May 24th, 2018 (1439رمضان9)

معذوری سے بچاؤ کے لیے جدید فزیوتھراپی محفوظ طریقہ علاج

 

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر  (پی ایچ ڈی مائیکروبیالوجی)

فزیوتھراپی ایک ایسی تھراپی یا طریقہ علاج ہے جو انسانی جسم کے مختلف طبیعاتی عوامل کی بہترین حالت میں بحالی کر کے ان میں طاقت بخشتا ہے اور مختلف جسمانی تکنیک اور مشینوں کے ذریعے درد میں کمی لاکر مریض کے اعضاء کی حرکت کو آسان بناتا ہے۔
پرانے زمانے یعنی قبل ِ مسیح میں یونانی معالج بیماریوں کے علاج کے لیے ہائڈروتھراپی (Hydrotherapy) کا طریقہ علاج استعمال کیا کرتے تھے ہائیڈروتھراپی ایک یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پانی سے علاج کے ہیں ۔ آج بھی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے جدید فزیوتھراپی میں اس قدیم طریقہ علاج کو استعمال کیا جاتا ہے۔
برطانیہ میں 1893 میں فزیوتھراپی کی اہمیت کے پیش نظر اس کو طب کی ایک الگ شاخ کےطورپرمتعارف کرایا گیا جس کے بعد اس شعبہ طب کے باقاعدہ تعلیمی اورتحقیقی پروگرامز کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
1921 میں Mary mcmillan نےامریکہ میں ایک فزیوتھراپی ایسویسی ایشن قائم کی جسے American Physical Therapy Association (APTA) کا نام دیا گیا اور پھر آہستہ آہستہ طبی ماہرین نے اس شعبہ میں مختلف تحقیقات کو اپناتے ہوئے اس کےمختلف طریقہ علاج میں مختلف اندازسے جدت اورمہارت حاصل کی۔
پاکستان میں بھی یہ شعبہ قدرے دیرسے متعارف ہوامگراس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور عام لوگوں میں بھی اس طریقہ علاج کے بارے میں آگہی اور شعور بیدار ہو رہا ہےاور وہ اس کوترجیح دے رہے ہیں۔
فزیوتھراپی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ایک ایسا طریقہ علاج ہے جس میں بغیرادویات کےمرض کاعلاج کیا جاتا ہے اور مختلف جسمانی ورزشوں کے ذریعے متاثرہ شخص اپنی سابقہ حالتِ صحت میں واپس آسکتا ہے۔
فزیوتھراپسٹ علاج کے لیے زیادہ تر جسمانی ورزش کا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ اسے عام فہم زبان میں فزیکل تھراپی بھی کہتے ہیں۔ اس طریقہ علاج میں جسم کی مختلف بیماریوں مثلاً جوڑوں اور پٹھوں کا درد، نسوں کا کھچاؤں، فالج اور لقوہ، ذہنی اور جسمانی معذوریوں پولیو وغیرہ کے ساتھ ساتھ کسی حادثے کی صورت میں ہونے والے فریکچراورمعذوری کے بعد بھی فزیوتھراپی کے ذریعے علاج کیا جاسکتا ہے۔ آج کل ایسے بہت سے مراکز موجود ہیں جہاں فزیوتھراپی کی سہولت بہتر اور جدید ترین مشینوں اور بہترین فزیوتھراپسٹ کے ذریعے میسر ہے۔ 
آج کل ہمارے اردگرد حتیٰ کے ہمارے گھروں میں بھی ایسا فرد لازمی موجود ہوتا ہے جسے کمر درد، گردن میں درد، جوڑوں میں درد یا پھر گھٹنوں میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ ان درد کا درد کش ادویات سے وقتی طور پر تو علاج ہوجاتا ہے لیکن اس کے اثرات دیرپا نہیں ہوتے ہیں لیکن فزیوتھراپی طریقہ علاج کے ذریعے مختلف ورزشوں کے ساتھ مریض کو بغیر درد کے استعمال کے ہی آرام حاصل ہوسکتا ہے۔
ہمارے معاشرہ میں آج کل گھر ہو یا دفتر ہر جگہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر مسلسل جھکے ہوئے کام کرنے کی وجہ سے کمر درد کی شکایت عام ہوتی جارہی ہے۔ پہلے کمر درد کا مسئلہ صرف بوڑھے افراد کو ہی ہوتا تھا مگر آج کل ہر چھوٹا بڑا اس کی تکالیف کو بیان کرتا نظر آتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ نشست اور برخاست کا انداز اور بیٹھ کر روزمرہ کے امور سر انجام دینا ہے اور متاثرہ فرد مسلسل اسی پوزیشن سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں یا مختلف بیماریوں سے لاعلم ہی رہتا ہے۔ اگر روٹین کے چیک اپ میں فزیوتھراپی یا فزیوتھراپسٹ سے مشورے کو شامل کرلیا جائے تو ماہر فزیوتھراپسٹ اٹھنے بیٹھنے اور کام کرنے کی درست پوزیشنز کے بارے میں درست آگاہی فراہم کرسکتے ہیں۔
فزیوتھراپی نہ صرف ہڈیوں، جوڑوں پٹھوں کی تکالیف، سوزش کسی سرجری یا حادثے کے بعد اعضاء کی بحالی میں فائدہ مند ہے بلکہ نیوروسرجری، پھیپھڑوں، دل کی سرجری سے گزرنے والے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے اور ایسے مریضوں کو فزیوتھراپی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو بھی فزیوتھراپی کی ہدایت کی جاتی ہے جس سے ان کو سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عیسیٰ فزیوتھراپی اینڈ ریہیبیلیٹیشن سینٹر میں عرق النساء، کمر کے درد، گردن کا درد، جوڑوں کے درد کے ساتھ فالج اور لقوہ یعنی نیورولوجی فزیوتھراپی بھی کی جاتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق فروزن شولڈر،عرق النسا، گھٹنوں اور گردن کے درد اور لقوہ میں فزیوتھراپی کے علاج سے دو سے تین ہفتے میں ہی بہتری آسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ وہ کھلاڑی جن کے مسلز کھنچ گئے ہوں ان کا علاج بھی فزیوتھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
دوران ِ حمل، وضع حمل کی پیچیدگیوں اور حمل کے بعد کمر درد سے دوچار خواتین کو بھی فزیوتھراپی طریقہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے ۔مختلف دماغی اعصابی بیماریوں مثلاً لقوہ، پارکنسن ڈیزیز (Parkinson disease) ملٹی پل اسکلوروسز (Multiple Sclerosis’s) کے حالات میں بھی فزیوتھراپی طریقہ علاج فائدہ مند مانا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ صحت مند رہنے اور وزن کم کرنے کے لیے ورزشیں بھی بے حد ضروری ہیں۔ جس سے ہماری ہڈیوں اور عضلات کو توانائی اور صحت ملتی ہے۔