذریعے فاسد اور زہریلے مادوں کا اخراج ہے لیکن جب یہ گردے ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ اس کے علاوہ جسم سے فاسد اور زہریلے مادوں کا مناسب اخراج نہ ہونے کے سبب جلد پر سرخی آجاتی ہے اور ساتھ ساتھ جلد خشک ہو جاتی ہے اور بعض اوقات اس پر خارش بھی شروع ہو جاتی ہے۔

بعض حالات میں پیشاب سے خون بھی آنے لگتا ہے اور پیشاب میں جھاگ بنتے ہیں اور اکثر اوقات رات میں سوتے ہوئے پیشاب بھی نکل جاتا ہے اور اس کی رنگت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر پیشاب ہلکے رنگ کا نہیں آرہا ہو تو جسم کے اندر فاسد اور زہریلے مادوں کا اخراج نہیں ہو رہا ہوتا ہے۔ پیشاب بالکل سفید ہونے کا مطلب گردے کی خرابی ہے۔ جبکہ گاڑھے پیلے رنگ کا پیشاب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پانی کم پیا جارہا ہے۔ جب پیشاب سے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں تو پیشاب کا رنگ تھوڑا پیلا ضرور ہوتا ہے۔

گردوں کی بیماری کی خاص علامات میں بھوک نہ لگنا یا کم ہو جانا، کھانے کی خواہش ختم ہو جانا، یادداشت کی کمزوری، متلی اور قے کی سی کیفیت، چڑچڑا پن، تھکاوٹ اور جسم میں طاقت کا ختم ہو جانا، جسم میں خون کی مقدار کم ہو جانا، چہرے پر پیلاہٹ، خشک جلد، بے آرامی ، رات کو بار بار پیشاب آنا، چہرے پر سوجن اور پیشاب میں شوگر یا پروٹین کا شامل ہونا بھی شامل ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق گردے ایک ہارمون ایتھروپائیوٹن (Erythropoitin) نامی ہارمون پیدا کرتا ہے جس کی مدد سے خون کے سرخ خلیے پیدا ہوتے ہیں اور ہمارا خون آکسیجن جذب کرتا ہے لیکن گردوں میں خرابی کی وجہ سے یہ ہارمون درست طریقے سے پیدا نہیں ہوتا ہے اور جسم خون کی کمی کا شکار ہونے لگتا ہے اور جسم زیادہ جلدی تھکن اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ گردے وٹامن ڈی کی پیدائش میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے بہت اہم ہے جبکہ گردے فیل ہونے کی صورت میں جسم میں کیلشم کی کمی بھی ہو جاتی ہے۔ گردوں کی خرابی کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ جن میں بلڈ پریشر، یورک ایسڈ اور ذیابطیس سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ ان بیماریوں کی وجہ سے گردوں میں موجود نیفرون متاثر ہو کر ختم ہو جاتے ہیں اور گردے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

ذیابطیس کے مریض عموماََ دس سال سے بیس سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خون میں شوگر کے نامناسب کنٹرول کی وجہ سے خون کی نالیوں میں تنگی آنا شروع ہو جاتی ہے اور آنکھ، گردہ، دماغ اور دل وغیرہ پر خون کی مناسب مقدار پہنچ نہیں پاتی ہے جس کی وجہ سے وہ عضو ختم ہو جاتا ہے۔ عام طور پر آنکھ کی بینائی متاثر ہوتی ہے اس کے بعد گردے بھی اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ لہٰذا شوگر کے مریضوں کو اپنی ذیابطیس بہت ہی مناسب حد تک کنٹرول میں رکھنی چاہیے تا کہ جسم کے مختلف حصے اس کی وجہ سےخراب نہ ہو۔

جبکہ ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھنا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ گردے فیل ہونے کے ساتھ ساتھ دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کو چونکہ خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جس کی اہم علامات بظاہر نہیں ہوتی ہیں لہٰذا ہر فرد کو کم از کم یا دو مہینے میں ایک دفعہ لازمی اپنا بلڈ پریشر چیک کروانا چاہیے۔ گردوں میں خرابی کی ایک وجہ فضائی آلودگی بھی ہے۔ تحقیق کے مطابق فضاء میں موجود تیل اور گیس کے جلنے سے خطرناک عنصر کیڈیم پیدا ہوتا ہے جو کہ گردوں کو بہت نقصان پہنچاتا ہے اور تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں میں کیڈیم بہت تیزی سے اپنا اثر دکھاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ گردے کی جھلی کی سوزش، گردے کی پتھری اور پیشاب کے راستوں کا انفیکشن بھی گردے کی بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔ جبکہ موٹاپے سے متاثرہ افراد میں عام آدمی کی بہ نسبت گردوں کی خرابی کی شرح 83 فیصد ہے۔ مردوں میں موٹاپے کی وجہ سے گردوں کی خرابی کی شرح 13.8 فیصد جبکہ خواتین میں 24 فیصد ہے۔ کچھ افراد موروثی طور پر موٹے ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر حالات میں اس کا تعلق طرز زندگی کے ساتھ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے رہن سہن میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔ گھر کے کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈ نے لے لی ہے اور پلے گراﺅنڈ میں جاکر کھیلنے کی جگہ موبائل فون اور کمپیوٹر پر گیمز کھیل رہے ہیں۔ دفاتر میں کام کی زیادتی، نیند کی کمی، ذہنی دباﺅ، ورزش سے دوری، فاسٹ فوڈ، سافٹ ڈرنکس اور میٹھی اشیاء کا زیادہ استعمال انسانی صحت کے دیگر مسائل کے ساتھ موٹاپے میں اضافے کا باعث بھی بنتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ موروثی وجوہات کی بنیاد پر بھی گردوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاََ کزن میرج اور بعض خاندانوں میں خاندان در خاندان شادیاں چلنے کے باعث گردوں کی بیماریاں بھی نسل درنسل منتقل ہوتی جاتی ہیں۔

کچھ دوائیاں جو ہم روز مرہ طور پر درد دور کرنے کے لئے یا مختلف اسباب میں استعمال کررہے ہوتے ہیں اور تھوڑے سے درد میں بھی ادویات کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ درد کو ختم کرنے والی ادویات گردوں کے لئے زہر قاتل کا کام کرتی ہیں لہٰذا بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے کوئی بھی دوا استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

گردے میں مسئلہ پیش آنے کی صورت میں اس کی با آسانی تشخیص کی جا سکتی ہے جس کے لئے پیشاب کا مکمل اور خون ٹیسٹ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ الٹراساﺅنڈ سے گردے کا سائز اور ساخت بھی دیکھی جاتی ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کو اپنے پیشاب میں (micro albumin) چیک کرواتے رہنا چاہیے جبکہ ہر صحت مند فرد کو ہر چھ ماہ میں اپنا پیشاب چیک کروانا چاہیے۔ اس سےگردوں کی درست صورتحال سامنے آجاتی ہے اس کے علاوہ یورک ایسڈ، کولیسٹرول، شوگر وغیرہ کے ٹیسٹ بھی کروانے چاہیے۔

گردوں کی بیماری سے بچنے اورمحفوظ رہنے کے لئے غذا کا مناسب استعمال اور بہتر معمولات زندگی اپنا کر گردوں کی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی میں کمی انتہائی ضروری ہے اور اسی طرح نمک اور تیز مرچ مصالوں اور تیل کا استعمال کم سے کم کیا جانا چاہیے۔ تا کہ بلڈ پریشر کنٹرول میں رہے۔ اس کے علاوہ باقاعدگی سے ورزش اور پانی کا زیادہ استعمال گردوں کی صحت مندی کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے۔ پانی کے زیادہ استعمال سے فاسد مادے پانی کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ ذیابطیس کے مریض کو خاص طور پر گردے اور مثانے کے انفیکشن کا خیال رکھنا چاہیے اور پیشاب میں جلن کی صورت میں فوراََ ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔