September 17th, 2019 (1441محرم18)

قرآن، سنت اور قربانی

سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ

قربانی کی بحث کے سلسلے میں چند مزید باتیں عرض کرنی ہیں۔ پہلے یہ بتایاجاچکا ہے کہ:

                ٭   قرآنِ مجید کی رُو سے قربانی ہمیشہ سے تمام شرائع الٰہیہ کے نظامِ عبادت کا ایک لازمی جز رہی ہے۔

                ٭   قرآن واضح طور پر یہ بھی بتاتا ہے کہ الٰہی شریعتوں کے نظامِ عبادت میں کن وجوہ سے اس طریقِ عبادت کو شامل کیا گیا ہے۔

                ٭   قرآن پچھلی اُمتوں کی طرح اُمت ِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کا حکم دیتا ہے۔

                ٭   مگر قرآن میں اس کا ایک حکمِ عام دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے رسولِ برحق پر چھوڑ دی کہ آپ اس پر عمل درآمد کی ایک شکل متعین                         کردیں۔

اب ہمیں یہ بتانا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیا شکل متعین فرمائی ہے، اور اس کا ثبوت کیا ہےکہ یہ شکل حضوؐر ہی کی متعین فرمائی ہوئی ہے؟

قربانی: سنتِ رسولؐ

اوّلاً، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات لوگوں کی مرضی پر نہیں چھوڑی کہ فرداً فرداً جس مسلمان کا جب جی چاہے، اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی جانور قربان کردے، بلکہ آپ نے تمام اُمت کے لیے تین دن مقرر فرمادیے تاکہ تمام دنیا کے مسلمان ہر سال انھی خاص دنوں میں اپنی اپنی قربانیاں ادا کردیں۔ یہ بات ٹھیک اسلام کے مزاج کے مطابق ہے۔ نماز کے معاملے میں بھی یہی کیا گیا ہے کہ فرض نمازوں کو پانچوں وقت جماعت کے ساتھ ادا کرنے کاحکم دیا گیا۔ ہفتے میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز لازم کی گئی، تاکہ پنج وقتہ نمازوں سے زیادہ بڑے اجتماعات کی شکل میں مسلمان اسے ادا کریں، اور سال میں دو مرتبہ عیدین کی نمازیں مقرر کی گئیں، تاکہ انھیں ادا کرنے کے لیے جمعہ سے بھی زیادہ بڑے اجتماعات منعقد ہوں۔ اسی طرح روزوں کے معاملے میں بھی تمام مسلمانوں کے لیے ایک مہینہ مقرر کر دیا گیا تاکہ سب مل کر ایک ہی زمانے میں یہ فرض ادا کریں۔

اجتماعی عبادت کا یہ طریقہ اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ اس سے پورے معاشرے میں اُس خاص عبادت کا ماحول طاری ہوجاتا ہے، جسے اجتماعی طور پر ادا کیا جارہا ہو۔ اس سے مسلمانوں میں وحدت و یگانگت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے خدا پرستی کی اخلاقی و روحانی بنیاد پر مسلمان ایک دوسرے سے متحد اور دوسروں سے ممیز ہوتے ہیں، اور اس سے ہر وہ فائدہ بھی ساتھ ساتھ حاصل ہوتا ہے، جو انفرادی طور پر عبادت بجا لانے سے حاصل ہوسکتا ہے۔

یومِ عید کا تعین

ثانیاً، اس کے لیے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر ایک یومِ عید مقرر فرمایا اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ سب مل کر پہلے دو رکعت نماز ادا کریں۔ پھر اپنی اپنی قربانیاں کریں۔ یہ ٹھیک قرآنی اشارے کے مطابق ہے۔ قرآن میں نماز اور قربانی کا ساتھ ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے اور نماز کو قربانی پر مقدم رکھا گیا ہے:

قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ (انعام ۶:۱۶۲)  اے نبیؐ، کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۝۲ۭ (الکوثر ۱۰۸:۲) پس، اپنے ربّ کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔

پھر یہ مسلم معاشرے کی ایک اہم ضرورت بھی پوری کرتی ہے ۔ ہر معاشرہ فطری طور پر  یہ چاہتا ہے کہ اسے کچھ اجتماعی تہوار دیے جائیں، جن میں اس کے سب افراد مل جل کر خوشیاں منائیں۔ اس سے ان میں ایک جذباتی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ اور تہوار کی یہ خاص صورت کہ اس کا آغاز اللہ کی ایک عبادت، یعنی نماز سے ہو، اور اس کا پورا زمانہ اس طرح گزرے کہ ہروقت کسی نہ کسی گھر میں اللہ کی ایک دوسری عبادت یعنی قربانی انجام دی جارہی ہو، اور اس عبادت کے طفیل ہرگھر کے لوگ اپنے دوستوں، عزیزوں اور غریب ہمسایوں کو ہدیے اور تحفے بھی بھیجتے رہیں۔ یہ اسلام کی روح اور مسلم معاشرے کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسلام ناچ رنگ اور لہو ولعب اور فسق و فجور کے میلے نہیں چاہتا۔ وہ اپنے بنائے ہوئے معاشرے کے لیے میلوں کی فطری مانگ ایسی ہی عید سے پوری کرنا چاہتا ہے، جو خدا پرستی اور اُلفت و محبت اور ہمدردی و مواسات کی پاکیزہ روح سے لبریز ہو۔

سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل

ثالثاً، اس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خاص دن انتخاب فرمایا، جس دن تاریخِ اسلام کا سب سے زیادہ زرّیں کارنامہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے انجام دیا تھا۔ یعنی یہ کہ بوڑھا باپ اپنے ربّ کا ایک اشارہ پاتے ہی اپنے اکلوتے جوان بیٹے کو قربان کر دینے کے لیے ٹھنڈے دل سے آمادہ ہوگیا، اور بیٹا بھی یہ سن کر کہ مالک اس کی جان کی قربانی کرنا چاہتا ہے، چھری تلے گردن رکھ دینے پر بخوشی راضی ہوگیا۔ اس طرح یہ محض قربانی کی عبادت ہی نہ رہی بلکہ ایک بڑے تاریخی واقعے کی یادگار بھی بن گئی، جو ایمانی زندگی کے اِس منتہاے مقصود، اُس کے اس آئیڈیل اور مثلِ اعلیٰ کو مسلمانوں کے سامنے تازہ کرتی ہے کہ انھیں اللہ کی رضا پر اپنا سب کچھ قربان کردینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

قربانی کا حکم بجالانے اور عید کا تہوار منانے کے لیے سال کا کوئی دن بھی مقرر کیا جاسکتا تھا۔ اس سے دوسرے تمام فوائد حاصل ہوجاتے، مگر یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ اس کے لیے اِس خاص تاریخ کا انتخاب ’بیک کرشمہ دوکار‘ کا مصداق ہے۔

ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس انتخاب کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے۔  آپ سے پوچھا گیا: مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِیُّ،یہ قربانیاں کیسی ہیں؟ فرمایا: سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ، یہ تمھارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔ (مسنداحمد، ترمذی، ابن ماجہ)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اس واقعے کے بعد ہرسال اسی تاریخ کو جانور قربان فرمایا کرتے تھے۔ حضوؐر نے اس سنت کو زندہ کیا اور اپنی اُمت کو ہدایت فرمائی کہ قرآن میں قربانی کا جو عام حکم دیا گیا ہے، اس کی تعمیل خصوصیت کے ساتھ اُس روز کریں، جس روز حضرت ابراہیمؑ اپنی اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کیا کرتے تھے ۔ اپنی تاریخ کےیادگار واقعات کا ’یوم‘ دنیا کی ہرقوم منایا کرتی ہے۔ اسلام کا مزاج یادگار منانے کے لیے بھی اُس دن کا انتخاب کرتا ہے، جس میں دو بندوں کی طرف سے خدا پرستی کے انتہائی کمال کا مظاہرہ ہوا۔

حج کی توسیع

رابعاً، قربانی کے لیے اس دن کے انتخاب میں ایک اور مصلحت بھی تھی۔ ہجرت کے بعد پہلے ہی سال جب حج کا زمانہ آیا تو مسلمانوں کو یہ بات بُری طرح کھل رہی تھی کہ کفّار نے اُن پر حرم کے دروازے بند کررکھے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس غم کی تلافی اس طرح فرمائی کہ ایامِ حج کو مدینے ہی میں ان کے لیے ایامِ عید بنا دیا۔ آپ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ ۹ذی الحجہ (یعنی یوم الحج) کی صبح سے، جب کہ حاجی عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، وہ ہرنماز کے بعد اللہُ اَکْبَرُ  اللہُ اَکْبَرُ  ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  وَاللہُ اَکْبَرُ   اللہُ اَکْبَرُ  وَلِلہِ الْحَمْدُ  کا ورد شروع کریں اور ۱۳ذی الحج تک (یعنی جب تک حجاج منیٰ میں ایامِ تشریق گزارتے ہیں) اس کا سلسلہ جاری رکھیں۔ نیز ۱۰ذی الحج کو، جب کہ حجاج مزدلفہ سے منیٰ کی طرف پلٹتے ہیں اور قربانی اور طواف کی سعادت حاصل کرتے ہیں، وہ بھی دوگانۂ نماز ادا کرکے قربانیاں کریں۔

یہ طریقہ فتح مکہ سے پہلے تک تو مسلمانوں کے لیے گویا ایک طرح کی تسلّی کا ذریعہ تھا کہ حج سے محروم کر دیے گئے تو کیا ہوا، ہمارا دل حج میں مشغول ہے اور ہم اپنے گھر ہی میں بیٹھے ہوئے حجاج کے شریکِ حال ہیں۔ لیکن فتح مکہ کے بعد اسے جاری رکھ کر عملاً اس کو تمام دنیاے اسلام کے لیے حج کی توسیع بنا دیا گیا۔ اس کے معنی یہ ہوگئے کہ حج صرف مکہ میں حاجیوں تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ جس زمانے میں چند لاکھ حاجی وہاں مناسکِ حج ادا کر رہے ہوتے ہیں، اسی زمانے میں ساری دنیاے اسلام کے کروڑوں مسلمان ان کے شریک ِ حال ہوتے ہیں ۔ ہرمسلمان، جہاں بھی وہ ہے، اس کا دل ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی زبان اللہ اکبر کی تکبیر بلند کرتی رہتی ہے۔ وہ ان کی قربانی اور طواف کے وقت اپنی جگہ ہی نماز اور قربانی ادا کر رہا ہوتا ہے۔

قربانی کی روح

خامساً، قربانی کا جو طریقہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےسکھایا، وہ یہ تھا کہ عیدالاضحی کا دوگانۂ نماز ادا کرنے کے بعد قربانی کی جائے اور جانور ذبح کرتے وقت یہ کہا جائے:

اِنِّىْ وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ، اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، لَا شَرِيْكَ لَہٗ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِـمِيْنَ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ، میں نے یکسو ہوکر اپنا رُخ اس ذات کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز اور قربانی اور میرا مرنا اور جینا  سب اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سرِ اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں۔ خدایا! یہ تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے۔

ان الفاظ پر غور کیجیے۔ ان میں وہ تمام وجوہ شامل ہیں، جن کی بنیاد پر قرآنِ مجید میں قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں:

                ٭  اس بات کا اعلان ہے کہ دیوتائوں کے لیے قربانیاں کرنے والے مشرکین کے برعکس، ہم صرف خداے وحدہٗ لاشریک کے لیے قربانی کی                           عبادت بجا لارہے ہیں۔

                ٭  ان میں اس بات کا اعلان بھی ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے جانوروں سے فائدہ اُٹھانے کی جو نعمت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بخشی ہے، اس کا شکریہ                        ادا کرنے کے لیے یہ نذر ہم اس کے حضور پیش کر رہے ہیں۔

                ٭ ان میں یہ اعلان بھی ہے کہ اس مال کے اصل مالک ہم نہیں ہیں ، بلکہ یہ اللہ کے جانور ہیں جن پر اس نے ہم کو تصرف کا اختیار بخشا ہے،                         اوراس کی کبریائی کے اعتراف میں یہ نذرانہ ہم اس کے حضور گزران رہے ہیں۔

                ٭  یہ اظہار بھی ہے کہ جس طرح ہمیں حکم دیا گیا تھا، ٹھیک اسی طرح ہم ابھی صرف اللہ کے لیے نماز ادا کرکے آئے ہیں اور اب خالصتاً اسی                        کے لیے قربانی کے فرمان کی تعمیل کررہے ہیں۔

                ٭  پھر، ان سب سے بڑھ کر ، ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہدوپیمان بھی ہے کہ ہماری نماز اور ہماری قربانی ہی نہیں، ہمارا مرنا اور جینا                      بھی صرف اسی کی ذاتِ پاک کے لیے ہے۔ اور یہ عہدوپیمان اُس تاریخی دن میں کیا جاتا ہے جس دن اللہ کے دو بندوں نے اپنے عمل سے بتایا                      تھا کہ جینا اور مرنا اللہ کے لیے ہونے کا مطلب کیا ہے۔

یہ پانچ نکات جو اُوپر عرض کیے گئے ہیں، انھیں ذرا آنکھیں کھول کر دیکھیے۔ آپ کو ان میں ایک نبی کی خداداد بصیرت اور ہدایت یافتہ حکمت ایسی نمایاں نظر آئے گی کہ اگر اس قربانی کے سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کی کوئی اور شہادت موجود نہ ہوتی، تب بھی اُس کے اِس طریقے کی اندرونی شہادت خود یہ بتا دینے کے لیے کافی تھی کہ اس کو اسی خدا کے رسولؐ نے مقرر کیا ہے، جس خدا نے قرآن نازل کیا ہے۔

قرآنِ مجید میں قربانی کے متعلق جو کچھ اور جتنا کچھ ارشاد فرمایا گیا تھا، اس کوپڑھ کر کوئی غیر نبی، چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم اور دانش مند ہی کیوں نہ ہوتا، اس سے زیادہ کوئی نتیجہ اخذ نہ کرتا کہ مسلمان وقتاً فوقتاً اللہ تعالیٰ کے لیے قربانی کی عبادت بجا لاتے رہیں۔

وہ کبھی ان ارشادات سے یہ منشا نہ پاسکتا کہ ساری دنیاے اسلام کے لیے قربانی کا ایک دن مقرر کیا جائے، اس دن کو ’یوم العید‘ قرار دیا جائے، وہ دن حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی قربانی کا دن ہونا چاہیے۔ وہ دن اور اس کے سابق و لاحق ایام زمانۂ حج کے بھی مطابق ہونے چاہییں، اور یہ قربانی ایسے طریقے سے ادا کی جانی چاہیے کہ اس سے اسلام کی پوری روح تازہ ہوجائے۔ یہ منشا ایک نبی کے سوا اور کون پاسکتا تھا؟ اس منشا کو پانا اُس نبی کے سوا اور کس کا کام ہوسکتا تھا، جس پر خدا نے اپنا قرآن نازل فرمایا تھا؟

مگر اس کے سنت ِ رسولؐ ہونے کی اِس اندرونی شہادت کے علاوہ اس کی خارجی شہادتیں بھی اتنی زیادہ اور اتنی مضبوط ہیں کہ بجز ایک ہٹ دھرم آدمی کے کوئی ان کا انکار نہیں کرسکتا۔

احادیث سے استدلال

اس کی پہلی شہادت وہ کثیر روایات ہیں، جو حدیث کی تمام معتبر کتابوں میں صحیح اور متصل سندوں کے ساتھ بہت سے صحابہ کرامؓ سے یہ بات نقل کرتی ہیں کہ حضوؐر نے عیدالاضحی کی قربانی کا حکم دیا، خود اس پر عمل فرمایا اور مسلمانوں میں اس کو سنت الاسلام کی حیثیت سے رواج دیا:

                ٭  حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور ہرسال قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی)

                ٭  حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ: رسولؐ اللہ نے مجھ کو وصیت کی تھی کہ میں آپؐ کی طرف سے قربانی کرتا رہوں، چنانچہ میں آپؐ کی طرف سے                      قربانی کیا کرتا ہوں۔(ابوداؤد، ترمذی)

                ٭ حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا کہ: اِنَّ اَوَّلُ مَا                         نَبْدَأُبِہٖ فِیْ یَوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نُصَلِّیَ ثُمَّ نَرْجِــعُ فَنَنْحَرُ فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا(بخاری، کتاب الجمعہ، ابواب العیدین، حدیث:۹۳۹) ’’آج کے دن ہم پہلے                     نماز پڑھتے ہیں، پھر پلٹ کر قربانی کرتے ہیں۔ پس، جس نے اس طریقے کے مطابق عمل کیا، اس نے ہماری سنت پالی‘‘۔

                ٭ حضرت عائشہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: اَلْاَضْحٰی یَوْمٌ یُضَحِّیْ النَّاسُ(ترمذی) ’’الاضحی وہ دن ہے، جس میں لوگ                       قربانی کرتے ہیں‘‘۔

                ٭ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: مَنْ وَجَدَ سَعَۃً فَلَمْ یَذْبَحْ فَلَا یَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَـا (مسنداحمد ، ابن ماجہ)’’جو شخص طاقت رکھتا ہو                     اور پھر قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے‘‘۔

                ٭ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: مَا عَمِلَ ابْنُ اٰدَمَ یَوْمَ النَّحْرِ عَـمَلًا اَحَبَّ اِلَی اللہِ مِنْ ھِرَاقَۃِ دَمٍ  (ترمذی ، ابن ماجہ)’’قربانی کے                       دن آدم کی اولاد کا کوئی فعل اللہ کو اس سے زیادہ پسند نہیں کہ وہ خون بہائے‘‘۔

                ٭ حضرت بُریدۃؓ کہتے ہیں کہ: ’’عیدالاضحی کے دن حضوؐر عیدگاہ سے واپسی تک کچھ نہ کھاتے پیتے تھے اور واپس آکر اپنی قربانی کا گوشت                       تناول فرماتے تھے‘‘۔ (مسنداحمد)

                ٭حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی۔ پھر جب آپؐ پلٹے تو                    آپؐ کے حضور ایک مینڈھا لایا گیا اور آپؐ نے اسے ذبح فرمایا‘‘۔ (مسند احمد ، ابوداؤد ، ترمذی)

                ٭امام زین العابدین، حضرت ابورافع سے روایت کرتے ہیں کہ: ’’حضوؐر عیدالاضحی کے لیے   دو موٹے تازے بڑے سینگوں والے چتکبرے                            مینڈھے خریدتے تھے اور عید کی نماز اور خطبے سے فارغ ہونے کے بعد ایک مینڈھا اپنی تمام اُمت کی طرف سے اور ایک اپنی اور اپنی آل                      کی طرف سے قربان فرماتے تھے‘‘۔ (مسند  احمد)

                ٭ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ ہی میں ذبح اور نحر فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری، نسائی، ابن ماجہ،                    ابوداؤد)

                ٭ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی میں دو چتکبرے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی‘‘                         (بخاری، مسلم)۔اور یہی مضمون حضرت جابر بن عبداللہ سے بھی مروی ہے۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ، بیہقی)

                ٭ براء بن عازب، جندب بن سفیان البجلی اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم کی متفقہ روایات یہ ہیں کہ: ’’حضوؐر نے فرمایا کہ جس شخص نے عید                      کی نماز سے پہلے ذبح کرلیا اس کی قربانی نہیں ہوئی، اور جو نماز کے بعد ذبح کرے اس کی قربانی ہوگئی اور اس نے سنت ِ مسلمین پر عمل                      کیا‘‘۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد)

                ٭حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ہم کو قربانی کے دن نماز پڑھائی۔ اس کے بعد کچھ لوگوں نے                    آگے بڑھ کر حضوؐر سے پہلے قربانی کرلی۔ اس پر آپؐ نے حکم دیا کہ جس کسی نے ایسا کیا ہے اسے پھر قربانی کرنی چاہیے اور کسی کو اس                    وقت تک قربانی نہیں کرنی چاہیے جب تک کہ نبی اپنی قربانی نہ کرلے‘‘۔ (مسلم، مسند احمد)

یہ روایات اور بکثرت دوسری روایات جو احادیث میں آئی ہیں، سب اپنے مضمون میں متفق ہیں اور کوئی ایک ضعیف سے ضعیف روایت بھی کہیں موجود نہیں ہے، جو یہ بتاتی ہو کہ عیدالاضحی کی یہ قربانی سنت ِ رسولؐ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حج کے موقعے پر مکہ معظمہ میں نہ کوئی عیدالاضحی منائی جاتی ہے اور نہ کوئی نماز قربانی سے پہلے پڑھی جاتی ہے، اس لیے ان تمام احادیث میں لازماً صرف اسی عید اور قربانی کا ذکر ہے جو مکہ سے باہر ساری دنیا میں ہوتی ہے۔

فقہاے اُمت کی شہادت

دوسری اہم شہادت عہد ِ نبوت سے قریب زمانے کے فقہاے اُمت کی ہے، جو سب بالاتفاق اس قربانی کو مسنون اور مشروع کہتے ہیں، اور کسی ایک فقیہہ کا قول بھی اس کے خلاف نہیں ملتا۔ ان فقہا سے یہ بات بالکل بعید تھی کہ سب کے سب بلاتحقیق ایک فعل کو سنت مان بیٹھتے، اور وہ ایسے زمانے میں تھے جب یہ تحقیق کرنے کے تمام ذرائع موجود تھے کہ یہ کام جو مسلمان کر رہے ہیں، یہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ سنت ہی ہے یا کسی اور کی رائج کردہ بدعت؟

مثلاً: امام ابوحنیفہؒ کو دیکھیے، وہ ۸۰ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدایش اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے درمیان صرف ۷۰سال کا فاصلہ ہے۔ ان کے زمانے میں بعض طویل العمر صحابہ موجود تھے، اور ایسے لوگ تو ہزاروں کی تعداد میں جگہ جگہ پائے جاتے تھے جنھوں نے خلفاے راشدین کا زمانہ دیکھا تھا اور صحابہ کرامؓ کی صحبت پائی تھی۔ پھر کوفہ جو امام صاحب کا وطن تھا، کئی سال تک حضرت علیؓ کا دارالخلافہ رہ چکا تھا۔ امام صاحب کی پیدایش اور حضرت علیؓ کی شہادت کے درمیان صرف ۴۰سال کا زمانہ گزرا تھا۔ اس شہر میں ان لوگوں کا شمار نہ کیا جاسکتا تھا جو خلیفۂ رابع کا عہد دیکھ چکے تھے۔ کیا کوئی شخص تصور کرسکتا ہے کہ امام ابوحنیفہ کو یہ تحقیق کرنے میں کوئی مشکل پیش آسکتی تھی کہ قربانی کا یہ طریقہ کب سے اور کیسے شروع ہوا ہے اور کس نے اسے جاری کیا ہے؟

اسی طرح امام مالکؒ کی مثال لیجیے۔وہ ۹۳ہجری میں مدینہ طیبہ میں پیدا ہوئے اور وہیں ساری عمر گزاری۔ اس شہر میں سیکڑوں خاندان ایسے موجود تھے، جن کے بڑے بوڑھوں اور بڑی بوڑھیوں نے خلافت ِ راشدہ کا عہد دیکھا تھا۔ صحابہ کرامؓ کی گودوں میں پرورش پائی تھی، اور جن کے اپنے بزرگ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے۔ کیا کوئی شخص باور کرسکتا ہے کہ اس شہر کے لوگ اتنی قلیل مدت میں عہد نبویؐ کی روایات گم کرچکے تھے، اور وہاں کوئی یہ بتانے والا نہ تھا کہ عیدالاضحی کی یہ قربانی کس نے رائج کی ہے؟

یہی حال پہلی اور دوسری صدی ہجری کے تمام فقہا کا ہے۔ وہ سب عہد ِ نبوت سے اتنے قریب زمانے میں تھے کہ ان کے لیے سنت اور بدعت کی تحقیق کرنا کوئی بڑا مشکل کام نہ تھا، اور وہ آسانی کے ساتھ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوسکتے تھے کہ جو چیز سنت نہ ہو اسے سنت سمجھ بیٹھیں۔

اُمت کا متواتر عمل

تیسری اہم ترین شہادت اُمت کے متواتر عمل کی ہے۔ عیدالاضحی اور اس کی قربانی جس روز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی، اسی روز سے وہ مسلمانوں میں عملاً رائج ہوگئی اور  اس وقت سے آج تک تمام دنیا میں پوری مسلم اُمت ہرسال مسلسل اس پر عمل کرتی چلی آرہی ہے۔ اس کے تسلسل میں کبھی ایک سال کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا ہے۔ ہرنسل نے پہلی نسل سے اس کو سنت ِ اسلام کے طور پر لیا ہے اور بعد والی نسل کی طرف اسے منتقل کیا ہے۔

یہ ایک عالم گیر عمل ہے، جو ایک ہی طرح دنیا کے ہر اُس گوشے میں ہوتا رہا ہے، جہاں کوئی مسلمان پایا جاتا ہے۔ اور یہ ایک ایسا متواتر عمل ہے، جس کی زنجیر ہمارے عہد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد تک اس طرح مسلسل قائم ہے کہ اس کی ایک کڑی بھی کہیں سے غائب نہیں ہے۔ درحقیقت یہ ویسا ہی تواتر ہے، جس تواتر سے ہم کو قرآن پہنچا ہے اور یہ خبر پہنچی ہے کہ چودہ سو سال پہلے عرب میں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے۔ کوئی فتنہ پرداز اس تواتر کو بھی اگر مشکوک ٹھیرا دے تو پھر اسلام میں کیا چیز شک سے محفوظ رہ جاتی ہے۔

اس معاملے کی اصل نوعیت یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہماری تاریخ کا کوئی دور ایسا گزرا ہو جس میں قربانی اور اس کی عید رائج نہ رہی ہو، پھر کسی قدیم نوشتے میں اس کا حکم لکھا ہوا مل گیا ہو اور کچھ ملّائوں نے اُٹھ کر لوگوں سے کہا ہو کہ: ’دیکھو فلاں جگہ ہم کو یہ لکھا ملا ہے، لہٰذا اے مسلمانو! آئو ہم عیدالاضحی منایا کریں اور اس میں جانوروں کی قربانی دیا کریں‘۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو تاریخ میں کہیں اس کا سراغ ملتا کہ یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا اور کون لوگ اس کے ذمہ دار تھے؟ پھر کسی مُلّا کی کبھی مسلمانوں میں یہ حیثیت نہیں رہی ہے کہ وہ کسی پرانے نوشتے سے ایک حکم نکال کر دکھائے اور تمام دنیا کے مسلمان بالاتفاق اور بے چون و چرا اس کی بات مان کر اس کی پیروی شروع کردیں اور کوئی یہ نوٹ تک نہ کرے کہ یہ طریقہ پہلے ہم میں رائج نہ تھا، فلاں مُلّاصاحب کے کہنے سے  اب حال ہی میں اس پر عمل شروع ہوا ہے۔

یہ تین قسم کی شہادتیں ایک دوسری سے پوری طرح مطابقت کر رہی ہیں۔ حدیث کی کثیرالتعداد مستند و معتبر روایات، اُمت کے تمام معتمدعلیہ فقہا کی تحقیقات، اور پوری اُمت کا مسلسل و متواتر عمل، تینوں سے ایک ہی بات ثابت ہورہی ہے۔ اس کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجایش باقی رہ جاتی ہے کہ یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا مقرر کیا ہوا ہے؟

اب اگر اس کے مقابلے میں کسی شخص کے پاس کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کی شہادت بھی ایسی ہے، جس سے وہ یہ ثابت کرسکے کہ یہ حضوؐر کا مقرر کیا ہوا نہیں ہے، تو وہ اسے سامنے لائے اور ہمیں بتائے کہ اسے کب، کس مُلّا نے، کہاں گھڑا اور کیسے تمام دنیا کے مسلمان اتنا بڑا دھوکا کھاگئے کہ اسے سنت ِ رسولؐ مان لیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ذہنی انحطاط اور اخلاقی تنزل کی اس سے زیادہ شرمناک تصویر اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ ہمارے درمیان جو شخص چاہتا ہے اُٹھ کر ہمارے دین کے بالکل ثابت شدہ، مسلّم اور متفق علیہ حقائق کو، بلکہ اس کی بنیادوں تک کو بے تکلف چیلنج کردیتا ہے اور دیکھتے دیکھتے اس کی تائید میں آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں، حالاںکہ اس کے پاس اس کے اپنے مجرد دعوے کے سوا نہ کوئی دلیل ہوتی ہے، نہ شہادت۔