September 19th, 2019 (1441محرم19)

دوران حج ہونے والی غلطیاں

 

مولوی عبیداللہ طاہرفلاحی

سعی: (1) صفا ومروہ پر چڑھ کر خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے تین بار تکبیرِ تحریمہ کی طرح تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھانا سنت کے خلاف ہے۔
(2) پوری سعی کے دوران تیز رفتاری سے چلنا۔ یہ سنت کے خلاف ہے۔ تیز رفتاری سے صرف دونوں سبز لائٹوں کے درمیان چلنا ہے، بقیہ سعی میں عام چال چلنا ہے۔
(3) بعض خواتین دونوں سبز لائٹوں کے درمیان مردوں کی طرح تیز رفتاری سے چلتی ہیں۔ جب کہ عورتوں کو تیزی سے نہیں، عام رفتار سے چلنا ہے۔
(4) بعض حجاج جب جب صفا یا مروہ کے قریب پہنچتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں: اِنَّ الصَّفَا وَالمَروَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللہِ۔ حالانکہ یہ صرف پہلی سعی میں صفا کے قریب پڑھنا سنت ہے۔
(5) بعض حجاج ہر چکر میں مخصوص دعا پڑھتے ہیں۔ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
(6) بعض حجاج سعی کے دوران اضطباع (دایاں کندھا کھلا رکھنا) کرتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ اضطباع صرف طوافِ قدوم میں مسنون ہے۔
وقوفِ عرفہ: (1) بعض حجاج حدودِ عرفہ سے پہلے ہی قیام کرلیتے ہیں اور سورج غروب ہونے تک وہیں رہتے ہیں، پھر وہیں سے مزدلفہ چلے جاتے ہیں، عرفہ میں قیام ہی نہیں کرتے۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ اس کی وجہ سے حج فوت ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ وقوفِ عرفہ حج کا بنیادی رکن ہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے: ’’حج وقوفِ عرفہ کا نام ہے۔ چنانچہ جو شخص مزدلفہ کی رات فجر طلوع ہونے سے قبل بھی عرفہ آگیا تو اس نے حج پالیا‘‘۔ (سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) یہ غلطی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ بعض حضرات عرفہ سے قبل ہی قیام کرلیتے ہیں اور دوسرے انہیں دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ اس لیے حجاجِ کرام کو چاہیے کہ وہ حدودِ عرفہ کی اچھی طرح تحقیق کرکے ہی قیام کریں۔ حدود کی تعیین کرنے والے بورڈز اور وہاں کام کرنے والے افراد سے رہ نمائی لینا مناسب ہوگا۔
(2) بعض حجاج غروبِ آفتاب سے قبل ہی عرفہ سے نکل جاتے ہیں۔ یہ عمل سنت کے خلاف ہے۔ آپؐ غروب کے بعد عرفہ سے نکلے تھے۔
(3) دعا کے دوران قبلے کے بجائے جبل رحمت کی جانب رخ کرنا۔ یہ سنت کے خلاف ہے۔ آپؐ نے قبلہ رو ہوکر دعا فرمائی ہے۔
(4) بعض حجاج عرفہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں اپنے اپنے وقت پر مکمل ادا کرتے ہیں۔ یہ سنت کے خلاف ہے۔ یہاں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ظہر کے وقت میں ادا کرنی چاہیے، جیسا کہ نبیؐ نے کیا۔
(5) منی، عرفہ اور مزدلفہ میں نماز قصر کے ساتھ پڑھنے کا حکم حج کا ایک خاص حکم ہے۔ اس میں اہلِ مکہ اور غیر اہلِ مکہ سب شامل ہیں۔ اس لیے کہ نبی کریمؐ نے حجۃالوداع کے موقع پر ان مقامات پر جب جب نمازیں پڑھائیں تو آپؐ کے ساتھ اہلِ مکہ بھی ہوتے تھے۔ لیکن آپؐ نے انہیں نماز پوری کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اگر نماز پوری کرنا ضروری ہوتا تو آپؐ انہیں اس کا حکم دیتے، جیسا کہ فتحِ مکہ کے موقع پر آپؐ نے کیا۔
(6) عرفہ میں 9 ذی الحجہ کی ظہر اور عصر اور مزدلفہ میں مغرب اور عشا ایک ساتھ جمع کرکے پڑھیں گے۔ جب کہ منی میں تمام نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھیں گے۔
مزدلفہ: (1) عام طورسے مزدلفہ کی رات کو سب سے افضل رات بتایا جاتا ہے اور اس میں عبادت کی بڑی فضیلت بیان کی جاتی ہے۔ حالانکہ اللہ کے رسولؐ نے اس رات مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھ کر طلوع فجر تک آرام فرمایا۔
(2) بعض حجاج غروب آفتاب کے فوراً بعد مغرب پڑھ لیتے ہیں خواہ عرفہ ہی میں ہوں۔ بہتر یہ ہے کہ غروب کے فوراً بعد عرفہ سے نکل جائیں اور مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا ایک ساتھ پڑھیں۔