September 19th, 2019 (1441محرم19)

سیدنا ابراہیم ؑ کی قربانیاں

 

عید الاضحی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یاد تازہ کرتی ہے۔ سیدنا ابراہیم ؑ کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں اور ہر پہلو میں ہمارے لیے عبرت اور نصیحت ہے۔ آپ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو قربانی ہے۔ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے، اس کے دین کی دعوت و تبلیغ اور اس کے فروغ کے لیے جس بڑی سے بڑی قربانی کا تصور کیا جا سکتا ہے ، سیدنا ابراہیم نے وہ قربانی پیش کی۔

سیدنا ابراہیم ؑ عراق کے شہر ’ار‘ میں پیدا ہوئے۔ وہاں کی آبادی ستارہ پرست تھی۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس سے کہا: یہ ستارے تو خود کسی برتر ہستی کے احکام کے پابند ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ تمام ستارے اور سیارے، چاند اور سورج اسی کے حکم سے گردش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی با اختیار نہیں ہیں۔ یہ کیسے خدا ہوجائیں گے؟ خدا تو وہ ہے جس کی ان سب پر حکومت ہے۔ وہ ایک ہے۔ میں اسی ایک خدا کو مانتا ہوں۔ اس کے سوا کسی کو خدا نہیں مانتا۔ ترجمہ: ’’میں نے اپنا رخ کیا اس ذات کی طرف بالکل یکسو ہوکر جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔ (الانعام:79)

سیدنا ابراہیم علیہ السلام جس شہر میں پیدا ہوئے اس کی پوری آبادی ستارہ پرست تھی۔ اس کے درمیان سیدنا ابراہیمؑ فردِ واحد تھے جنہوں نے ستارہ پرستی پر تنقید کی اور الٰہ واحد کی پرستش کا عَلَم لے کر کھڑے ہوگئے۔ اس پر قوم مخالف ہوگئی، بادشاہِ وقت مخالف ہوگیا، یہاں تک کہ خاندان، جو بہت ہی بااثر تھا، مخالف ہوگیا۔ باپ نے کہا کہ اگر تم اپنی اس دعوت سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگ سار کردوں گا۔ اس پر بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی دعوتِ توحیدسے باز نہ آئے تو قوم نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسی سزا دو کہ دنیا یاد رکھے کہ جو ہمارے دین کی مخالفت کرتا ہے اس کا کیا حشر ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا۔ ترجمہ: ’’اس کے لیے ایک الاؤ (آتش کدہ) تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دو‘‘۔ (الصافات:97)

انہوں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ کے دین کے لیے جان دے سکتا ہوں۔ میں ایک خدا کا ماننے والا ہوں۔ یہ ناممکن ہے کہ میں اپنی جان بچانے کے لیے اسے چھوڑ دوں اور دوسرے خداؤں کی پرستش کرنے لگوں، تم میری جان لینا چاہتے ہو تو لے لو۔ میں اللہ واحد کے نام پر حرف نہ آنے دوں گا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ جب تک آدمی کے دل میں ایمان و یقین نہ ہو، اس پر جان دینے کا حوصلہ نہ ہو، اس وقت تک وہ یہ جرأت نہیں کر سکتا۔ قوم نے آتش کدہ تیار کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا بڑا تھا کہ خود اس کے قریب نہیں جاسکتے تھے۔ چنانچہ سیدنا ابراہیم ؑ کو گوپھن میں باندھ کر پھینکا گیا۔ وہ منتظر تھے کہ ابراہیم اس میں جل کر بھسم ہوجائیں گے، لیکن اللہ تعالی کو ان سے ابھی اور کام لینا تھا۔ اس نے آگ سے کہا۔ ترجمہ: ’’اے آگ! تم ٹھنڈی ہو جاؤ اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جاؤ‘‘۔ (الانبیاء :69)

آگ کیوں جلاتی ہے؟ سائنس اس کی بہت سی توجیہیں کرے گی، لیکن صحیح توجیہ یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے جلاتی ہے۔ پانی کیوں پیاس بجھاتا ہے؟ اس کی بہت سی توجیہیں کی جائیں گی، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ پانی کے ذریعے پیاس اللہ کے حکم سے بجھتی ہے۔ اگر اللہ نہ چاہے تو پانی پیاس نہیں بجھائے گا، آپ کے حلق کے نیچے پانی نہیں اترے گا۔ اسی طرح آگ بھی اللہ کے حکم سے جلاتی ہے۔ اللہ نے آگ سے کہا: تمہاری تپش ختم ہوجائے، ابراہیم کو کسی طرح کی گزند نہ پہنچے اور وہ صحیح سلامت نکل جائیں۔ چنانچہ آگ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نہیں جلایا اور وہ صحیح سلامت اس سے نکل آئے۔ قرآن نے کہا۔ ترجمہ: ’’انہوں نے ابراہیم کے خلاف ایک چال چلی، لیکن اللہ نے ان کی چال کو ناکام کردیا۔(الانبیاء:70) ایک دوسرے مقام پر کہا۔ ترجمہ: ’’ہم نے ان کو نیچا کردیا‘‘۔ (الصافات :98)

پہلی قربانی سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے دین کے لیے جان کی دی۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ دین و ایمان کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرسکتے ہیں۔وہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے ؂

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادانہ ہوا

یہ قیامت تک کے لیے الٰہ واحد کا نام لینے والوں کے لیے نمونہ ہے۔ سوچیے، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو جان پر کھیل کر خدائے واحد کی عبادت و اطاعت کا اعلان کریں۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام جب آگ سے باہر نکل آئے تو کہا کہ اب میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ فرمایا۔ ترجمہ: ’’میں اپنے رب کی طرف جارہا ہوں‘‘۔ ( الصافات :99) میں یہ بستی چھوڑ رہا ہوں۔ اب یہ سرزمین میرے رہنے کے قابل نہیں رہی۔ یہ بستی مجھے قبول نہیں کر رہی ہے تو میں یہاں نہیں رہوں گا۔ آدمی کو اپنے وطن سے محبت ہوتی ہے، لیکن سیدنا ابراہیمؑ نے محض اللہ کے لیے اسے چھوڑ دیا۔ وہ سرزمین چھوڑدی جس میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے اور پرورش پائی، جہاں ان کا معزز خاندان رہتا تھا، جس آبادی میں نبوت کا اعلان کیا اور الہ واحد کی پرستش کی دعوت دیتے رہے۔ سوچیے، یہ کتنی بڑی قربانی تھی۔ سوچیے، ہے کسی کا جگر کہ وہ محض اللہ کے دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑدے اور کسی دوسری جگہ چلا جائے۔

وطن سے نکلتے ہوئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے نیک اور صالح اولاد دے۔ اللہ نے فرمایا: ہم تمہیں بطور انعام ایک ایسا بچہ عنایت کریں گے جو بہت ہی برد بار، صبر کرنے والا اور مشکلات کو برداشت کرنے والا ہوگا۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام بڑھاپے میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ اپنی ماں ہاجرہ کی گود ہی میں تھے کہ سیدنا ابراہیم ؑ کو ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ حکم ہوا کہ اپنی بیوی اور بچے کو، بڑھاپے کی اس اولاد کو جس کے لیے دعائیں کی تھیں، مکہ کی سرزمین میں، جہاں اس وقت صفا ومروہ کی پہاڑیاں ہیں، چھوڑ آؤ۔ اس پر سیدنا ابراہیم ؑ نے یہ نہیں کہا کہ اے اللہ! وہاں کیسے اپنے بیوی بچوں کو چھوڑدوں جہاں نہ تو گھاس ہے نہ پانی اور نہ رہنے کا کوئی سامان؟ کوئی پرندہ تک نظر نہیں آرہا ہے۔ قرآن نے سیدنا ابراہیم ؑ کے متعلق کہا کہ اللہ نے انہیں جو حکم دیا انہوں نے اس پر فوراً سر تسلیم خم کیا۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کے حکم کے سامنے سرجھکانے میں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی ترددیا پس و پیش نہیں ہوا، بلکہ وہ فوراً اس کے سامنے جھک گئے اور اس پر عمل کے لیے تیار ہوگئے۔ روایات میں آتاہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی ہاجرہ کو بچے سمیت بے آب و گیاہ پہاڑیوں کے بیچ میں چھوڑ کر واپس ہوئے تو ہاجرہ نے ان سے پوچھا: اس بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ کر آپ کہاں جارہے ہیں؟ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کچھ جواب نہیں دیا۔ شاید زبان نہ کھل رہی ہو۔ سیدنا ہاجرہ نے پھر کہا: آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ تب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ہاں میں اللہ کے حکم سے تمہیں یہاں چھوڑ رہا ہوں۔

سیدنا ہاجرہ نے کہا: اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ایسی قربانی تھی جسے دنیا آج تک یاد کر رہی ہے۔انہوں نے اپنی بیوی اور بڑھاپے کی اولاد کو ایک سنگلاخ زمین اور وادی غیر ذی زرع، میں اللہ کے حوالہ کر دیا اور اپنے سفر پر روانہ ہوگئے۔

اب دیکھیے، اس سے بڑے امتحان اور اس سے بھی بڑی قربانی کا وقت آگیا۔ قرآن کہتا ہے کہ جب اسماعیل ؑ ذرا چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو سیدنا ابراہیم ؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذ بح کر رہے ہیں۔ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ دیکھا، دو مرتبہ دیکھا، تین مرتبہ دیکھا۔ انہیں خیال ہوا کہ خواب جھوٹا نہیں ہوسکتا، اللہ کی مرضی یہی ہے کہ میں اللہ کے نام پر اس بچے کو ذبح کردوں۔ آپ قر با نی کا جو بھی تصور کرسکتے ہوں، اس سے بڑی قربانی کا تصور نہیں کرسکتے۔ قرآن کہتا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل ؑ سے کہا۔ ترجمہ: ’’بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتاؤ تمہارا کیا خیال ہے؟ (الصافات: 102)

یہ معصوم بچہ، ذراسوچیے، اس کی کیسی تربیت ہوئی تھی کہ فورا بول پڑا: ابا جان! آپ کو جو کچھ حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کیجیے: آپ دیکھیں گے کہ میں گھبراؤں گا نہیں۔ آپ کے اس اقدام پر میں ثابت قدم رہوں گا‘‘۔ (الصافات: 102)

جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا تو آسمان سے آواز آئی: بس خواب پورا ہوگیا۔ تم امتحان میں کامیاب ہوگئے۔ پھر ایک مینڈھا لایا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس بچہ کی جگہ اس کو ذبح کرو، یہ اس جان کا فدیہ ہے۔ یہ ہے وہ قربانی جس کو ہم یاد کرتے ہیں۔ اس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ اے اللہ! تیرا حکم ہو تو یہ چھری ہر تعلق پر چل سکتی ہے۔ اللہ تعالی نے اس عمل کو قیامت تک کے لیے نمونہ بنادیا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کی بہت سی تعلیمات ختم ہوگئی تھیں، لیکن قربانی کی یہ رسم باقی تھی۔ لوگ قربانی کرتے تھے۔ اسلام نے بھی اسے باقی رکھا۔

رسول اللہؐ کو ابراہیم علیہ السلام کے دین اور ان ہی کے راستے پر چلنے کی ہدایت کی گئی۔ قرآن مجید نے کہا: اے پیغمبر (دنیا والوں ) کو بتا د یجیے، میر ے رب نے مجھے سیدھا سچا راستہ دکھایا ہے۔ دین قیم، جو ابراہیم کا طریقہ ہے۔ وہ ہر طرف سے کٹ کر اللہ کے لیے یکسو ہوگیا تھا۔ وہ مشرکوں میں نہیں تھا‘‘۔ (الانعام :162)

اس کے بعد ارشاد ہوا: ’’بے شک میری نماز، میری قربانی (میری تمام عبادات) میرا جینا، میرا مرنا، سب اللہ ر ب العالمین کے لیے ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ اور میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں۔‘‘ (الانعام:163)

مطلب یہ ہے کہ یہ ہر گز نہ ہوگا کہ میں دنیا والوں سے توکہوں کہ اللہ کی راہ میں اپنی ز ندگی لگا دو اور خود دوسری طرف چل پڑوں۔ نہیں بلکہ سب سے پہلے میں خود اس پر عمل کرنے والا ہو ں۔

یہ ہے وہ راستہ جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اس امت کو دکھایا گیا ہے۔ اسی پر چل کر وہ آخرت میں سرخ رو ہوگی اور دنیا کی راہنمائی کا مقام اسے حاصل ہوگا۔